تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ: ”أَخٌ“} کا تثنیہ {”أَخَوَانِ“} اور {”أَخَوَيْنِ“} ہے جو {”كُمْ“} کی طرف مضاف ہوا تو نون اعرابی گر گیا اور {”أَخَوَيْ“} باقی رہا جو {”كُمْ“} کے ساتھ مل کر {” اَخَوَيْكُمْ “} ہو گیا، سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دو، وہ دو خواہ ایک ایک فرد ہوں یا ایک ایک جماعت ہوں۔
➌ { وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ:} یعنی صلح کرواتے وقت اس بات کو ملحوظ رکھو کہ تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا رہے ہو، جن کا تمھارے ساتھ بھی اخوت کا رشتہ ہے۔ لہٰذا اس رشتے کا خیال رکھو اور پوری طرح عدل و انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس طرح صلح کرواؤ کہ نہ کسی فریق کی حق تلفی ہو اور نہ کسی پر زیادتی ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرتے ہوئے یہ فریضہ سرانجام دو گے تو یقینا اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا۔ {”لَعَلَّ“} کا لفظ امید دلانے کے لیے ہوتا ہے، مگر بڑے لوگوں کے کلام میں اس سے یقین حاصل ہوتا ہے، کیونکہ امید دلا کر اسے پورا نہ کرنا ان کی شان کے لائق نہیں ہوتا۔ پھر جو شاہوں کا شاہ اور ساری کائنات کا مالک ہے وہ امید دلائے تو اس کے یقینی ہونے میں کیا شبہ ہے؟ اس کے علاوہ {”لَعَلَّ“} کا لفظ ”تاکہ“ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کا رحم انھی لوگوں پر ہوتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں، اس لیے بھائیوں کے درمیان صلح کرواتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور عدل کے ساتھ صلح کرواؤ، تاکہ تم پر اللہ کا رحم ہو۔
➍ یہ آیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک برادری میں منسلک کر دیتی ہے۔ مسلمان خواہ دنیا کے کسی دوسرے کونے میں ہو، دوسرے سب مسلمان اسے بھائی سمجھتے ہیں۔ اسلام کے سوا ایسا رشتہ اور کہیں نہیں پایا جاتا۔ (کیلانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خارجیوں کا اور ان کے موافق معتزلہ کا مذہب اس بارے میں خلاف حق ہے۔
اسی آیت کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ کے ساتھ منبر پر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ان کی طرف دیکھتے کبھی لوگوں کی طرف اور فرماتے کہ ”میرا یہ بچہ سید ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو بڑی بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2704]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی سچی نکلی اور اہل شام اور اہل عراق میں بڑی لمبی لڑائیوں اور بڑے ناپسندیدہ واقعات کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے صلح ہو گئی۔
پھر ارشاد ہوتا ہے ’ اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑائی کی جائے تاکہ وہ پھر ٹھکانے آ جائے حق کو سنے اور مان لے ‘۔
صحیح حدیث میں ہے { اپنے بھائی کی مدد کر ظالم ہو تو مظلوم ہو تو بھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ”مظلوم ہونے کی حالت میں تو ظاہر ہے لیکن ظالم ہونے کی حالت میں کیسے مدد کروں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ظلم سے باز رکھو یہی اس کی اس وقت یہ مدد ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6952]
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ کہا گیا: ”کیا اچھا ہو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے ہاں چلئے“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہوئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی میں ساتھ ہو لیئے، زمین شور تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے، تو یہ کہنے لگا مجھ سے الگ رہیے، اللہ کی قسم آپ کے گدھے کی بدبو نے میرا دماغ پریشان کر دیا۔ اس پر ایک انصاری نے کہا: واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بو تیری خوشبو سے بہت ہی اچھی ہے اس پر ادھر سے ادھر کچھ لوگ بول پڑے اور معاملہ بڑھنے لگا بلکہ کچھ ہاتھا پائی اور جوتے چھڑیاں بھی کام میں لائی گئیں ان کے بارے میں یہ آیت اتری ہے }۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اوس اور خزرج قبائل میں کچھ چشمک ہو گئی تھی ان میں صلح کرا دینے کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے۔
پھر حکم ہوتا ہے ’ دونوں فریقوں میں عدل کرو، اللہ عادلوں کو پسند فرماتا ہے ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”دنیا میں جو عدل و انصاف کرتے رہے وہ موتیوں کے منبروں پر رحمن عزوجل کے سامنے ہوں گے اور یہ بدلہ ہو گا ان کے عدل و انصاف کا“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:159/2:صحیح]
پھر فرمایا ’ کل مومن دینی بھائی ہیں ‘۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اسے اس پر ظلم و ستم نہ کرنا چاہیئے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2442]
صحیح حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہے }۔
اور صحیح حدیث میں ہے { جب کوئی مسلمان اپنے غیر حاضر بھائی مسلمان کے لیے اس کی پس پشت دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے آمین۔ اور تجھے بھی اللہ ایسا ہی دے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:87]
اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں صحیح حدیث میں ہے { مسلمان سارے کے سارے اپنی محبت رحم دلی اور میل جول میں مثل ایک جسم کے ہیں جب کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم تڑپ اٹھتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی شب بیداری کی تکلیف ہوتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6011]
ایک اور حدیث میں ہے { مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے، پھر آپ نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2446]
مسند احمد میں ہے { مومن کا تعلق اور اہل ایمان سے ایسا ہے جیسے سر کا تعلق جسم سے ہے، مومن اہل ایمان کے لیے وہی درد مندی کرتا ہے جو درد مندی جسم کو سر کے ساتھ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:340/5:صحیح لغیرہ و ھذا اسناد ضعیف]
پھر فرماتا ہے دونوں لڑنے والی جماعتوں اور دونوں طرف کے اسلامی بھائیوں میں صلح کرا دو اپنے تمام کاموں میں اللہ کا ڈر رکھو۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت تم پر نازل ہو گی پرہیزگاروں کے ساتھ ہی رب کا رحم رہتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّما المؤمنونَ إخوةٌ}: هذا عقدٌ عقدَه الله بين المؤمنين؛ أنَّه إذا وجد من أيِّ شخصٍ كان في مشرق الأرض ومغربها الإيمانُ بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر؛ فإنَّه أخٌ للمؤمنين أخوَّةً توجبُ أن يحبَّ له المؤمنون ما يحبُّون لأنفسهم، ويكرهوا له ما يكرهون لأنفسهم، ولهذا قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - آمراً بالأخوَّة الإيمانيَّة: «لا تَحاسدوا ولا تَناجشوا ولا تَباغضوا ولا تَدابروا، وكونوا عبادَ اللهِ إخواناً. المسلمُ أخو المسلم؛ لا يظلمُه ولا يخذُلُه ولا يكذبه». متفقٌ عليه. وفيهما عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -: «المؤمنُ للمؤمن كالبنيان يشدُّ بعضُه بعضاً، وشبك - صلى الله عليه وسلم - بين أصابعه».
ولقد أمر اللهُ ورسولُه بالقيام بحقوق المؤمنين بعضهم لبعض وبما يحصُلُ به التآلفُ والتوادُدُ والتواصُلُ بينهم، كل هذا تأييدٌ لحقوق بعضهم على بعض؛ فمن ذلك إذا وقع الاقتتال بينهم الموجب لتفرُّق القلوب وتباغُضها وتدابُرها؛ فَلْيُصْلِح المؤمنون بين إخوانهم، ولْيَسْعَوا فيما به يزول شَنَآنهم.
ثم أمر بالتقوى عموماً، ورتب على القيام بالتقوى وبحقوق المؤمنين الرحمةَ، فقال: {لعلَّكم تُرْحَمونَ}، وإذا حصلت الرحمةُ؛ حصل خيرُ الدنيا والآخرة. ودلَّ ذلك على أنَّ عدم القيام بحقوق المؤمنين من أعظم حواجب الرحمة.
وفي هاتين الآيتين من الفوائد غير ما تقدم: أنَّ الاقتتال بين المؤمنين منافٍ للأخوَّة الإيمانيَّة، ولهذا كان من أكبر الكبائر. وأنَّ الإيمان والأخوَّة الإيمانيَّة لا يزولان مع وجود الاقتتال؛ كغيره من الذنوب الكبائر، التي دون الشرك، وعلى ذلك مذهب أهل السنة والجماعة. وعلى وجوب الإصلاح بين المؤمنين بالعدل. وعلى وجوب قتال البُغاة حتى يرجِعوا إلى أمر الله، وعلى أنهم لو رجعوا لغير أمرِ الله؛ بأن رجعوا على وجهٍ لا يجوز الإقرار عليه والتزامه؛ أنَّه لايجوز ذلك. وأنَّ أموالهم معصومةٌ؛ لأنَّ الله أباح دماءهم وقت استمرارهم على بَغْيِهم خاصةً دون أموالهم.