ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحجرات (49) — آیت 10

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَ اَخَوَیۡکُمۡ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
مومن تو بھائی ہی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ En
مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادیا کرو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے
En
(یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) ➊ {اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ:} لڑائی سے باز رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ لڑنے والوں کو قرابت کا احساس دلانا ہے کہ دیکھو تم کس سے لڑ رہے ہو؟ اپنے ہی بھائی سے، یہ کتنی بری بات ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی دینی قرابت کا احساس دلایا، جو نسبی قرابت سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے جو لوگ نسبی قرابت کے باوجود ایک دوسرے کے شدید دشمن تھے، جیسا کہ اوس اور خزرج کا معاملہ تھا، اللہ کی نعمت سے اسلام کی بدولت بھائی بھائی بن گئے۔ (دیکھیے آل عمران:۱۰۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ] [بخاري، المظالم، باب لا یظلم المسلم المسلم ولایسلمہ: ۲۴۴۲، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما] مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔
➋ {فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ: أَخٌ} کا تثنیہ {أَخَوَانِ} اور {أَخَوَيْنِ} ہے جو {كُمْ} کی طرف مضاف ہوا تو نون اعرابی گر گیا اور {أَخَوَيْ} باقی رہا جو {كُمْ} کے ساتھ مل کر { اَخَوَيْكُمْ } ہو گیا، سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دو، وہ دو خواہ ایک ایک فرد ہوں یا ایک ایک جماعت ہوں۔
➌ { وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ:} یعنی صلح کرواتے وقت اس بات کو ملحوظ رکھو کہ تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا رہے ہو، جن کا تمھارے ساتھ بھی اخوت کا رشتہ ہے۔ لہٰذا اس رشتے کا خیال رکھو اور پوری طرح عدل و انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس طرح صلح کرواؤ کہ نہ کسی فریق کی حق تلفی ہو اور نہ کسی پر زیادتی ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرتے ہوئے یہ فریضہ سرانجام دو گے تو یقینا اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا۔ {لَعَلَّ} کا لفظ امید دلانے کے لیے ہوتا ہے، مگر بڑے لوگوں کے کلام میں اس سے یقین حاصل ہوتا ہے، کیونکہ امید دلا کر اسے پورا نہ کرنا ان کی شان کے لائق نہیں ہوتا۔ پھر جو شاہوں کا شاہ اور ساری کائنات کا مالک ہے وہ امید دلائے تو اس کے یقینی ہونے میں کیا شبہ ہے؟ اس کے علاوہ {لَعَلَّ} کا لفظ تاکہ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کا رحم انھی لوگوں پر ہوتا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں، اس لیے بھائیوں کے درمیان صلح کرواتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور عدل کے ساتھ صلح کرواؤ، تاکہ تم پر اللہ کا رحم ہو۔
➍ یہ آیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک برادری میں منسلک کر دیتی ہے۔ مسلمان خواہ دنیا کے کسی دوسرے کونے میں ہو، دوسرے سب مسلمان اسے بھائی سمجھتے ہیں۔ اسلام کے سوا ایسا رشتہ اور کہیں نہیں پایا جاتا۔ (کیلانی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 یہ پچھلے حکم کی ہی تاکید ہے یعنی جب مومن سب آپس میں بھائی بھائی ہیں تو ان سب کی اصل ایمان ہوئی اس لیے اس اصل کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ ایک ہی دین پر ایمان رکھنے والے آپس میں نہ لڑیں بلکہ ایک دوسرے کے دست و باز و ہمدرد وغم گسار اور مونس و خیر خواہ بن کر رہیں اور کبھی غلط فہمی سے ان کے درمیان بعد اور نفرت پیدا ہوجائے تو اسے دور کر کے انہیں آپس میں دوبارہ جوڑ دیا جائے مزید دیکھئے (مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ) 9۔ التوبہ:17) 10۔ 1 اور ہر معاملے میں اللہ سے ڈرو، شاید اس کی وجہ سے تم اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پا جاؤ۔ ورنہ اللہ کی رحمت تو اہل ایمان و تقوٰی کے لئے یقینی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ مومن تو سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ لہذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح [13] کرا دیا کرو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
[13] لڑائی کی روک تھام :۔
یعنی جب تم صلح کرانے لگو تو اس بات کو ملحوظ رکھو کہ تم دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا رہے ہو۔ لہٰذا پورے عدل و انصاف کو ملحوظ رکھ کر اور اللہ سے ڈرتے ہوئے یہ کام اس طرح سرانجام دو کہ نہ کسی فریق کی حق تلفی ہو اور نہ ہی کسی پر زیادتی ہو۔ اگر تم ان کے درمیان عدل و انصاف سے صلح کرا دو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر مہربانی فرمائے گا۔ اور یہ مہربانی انفرادی طور پر صلح کرانے والی جماعت پر بھی ہو سکتی ہے۔ اور اجتماعی طور پر بھی یعنی اللہ تمہاری جماعت کو اس کا شیرازہ بکھرنے سے بچا لے گا اس کی ساکھ بحال اور قوت برقرار رہے گی۔ یہ آیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک عالمگیر برادری میں منسلک کر دیتی ہے۔ مسلمان خواہ دنیا کے کسی کونے میں ہو دوسرے سب مسلمان اسے اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ اسلام کے علاوہ ایسا رشتہ اخوت اور کسی دین یا مذہب میں نہیں پایا جاتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دو متحارب مسلمان جماعتوں میں صلح کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے ٭٭
یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو چاہیئے کہ ان میں صلح کرا دیں۔ آپس میں لڑنے والی جماعتوں کو مومن کہنا اس سے امام بخاری رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ نافرمانی گو کتنی ہی بڑی ہو وہ انسان کو ایمان سے الگ نہیں کرتی۔
خارجیوں کا اور ان کے موافق معتزلہ کا مذہب اس بارے میں خلاف حق ہے۔
اسی آیت کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ کے ساتھ منبر پر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ بھی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ان کی طرف دیکھتے کبھی لوگوں کی طرف اور فرماتے کہ میرا یہ بچہ سید ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو بڑی بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا۱؎ [صحیح بخاری:2704]‏‏‏‏
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی سچی نکلی اور اہل شام اور اہل عراق میں بڑی لمبی لڑائیوں اور بڑے ناپسندیدہ واقعات کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے صلح ہو گئی۔
پھر ارشاد ہوتا ہے ’ اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑائی کی جائے تاکہ وہ پھر ٹھکانے آ جائے حق کو سنے اور مان لے ‘۔
صحیح حدیث میں ہے { اپنے بھائی کی مدد کر ظالم ہو تو مظلوم ہو تو بھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ مظلوم ہونے کی حالت میں تو ظاہر ہے لیکن ظالم ہونے کی حالت میں کیسے مدد کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ظلم سے باز رکھو یہی اس کی اس وقت یہ مدد ہے۱؎ [صحیح بخاری:6952]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ کہا گیا: کیا اچھا ہو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے ہاں چلئے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گدھے پر سوار ہوئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی میں ساتھ ہو لیئے، زمین شور تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے، تو یہ کہنے لگا مجھ سے الگ رہیے، اللہ کی قسم آپ کے گدھے کی بدبو نے میرا دماغ پریشان کر دیا۔ اس پر ایک انصاری نے کہا: واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بو تیری خوشبو سے بہت ہی اچھی ہے اس پر ادھر سے ادھر کچھ لوگ بول پڑے اور معاملہ بڑھنے لگا بلکہ کچھ ہاتھا پائی اور جوتے چھڑیاں بھی کام میں لائی گئیں ان کے بارے میں یہ آیت اتری ہے }۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اوس اور خزرج قبائل میں کچھ چشمک ہو گئی تھی ان میں صلح کرا دینے کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، عمران نامی ایک انصاری تھے ان کی بیوی صاحبہ کا نام ام زید تھا، اس نے اپنے میکے جانا چاہا، خاوند نے روکا اور منع کر دیا کہ میکے کا کوئی شخص یہاں بھی نہ آئے۔ عورت نے یہ خبر اپنے میکے کہلوا دی وہ لوگ آئے اور اسے بالاخانے سے اتار لائے اور لے جانا چاہا ان کے خاوند گھر پر تھے نہیں، خاوند والوں نے اس کے چچا زاد بھائیوں کو اطلاع دے کر انہیں بلا لیا، اب کھینچا تانی ہونے لگی اور ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طرف کے لوگوں کو بلا کر بیچ میں بیٹھ کر صلح کرا دی اور سب لوگ مل گئے
پھر حکم ہوتا ہے ’ دونوں فریقوں میں عدل کرو، اللہ عادلوں کو پسند فرماتا ہے ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا میں جو عدل و انصاف کرتے رہے وہ موتیوں کے منبروں پر رحمن عزوجل کے سامنے ہوں گے اور یہ بدلہ ہو گا ان کے عدل و انصاف کا۱؎ [مسند احمد:159/2:صحیح]‏‏‏‏
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے { یہ لوگ ان منبروں پر رحمن عزوجل کے دائیں جانب ہوں گے یہ اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور جو کچھ ان کے قبضہ میں ہے اس میں عدل سے کام لیا کرتے تھے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:18]‏‏‏‏
پھر فرمایا ’ کل مومن دینی بھائی ہیں ‘۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اسے اس پر ظلم و ستم نہ کرنا چاہیئے۱؎ [صحیح بخاری:2442]‏‏‏‏
صحیح حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہے }۔
اور صحیح حدیث میں ہے { جب کوئی مسلمان اپنے غیر حاضر بھائی مسلمان کے لیے اس کی پس پشت دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے آمین۔ اور تجھے بھی اللہ ایسا ہی دے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:87]‏‏‏‏
اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں صحیح حدیث میں ہے { مسلمان سارے کے سارے اپنی محبت رحم دلی اور میل جول میں مثل ایک جسم کے ہیں جب کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم تڑپ اٹھتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی شب بیداری کی تکلیف ہوتی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6011]‏‏‏‏
ایک اور حدیث میں ہے { مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے، پھر آپ نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2446]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { مومن کا تعلق اور اہل ایمان سے ایسا ہے جیسے سر کا تعلق جسم سے ہے، مومن اہل ایمان کے لیے وہی درد مندی کرتا ہے جو درد مندی جسم کو سر کے ساتھ ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:340/5:صحیح لغیرہ و ھذا اسناد ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے دونوں لڑنے والی جماعتوں اور دونوں طرف کے اسلامی بھائیوں میں صلح کرا دو اپنے تمام کاموں میں اللہ کا ڈر رکھو۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت تم پر نازل ہو گی پرہیزگاروں کے ساتھ ہی رب کا رحم رہتا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ بے شک سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومنین کے درمیان قائم کیا ہے، زمین کے مشرق یا مغرب میں کوئی بھی شخص جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ مومنوں کا بھائی ہے۔ یہ ایسی اخوت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ مومن اس کے لیے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اور وہ چیز اس کے لیے ناپسند کریں جسے وہ اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں۔ بنابریں رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اخوت ایمان کی بنا پر حکم دیتے ہوئے فرمایا: باہم حسد نہ کرو، مال کی خرید و فروخت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی نہ دو، ایک دوسرے سے ناراض نہ ہو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ، مومن، مومن کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔ (صحیح البخاري، النکاح، حدیث: 1543 مختصراً و صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2564)
صحیحین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے آپ نے فرمایا: مومن مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسری میں ڈال کر دکھایا۔(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6026، و صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2585)
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ تمام مومنین ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کریں اور ایک دوسرے سے ایسا سلوک کریں جس سے باہمی الفت، محبت اور باہمی میل جول پیدا ہوتا ہے یہ سب کچھ ایک دوسرے کے حقوق کی تائید ہے۔
اہل ایمان کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب وہ آپس میں کسی ایسی لڑائی میں مبتلا ہو جائیں جو دلوں میں تفرقہ، باہم ناراضی، اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی موجب ہو تو اہل ایمان اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کریں تاکہ ان کی باہمی دشمنی ختم ہو جائے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی تقویٰ کا حکم دیا اور قیام تقویٰ اور مومنوں کے حقوق کی ادائیگی پر رحمت کو مترتب فرمایا۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل ہو جاتی ہے تو دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے حقوق کی عدم ادائیگی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ان دو آیات کریمہ میں مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ بھی بعض فوائد ہیں:
(۱) اہل ایمان کا ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا، اخوت ایمانی کے منافی ہے، اس لیے یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔
(۲) ایمان اور اخوت ایمانی، آپس کی لڑائی کے باوجود زائل نہیں ہوتے جیسے دوسرے کبیرہ گناہوں سے ایمان زائل نہیں ہوتا، جو شرک سے کم تر ہوں۔ یہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے۔
(۳) یہ آیاتِ کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ مومنوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرانا واجب ہے۔
(۴) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ باغیوں کے خلاف لڑنا واجب ہے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف نہ لوٹ آئیں۔
(۵) نیز یہ آیات کریمہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اگر باغی غیراللہ کے حکم کی طرف رجوع کریں، یعنی وہ اس طرح رجوع کریں جس پر قائم رہنا اور اس کا التزام جائز نہ ہو، تو غیراللہ کے حکم کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں۔
(۶) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ باغیوں کے اموال معصوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بغاوت پر جمے رہنے کی بنا پر، ان کے اموال کی بجائے خاص طور پر ان کے خون کو مباح قرار دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّما المؤمنونَ إخوةٌ}: هذا عقدٌ عقدَه الله بين المؤمنين؛ أنَّه إذا وجد من أيِّ شخصٍ كان في مشرق الأرض ومغربها الإيمانُ بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر؛ فإنَّه أخٌ للمؤمنين أخوَّةً توجبُ أن يحبَّ له المؤمنون ما يحبُّون لأنفسهم، ويكرهوا له ما يكرهون لأنفسهم، ولهذا قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - آمراً بالأخوَّة الإيمانيَّة: «لا تَحاسدوا ولا تَناجشوا ولا تَباغضوا ولا تَدابروا، وكونوا عبادَ اللهِ إخواناً. المسلمُ أخو المسلم؛ لا يظلمُه ولا يخذُلُه ولا يكذبه». متفقٌ عليه. وفيهما عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم -: «المؤمنُ للمؤمن كالبنيان يشدُّ بعضُه بعضاً، وشبك - صلى الله عليه وسلم - بين أصابعه».

ولقد أمر اللهُ ورسولُه بالقيام بحقوق المؤمنين بعضهم لبعض وبما يحصُلُ به التآلفُ والتوادُدُ والتواصُلُ بينهم، كل هذا تأييدٌ لحقوق بعضهم على بعض؛ فمن ذلك إذا وقع الاقتتال بينهم الموجب لتفرُّق القلوب وتباغُضها وتدابُرها؛ فَلْيُصْلِح المؤمنون بين إخوانهم، ولْيَسْعَوا فيما به يزول شَنَآنهم.

ثم أمر بالتقوى عموماً، ورتب على القيام بالتقوى وبحقوق المؤمنين الرحمةَ، فقال: {لعلَّكم تُرْحَمونَ}، وإذا حصلت الرحمةُ؛ حصل خيرُ الدنيا والآخرة. ودلَّ ذلك على أنَّ عدم القيام بحقوق المؤمنين من أعظم حواجب الرحمة.

وفي هاتين الآيتين من الفوائد غير ما تقدم: أنَّ الاقتتال بين المؤمنين منافٍ للأخوَّة الإيمانيَّة، ولهذا كان من أكبر الكبائر. وأنَّ الإيمان والأخوَّة الإيمانيَّة لا يزولان مع وجود الاقتتال؛ كغيره من الذنوب الكبائر، التي دون الشرك، وعلى ذلك مذهب أهل السنة والجماعة. وعلى وجوب الإصلاح بين المؤمنين بالعدل. وعلى وجوب قتال البُغاة حتى يرجِعوا إلى أمر الله، وعلى أنهم لو رجعوا لغير أمرِ الله؛ بأن رجعوا على وجهٍ لا يجوز الإقرار عليه والتزامه؛ أنَّه لايجوز ذلك. وأنَّ أموالهم معصومةٌ؛ لأنَّ الله أباح دماءهم وقت استمرارهم على بَغْيِهم خاصةً دون أموالهم.