تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ:} جاہلیت کی ضد سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے وہ بات ماننے سے بھی انکار کر دیا جو تمام عرب کے ہاں مسلّم تھی کہ اللہ کے گھر سے کسی طواف یا عمرہ یا حج ادا کرنے والے کو روکا نہیں جا سکتا اور حرمت والے مہینوں میں لڑنے کی اجازت نہیں۔ بلکہ وہ لڑنے پر تیار ہو گئے اور کہنے لگے، ہم یہ عار برداشت نہیں کر سکتے کہ ہم سے زبردستی کوئی مکہ میں داخل ہو، اس لیے اس سال مسلمان واپس چلے جائیں، آئندہ سال آ کر عمرہ ادا کر لیں، وہ بھی صرف تین دن ٹھہریں اور اسلحہ میں صرف تلوار لا سکتے ہیں جو نیام میں ہو۔ اس کے علاوہ ان کا بات بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے الجھنا اور صلح کے لیے ناروا شرطیں لگانا بھی جاہلیت کی ضد تھی، مثلاً یہ کہنا کہ {”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“} کے بجائے {”بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ“} لکھو اور ”محمد رسول اللہ“ کے بجائے ”محمد بن عبد اللہ“ لکھو اور کوئی شخص مسلمان ہو کر تمھارے پاس جائے تو اسے واپس کرو، لیکن اگر کوئی مرتد ہو کر ہمارے پاس آئے تو ہم اسے واپس نہیں کریں گے۔ اسی طرح سہیل بن عمرو کا اپنے مسلمان ہو جانے والے بیٹے ابوجندل کو عین معاہدے کے درمیان آ کر اپنی حالت زار دکھانے کے باوجود مسلمانوں کے ساتھ جانے کی اجازت دینے سے انکار اور سب کے سامنے اس پر تشدد بھی جاہلیت کی ضد تھی۔
➌ { فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ:} سکینت سے مراد وہ تحمل و حوصلہ اور صبر و وقار ہے جس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے کفارِ مکہ کی جاہلانہ حمیت کا مقابلہ کیا کہ نہ مشتعل ہوئے، نہ کوئی ناحق بات زبان سے کہی اور نہ اپنے کسی عمل سے کفار کو لڑائی چھیڑنے کا موقع دیا۔
➍ اس آیت کے الفاظ پر غور کریں تو کفار اور مسلمانوں کے طرزِ عمل کے درمیان اور اللہ تعالیٰ کے ان کے ساتھ معاملے کے درمیان فرق کا اندازہ ہوتا ہے: (1)کفار نے اپنے دلوں میں حمیت یعنی ضد رکھ لی، سوچے سمجھے بغیر یہ ضد رکھنے والے وہ خود تھے۔ اس کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے دلوں میں سکینت تھی، جو اپنے خزانے سے نازل کرنے والا اللہ تعالیٰ تھا۔ (2)کفار کے دلوں میں موجود ضد جاہلیت کی ضد تھی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے دلوںمیں سکینت ربانی سکینت تھی۔
➎ {وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى:} وہ تقویٰ کی بات یہ تھی کہ مسلمان تنگی ترشی، جوش، غضب، غرض ہر طرح کے حالات میں اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا پابند بنائے رکھیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے مشتعل جذبات کو سکون بخش کر اور اپنے حکم کی پابندی پر قائم رکھ کر صلح کا کام پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا۔
➏ { وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا:} اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے، کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے تھے اور انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور آپ کی تربیت پانے کا شرف حاصل تھا۔
➐ { وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا:} اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ اس علم ہی کے ساتھ اس نے ان پاکیزہ ہستیوں کو تقویٰ کے سب سے زیادہ حق دار اور اہل جان کر اپنے رسول کی صحبت کے لیے چنا، اس کی اطاعت کی توفیق بخشی اور انھیں تقویٰ کی بات پر قائم رکھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[40] وہ تقویٰ کی بات یہ تھی کہ مسلمان تنگی ترشی، جوش، غضب، غرضیکہ ہر طرح کے حالات میں اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا پابند بنائے رکھیں گے۔ یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی کہ اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشتعل جذبات کو سکون بخش کر انہیں صلح کے سمجھوتہ پر مائل کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ایک قوم کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا «اِنَّهُمْ كَانُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ يَسْتَكْبِرُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:35] یعنی ’ ان سے کہا جاتا تھا کہ سوائے اللہ کے کوئی عبادت کے لائق نہیں تو یہ تکبر کرتے تھے ‘۔
اور اللہ تعالیٰ نے یہاں مسلمانوں کی تعریف بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ یہی اس کے زیادہ حقدار اور یہی اس کے قابل بھی تھے۔ یہ کلمہ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» ہے انہوں نے اس سے تکبر کیا اور مشرکین قریش نے اسی سے حدیبیہ والے دن تکبر کیا پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک مدت معینہ تک کے لیے صلح نامہ مکمل کر لیا۔
ابن جریر میں بھی یہ حدیث ان ہی زیادتیوں کے ساتھ مروی ہے لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پچھلے جملے راوی کے اپنے ہیں یعنی زہری رحمہ اللہ کا قول ہے جو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ گویا حدیث میں ہی ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد اخلاص ہے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کلمہ یہ ہے «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» ۔
مسور رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْك لَہٗ» ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد «لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ» ہے۔
یہی قول سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ کی وحدانیت کی شہادت ہے جو تمام تقوے کی جڑ ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» بھی ہے اور جہاد فی سبیل اللہ بھی ہے۔
عطا خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کلمہ تقویٰ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» ہے۔ زہری فرماتے رحمہ اللہ ہیں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» مراد ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد «لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ» ہے۔
جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس قرأت کی خبر پہنچی تو بہت تیز ہوئے لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا جاتا رہتا تھا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ آپ کو سکھاتا تھا آپ اس میں سے مجھے بھی سکھاتے تھے اس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ ذی علم اور قرآن دان ہیں آپ کو جو کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے وہ پڑھئے اور سکھائیے۔ ۱؎ [سنن نسائی]
سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیارت بیت اللہ کے ارادے سے چلے آپ کا ارادہ جنگ کا نہ تھا، ستر اونٹ قربانی کے آپ کے ساتھ تھے، کل ساتھی آپ کے سات سو تھے، ایک ایک اونٹ دس دس آدمیوں کی طرف سے تھا۔ آپ جب عسفان پہنچے تو سیدنا بشر بن سفیان کعبی رضی اللہ عنہ نے آپ کو خبر دی کہ یا رسول اللہ! قریشیوں نے آپ کے آنے کی خبر پا کر مقابلہ کی تیاریاں کر لی ہیں، انہوں نے اونٹوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنے ساتھ لے لیے ہیں اور چیتے کی کھالیں پہن لی ہیں اور عہد و پیمان کر لیے ہیں کہ وہ آپ کو اس طرح جبراً مکہ میں نہیں آنے دیں گے، خالد بن ولید کو انہوں نے چھوٹا سا لشکر دے کر کراع غمیم تک پہنچا دیا۔
یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس قریشیوں کو لڑائیوں نے کھا لیا کتنی اچھی بات تھی کہ وہ مجھے اور لوگوں کو چھوڑ دیتے اگر وہ مجھ پر غالب آ جاتے تو ان کا مقصود پورا ہو جاتا اور اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور لوگوں پر غالب کر دیتا تو پھر یہ لوگ بھی دین اسلام کو قبول کر لیتے اور اگر اس وقت بھی اس دین میں نہ آنا چاہتے تو مجھ سے لڑتے اور اس وقت ان کی طاقت بھی پوری ہوتی قریشیوں نے کیا سمجھ رکھا ہے؟ قسم اللہ کی اس دین پر میں ان سے جہاد کرتا رہوں گا اور ان سے مقابلہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ یا تو اللہ مجھے ان پر کھلم کھلا غلبہ عطا فرما دے یا میری گردن کٹ جائے۔“
پھر آپ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دائیں طرف حمص کے پیچھے سے اس راستہ پر چلیں جو ثنیۃ المرار کو جاتا ہے اور حدیبیہ مکہ کے نیچے کے حصے میں ہے۔ خالد والے لشکر نے جب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ بدل دیا ہے تو یہ دوڑے ہوئے قریشیوں کے پاس گئے اور انہیں اس کی خبر دی، ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ثنیۃ المرار میں پہنچے تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی، لوگ کہنے لگے اونٹنی تھک گئی۔
پھر آپ نے لشکریوں کو حکم دیا کہ وہ پڑاؤ کریں انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اس پوری وادی میں پانی نہیں آپ نے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر ایک صحابی کو دیا اور فرمایا: ”اسے یہاں کے کسی کنویں میں گاڑ دو“، اس کے گاڑتے ہی پانی جوش مارتا ہوا ابل پڑا تمام لشکر نے پانی لے لیا اور وہ برابر بڑھتا چلا جا رہا تھا۔
جب پڑاؤ ہو گیا اور وہ اطمینان سے بیٹھ گئے اتنے میں بدیل بن ورقہ اپنے ساتھ قبیلہ خزاعہ کے چند لوگوں کو لے کر آیا آپ نے اس سے بھی وہی فرمایا جو بشر بن سفیان سے فرمایا تھا چنانچہ یہ لوٹ گیا اور جا کر قریش سے کہا کہ تم لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بڑی عجلت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے لڑنے کو نہیں آئے، آپ تو صرف بیت اللہ کی زیارت کرنے اور اس کی عزت کرنے کو آئے ہیں تم اپنے فیصلے پر دوبارہ نظر ڈالو۔
دراصل قبیلہ خزاعہ کے مسلم و کافر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرفدار تھے مکہ کی خبریں انہی لوگوں سے آپ کو پہنچا کرتی تھیں۔ قریشیوں نے انہیں جواب دیا کہ گو آپ اسی ارادے سے آئے ہوں لیکن یوں اچانک تو ہم انہیں یہاں نہیں آنے دیں گے ورنہ لوگوں میں تو یہی باتیں ہوں گی کہ آپ مکہ گئے اور کوئی آپ کو روک نہ سکا۔
انہوں نے پھر مکرز بن حفص کو بھیجا یہ بنو عامر بن لوئی کے قبیلے میں سے تھا اسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عہد شکن شخص ہے“ اور اس سے بھی آپ نے وہی فرمایا جو اس سے پہلے آنے والے دونوں اور شخصوں سے فرمایا تھا، یہ بھی لوٹ گیا اور جا کر قریشیوں سے سارا واقعہ بیان کر دیا قریشیوں نے پھر حلیس بن علقمہ کنانی کو بھیجا یہ ادھر ادھر کے مختلف لوگوں کا سردار تھا اسے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس قوم سے ہے جو اللہ کے کاموں کی عظمت کرتی ہے اپنی قربانی کے جانوروں کو کھڑا کر دو۔“
اس نے جو دیکھا کہ ہر طرف سے قربانی کے نشان دار جانور آ جا رہے ہیں اور رک جانے کی وجہ سے ان کے بال اڑے ہوئے ہیں یہ تو وہیں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے بغیر لوٹ گیا اور جا کر قریش سے کہا کہ اللہ جانتا ہے تمہیں حلال نہیں کہ تم انہیں بیت اللہ سے روکو، اللہ کے نام کے جانور قربان گاہ سے رکے کھڑے ہیں یہ سخت ظلم ہے، اتنے دن رکے رہنے سے ان کے بال تک اڑ گئے ہیں میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہا ہوں قریش نے کہا تو تو نرا اعرابی ہے خاموش ہو کر بیٹھ جا۔
اب یہ چلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر آپ کے سامنے بیٹھ کر کہنے لگا کہ آپ نے ادھر ادھر کے کچھ لوگوں کو جمع کر لیا ہے اور آئے ہیں، اپنی قوم کی شان و شوکت کو خود ہی توڑنے کے لیے۔ سنئے یہ قریشی ہیں آج یہ مصمم ارادہ کر چکے ہیں اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی ان کے ساتھ ہیں جو چیتوں کی کھالیں پہنے ہوئے ہیں، وہ اللہ کو بیچ میں رکھ کر عہد و پیمان کر چکے ہیں کہ ہرگز ہرگز آپ کو اس طرح اچانک زبردستی مکہ میں نہیں آنے دیں گے۔
اللہ کی قسم! مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ یہ لوگ جو اس وقت بھیڑ لگائے آپ کے اردگرد کھڑے ہوئے ہیں یہ لڑائی کے وقت ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں گے۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رہا نہ گیا، آپ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے کہا جا لات کی وہ چوستا رہ، ہم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوں؟ عروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ابوقحافہ کے بیٹے“، تو کہنے لگا اگر مجھ پر تیرا احسان پہلے کا نہ ہوتا تو میں تجھے ضرور مزہ چکھاتا۔
اس کے بعد عروہ نے پھر کچھ کہنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی میں ہاتھ ڈالا، اس کی بےادبی کو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ برداشت نہ کر سکے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی کھڑے تھے، لوہا ان کے ہاتھ میں تھا، وہی اس کے ہاتھ پر مار کر فرمایا: اپنا ہاتھ دور رکھ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو چھو نہیں سکتا۔ یہ کہنے لگا تو بڑا ہی بدزبان اور ٹیڑھا آدمی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اس نے پوچھا یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ تیرا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے؟“، تو کہنے لگا غدار تو تو کل تک طہارت بھی نہ جانتا تھا۔
جب یہ قریشیوں کے پاس پہنچا تو کہنے لگا: اے قریش کی جماعت کے لوگو! میں کسریٰ کے ہاں اس کے دربار میں اور نجاشی کے یہاں اس کے دربار میں ہو آیا ہوں، اللہ کی قسم! میں نے ان بادشاہوں کی بھی وہ عظمت اور وہ احترام نہیں دیکھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھا ہے۔
آپ کے اصحاب تو آپ کی وہ عزت کرتے ہیں کہ اس سے زیادہ ناممکن ہے اب تم سوچ سمجھ لو اور اس بات کو باور کر لو کہ اصحاب رضی اللہ عنہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں کہ اپنے نبی کو تمہارے ہاتھوں میں دے دیں۔
اب آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں مکہ والوں کے پاس بھیجنا چاہا لیکن اس سے پہلے یہ واقعہ ہو چکا تھا کہ آپ نے ایک مرتبہ سیدنا خراش بن امیہ خزاعی رضی اللہ عنہ کو اپنے اونٹ پر جس کا نام ثعلب تھا سوار کرا کر مکہ مکرمہ بھیجا تھا قریش نے اس اونٹ کی کوچیں کاٹ دیں تھیں اور خود قاصد کو بھی قتل کر ڈالتے لیکن احابیش قوم نے انہیں بچا لیا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں یہ لوگ مجھے قتل نہ کر دیں کیونکہ وہاں میرے قبیلہ بنو عدی کا کوئی شخص نہیں جو مجھے ان قریشیوں سے بچانے کی کوشش کرے، اس لیے کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ آپ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بھیجیں جو ان کی نگاہوں میں مجھ سے بہت زیادہ ذی عزت ہیں۔
چنانچہ آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں مکہ میں بھیجا کہ جا کر قریش سے کہہ دیں کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں آئے بلکہ صرف بیت اللہ شریف کی زیارت اور اس کی عظمت بڑھانے کو آئے ہیں۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے شہر میں قدم رکھا ہی تھا جو ابان بن سعید بن عاص آپ کو مل گئے اور اپنی سواری سے اتر کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو آگے بٹھایا اور خود پیچھے بیٹھا اور اپنی ذمہ داری پر آپ کو لے چلا کہ آپ پیغام رسول اہل مکہ کو پہنچا دیں، چنانچہ آپ وہاں گئے اور قریش کو یہ پیغام پہنچا دیا۔
انہوں نے کہا کہ آپ تو آ ہی گئے ہیں آپ اگر چاہیں تو بیت اللہ کا طواف کر لیں لیکن سیدنا ذوالنورین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف نہ کر لیں ناممکن ہے کہ میں طواف کروں قریشیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو روک لیا اور انہیں واپس نہ جانے دیا، ادھر لشکر اسلام میں یہ خبر پہنچی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دوڑے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمانے لگے، کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ مشرک نہیں ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، تو کہا: پھر کیا وجہ ہے کہ ہم دینی معاملات میں اتنی کمزوری دکھائیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر اللہ کے رسول کی رکاب تھامے رہو، آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہنے کو تو اس وقت جوش میں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سب کچھ کہہ گیا لیکن پھر مجھے بڑی ندامت ہوئی میں نے اس کے بدلے بہت روزے رکھے، بہت سی نمازیں پڑھیں اور بہت سے غلام آزاد کئے، اس سے ڈر کر کہ مجھے اس گستاخی کی کوئی سزا اللہ کی طرف سے نہ ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو صلح نامہ لکھنے کے لیے بلوایا اور فرمایا: ”لکھو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» “ اس پر سہیل نے کہا: میں اسے نہیں جانتا یوں لکھئیے «بسمک اللھم» ، آپ نے فرمایا: ”اچھا یوں ہی لکھو۔“ پھر فرمایا: ”لکھو یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا“، اس پر سہیل نے کہا: اگر میں آپ کو رسول مانتا تو آپ سے لڑتا ہی کیوں؟ یوں لکھئے کہ یہ وہ صلح نامہ ہے جو محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو نے کیا، اس بات پر کہ دس سال تک ہم میں کوئی لڑائی نہ ہو گی، لوگ امن و امان سے رہیں گے، ایک دوسرے سے بچے ہوئے رہیں گے اور یہ کہ جو شخص آپ کے پاس اپنے ولی کی اجازت کے بغیر چلا جائے گا آپ اسے واپس لوٹا دیں گے اور جو صحابی رسول قریشیوں کے پاس چلا جائے گا وہ اسے نہیں لوٹائیں گے، ہم میں آپ میں لڑائیاں بند رہیں گی، صلح قائم رہے گی، کوئی طوق و زنجیر قیدو بند بھی نہ ہو گا۔
اسی میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت اور آپ کے عہد و پیمان میں آنا چاہے وہ آ سکتا ہے اور جو شخص قریش کے عہد و پیمان میں آنا چاہے وہ بھی آ سکتا ہے، اس پر بنو خزاعہ جلدی سے بول اٹھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدو پیمان میں آنا اور بنوبکر نے کہا کہ ہم قریشیوں کے ساتھ ان کے ذمہ میں ہیں۔
صلح نامہ میں یہ بھی تھا کہ اس سال آپ واپس لوٹ جائیں، مکہ میں نہ آئیں، اگلے سال آئیں اس وقت ہم باہر نکل جائیں گے اور آپ اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سمیت آئیں، تین دن مکہ میں ٹھہریں، ہتھیار اتنے ہی ہوں جتنے ایک سوار کے پاس ہوتے ہیں، تلوار میان میں ہو۔
ابھی صلح نامہ لکھا جا رہا تھا کہ سہیل کے لڑکے سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ لوہے کی بھاری زنجیروں میں جکڑے ہوئے گرتے پڑتے مکہ سے چھپتے چھپاتے بھاگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
یہ سب کچھ تو تھا ہی، مزید برآں جب سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ جو مسلمان تھے اور جنہیں مشرکین نے قید کر رکھا تھا اور جن پر طرح طرح کے مظالم توڑ رہے تھے یہ سن کر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہوئے ہیں کسی نہ کسی طرح موقعہ پا کر بھاگ آتے ہیں اور طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاضر ہوتے ہیں، تو سہیل اٹھ کر انہیں طمانچے مارنا شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے اے محمد! میرے آپ کے درمیان تصفیہ ہو چکا ہے یہ اس کے بعد آیا ہے لہٰذا اس شرط کے مطابق میں اسے واپس لے جاؤں گا
آپ جواب دیتے ہیں کہ ہاں ٹھیک ہے، سہیل کھڑا ہوتا ہے اور ابوجندل کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر گھسیٹتا ہوا انہیں لے کر چلتا ہے، سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ بلند آواز کہتے ہیں، اے مسلمانو! مجھے مشرکوں کی طرف لوٹا رہے ہو؟ ہائے یہ میرا دین مجھ سے چھیننا چاہتے ہیں اس واقعہ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اور برافروختہ کر دیا۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ پہلو بہ پہلو جانے لگے اور کہتے جاتے تھے کہ ابوجندل صبر کرو، ان میں رکھا ہی کیا ہے؟ یہ مشرک لوگ ہیں ان کا خون مثل کتے کے خون کے ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ساتھ ہی ساتھ اپنی تلوار کی موٹھ سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کی طرف کرتے جا رہے تھے کہ وہ تلوار کھینچ لیں اور ایک ہی وار میں باپ کے آرپار کر دیں۔ لیکن سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ باپ پر نہ اٹھا۔ صلح نامہ مکمل ہو گیا فیصلہ پورا ہو گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں نماز پڑھتے تھے اور جانور حلال ہونے کے لیے مضطرب تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اٹھو اپنی اپنی قربانیاں کر لو اور سر منڈوا لو لیکن ایک بھی کھڑا نہ ہوا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، آپ لوٹ کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمانے لگے: ”لوگوں کو یہ کیا ہو گیا ہے؟“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: یا رسول اللہ! اس وقت جس قدر صدمے میں یہ ہیں آپ کو بخوبی علم ہے، آپ ان سے کچھ نہ کہئے، اپنی قربانی کے جانور کے پاس جائیے اور اسے جہاں وہ ہو وہیں قربان کر دیجئیے اور خود سر منڈوا لیجئے، پھر تو ناممکن ہے کہ اور لوگ بھی یہی نہ کریں۔ آپ نے یہی کیا اب کیا تھا ہر شخص اٹھ کھڑا ہوا قربانی کو قربان کیا اور سر منڈوا لیا، اب آپ یہاں سے واپس چلے آدھا راستہ طے کیا ہو گا جو سورۃ الفتح نازل ہوئی۔ یہ روایت صحیح بخاری شریف میں بھی ہے ۱؎ [صحیح بخاری:2731]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”اب بتاؤ کیا ہم ان کے اہل و عیال پر حملہ کر دیں اگر وہ ہمارے پاس آئیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی گردن کاٹ دی ہو گی ورنہ ہم انہیں غمگین چھوڑ کر جائیں گے اگر وہ بیٹھ رہیں گے تو اس غم و رنج میں رہیں گے اور اگر انہوں نے نجات پا لی تو یہ گردنیں ہوں گی جو اللہ عزوجل نے کاٹ دی ہوں گی۔ دیکھو تو بھلا کتنا ظلم ہے کہ ہم نہ کسی سے لڑنے کو آئے، نہ کسی اور ارادے سے آئے، صرف اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے جا رہے ہیں اور وہ ہمیں روک رہے ہیں، بتاؤ ان سے ہم کیوں نہ لڑیں؟“
اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! آپ بیت اللہ کی زیارت کو نکلے ہیں، آپ چلے چلئیے ہمارا ارادہ جدال و قتال کا نہیں لیکن جو ہمیں اللہ کے گھر سے روکے گا ہم اس سے ضرور لڑیں گے خواہ کوئی ہو، آپ نے فرمایا: ”بس اب اللہ کا نام لو اور چل کھڑے ہو۔“ کچھ اور آگے چل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالد بن ولید طلائیہ کا لشکر لے کر آ رہا ہے پس تم دائیں طرف کو ہو لو، خالد کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع صحابہ رضی اللہ عنہم کے ان کے کلے پر پہنچ گئے۔
اب خالد دوڑا ہوا قریشیوں میں پہنچا اور انہیں اس سے مطلع کیا، اونٹنی کا نام اس روایت میں قصویٰ بیان ہوا ہے اس میں یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ جو کچھ وہ مجھ سے طلب کریں گے میں دوں گا بشرطیکہ حرمت اللہ کی اہانت نہ ہو پھر جو آپ نے اونٹنی کو للکارا تو وہ فوراً کھڑی ہو گئی۔
اور جب یہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر آپ کا یہی جواب آپ کے منہ سے سنتا ہے، تو آپ سے کہتا ہے کہ سنئیے جناب دو ہی باتیں ہیں، یا آپ غالب وہ مغلوب، یا وہ غالب آپ مغلوب اگر پہلی بات ہی ہوئی تو بھی کیا ہوا، آپ ہی کی قوم ہے، آپ نے کسی کے بارے میں ایسا سنا ہے کہ جس نے اپنی قوم کا ستیاناس کیا ہو؟ اور اگر دوسری بات ہو گی تو یہ جتنے آپ کے پاس ہیں، میں تو دیکھتا ہوں کہ سارے ہی آپ کو چھوڑ چھاڑ دوڑ جائیں گے۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وہ جواب دیا جو پہلے گزر چکا۔
مغیرہ والے بیان میں یہ بھی ہے کہ ان کے ہاتھ میں تلوار تھی اور سر پر خود تھا، ان کے مارنے پر عروہ نے کہا غدار میں نے تو تیری غداری میں تیرا ساتھ دیا تھا، بات یہ ہے کہ پہلے یہ جاہلیت کے زمانہ میں کافروں کے ایک گروہ کے ساتھ تھے، موقعہ پا کر انہیں قتل کر ڈالا اور ان کا مال لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، آپ نے فرمایا: ”تمہارا اسلام تو میں منظور کرتا ہوں لیکن اس مال سے میرا کوئی تعلق نہیں۔“
عروہ نے یہاں یہ منظر بھی بچشم خود دیکھا کہ آپ تھوکتے ہیں تو کوئی نہ کوئی صحابی لپک کر اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیتا ہے اور اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا ہے، آپ کے ہونٹوں کو جنبش ہوتے ہی فرمانبرداری کے لیے ایک سے ایک آگے بڑھتا ہے، جب آپ وضو کرتے ہیں تو آپ کے اعضاء بدن سے گرے ہوئے پانی پر جو قریب ہوتا ہے یوں لپکتا ہے جیسے صحابہ رضی اللہ عنہم لڑ پڑیں، جب آپ بات کرتے ہیں تو بالکل سناٹا ہو جاتا ہے، مجال نہیں جو کہیں سے چوں کی آواز بھی سنائی دے۔
حد تعظیم یہ ہے کہ صحابہ آنکھ بھر کر آپ کے چہرہ منور کی طرف تکتے ہی نہیں بلکہ نیچی نگاہوں سے ہر وقت باادب رہتے ہیں اس نے پھر واپس آ کر یہی حال قریشیوں کو سنایا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو انصاف و عدل کی بات پیش کر رہے ہیں اسے مان لو۔
اس نے جو یہ منظر دیکھا ادھر صحابہ رضی اللہ عنہم کی زبانی لبیک کی صدائیں سنیں تو کہہ اٹھا کہ ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا نہایت لغو حرکت ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ مکرز کو دیکھ کر آپ نے فرمایا: ”یہ ایک تاجر شخص ہے“، ابھی یہ بیٹھا باتیں کر ہی رہا تھا جو سہیل آ گیا اسے دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”لو اب کام سہل ہو گیا“، اس نے جب «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» لکھنے پر اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا: ”واللہ! میں رسول اللہ ہی ہوں گو تم نہ مانو۔“
یہ اس بنا پر کہ جب آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی تھی تو آپ نے کہہ دیا تھا کہ یہ حرمات الٰہی کی عزت رکھتے ہوئے، مجھ سے جو کہیں گے میں منظور کر لوں گا، آپ نے صلح نامہ لکھواتے ہوئے فرمایا کہ اس سال ہمیں یہ بیت اللہ کی زیارت کر لینے دیں گے لیکن سہیل نے کہا یہ ہمیں منظور نہیں ورنہ لوگ کہیں گے کہ ہم دب گئے اور کچھ نہ کر سکے۔
جب یہ شرط ہو رہی تھی کہ جو کافر ان میں سے مسلمان ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا جائے آپ اسے واپس کر دیں گے اس پر مسلمانوں نے کہا سبحان اللہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ وہ مسلمان ہو کر آئے اور ہم اسے کافروں کو سونپ دیں یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ اپنی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے آ گئے، سہیل نے کہا اسے واپس کیجئے۔
آپ نے فرمایا: ”ابھی تک صلح نامہ مکمل نہیں ہوا میں اسے کیسے واپس کر دوں؟“ اس نے کہا: پھر تو اللہ کی قسم میں کسی طرح اور کسی شرط پر صلح کرنے میں رضامند نہیں ہوں، آپ نے فرمایا: ”تم خود مجھے خاص اس کی بابت اجازت دے دو“، اس نے کہا میں اس کی اجازت بھی آپ کو نہیں دوں گا، آپ نے دوبارہ فرمایا لیکن اس نے پھر بھی انکار کر دیا۔ مگر مکرز نے کہا ہاں ہم آپ کو اس کی اجازت دیتے ہیں۔
اس وقت سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں سے فریاد کی ان بیچاروں کو مشرکین بڑی سخت سنگین سزائیں کر رہے تھے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ کہا جو پہلے گزر چکا، پھر پوچھا: کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں کہا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور اس کا طواف بھی کریں گے؟
آپ نے فرمایا: ”ہاں یہ تو میں نے کہا ہے، لیکن یہ تو نہیں کہا یہ اسی سال ہو گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں یہ تو آپ نے نہیں فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس تو تم وہاں جاؤ گے ضرور اور بیت اللہ کا طواف کرو گے ضرور۔“
اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے اونٹ کو نحر کیا اور نائی کو بلوا کر سر منڈوا لیا پھر تو سب صحابہ ایک ساتھ کھڑے ہو گئے اور قربانیوں سے فارغ ہو کر ایک دوسرے کا سر خود مونڈنے لگے اور مارے غم کے اور اژدھام کے قریب تھا کہ آس میں لڑ پڑیں۔
اس کے بعد ایمان والی عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں جن کے بارے میں آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَاۗءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ ۭ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَانِهِنَّ ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ ۭ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ ۭ وَاٰتُوْهُمْ مَّآ اَنْفَقُوْا ۭ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ ۭ وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا ۭ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ ۭ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ» ۱؎ [60-الممتحنة:10] نازل ہوئی۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس حکم کے تحت اپنی دو مشرکہ بیویوں کو اسی دن طلاق دے دی جن میں سے ایک نے معاویہ بن ابوسفیان سے نکاح کر لیا اور دوسری نے صفوان بن امیہ سے نکاح کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہیں سے واپس لوٹ کر مدینہ شریف آ گئے۔
سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ نامی ایک قریشی جو مسلمان تھے موقعہ پا کر مکہ سے نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ شریف پہنچے ان کے پیچھے ہی دو کافر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ عہد نامہ کی بنا پر اس شخص کو آپ واپس کیجئے ہم قریشیوں کے بھیجے ہوئے قاصد ہیں اور سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو واپس لینے کے لیے آئے ہیں آپ نے فرمایا: ”اچھی بات ہے میں اسے واپس کر دیتا ہوں۔“
سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ بڑھا کر کہا، ذرا مجھے دکھانا اس نے دے دی آپ نے ہاتھ میں لیتے ہی تول کر ایک ہی ہاتھ میں اس ایک کافر کا تو کام تمام کیا، دوسرا اس رنگ کو دیکھتے ہی مٹھیاں بند کر کے ایسا سرپٹ بھاگا کہ سیدھا مدینہ پہنچ کر دم لیا، اسے دیکھتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بڑی گھبراہٹ میں ہے کوئی خوفناک منظر دیکھ چکا ہے“، اتنے میں یہ قریب پہنچ گیا اور دہائیاں دینے لگا کہ حضور میرا ساتھی تو مار ڈالا گیا اور میں بھی اب تھوڑے دم کا مہمان ہوں دیکھئیے وہ آیا۔
اتنے میں سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذمہ کو پورا کر دیا آپ نے اپنے وعدے کے مطابق مجھے ان کے حوالے کر دیا، اب یہ اللہ تعالیٰ کی کریمی ہے کہ اس نے مجھے ان سے رہائی دلوائی۔
ادھر سے سیدنا ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ جنہیں حدیبیہ میں اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس کیا تھا وہ بھی موقعہ پا کر مکہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور براہ راست سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے پاس چلے۔ اب یہ ہوا کہ مشرکین قریش میں سے جو بھی ایمان قبول کرتا سیدھا سیدنا ابوبصیر رضی اللہ عنہ کے پاس آ جاتا اور یہیں رہتا سہتا یہاں تک کہ ایک خاص معقول جماعت ایسے ہی لوگوں کی یہاں جمع ہو گئی۔
اور انہوں نے یہ کرنا شروع کیا کہ قریشیوں کا جو قافلہ شام کی طرف جانے کے لیے نکلتا یہ اس سے جنگ کرتے جس میں قریشی کفار قتل بھی ہوئے اور ان کے مال بھی ان مہاجر مسلمانوں کے ہاتھ لگے یہاں تک کہ قریش تنگ آ گئے بالاخر انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آدمی کو بھیجا کہ حضور ہم پر رحم فرما کر ان لوگوں کو وہاں سے واپس بلوا لیجئے، ہم ان سے دستبردار ہوتے ہیں، ان میں سے جو بھی آپ کے پاس آ جائے وہ امن میں ہے، ہم آپ کو اپنی رشتہ داریاں یاد دلاتے ہیں اور اللہ کا واسطہ دیتے ہیں کہ انہیں اپنے پاس بلوا لیں۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخواست کو منظور فرما لیا اور ان حضرات کے پاس ایک آدمی بھیج کر سب کو بلوا لیا اور اللہ عزوجل نے آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَان اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا» ۱؎ [48-الفتح:24] نازل فرمائی۔
ان کفار کی حمیت جاہلیت یہ تھی کہ انہوں نے آیت «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» نہ لکھنے دی آپ کے نام کے ساتھ رسول اللہ نہ لکھنے دیا آپ کو بیت اللہ شریف کی زیارت نہ کرنے دی۔
مسند احمد میں { سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب خارجی نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے علیحدگی اختیار کی تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والے دن جب مشرکین سے صلح کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لکھو! یہ وہ شرائط صلح ہیں جن پر اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی تو مشرکین نے کہا: اگر ہم آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مانتے تو آپ سے ہرگز نہ لڑتے، تو آپ نے فرمایا: ”علی! اسے مٹا دو، اللہ تو خوب جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں، علی اسے کاٹ دو اور لکھو یہ وہ شرائط ہیں جن پر صلح کی محمد بن عبداللہ نے۔“ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بہت بہتر تھے پھر بھی آپ نے اس لکھے ہوئے کو کٹوایا اس سے کچھ آپ نبوت سے نہیں نکل گئے }۔ ۱؎ [مسند احمد:342/1:حسن]
مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والے دن ستر اونٹ قربان کئے جن میں ایک اونٹ ابوجہل کا بھی تھا جب یہ اونٹ بیت اللہ سے روک دئیے گئے تو اس طرح نالہ و بکا کرتے تھے جیسے کسی سے اس کا دودھ پیتا بچہ الگ ہو گیا ہو }۔ ۱؎ [مسند احمد:314/1:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {إذْ جعلَ الذين كفروا في قلوبِهِمْ الحميَّةَ حميَّةَ الجاهليَّةِ}: حيث أنفوا من كتابة «بسم الله الرحمن الرحيم»، وأنفوا من دخول رسول الله - صلى الله عليه وسلم - والمؤمنين إليهم في تلك السنة ؛ لئلاَّ يقولَ الناس: دَخَلوا مكَّة قاهرين لقريش! وهذه الأمور ونحوها من أمور الجاهلية لم تزلْ في قلوبِهِم حتَّى أوجبتْ لهم ما أوجبتْ من كثيرٍ من المعاصي، {فأنزل الله سكينَتَه على رسوله وعلى المؤمنين}: فلم يحمِلْهم الغضب على مقابلة المشركين بما قابلوهم به بل صبروا لحكم الله والتزموا الشروط التي فيها تعظيم حرمات الله، ولو كانت ما كانت، ولم يبالوا بقول القائلين ولا لوم اللائمين، {وألزَمَهم كلمةَ التَّقوى}، وهي لا إله إلاَّ الله وحقوقها، ألزمهم القيام بها، فالتزموها وقاموا بها، {وكانوا أحقَّ بها}: من غيرهم، {و} كانوا {أهلَها}: الذين استأهلوها؛ لما يعلمُ الله عندَهم وفي قلوبهم من الخير، ولهذا قال: {وكان الله بكلِّ شيءٍ عليماً}.