تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ:} ممکن ہے کہ انھیں یہ جواب ہود علیہ السلام نے دیا ہو یا صورتِ حال انھیں پکار کر کہہ رہی ہو۔
➌ {رِيْحٌ فِيْهَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ” رِيْحٌ “} میں تنوین تہویل کے لیے ہے، بلکہ یہ وہ ہے جسے تم نے جلدی طلب کیا ہے، یہ خوفناک آندھی ہے جس میں عذابِ الیم ہے۔ اس کی کیفیت سورۂ قمر (۱۹، ۲۰) اور سورۂ حاقہ (۶ تا ۸) میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ قومِ عاد آندھی والے بادلوں کو بارش برسانے والے سمجھتے رہے، حالانکہ وہ ان پر آنے والا عذاب تھا۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل اٹھتے یا ہوا تیز چلتی تو پریشان ہو جاتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [مَا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ضَاحِكًا حَتّٰی أَرٰی مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، قَالَتْ وَكَانَ إِذَا رَأٰی غَيْمًا أَوْ رِيْحًا عُرِفَ فِيْ وَجْهِهِ، قَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الْغَيْمَ فَرِحُوْا، رَجَاءَ أَنْ يَكُوْنَ فِيْهِ الْمَطَرُ، وَ أَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَ فِيْ وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةُ، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ! مَا يُؤْمِنِّيْ أَنْ يَكُوْنَ فِيْهِ عَذَابٌ، عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيْحِ، وَقَدْ رَأٰی قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوْا: «هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا» ] [بخاري، التفسیر، تفسیر سورۃ الأحقاف: ۴۸۲۸، ۴۸۲۹] ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ مجھے آپ کا تالو میں لٹکا ہوا گوشت کا ٹکڑا نظر آ جائے، آپ صرف مسکراتے تھے۔“ فرماتی ہیں: ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل یا ہوا دیکھتے تو وہ آپ کے چہرے میں پہچانی جاتی۔“ انھوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہو جاتے ہیں، اس امید پر کہ اس میں بارش ہو گی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب اسے دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے میں ناگواری پہچانی جاتی ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! مجھے اس سے کیا چیز بے خوف کرتی ہے کہ اس میں کوئی عذاب ہو؟ ایک قوم کو آندھی کے ساتھ عذاب دیا گیا اور ایک قوم نے عذاب دیکھا تو کہنے لگے: ”یہ بادل ہم پر بارش برسانے والا ہے۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا ہی بیان کرتی ہیں: [كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الرِّيْحِ وَالْغَيْمِ عُرِفَ ذٰلِكَ فِيْ وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ عَنْهُ ذٰلِكَ، قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنِّيْ خَشِيْتُ أَنْ يَكُوْنَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلٰی أُمَّتِيْ، وَيَقُوْلُ إِذَا رَأَی الْمَطَرَ، رَحْمَةً] [مسلم، صلاۃ الاستسقاء، باب التعوذ عند رؤیۃ الریح…: ۸۹۹] ”جب ہوا اور بادل والا دن ہوتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں پہچانا جاتا اور آپ (بے چینی کے عالم میں) کبھی اندر آتے کبھی باہر جاتے، جب بارش برسنے لگتی تو خوش ہو جاتے اور آپ کی وہ کیفیت ختم ہو جاتی۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا، میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ڈرتا ہوں کہیں وہ عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کیا گیا ہو۔“ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کو دیکھتے تو کہتے: ”(یا اللہ! اسے) رحمت(بنا)۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأرسل اللهُ عليهم العذاب العظيم، وهو الريحُ التي دمَّرتهم وأهلكتهم، ولهذا قال: {فلما رأوْه}؛ أي: العذاب، {عارضاً مستقبلَ أودِيَتِهِم}؛ أي: معترضاً كالسَّحاب، قد أقبل على أوديتهم التي تسيلُ فتسقي نوابتهم ويشربون من آبارها وغدرانها، {قالوا}: مستبشرين: {هذا عارضٌ ممطِرنُا}؛ أي: هذا السحاب سيمطرنا. قال تعالى: {بل هو ما استعجَلْتُم به}؛ أي: هذا الذي جنيتُم به على أنفسِكم حيث قلتُم: {فأتِنا بما تَعِدُنا إن كنتَ من الصادقين}. {ريحٌ فيها عذابٌ أليمٌ. تدمِّرُ كلَّ شيءٍ}: تمرُّ عليه من شدَّتها ونحسها، فسلَّطها الله {عليهم سبع ليالٍ وثمانية أيام حسوماً، فترى القوم فيها صَرْعى كأنَّهم أعجازُ نخل خاويةٍ}، {بأمر ربِّها}؛ أي: بإذنه ومشيئته، {فأصبحوا لا يرى إلاَّ مساكِنُهُم}: قد تلفتْ مواشيهم وأموالُهم وأنفسهم. {كذلك نجزي القوم المجرمين}: بسبب جرمِهِم وظُلمهم.