اس نے کہا یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تمھیں وہ پیغام پہنچاتا ہوں جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے اور لیکن میں تمھیں ایسے لوگ دیکھتا ہوں کہ تم جہالت برتتے ہو۔
En
(انہوں نے) کہا کہ (اس کا) علم تو خدا ہی کو ہے۔ اور میں تو جو (احکام) دے کر بھیجا گیا ہوں وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی میں پھنس رہے ہو
(حضرت ہود نے) کہا (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وه تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو
En
(آیت 23) ➊ { قَالَاِنَّمَاالْعِلْمُعِنْدَاللّٰهِ:} ہود علیہ السلام نے ان کے اس گستاخانہ مطالبے پر کسی تلخی کے اظہار کے بجائے انھیں مزید سمجھانے کی کوشش فرمائی۔ چنانچہ فرمایا، عذاب کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس کا اختیار بھی وہی رکھتا ہے، وہی جانتا ہے کہ تم پر دنیا میں عذاب آئے گا یا آخرت میں اور یہ بھی وہی جانتا ہے کہ تمھیں کب تک مہلت دی جائے گی۔ میرے پاس نہ اس کا اختیار ہے کہ جب چاہوں تم پر عذاب لے آؤں اور نہ ہی مجھے اس کے وقت کا علم ہے۔ ➋ { وَاُبَلِّغُكُمْمَّاۤاُرْسِلْتُبِهٖ:} میرا کام وہ پیغام تم تک پہنچا دینا ہے جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَاِنْاَعْرَضُوْافَمَاۤاَرْسَلْنٰكَعَلَيْهِمْحَفِيْظًااِنْعَلَيْكَاِلَّاالْبَلٰغُ» [الشورٰی: ۴۸]”پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگران بنا کر نہیں بھیجا، تیرے ذمے پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔“ ➌ { وَلٰكِنِّيْۤاَرٰىكُمْقَوْمًاتَجْهَلُوْنَ:} ”جہل“ اکھڑ پن کو بھی کہتے ہیں اور لاعلمی کو بھی۔ اگر پہلا معنی ہو تو جہالت برتنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ایک تم کفر پر اصرار کر رہے ہو، اچھی بات قبول کرنے کے بجائے عذاب مانگ رہے ہو اور دوسرے مجھ سے ایسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو میرے اختیار میں نہیں ہے، اور اگر یہ جہل علم کے مقابلے میں ہو تو مطلب یہ ہے کہ تمھیں علم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کیا ہوتا ہے اور وہ تمھارے کس قدر قریب آ چکا ہے اور نہ یہ علم ہے کہ رسول پیغام پہنچانے کے لیے آتے ہیں، عذاب لانا ان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23۔ 1 یعنی عذاب کب آئے گا یا دنیا میں نہیں آئے گا بلکہ آخرت میں تمہیں عذاب دیا جائے گا اس کا علم صرف اللہ کو ہے وہی اپنی مشیت کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے میرا کام تو صرف پیغام پہچانا ہے۔ 23۔ 2 کہ ایک کفر پر اصرار کر رہے ہو۔ دوسرے، مجھ سے ایسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو میرے اختیار میں نہیں ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ ہود نے کہا: اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ میں تو تمہیں وہ پیغام پہنچا رہا ہوں جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم نادان [36] لوگ ہو۔
[36] کسی بات کا نتیجہ غلط نکالنا بھی جہالت ہے اور قوم ہود کی جہالت :۔
ان کی نادانی اور جہالت یہ تھی کہ جو بات انہیں ہودؑ سمجھانا چاہتے تھے انہوں نے اس کے برعکس نتیجہ نکالا۔ سیدنا ہودؑ نے انہیں یہ سمجھایا تھا کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کسی کو کسی بھی طرح کے تصرف کا اختیار حاصل نہیں۔ حتیٰ کہ خود مجھے بھی نہیں۔ میں بھی محض اللہ کا پیغام پہنچانے والا اور تمہیں تمہارے برے انجام سے ڈرانے والا ہوں۔ لیکن انہوں نے جواب میں یہ کہہ دیا کہ جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو وہ لے آؤ۔ حالانکہ ہودؑ کا یہ دعویٰ تھا ہی نہیں کہ اگر تم انکار کرو گے تو میں تم پر عذاب بھی لا سکتا ہوں اور مجھے ایسے تصرف کے اختیار حاصل ہیں۔ اور ان کی دوسری نادانی یہ تھی کہ اچھی بات کو تو قبول نہیں کرتے تھے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالَاِنَّمَاالْعِلْمُعِنْدَاللّٰهِ ﴾”انھوں نے کہا، اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔“ پس وہی ہے جس کے ہاتھ میں تمام امور کی زمام اختیار اور جس کے قبضہ قدرت میں تمام معاملات کی کنجیاں ہیں اور اگر وہ چاہے تو وہی تم پر عذاب بھیج سکتا ہے ﴿وَاُبَلِّغُكُمْمَّاۤاُرْسِلْتُبِهٖ ﴾ واضح طور پر پہنچا دینے کے سوا مجھ پر کوئی اور ذمہ داری نہیں ﴿ وَلٰكِنِّیْۤاَرٰىكُمْقَوْمًاتَجْهَلُوْنَ ﴾”لیکن میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم جاہل قوم ہو۔“ اسی وجہ سے تمھاری طرف سے اس جرأت کا ارتکاب ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال إنَّما العلمُ عند اللهِ}: فهو الذي بيده أزمَّةُ الأمور ومقاليدُها، وهو الذي يأتيكم بالعذاب إن شاء، {وأبَلِّغُكُم ما أرسلتُ به}؛ أي: ليس عليَّ إلاَّ البلاغُ المبين، {ولكني أراكم قوماً تجهلونَ}: فلذلك صدر منكم ما صدر من هذه الجرأة الشديدة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔