تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 24

فَلَمَّا رَاَوۡہُ عَارِضًا مُّسۡتَقۡبِلَ اَوۡدِیَتِہِمۡ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا عَارِضٌ مُّمۡطِرُنَا ؕ بَلۡ ہُوَ مَا اسۡتَعۡجَلۡتُمۡ بِہٖ ؕ رِیۡحٌ فِیۡہَا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿ۙ۲۴﴾
تو جب انھوں نے اسے ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کا رخ کیے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا یہ بادل ہے جو ہم پر مینہ برسانے والا ہے۔ بلکہ یہ وہ(عذاب) ہے جو تم نے جلدی مانگا تھا، آندھی ہے، جس میں دردناک عذاب ہے۔ En
پھر جب انہوں نے اس (عذاب کو) دیکھا کہ بادل (کی صورت میں) ان کے میدانوں کی طرف آرہا ہے تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا۔ (نہیں) بلکہ (یہ) وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے یعنی آندھی جس میں درد دینے والا عذاب بھرا ہوا ہے
En
پھر جب انہوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس اللہ تعالی نے ان پر عذاب نازل فرمایا۔ وہ عذاب ایک ایسی ہوا کی شکل میں تھا جس نے ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاَوْهُ جب انھوں نے اس عذاب کو دیکھا جو ﴿ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ بادل کی طرح پھیلتے ہوئے ان کی وادیوں کی طرف بڑھ رہا تھا، جہاں سیلاب کا پانی بہتا تھا جہاں سے وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے، ان وادیوں کے کنو وں اور تالابوں سے پانی پیتے تھے۔ ﴿ قَالُوْا (تو) انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم نے خود اپنے لیے چنا ہے کہ تم نے کہا تھا ﴿ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰؔدِقِیْنَ ہمارے پاس وہ عذاب لے آ جس کا تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے۔ ﴿رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۰۰ تُدَمِّرُ كُ٘لَّ شَیْءٍۭ یہ ایک ایسی ہوا ہے جس کے اندر درد ناک عذاب ہے جوہر چیز کو ہلاک کر دے گی۔ یعنی یہ ہوا جس چیز پر سے گزرتی اپنی شدت اور نحوست کی وجہ سے اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل رکھا﴿سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَةَ اَیَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِیْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَةٍ (الحاقۃ: 7/69) لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن (آپ وہاں ہوتے) تو اس ہوا میں لوگوں کو پچھاڑے اور مرے ہوئے دیکھتے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوتے ہیں﴿ ؔ بِاَمْرِ رَبِّهَا یعنی اپنے رب کے حکم اور اس کی مشیت سے ﴿ فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے مکانات کے سوا اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ اس ہوا نے ان کے مویشیوں، ان کے مال و متاع اور خود ان کو نیست و نابود کر دیا۔ ﴿ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ ان کے جرم اور ظلم کے سبب سے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأرسل اللهُ عليهم العذاب العظيم، وهو الريحُ التي دمَّرتهم وأهلكتهم، ولهذا قال: {فلما رأوْه}؛ أي: العذاب، {عارضاً مستقبلَ أودِيَتِهِم}؛ أي: معترضاً كالسَّحاب، قد أقبل على أوديتهم التي تسيلُ فتسقي نوابتهم ويشربون من آبارها وغدرانها، {قالوا}: مستبشرين: {هذا عارضٌ ممطِرنُا}؛ أي: هذا السحاب سيمطرنا. قال تعالى: {بل هو ما استعجَلْتُم به}؛ أي: هذا الذي جنيتُم به على أنفسِكم حيث قلتُم: {فأتِنا بما تَعِدُنا إن كنتَ من الصادقين}. {ريحٌ فيها عذابٌ أليمٌ. تدمِّرُ كلَّ شيءٍ}: تمرُّ عليه من شدَّتها ونحسها، فسلَّطها الله {عليهم سبع ليالٍ وثمانية أيام حسوماً، فترى القوم فيها صَرْعى كأنَّهم أعجازُ نخل خاويةٍ}، {بأمر ربِّها}؛ أي: بإذنه ومشيئته، {فأصبحوا لا يرى إلاَّ مساكِنُهُم}: قد تلفتْ مواشيهم وأموالُهم وأنفسهم. {كذلك نجزي القوم المجرمين}: بسبب جرمِهِم وظُلمهم.