ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 81

قُلۡ اِنۡ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾
کہہ دے اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوں۔ En
کہہ دو کہ اگر خدا کے اولاد ہو تو میں (سب سے) پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوں
En
آپ کہہ دیجئے! کہ اگر بالفرض رحمٰن کی اوﻻد ہو تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے واﻻ ہوتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 81) {قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ …:} کفار فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ردّ فرمایا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان سے کہہ دیں کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوں۔ مطلب یہ کہ میرا اللہ تعالیٰ کی اولاد نہ ماننا اور جنھیں تم اللہ کی اولاد قرار دیتے ہو ان کی عبادت سے انکار کسی ضد یا ہٹ دھرمی کی بنا پر نہیں، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ ممکن ہی نہیں کہ اس ذات پاک کی اولاد ہو جس کا نام رحمان ہے۔ تفصیل کے لیے سورۂ مریم کی آیات (۸۸ تا ۹۸) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو، جیسا کہ کفار کہتے ہیں، تو سب سے پہلے اس اولاد کی عبادت کرنے والا میں ہوں، کیونکہ میرا اس کے ساتھ بندگی کا تعلق سب سے زیادہ ہے، جیسا کہ بادشاہ کے نوکر چاکر بادشاہ کی اولاد کی تعظیم ان کے والد کی تعظیم کی وجہ سے کرتے ہیں، لیکن رحمان کی اولاد ہے ہی نہیں، اس لیے میں اللہ واحد کے سوا کسی کی عبادت کرنے والا نہیں۔
یاد رہے کہ یہ جملہ شرطیہ ہے، اس میں شرط کا وجود بلکہ اس کا امکان بھی ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ناممکن چیز کو بھی بفرض محال شرط کے طور پر ذکر کر دیا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [الزمر: ۴] اگر اللہ چاہتا کہ (کسی کو) اولاد بنائے تو ان میں سے جنھیں وہ پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ضرور چن لیتا، وہ پاک ہے۔ وہ تو اللہ ہے، جو اکیلا ہے، بہت غلبے والا ہے۔ اور فرمایا: «لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا» ‏‏‏‏ [الأنبیاء: ۲۲] اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

81۔ 1 کیونکہ اللہ کا مطیع اور فرماں بردار ہوں اگر واقع اس کی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں ان کی عبادت کرنے والا ہوتا۔ مطلب مشرکین کے عقیدے میں اللہ کی اولاد ثابت کرتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

81۔ آپ ان سے کہئے کہ اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے میں اس کی عبادت [76] کرنے والا ہوتا
[76] یعنی تم کہتے ہو کہ اللہ کی اولاد ہے۔ اگر مجھے تمہاری یہ بات دل لگتی اور مجھے ایسا یقین حاصل ہو جاتا تو میں یقیناً سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا۔ لیکن یہ بات میری عقل اور سمجھ سے باہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہو۔ اور کائنات کے تصرف میں اس کا بھی کچھ اختیار ہو۔ وجہ یہ ہے کہ اگر ایسی صورت ہوتی تو کائنات کے پورے کے پورے نظام میں جو ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ایک سے زیادہ خداؤں کی صورت میں یہ کبھی برقرار نہیں رہ سکتی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک ہے ٭٭
’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے؟ ‘ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو۔
یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «‏‏‏‏لَّوْ أَرَادَ اللَّـهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ هُوَ اللَّـهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ‌» ‏‏‏‏ ۱؎ [39-الزمر:4]‏‏‏‏، یعنی ’ اگر حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے ‘۔
بعض مفسریں نے «عَابِدِیْنَ» کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری رحمہ اللہ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ «عَابِدِیْنَ» سے مراد یہاں «اَوَّلُ الْجَاحِدِیْـنَ» ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ «عَبْدَ یَعْبَدُ» کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ «عَـبَدَ یَـعْـبُدُ» سے ہوتا ہے۔
اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15]‏‏‏‏ یعنی ’ حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے ‘۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [31-لقمان:14]‏‏‏‏ ’ دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے ‘۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کا انکار نہ کر سکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو۔ یہاں بھی لفظ «عَـبِدَ» ہے یعنی انکار نہ کر سکے۔ ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں «عَـبِدَ» کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی «عَـبِدَ» انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔
لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہو گا کہ اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔‏‏‏‏ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ «اِنْ» شرط کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لیے ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول بھی ہے۔
تو اب مضمون کلام یہ ہو گا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔‏‏‏‏
ابو صخر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں۔‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔‏‏‏‏
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں۔‏‏‏‏ یہ دونوں لغت میں «عَابِد» اور «عَبِدَ» اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے۔‏‏‏‏ ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ «اِنْ» کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں، اسی لیے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ’ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ‘۔
ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کر لیں ‘۔
پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ ’ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر و علیم ہے ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے رسول! ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے، جس نے کوئی بیوی بنائی نہ بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہی ہے ﴿قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖ ۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ کہہ دیجیے: اگر رحمٰن کے اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا۔ اس بیٹے کی کیونکہ بیٹا اپنے باپ کا جز ہوتا ہے۔ میں تمام مخلوق میں ان تمام اوامر پر عمل کرنے میں سب سے آگے ہوں، جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں، مگر (تم دیکھ رہے ہو) کہ میں اس کا انکار کرنے والا پہلا شخص ہوں اور اس کی نفی کرنے میں سب سے زیادہ سخت ہوں، پس اس سے اس مشرکانہ قول کا بطلان ثابت ہو گیا۔
جو لوگ انبیائے کرام کے احوال کو جانتے ہیں اور انھیں یہ معلوم ہے کہ انبیاء کامل ترین مخلوق ہیں، ہر بھلائی پر عمل کرنے اور اس کی تکمیل کے لیے وہ پیش پیش رہتے ہیں اور ہر برائی کو ترک کرنے، اس کا انکار کرنے اور اس سے دور رہنے میں سب سے آگے ہیں تو ایسے لوگوں کے نزدیک یہ ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ پس اگر رحمان کا کوئی بیٹا ہوتا، تو محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو سب سے افضل رسول ہیں، اولین شخص ہوتے جو اس کی عبادت کرتے اور اس کی عبادت کرنے میں مشرکین آپ پر کبھی سبقت نہ لے جاسکتے۔
آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا اولین شخص ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے لیے میری عبادت یہ ہے کہ اس نے جس چیز کا اثبات کیا ہے میں اس کا اثبات کرتا ہوں اور جس چیز کی اس نے نفی کی ہے میں اس کی نفی کرتا ہوں، پس یہ قولی و اعتقادی عبادت ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ اگر یہ بات حق ہوتی تو میں پہلا شخص ہوتا جو اس کا اثبات کرتا، لہٰذا اس سے اور عقل و نقل کے اعتبار سے مشرکین کے دعوے کا بطلان اور فساد معلوم ہوگیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قل يا أيُّها الرسول الكريم للذين جعلوا لله ولداً، وهو الواحد الأحد، الفرد الصَّمد، الذي لم يتَّخذ صاحبة ولا ولداً، ولم يكن له كفواً أحدٌ: {قل إن كان للرحمن ولدٌ فأنا أوَّلُ العابدينَ}: لذلك الولد؛ لأنه جزءٌ من والده، وأنا أولى الخلق انقياداً للأوامر المحبوبة لله، ولكنِّي أولُ المنكرين لذلك، وأشدُّهم له نفياً، فعلم بذلك بطلانه؛ فهذا احتجاجٌ عظيم عند من عرفَ أحوال الرسل، وأنَّه إذا علم أنَّهم أكملُ الخلق، وأنَّ كلَّ خير فهم أول الناس سبقاً إليه وتكميلاً له. وكلُّ شرٍّ فهم أولُ الناس تركاً له وإنكاراً له وبعداً منه؛ فلو كان للرحمن ولدٌ، وهو الحقُّ؛ لكان محمدُ بنُ عبد الله أفضلَ الرسل أول مَنْ عَبَدَه، ولم يسبقْه إليه المشركون.

ويُحتمل أنَّ معنى الآية: لو كان للرحمن ولدٌ؛ فأنا أولُ العابدين لله، ومن عبادتي لله إثباتُ ما أثبته ونفيُ ما نفاه؛ فهذا من العبادة القوليَّة الاعتقاديَّة، ويلزم من هذا لو كان حقًّا؛ لكنتُ أول مثبتٍ له، فعلم بذلك بطلانُ دعوى المشركين وفسادها عقلاً ونقلاً.