(آیت 69){ اَلَّذِيْنَاٰمَنُوْابِاٰيٰتِنَا …:} اس میں ان لوگوں کی چند صفات بیان فرمائیں جو قیامت کے دن خوف اور غم سے آزاد ہوں گے۔ آیت کے الفاظ سے یہاں ایمان اور اسلام کا الگ الگ ہونا ظاہر ہے۔ (دیکھیے حجرات: ۱۴) البتہ جب کہیں اکیلے ایمان یا اسلام کا ذکر آئے تو دونوں ایک ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ ہماری آیات پر یقین کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی پوری طرح تابع فرمان تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
69۔ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور فرمانبردار بن کر رہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَلَّذِیْنَاٰمَنُوْابِاٰیٰتِنَاوَكَانُوْامُسْلِمِیْنَ﴾ یعنی ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ چیز ان آیات کی تصدیق کو بھی شامل ہے نیز یہ چیز ان آیات کے معانی کے علم اور ان پر عمل کو بھی شامل ہے، جس کے بغیر تصدیق کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پس انھوں نے اعمالِ ظاہر اور اعمالِ باطن کو جمع کر لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{الذين آمنوا بآياتنا وكَانوا مُسلِمِينَ}؛ أي: وصفهم الإيمانُ بآيات الله، وذلك يشمل للتصديق بها، وما لا يتمُّ التصديق إلاَّ به من العلم بمعناها والعمل بمقتضاها، وكانوا مسلمينَ لله منقادينَ له في جميع أحوالِهِم، فجمعوا بين الاتِّصاف بعمل الظاهر والباطن.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔