تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ:} ان انعامات میں سے چند انعامات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ مائدہ کی آیات (۱۱۰ تا ۱۱۵) میں اور سورۂ آلِ عمران کی آیات (۴۵، ۴۶) میں اور دوسری آیات میں فرمایا ہے۔
➌ {وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ:} بنی اسرائیل کے لیے مثال بنانے سے مراد ان کے لیے نمونۂ قدرت بنانا ہے کہ انھیں باپ کے بغیر پیدا کیا اور انھیں ایسے معجزات عطا فرمائے جو ان کے زمانے میں کسی کو نہیں ملے، جنھیں دیکھ کر لوگوں کو ان کی نبوت کا یقین ہوتا تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کر دیتے ‘۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کر دیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے۔“ اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ ’ وہ قیامت کی نشانی ہے ‘، اس کا مطلب جو ابن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے عیسیٰ علیہ السلام پر۔
اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے «وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] یعنی ’ جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں ‘۔
اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ { قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں}۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:207/11:]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وليس تفضيل عيسى [عليه] السلام وكونِهِ مقرّباً عند ربِّه ما يدلُّ على الفرق بينَه وبينَها في هذا الموضع، وإنَّما هو كما قال تعالى: {إنْ هو إلاَّ عبدٌ أنْعَمْنا عليه}: بالنبوَّة والحكمة والعلم والعمل، {وجَعَلْناه مثلاً لبني إسرائيل}: يعرِفون به قدرةَ الله تعالى على إيجادِهِ من دون أبٍ. وأمَّا قوله تعالى: {إنَّكم وما تعبدونَ من دونِ الله حَصَبُ جهنَّم أنتم لها واردونَ}؛ فالجواب عنها من ثلاثة أوجه: أحدها: أنَّ قوله: {إنَّكم وما تعبُدونَ من دونِ الله} أنَّ {ما} اسمٌ لما لا يعقل لا يدخل فيه المسيح ونحوه. الثاني: أنَّ الخطاب للمشركين الذين بمكَّة وما حولها، وهم إنَّما يعبدون أصناماً وأوثاناً ولا يعبدون المسيح. الثالث: أنَّ الله قال بعد هذه الآية: {إنَّ الذين سبقتْ لهم منَّا الحُسنى أولئك عنها مبعَدونَ}؛ فلا شكَّ أن عيسى وغيره من الأنبياء والأولياء داخلونَ في هذه الآية.