تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ آیات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب {” وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ “} (اورتیرے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں) میں آخرت کی عظمت و شان اور دنیا کی حقارت بیان فرمائی تو ساتھ ہی بیان فرمایا کہ اس کے نزدیک دنیا بالکل ہی حقیر اور بے قدر و قیمت ہے، اس کے ہاں کوئی قیمت ہے تو صرف آخرت کی، اس لیے اس نے آخرت کی نعمتیں صرف مسلمانوں کے لیے خاص کر رکھی ہیں، کفار کا ان میں کوئی حصہ نہیں۔ دنیا کی نعمتوں میں اس نے مومن و کافر سب کو شریک رکھا ہے اور دونوں کو ان نعمتوں میں شریک رکھنے کی حکمت بیان فرمائی کہ اگر ہمیں یہ بات ناپسند نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی امت یعنی سبھی کافر ہو جائیں گے تو ہم دنیا کی زیب و زینت کی تمام اشیاء کفار کو دے دیتے، لیکن چونکہ ہمیں معلوم ہے کہ لوگوں کے دلوں میں دنیوی زیب و زینت کی شدید رغبت اور محبت موجود ہے، اگر ہم نے یہ سبھی کچھ کفار کو دے دیا تو دنیا کی رغبت کے نتیجے میں سبھی لوگ کافر ہو جائیں گے، (جب کہ یہ بات ہماری رحمت کو منظور نہیں) اس لیے ہم نے کافر و مومن دونوں میں غنی بھی رکھے ہیں، فقیر بھی اور دنیا کی زندگی کے سازو سامان میں دونوں کو شریک رکھا ہے۔ آیت کے آخری جملوں: «وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِيْنَ» (اور یہ سب کچھ دنیا کی زندگی کے سامان کے سوا کچھ نہیں اور آخرت تیرے رب کے ہاں متقی لوگوں کے لیے ہے) میں بیان فرمایا کہ آخرت صرف ایمان والوں کے لیے ہے۔ یہی مضمون سورۂ اعراف (۳۲) میں بیان ہوا ہے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰهِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ مَا سَقٰی كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ] [ترمذي، الزھد، باب ما جاء في ھوان الدنیا علی اللّٰہ عز و جل: ۲۳۲۰] ”اگر دنیا اللہ کے ہاں مچھر کے ایک پر کے برابر ہوتی تو وہ اس میں سے کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ پینے کو نہ دیتا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دنیا کی قدر و قیمت: پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہو گئے؟ اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق وتفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم، قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیں۔ ‘ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے۔ ایک ایک کے ماتحت رہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے اور حدیث میں ہے { اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں ان کے لیے جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے۔ وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہو گا۔
چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالا خانہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسرٰی کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر کس حال میں ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے { اے ابن خطاب رضی اللہ عنہ کیا تو شک میں ہے؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2468]
ایک اور روایت میں ہے کہ { کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت }۔۱؎ [صحیح بخاری:4913]
ترمذی وغیرہ کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے کہ حضور سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا }۔۱؎ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى بأنَّ الدُّنيا لا تسوى عنده شيئاً، وأنَّه لولا لطفُه ورحمتُه بعباده التي لا يقدم عليها شيئاً؛ لوسَّع الدُّنيا على الذين كفروا توسيعاً عظيماً، ولَجَعَلَ {لبيوتهم سُقُفاً من فضَّة ومعارجَ}؛ أي: درجاً من فضة، {عليها يظهرونَ}: إلى سطوحهم، {ولبيوتِهِم أبواباً وسُرراً عليها يتَّكِئونَ}: من فضَّة، ولجعل لهم {زُخْرفاً}؛ أي: لزخرف لهم دُنياهم بأنواع الزخارف وأعطاهم ما يشتهون، ولكن منعه من ذلك رحمتُه بعباده؛ خوفاً عليهم من التسارع في الكفر وكثرة المعاصي بسبب حبِّ الدُّنيا. ففي هذا دليلٌ على أنَّه يمنع العبادَ بعضَ أمور الدُّنيا منعاً عامًّا أو خاصًّا لمصالحهم، وأنَّ الدُّنيا لا تزن عند الله جناح بعوضة. وأنَّ كلَّ هذه المذكورات متاعُ الحياة الدُّنيا منغصة مكدرة فانية، وأنَّ الآخرة عند الله تعالى خيرٌ للمتَّقين لربِّهم بامتثال أوامره واجتناب نواهيه؛ لأنَّ نعيمَها تامٌّ كاملٌ من كلِّ وجهٍ، وفي الجنة ما تشتهيه الأنفس وتلذُّ الأعين، وهم فيها خالدون. فما أشدَّ الفرقَ بين الدارين!