تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
خلاصہ یہ کہ تیرے رب کی رحمت کی تقسیم اسی کے پاس ہے اور وہی جانتا ہے کہ کون اس کے قابل ہے۔ یہ کافر دنیا کے مال و جاہ کی وجہ سے ان لوگوں کو رسالت کے قابل سمجھ رہے ہیں جو اللہ کے ہاں ایک تنکے کا وزن نہیں رکھتے اور مال نہ ہونے کی وجہ سے اس شخص کو نبوت کے لیے نااہل قرار دے رہے ہیں جو سب سے زیادہ پاکیزہ قلب و نفس والا، خاندانی شرافت میں سب سے بلند اور انسانی خوبیوں میں سب سے ممتاز ہے۔
➋ { نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا:} یعنی نبوت و رسالت تو بہت ہی بلند چیز ہے، ہم نے تو دنیا میں ان کی روزی کی تقسیم کا اختیار بھی ان کو یا کسی دوسرے کو نہیں دیا، بلکہ اسے خود تقسیم کیا ہے، حالانکہ وہ ہمارے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں، تو قرآن نازل کرنے کا اختیار انھیں کیسے دے سکتے ہیں!؟
➌ { وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ:} اس مختصر سے جملے میں اللہ تعالیٰ نے کئی حقیقتیں بیان فرما دی ہیں۔ پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے صلاحیتوں اور روزیوں کی تقسیم میں برابری نہیں رکھی، بلکہ ان میں درجات رکھے ہیں۔ کسی کو غنی بنا دیا کسی کو فقیر، کوئی ذہین ہے کوئی کند ذہن، کوئی بے وقوف ہے کوئی عقل مند اور کوئی اس سے بڑھ کر عقل مند، کوئی طاقتور ہے کوئی کمزور، کوئی خادم ہے کوئی مخدوم، کوئی مالک ہے کوئی مملوک، کوئی اندھا ہے کوئی بینا، کوئی باعزت ہے کوئی ذلیل اور کوئی حاکم کوئی محکوم۔ کمیونسٹوں کا نعرہ کہ ہم تمام لوگوں میں دولت کی مساوات پیدا کریں گے، سخت دھوکا تھا۔ یہ اللہ کے فیصلے کے خلاف ہے، نہ ایسا ہو سکتا ہے نہ کمیونسٹوں سے ہو سکا۔ رزق اور اللہ تعالیٰ کی دوسری عنایتوں کی عطا میں یکسانیت کے بجائے درجات کی کمی بیشی ناقابل تردید حقیقت ہے۔ دنیا میں اس کا مقصد آزمائش ہے۔ (دیکھیے انعام: ۱۶۵) درجات کا یہ فرق آخرت میں اس سے بھی زیادہ ہو گا۔ دیکھیے سورۂ نحل (۷۱)، بنی اسرائیل (۲۱) اور سورۂ روم (۲۸)۔
دوسری حقیقت یہ کہ یہ کمی بیشی اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے، کسی دوسرے کا اس میں کوئی دخل نہیں اور اللہ تعالیٰ نے جسے جس درجے میں رکھا ہے اس پر قناعت کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ کسی کو خوبصورت بنایا یا بدصورت، قوی بنایا یا ضعیف، عقل مند بنایا یا بے وقوف، آنکھیں عطا کر دیں یا نابینا کر دیا، ہر ایک کو اسی طرح رہنا پڑے گا جس طرح خلاّقِ عالم نے اس کے لیے طے کر دیا ہے۔
➍ { لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا: ”اِتَّخَذَ فُلَانٌ فُلَانًا سُخْرِيًّا“} یعنی فلاں نے فلاں کو اپنا تابع بنا لیا، یا اپنے کام یا خدمت میں لگا لیا۔ یہ تیسری حقیقت ہے، کسی مال دار کا مال یا دنیوی عز و جاہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر خوش ہے اور نہ ہی کسی فقیر کا فقر اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے، بلکہ درجات کا یہ تفاوت اللہ تعالیٰ نے اس لیے رکھا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کی ضرورت رہے اور وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو دنیا کا نظام معطل ہو جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے ایک شخص کو مال نہیں دیا، مگر اسے کسی کام کی صلاحیت اور قوت بخش دی، دوسرے کو کمزور بنا دیا جو خود نہ کام کر سکتا ہے نہ محنت، مگر اسے دولت بخش دی جس کے ساتھ وہ ان لوگوں کو مزدور رکھ سکتا ہے جن کے پاس مال نہیں۔ اسی طرح کسی کے پاس ایک ہنر ہے دوسرے کے پاس دوسرا، دونوں ایک دوسرے سے کام لیتے ہیں۔ اس میں ضروری نہیں کہ کام لینے والا مرتبے میں بھی اس سے اونچا ہو جس سے کام لے رہا ہے۔ کتنے ہی ڈاکٹر، انجینئر اور دوسرے کمالات کے مالک ان لوگوں کے پاس ملازمت کر رہے ہیں جو مطلق جاہل ہیں۔ یہاں کوئی بڑے سے بڑا ایسا نہیں جو چھوٹے سے چھوٹے کا محتاج نہ ہو، حتیٰ کہ بادشاہ بھی حجام، باورچی اور دوسرے خدمت گاروں کا محتاج ہے اور خدمت گار اس کے محتاج ہیں، اسی سے نظامِ عالم چل رہا ہے۔ اگر سب برابر ہو جائیں تو وہ ایک قدم نہیں چل سکتا۔
➎ { وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ: ” رَحْمَتُ رَبِّكَ “} کے متعلق دو قول ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد نبوت ہے، یعنی نبوت و رسالت کا شرف تو دنیوی مال و جاہ اور ساز و سامان سے کہیں اعلیٰ ہے۔ جب دنیا کی دولت اس نے ان کی تقسیم پر نہیں رکھی تو رسالت ان کی تجویز پر کیسے دے گا!؟ دوسرا یہ کہ اس سے مراد آخرت کی وہ نعمتیں ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں، یعنی یہ لوگ دنیا کے جس فانی مال و متاع اور عز و جاہ کو سمیٹنے کی تگ و دو میں دن رات لگے ہوئے ہیں، تیرے رب کی رحمت یعنی آخرت کی دائمی نعمتیں ان سے بدرجہا بہتر ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[33] کیونکہ دنیا کا مال فنا ہو جانے والا ہے اور اس کا کوئی بھروسا نہیں اور اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت خاص یعنی نبوت تو دونوں جہانوں میں نہایت اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دنیا کی قدر و قیمت: پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہو گئے؟ اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق وتفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم، قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیں۔ ‘ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے۔ ایک ایک کے ماتحت رہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے اور حدیث میں ہے { اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں ان کے لیے جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے۔ وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہو گا۔
چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالا خانہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسرٰی کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر کس حال میں ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے { اے ابن خطاب رضی اللہ عنہ کیا تو شک میں ہے؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2468]
ایک اور روایت میں ہے کہ { کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت }۔۱؎ [صحیح بخاری:4913]
ترمذی وغیرہ کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے کہ حضور سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا }۔۱؎ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال الله ردًّا لاقتراحهم: {أهم يقسِمونَ رحمةَ ربِّكَ}؛ أي: أهُم الخزَّانُ لرحمة الله، وبيدهم تدبيرُها، فيعطون النبوَّة والرسالة من يشاؤون، ويمنعونها ممَّن يشاؤون؟! {نحن قسَمْنا بينَهم معيشَتَهم في الحياة الدُّنيا ورَفَعْنا بعضَهم فوق بعض درجاتٍ}؛ أي: في الحياة الدُّنيا، {و} الحال أنَّ رحمةَ {ربِّك خيرٌ ممَّا يجمعونَ}: من الدُّنيا؛ فإذا كانت معايشُ العبادِ وأرزاقُهم الدنيويَّة بيد الله تعالى، هو الذي يقسِمُها بين عباده، فيبسِطُ الرزق على من يشاءُ ويضيِّقُه على مَن يشاءُ بحسب حكمته؛ فرحمتُه الدينيَّةُ ـ التي أعلاها النبوَّة والرسالة ـ أولى وأحرى أن تكونَ بيدِ الله تعالى؛ فالله أعلمُ حيثُ يجعلُ رسالَتَه.
فعُلم أنَّ اقتراحهم ساقطٌ لاغٍ، وأنَّ التدبير للأمور كلِّها دينيِّها ودنيويِّها بيد الله وحده، هذا إقناعٌ لهم من جهة غلطهم في الاقتراح الذي ليس في أيديهم منه شيءٌ، إن هو إلاَّ ظلمٌ منهم وردٌّ للحقِّ. وقولهم: {لولا نُزِّلَ هذا القرآنُ على رجل من القريتين عظيم}: لو عرفوا حقائقَ الرجال والصفاتِ التي بها يُعْرَفُ علوُّ قدر الرجل، وعِظَمُ منزلته عند الله وعند خلقِهِ؛ لعلموا أنَّ محمد بن عبد الله بن عبد المطلب هو أعظمُ الرجال قدراً، وأعلاهم فخراً، وأكملُهم عقلاً، وأغزرُهم علماً، وأجلُّهم رأياً وعزماً وحزماً، وأكملُهم خلقاً، وأوسعُهم رحمةً، وأشدُّهم شفقةً، وأهداهم وأتقاهم، وهو قطبُ دائرة الكمال، وإليه المنتهى في أوصاف الرجال، ألا وهو رجلُ العالم على الإطلاق؛ يعرف ذلك أولياؤه وأعداؤه؛ إلاَّ من ضلَّ وكابَرَ؛ فكيف يُفَضِّلُ عليه المشركون مَنْ لم يَشُمَّ مثقال ذرَّةٍ مِنْ كَماله، ومَنْ حَزْمُه ومنتهى عقلِهِ أنْ جعل إلهه الذي يعبُدُه ويدعوه ويتقرَّب إليه صنماً أو شجراً أو حجراً لا يضرُّ ولا ينفع ولا يُعطي ولا يمنعُ، وهو كَلٌّ على مولاه، يحتاجُ لمن يقوم بمصالحه؟! فهل هذا إلا من فعل السُّفهاء والمجانين؟! فكيف يُجعلُ مثلُ هذا عظيماً؟! أم كيف يُفَضَّلُ على خاتم الرسل وسيد ولد آدم - صلى الله عليه وسلم -؟! ولكنَّ الذين كفروا لا يعقلون.
وفي هذه الآية تنبيهٌ على حكمة الله تعالى في تفضيل الله بعضَ العباد على بعض في الدُّنيا؛ {ليتَّخِذَ بعضُهم بعضاً سخريًّا}؛ أي: ليسخِّر بعضُهم بعضاً في الأعمال والحِرَف والصنائع؛ فلو تساوى الناس في الغنى ولم يحتج بعضُهم إلى بعض؛ لتعطَّلَت كثيرٌ من مصالحهم ومنافعهم.
وفيها دليلٌ على أنَّ نعمتَه الدينيَّة خير من النعمة الدنيويَّة؛ كما قال تعالى في الآية الأخرى: {قل بفضل اللهِ وبرحمتِهِ فبذلك فَلْيَفْرَحوا هو خيرٌ ممَّا يجمعونَ}.