اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی امت ہو جائیں گے تو یقینا ہم ان لوگوں کے لیے جو رحمان کے ساتھ کفر کرتے ہیں، ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں بھی، جن پر وہ چڑھتے ہیں۔
En
اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں گے تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں
اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پر ہو جائیں گے تو رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنادیتے۔ اور زینوں کو (بھی) جن پر چڑھا کرتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کے نزدیک دنیا کی کوئی حیثیت نہیں، اگر اپنے بندوں پر اس کا لطف و کرم اور اس کی رحمت نہ ہوتی، جس کے سامنے ہر چیز ہیچ ہے تو ان لوگوں پر جنھوں نے کفر کیا، دنیا کو بہت زیادہ کشادہ کر دیتا اور بنا دیتا ﴿لِبُیُوْتِهِمْسُقُفًامِّنْفِضَّةٍوَّمَعَارِجَ ﴾ ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں بھی چاندی كى۔ ﴿عَلَیْهَایَظْ٘هَرُوْنَ﴾ جس کے ذریعے سے وہ اپنی چھتوں پر چڑھتے۔ ﴿وَلِبُیُوْتِهِمْاَبْوَابً٘اوَّسُرُرًاعَلَیْهَایَتَّـكِــُٔوْنَ﴾اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت، جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں سب چاندی کے ہوتے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے لیے بنا دیتا ﴿زُخْرُفًا﴾”سونا“ یعنی مختلف انواع کی خوبصورتی کے ذریعے سے ان کی دنیا کو آراستہ کر دیتا اور انھیں وہ سب کچھ عطا کر دیتا جو وہ چاہتے۔ مگر بندوں پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت نے ایسا کرنے سے روک دیا کہ کہیں وہ دنیا کی محبت کے باعث کفر اور کثرت معاصی میں ایک دوسرے پر سبقت نہ کرنے لگیں۔
اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے مصالح کی خاطر، ان کو عام طور پر یا خاص طور پر، بعض دنیاوی امور سے محروم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتی، مذکورہ بالا تمام چیزیں، دنیاوی زندگی کی متاع ہیں جو تکدر کی حامل اور فانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آخرت ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کرتے ہیں کیونکہ آخرت کی نعمتیں ہر لحاظ سے کامل ہیں۔ جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہو گی جسے نفس چاہتے ہیں، آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ دونوں گھروں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے!
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى بأنَّ الدُّنيا لا تسوى عنده شيئاً، وأنَّه لولا لطفُه ورحمتُه بعباده التي لا يقدم عليها شيئاً؛ لوسَّع الدُّنيا على الذين كفروا توسيعاً عظيماً، ولَجَعَلَ {لبيوتهم سُقُفاً من فضَّة ومعارجَ}؛ أي: درجاً من فضة، {عليها يظهرونَ}: إلى سطوحهم، {ولبيوتِهِم أبواباً وسُرراً عليها يتَّكِئونَ}: من فضَّة، ولجعل لهم {زُخْرفاً}؛ أي: لزخرف لهم دُنياهم بأنواع الزخارف وأعطاهم ما يشتهون، ولكن منعه من ذلك رحمتُه بعباده؛ خوفاً عليهم من التسارع في الكفر وكثرة المعاصي بسبب حبِّ الدُّنيا. ففي هذا دليلٌ على أنَّه يمنع العبادَ بعضَ أمور الدُّنيا منعاً عامًّا أو خاصًّا لمصالحهم، وأنَّ الدُّنيا لا تزن عند الله جناح بعوضة. وأنَّ كلَّ هذه المذكورات متاعُ الحياة الدُّنيا منغصة مكدرة فانية، وأنَّ الآخرة عند الله تعالى خيرٌ للمتَّقين لربِّهم بامتثال أوامره واجتناب نواهيه؛ لأنَّ نعيمَها تامٌّ كاملٌ من كلِّ وجهٍ، وفي الجنة ما تشتهيه الأنفس وتلذُّ الأعين، وهم فيها خالدون. فما أشدَّ الفرقَ بين الدارين!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔