تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى:” قَرِبَ يَقْرَبُ قُرْبًا وَ قُرْبَانًا وَ قِرْبَانًا“} (س، ک) قریب ہونا۔ {” قُرْبٰي“} اور {”قَرَابَةً “} بھی مصدر ہیں، جیسے {” بُشْرٰي“} اور {” رُجْعٰي“} ہیں۔ ان کا معنی رشتہ داری اور قرابت ہے۔ رشتہ دار اور قرابت دار کے لیے ”ذوالقربیٰ“ (قرابت والا) کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ» [بنی إسرائیل: ۲۶] ”اور رشتہ دار کو اس کا حق دے۔“ {” فِي الْقُرْبٰى “} میں {” فِيْ“} تعلیل کے لیے ہے: {”أَيْ مِنْ أَجْلِ الْقُرْبٰي“} یعنی رشتہ داری کی وجہ سے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِيْ هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا، حَتّٰی مَاتَتْ جُوْعًا، فَدَخَلَتْ فِيْهَا النَّارَ] [بخاري، المساقاۃ، باب فضل سقي الماء: ۲۳۶۵] ”ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ اس نے اسے باندھ کر رکھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی، تو اس کی وجہ سے وہ آگ میں داخل ہو گئی۔“ یعنی آپ کہہ دیں کہ میں اس تبلیغِ دین پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، سوائے رشتہ داری کی وجہ سے دوستی کے کہ کچھ نہ سہی، کم از کم میرے اور تمھارے درمیان جو قرابت اور رشتہ داری ہے اس کی وجہ سے میرا حق ہے کہ مجھ سے دوستی رکھو، اس حق کا مطالبہ میں تم سے ضرور کرتا ہوں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ تم میری بات مان لیتے، اگر نہیں مانتے تو سارے عرب میں سب سے بڑھ کر دشمنی تو نہ کرو۔ کم از کم اس قرابت کا تو خیال رکھو جو میرے اور تمھارے درمیان ہے۔ جیسا کہ ابوطالب اگرچہ ایمان نہیں لایا مگر وہ قرابت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتا رہا۔
آیت کا یہی مطلب ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما نے بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ طاؤس فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے {” اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى “} کے متعلق سوال کیا گیا تو سعید بن جبیر کہنے لگے کہ اس سے مراد {” قُرْبٰي آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“} (آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت) ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [عَجِلْتَ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلاَّ كَانَ لَهُ فِيْهِمْ قَرَابَةٌ فَقَالَ إِلاَّ أَنْ تَصِلُوْا مَا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «إلا المودۃ فی القربٰی» : ۴۸۱۸] ”تم نے جلدی کی، قریش کا کوئی خاندان ایسا نہ تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت اور رشتہ داری نہ ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا) مگر یہ کہ تم اس رشتہ داری کو ملاؤ جو میرے اور تمھارے درمیان ہے۔“
➌ بعض لوگ خصوصاً شیعہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ آپ کہہ دیں کہ میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا مگر قرابت والوں سے دوستی کا، یعنی میں تم سے اس پر اس کے سوا کچھ نہیں مانگتا کہ تم میرے قرابت داروں سے دوستی رکھو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن قرابت داروں سے دوستی اپنی جگہ مسلمہ ہے، جو دوسرے دلائل سے ثابت ہے، مگر اس آیت کا وہ مطلب ہر گز نہیں جو ان لوگوں نے بیان کیا ہے، کیونکہ {” الْقُرْبٰى “} کا معنی رشتہ داری ہے، رشتہ دار نہیں۔ رشتہ داروں کے لیے {”ذَوِي الْقُرْبٰي“} کا لفظ آتا ہے۔ اگر {” الْقُرْبٰى “} کا معنی رشتہ دار ہو بھی تو آیت کے الفاظ یہ ہونے چاہییں: {” إِلاَّ مَوَدَّةَ الْقُرْبٰي“} ”مگر رشتہ داروں کی دوستی کا۔“ جب کہ الفاظ ہیں: «اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى» ان الفاظ کا وہ معنی ہو ہی نہیں سکتا جو یہ حضرات بیان کرتے ہیں۔ پھر دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سوال کن لوگوں سے کر رہے ہیں، ظاہر ہے کفار سے کر رہے ہیں جو آپ کے شدید مخالف تھے، جو آپ سے بھی دوستی کے روا دار نہیں تھے، آیا ممکن بھی ہے کہ آپ ان سے کہیں کہ میرے رشتہ داروں سے دوستی کرو۔ اگر مان بھی لیں کہ آپ ان سے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ دوستی کا سوال کر رہے ہیں تو وہ رشتے دار کون سے ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پورے قبیلۂ قریش کے ساتھ دوستی کا سوال کر رہے ہیں یا اپنے قریب ترین خاندان بنو عبد المطلب کے ساتھ؟ دونوں میں مخلص مسلمانوں کے علاوہ ابوجہل اور ابو لہب جیسے آپ کے بدترین دشمن بھی موجود تھے، جن کے ساتھ دوستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور اگر اس سے مراد علی و فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنھم ہیں، جیسا کہ شیعہ حضرات کہتے ہیں تو یہ سورت مکی ہے اور مکہ میں فاطمہ اور علی رضی اللہ عنھما کا نکاح تک نہیں ہوا تھا اور نہ ہی حسن و حسین رضی اللہ عنھما پیدا ہوئے تھے، لہٰذا اس سے یہ لوگ مراد ہو ہی نہیں سکتے۔
➍ بعض مفسرین نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا کہ میں تم سے صرف رشتہ داری کی وجہ سے دوستی کا سوال کرتا ہوں، یہ دین کی تبلیغ کی اجرت یا مزدوری نہیں جو آپ ان سے مانگ رہے ہیں، بلکہ آپ اپنے اس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جو تمام دنیا کے ہاں مسلم ہے، خواہ آپ تبلیغ کریں یا نہ کریں۔ غرض اس آیت میں بھی وہی بات بیان ہوئی ہے جو تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوم سے کہی کہ میں تم سے اس تبلیغ دین پر کسی قسم کی مزدوری کا سوال نہیں کرتا، کیونکہ میری مزدوری صرف اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، جیسا کہ سورۂ شعراء میں ہے: «وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» [الشعراء: ۱۰۹] ”اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ “ قواعدِ نحو میں یہ بات ان الفاظ میں بیان کی جائے گی کہ یہاں استثنا متصل نہیں منقطع ہے، یعنی صلہ رحمی کے سوال کا تبلیغِ دین پر اجرت سے کوئی تعلق نہیں۔
➎ { وَ مَنْ يَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا: ” حَسَنَةً “} میں تنوین تنکیر کے لیے ہے۔ جو شخص کوئی بھلائی کرے گا، خواہ کتنی معمولی ہو، ہم اس کے لیے اس کے حسن و خوبی میں اضافہ کر دیں گے۔ یہ اضافہ کئی طرح سے ہے، ایک تو وہ جتنی نیکی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس سے زیادہ نیکی کی توفیق دے گا۔ دوسرا جو لوگ اسے دیکھ کر وہ نیکی کریں گے ان سب کے اجر اسے بھی ملیں گے جس سے اس کی نیکی میں اضافہ ہو گا۔ تیسرا اللہ تعالیٰ ہر نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا بلکہ شمار سے زیادہ تک بڑھا دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْهَا وَ يُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا» [النساء: ۴۰] ”اگر ایک نیکی ہوگی تو وہ اسے کئی گنا کر دے گا اور اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ “ چوتھا یہ کہ نیکیوں کے ساتھ گناہ معاف ہوتے ہیں، فرمایا: «اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ» [ھود: ۱۱۴] ”بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“
➏ {اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ: ” اِنَّ “} تعلیل کے لیے آتا ہے، یعنی نیکی کرنے والے کی نیکی میں ہم اضافہ اس لیے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ گناہوں پر بہت پردہ ڈالنے والا اور نیک عمل کی بے حد قدر کرنے والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اس کی دوسری تفسیر یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہاں ﴿قُرْبٰي﴾ سے مراد قرب یا تقرب ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تم سے اس کام پر اس بات کے سوا کوئی اجر نہیں چاہتا کہ تمہارے اندر اللہ کے قرب کی محبت پیدا ہو جائے۔ یعنی تم ٹھیک ہو جاؤ اور اللہ سے محبت کرنے لگو۔ بس یہی میرا اجر ہے۔ تیسرا گروہ اس آیت میں ﴿قُرْبٰي﴾ سے مراد اقارب لیتا ہے۔ پھر ایک فریق تو اس محبت کو بنی عبد المطلب سے محبت مراد لیتا ہے۔ اور دوسرا سیدنا فاطمۃ الزھراؓ سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد سے۔ یہ تفسیر درج ذیل وجوہ کی بنا پر غلط ہے۔
2۔﴿قُرْبٰي﴾ سے مراد سیدہ فاطمہ اور سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد لینا اس لحاظ سے غلط ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے۔ اور سیدہ فاطمہؓ کا نکاح ہی مدینہ جانے کے بعد ہوا تھا۔ 3۔ اور اس تفسیر کے غلط ہونے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا مطالبہ کرنا کہ میں تم سے اس تبلیغ کے کام کا اس کے سوا کوئی اجر نہیں مانگتا کہ تم میرے اقارب سے محبت کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رفیع کے مقابلہ میں یہ مطالبہ انتہائی گھٹیا اور فروتر ہے۔ بالخصوص اس صورت میں کہ وہ مطالبہ بھی کافروں سے ہو۔ کافروں سے بھلا اجرت کے مطالبہ کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔ اجرت تو اس سے طلب کی جا سکتی ہے جسے وہ کام پسند آئے اور کافر تو اس تبلیغ کے کام کی وجہ سے آپ کی جان کے لاگو بنے ہوئے تھے۔ ان سے بھلا کوئی ایسا مطالبہ کیا جا سکتا تھا؟ البتہ یہ واضح رہے کہ آپ کے اہل بیت ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن آپ کی بیٹیوں اور دوسرے تمام اقارب سے محبت رکھنا جن میں سیدہ فاطمہؓ، سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد بھی شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تعظیم اور حقوق شناسی کے لحاظ سے اہل ایمان کے لیے ضروری ہے اور ان سے درجہ بدرجہ محبت رکھنا حقیقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہی کا تقاضا ہے۔ اور ایسی محبت کا تقاضا مسلمانوں سے تو کیا جا سکتا ہے، کافروں سے نہیں جبکہ اس آیت میں روئے سخن کافروں سے ہے۔
[35] یعنی جو نیک بننا چاہتا ہے اللہ اسے اور زیادہ نیک بنا دیتا ہے۔ اس کے کام میں اگر کچھ کوتاہیاں رہ گئی ہوں تو انہیں معاف کر دیتا ہے اور جو کچھ بھی وہ نیک اعمال بجا لاتے ہیں ان کی قدر شناسی اور حوصلہ افزائی کرتا ہے اور انہیں زیادہ اجر فرماتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جو دلیلیں دی ہیں جس ہدایت کا راستہ بتایا ہے اس پر کوئی اجر تم سے نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ تم اللہ کو چاہنے لگو اور اس کی اطاعت کی وجہ سے اس سے قرب اور نزدیکی حاصل کر لو۔[مسند احمد:268/1:ضعیف]
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے تو یہ دوسرا قول ہوا پہلا قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی رشتے داری کو یاد دلانا۔
تیسرا قول جو حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی روایت سے گزرا کہ تم میری قرابت کے ساتھ احسان اور نیکی کرو۔ ابو الدیلم کا بیان ہے کہ جب حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ کو قید کر کے لایا گیا اور دمشق کے بالاخانے میں رکھا گیا تو ایک شامی نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہیں قتل کرایا اور تمہارا ناس کرا دیا اور فتنہ کی ترقی کو روک دیا یہ سن کر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کیا تو نے قرآن بھی پڑھا ہے اس نے کہا کیوں نہیں؟ فرمایا اس میں «حٰم» والی سورتیں بھی پڑھی ہیں؟ اس نے کہا واہ سارا قرآن پڑھ لیا اور «حٰم» والی سورتیں نہیں پڑھیں؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا پھر کیا ان میں اس آیت کی تلاوت تو نے نہیں کی؟ آیت «قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ» [42- الشورى: 23] یعنی میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر محبت قرابت کی۔ اس نے کہا پھر کیا تم وہ ہو؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ہاں! حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا مراد قرابت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
اس میں ہے کہ یہ واقعہ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت پیش آیا تھا اور اس میں آیت کے اترنے کا ذکر بھی نہیں اور اس آیت کو مدینے میں نازل شدہ ماننے میں بھی قدرے تامل ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے پھر جو واقعہ حدیث میں مذکور ہے اس واقعہ میں اور اس آیت میں کچھ ایسی زیادہ ظاہر مناسبت بھی نہیں ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں جن کی محبت رکھنے کا ہمیں حکم باری ہوا ہے آپ نے فرمایا فاطمہ اور ان کی اولاد رضی اللہ عنہم۔ [طبرانی کبیر:12384:ضعیف]
لیکن اس کی سند ضعیف ہے اور اس کا راوی مبہم ہے جو معروف نہیں پھر اس کا استاد ایک شیعہ ہے جو بالکل ثقاہت سے گرا ہوا ہے اس کا نام حسین اشغر ہے اس جیسی حدیث بھلا اس کی روایت سے کیسے مان لی جائے گی؟ پھر مدینے میں آیت نازل ہونا ہی مستعد ہے حق یہ ہے کہ آیت مکی ہے اور مکہ شریف میں فاطمہ کا عقد ہی نہ ہوا تھا اولاد کیسی؟ آپ رضی اللہ عنہا کا عقد تو صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ بدر کے بعد سنہ 2 ھ میں ہوا۔
اور روایت میں ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا قریشی باتیں کرتے ہوتے ہیں ہمیں دیکھ کر چپ ہو جاتے ہیں اسے سن کر مارے غصے کے آپ کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور فرمایا واللہ! کسی مسلمان کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہو گا جب تک کہ وہ تم سے اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ رکھے۔[مسند احمد:207/1:ضعیف]
صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لحاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں رکھو۔[صحیح بخاری:3713]
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے سلوک سے بھی پیارا ہے۔[صحیح بخاری:3712]
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا واللہ تمہارا اسلام لانا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے بھی زیادہ اچھا لگا اس لیے کہ تمہارا اسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا۔ پس اسلام کے ان دو چمکتے ستاروں کا مسلمانوں کے ان دونوں سیدوں کا جو معاملہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اقربا پیغمبر کے ساتھ تھا وہی عزت و محبت کا معاملہ مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور قرابت داروں سے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ نبیوں اور رسولوں کے بعد تمام دنیا سے افضل یہی دونوں بزرگ خلیفہ رسول تھے رضی اللہ عنہما۔ پس مسلمانوں کو ان کی پیروی کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور کنبے قبیلے کے ساتھ جس عقیدت سے پیش آنا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں خلیفہ سے اہل بیت سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کل صحابہ رضی اللہ عنہم سے خوش ہو جائے اور سب کو اپنی رضا مندی میں لے لے۔ آمین۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ترمذی میں ہے کہ عرفے والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جسے قصواء کہا جاتا تھا خطبہ دیا جس میں فرمایا لوگو میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے کتاب اللہ اور میری عترت اہل بیت۔ [سنن ترمذي:3786، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مدنظر رکھ کر تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی وجہ سے میری اہل بیت سے محبت رکھو۔ [سنن ترمذي:3789، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ حدیث اور اوپر کی حدیث حسن غریب ہے اس مضمون کی اور احادیث ہم نے آیت: «اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا» [33- الأحزاب: 33] کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں یہاں ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پھر فرماتا ہے جو نیک عمل کرے ہم اس کا ثواب اور بڑھا دیتے ہیں جیسے ایک اور آیت میں فرمایا اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اگر نیکی ہو تو اور بڑھا دیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے بعض سلف کا قول ہے کہ نیکی کا ثواب اس کے بعد نیکی ہے اور برائی کا بدلہ اس کے بعد برائی ہے پھر فرمان ہوا کہ اللہ گناہوں کو بخشنے والا ہے اور نیکیوں کی قدر دانی کرنے والا ہے انہیں بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ذلك الذي يبشِّر الله به عبادَه الذين آمنوا وعمِلوا الصالحاتِ}؛ أي: هذه البشارة العظيمة التي هي أكبرُ البشائر على الإطلاق بَشَّرَ بها الرحيم الرحمن على يد أفضل خلقه لأهل الإيمان والعمل الصالح؛ فهي أجلُّ الغايات، والوسيلةُ الموصلةُ إليها أفضلُ الوسائل، {قل لا أسألُكُم عليه}؛ أي: على تبليغي إيَّاكم هذا القرآن ودعوتكم إلى أحكامه {أجراً}؛ فلستُ أريدُ أخذَ أموالكم ولا التولِّي عليكم والترأس ولا غير ذلك من الأغراض {إلاَّ المودَّةَ في القُربى}.
يُحتمل أنَّ المراد: لا أسألُكُم عليه أجراً؛ إلاَّ أجراً واحداً، هو لكم، وعائدٌ نفعُه إليكم، وهو أن تَوَدُّوني وتحبُّوني في القرابة؛ أي: لأجل القرابة، ويكون على هذا المودَّة الزائدة على مودَّة الإيمان؛ فإنَّ مودَّة الإيمان بالرسول وتقديم محبَّته على جميع المحابِّ بعد محبَّة الله فرضٌ على كلِّ مسلم، وهؤلاء طَلَبَ منهم زيادةً على ذلك أن يحبُّوه لأجل القرابِةِ؛ لأنَّه - صلى الله عليه وسلم - قد باشر بدعوته أقربَ الناس إليه، حتى إنَّه قيل: إنَّه ليس في بطون قريش أحدٌ إلاَّ ولرسول اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فيه قرابةٌ.
ويُحتملُ أنَّ المرادَ: إلاَّ مودة الله تعالى المودة الصادقة، وهي التي يصحبُها التقرُّب إلى الله والتوسُّل بطاعته الدالَّة على صحَّتها وصدقها، ولهذا قال: {إلاَّ المودَّة في القربى}؛ أي: في التقرُّب إلى الله.
وعلى كلا القولين؛ فهذا الاستثناءُ دليلٌ على أنَّه لا يسألكم عليه أجراً بالكلِّيَّة؛ إلاَّ أن يكون شيئاً يعود نفعُه إليهم؛ فهذا ليس من الأجر في شيء، بل هو من الأجر منه لهم - صلى الله عليه وسلم -؛ كقوله تعالى: {وما نَقَموا منهم إلاَّ أن يؤمِنوا بالله العزيزِ الحميدِ}، وقولهم: ما لفلان عندك ذنبٌ إلاَّ أنَّه محسنٌ إليك.
{ومَن يَقْتَرِفْ حسنةً}: من صلاةٍ أو صوم أو حجٍّ أو إحسانٍ إلى الخلق، {نَزِدْ له فيها حُسْناً}: بأن يشرحَ الله صدرَه وييسِّر أمره ويكون سبباً للتوفيق لعمل آخر، ويزدادَ بها عملُ المؤمن ويرتفعَ عند الله وعند خلقِهِ، ويحصُلَ له الثوابُ العاجل والآجل. {إنَّ الله غفورٌ شكورٌ}: يغفر الذنوبَ العظيمةَ، ولو بلغتْ ما بلغتْ عند التوبة منها، ويشكر على العمل القليل بالأجرِ الكثيرِ؛ فبمغفرتِهِ يغفرُ الذنوبَ ويستُر العيوبَ، وبشكرِهِ يتقبَّل الحسناتِ ويضاعِفُها أضعافاً كثيرةً.