تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِيْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ …:”رَوْضَةٌ“} کا معنی ہے {”الْمَوْضِعُ النَّزِهُ الْكَثِيْرُ الْخُضْرَةِ“} کہ نہایت صاف ستھری اور بہت سرسبز جگہ۔ {” رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ “} سے ظاہر ہے کہ جنتیں بھی بہت سی ہیں اور روضات بھی بہت سے ہیں، یعنی (مومن کسی درجے کے بھی ہوں جنت میں ہوں گے، مگر) ایمان اور عمل صالح والے جنت کے بھی پاکیزہ ترین اور سب سے سرسبز مقامات میں ہوں گے۔ جن میں سب سے عالی مقام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گا، جیسا کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طویل خواب روایت کیا ہے، جس میں ہے کہ دو فرشتوں نے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف گناہوں کے عذاب کا منظر دکھایا، اس کے بعد ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے چلنے کے لیے کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَانْطَلَقْنَا حَتَّی انْتَهَيْنَا إِلٰی رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ، فِيْهَا شَجَرَةٌ عَظِيْمَةٌ، وَ فِيْ أَصْلِهَا شَيْخٌ وَصِبْيَانٌ، وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيْبٌ مِنَ الشَّجَرَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ يُوْقِدُهَا، فَصَعِدَا بِيْ فِي الشَّجَرَةِ، وَ أَدْخَلاَنِيْ دَارًا لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا، فِيْهَا رِجَالٌ شُيُوْخٌ وَشَبَابٌ، وَ نِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ، ثُمَّ أَخْرَجَانِيْ مِنْهَا فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلاَنِيْ دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَ أَفْضَلُ، فِيْهَا شُيُوْخٌ وَ شَبَابٌ، فَقُلْتُ طَوَّفْتُمَانِي اللَّيْلَةَ، فَأَخْبِرَانِيْ عَمَّا رَأَيْتُ؟ قَالاَ نَعَمْ، فَذَكَرَ الْحَدِيْثَ حَتّٰی قَالَ وَالشَّيْخُ فِيْ أَصْلِ الشَّجَرَةِ إِبْرَاهِيْمُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهُ فَأَوْلاَدُ النَّاسِ، وَالَّذِيْ يُوْقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ، وَالدَّارُ الْأُوْلَی الَّتِيْ دَخَلْتَ، دَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِيْنَ، وَأَمَّا هٰذِهِ الدَّارُ، فَدَارُ الشُّهَدَاءِ، وَ أَنَا جِبْرِيْلُ، وَ هٰذَا مِيْكَاءِيْلُ، فَارْفَعْ رَأْسَكَ، فَرَفَعْتُ رَأْسِيْ، فَإِذَا فَوْقِيْ مِثْلُ السَّحَابِ، قَالاَ ذَاكَ مَنْزِلُكَ، قُلْتُ دَعَانِيْ أَدْخُلْ مَنْزِلِيْ، قَالاَ إِنَّهُ بَقِيَ لَكَ عُمُرٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ، فَلَوِ اسْتَكْمَلْتَ أَتَيْتَ مَنْزِلَكَ] [بخاري، الجنائز، باب ما قیل في أولاد المشرکین: ۱۳۸۶] ”پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم ایک سر سبز روضہ (باغ) میں پہنچے جس میں ایک بہت بڑا درخت تھا، اس کی جڑ (تنے) کے پاس ایک بزرگ اور کچھ بچے تھے اور اس درخت کے قریب ایک آدمی تھا جس کے سامنے آگ تھی، جسے وہ بھڑکا رہا تھا، پھر وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھ گئے اور مجھے ایک ایسے گھر کے اندر لے گئے جس سے خوبصورت گھر میں نے نہیں دیکھا، اس میں کچھ بزرگ اور جوان آدمی اور عورتیں اور بچے تھے، پھر انھوں نے مجھے اس گھر سے نکالا اور مجھے لے کر اس درخت کے اور اوپر چڑھے اور ایک گھر کے اندر لے گئے جو پہلے سے زیادہ خوبصورت اور برتر تھا، اس میں کچھ بزرگ تھے اور کچھ جوان۔ میں نے کہا: ”تم دونوں نے آج رات مجھے خوب گھمایا ہے، اب جو کچھ میں نے دیکھا ہے مجھے اس کی حقیقت بتاؤ؟“ تو انھوں نے کہا: ”ہاں، ٹھیک ہے (پھر انھوں نے عذاب والے مناظر کی حقیقت بتانے کے بعد کہا) اور درخت کی جڑ کے پاس جو بزرگ تھے وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے اردگرد بچے لوگوں کی اولاد تھے اور جو آگ بھڑکا رہا تھا وہ آگ کا خازن مالک تھا اور پہلا گھر جس میں آپ داخل ہوئے عام ایمان والوں کا گھر تھا۔ رہا یہ گھر تو یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہے، اب سر اٹھاؤ!“ میں نے سر اٹھایا تو اچانک میرے اوپر بادل کی طرح کی چیز تھی۔ دونوں نے کہا: ”وہ تمھارا گھر ہے۔“ میں نے کہا: ”مجھے چھوڑو میں اپنے گھر جاؤں۔“ انھوں نے کہا: ”آپ کی کچھ عمر باقی ہے جو آپ نے پوری نہیں کی، اگر پوری کر لو گے تو اپنے گھر میں آ جاؤ گے۔“ اس حدیث سے {” رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ “} کا مفہوم بھی اچھی طرح سمجھ میں آ جاتا ہے اور یہ بھی کہ {” رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ “} میں سب سے اعلیٰ {”رَوْضَةُ الْجَنَّةِ“} ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے۔
➌ ان آیات میں متعدد وجہوں سے مومنوں کو ملنے والے ثواب کی عظمت بیان کی گئی ہے، ایک یہ کہ وہ {” رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ “} میں ہوں گے، دوسری یہ کہ {” لَهُمْ مَّا يَشَآءُوْنَ “} یعنی انھیں وہاں جو چاہیں گے ملے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ انھیں حاصل ہونے والی نعمتوں کی انتہا نہیں ہو گی، کیونکہ آدمی ہر نعمت کے بعد اس سے اعلیٰ نعمت کا خواہش مند ہوتا ہے۔ تیسری {” عِنْدَ رَبِّهِمْ “} کہ ان کی رہائش گاہیں ان کے رب کے پڑوس میں ہوں گی۔ یہ وہ چیز ہے جس کی دعا فرعون کی بیوی نے کی تھی: «رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» [التحریم: ۱۱] ”اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا۔“ چوتھی یہ کہ انھیں عطا ہونے والی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ نے فضل کبیر قرار دیا ہے، فرمایا: «ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ» پھر جسے اللہ تعالیٰ اکبر اور کبیر قرار دے اس کی عظمت کا کیا ٹھکانا ہو گا۔ پانچویں وجہ سے انھیں ملنے والے ثواب کی عظمت کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
➍ { ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ:} اس سے معلوم ہوا کہ جنت محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، اس پر کسی کا حق واجب نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرماتا ہے کہ اگر میری یہ بات پہلے سے میرے ہاں طے شدہ نہ ہوتی کہ میں گنہگاروں کو قیامت کے آنے تک ڈھیل دوں گا تو میں آج ہی ان کفار کو اپنے عذاب میں جکڑ لیتا۔
حضرت ابوطیبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتیوں کے سروں پر ابر آئے گا اور انہیں ندا ہو گی کہ بتاؤ کس چیز کی بارش چاہتے ہو؟ پس جو لوگ جس چیز کی بارش چاہیں گے وہی چیز ان پر اس بادل سے برسے گی یہاں تک کہ کہیں گے ہم پر ابھرے ہوئے سینے والی ہم عمر عورتیں برسائی جائیں چنانچہ وہی برسیں گی۔ اسی لیے فرمایا کہ فضل کبیر یعنی زبردست کامیابی کامل نعمت یہی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وفي ذلك اليوم {ترى الظالمين}: أنفسَهم بالكفرِ والمعاصي، {مشفقينَ}؛ أي: خائفين وجلين، {مما كَسَبَوا}: أن يعاقَبوا عليه، ولمَّا كان الخائفُ قد يقعُ به ما أشفق منه وخافه وقد لا يقعُ؛ أخبر أنَّه {واقعٌ بهم}: العقابُ الذي خافوه؛ لأنَّهم أتوا بالسبب التامِّ الموجب للعقاب من غير معارض من توبةٍ ولا غيرِها، ووصلوا موضعاً فات فيه الإنظارُ والإمهالُ. {والذين آمنوا} بقلوبهم بالله وبكتبِهِ ورسلِهِ وما جاؤوا به، {وعملوا الصالحات}: يشمَلُ فيه كلَّ عمل صالح من أعمال القلوب وأعمال الجوارح من الواجباتِ والمستحبَّات؛ فهؤلاء {في روضاتِ الجناتِ}؛ أي: الرَّوضات المضافة إلى الجنَّات، والمضاف يكون بحسب المضاف إليه؛ فلا تسألْ عن بهجةِ تلك الرياض المونقةِ، وما فيها من الأنهار المتدفِّقة، والفياض المُعْشِبة، والمناظر الحسنة، والأشجار المثمرة، والطيورِ المغرِّدة، والأصوات الشجيَّة المطرِبة، والاجتماع بكلِّ حبيب، والأخذ من المعاشرةِ والمنادمةِ بأكمل نصيب؛ رياض لا تزداد على طول المدى إلاَّ حسناً وبهاءً، ولا يزدادُ أهلُها إلاَّ اشتياقاً إلى لَذَّاتِها ووداداً. {لهم ما يشاؤونَ}: فيها؛ أي: في الجنات؛ فمهما أرادوا؛ فهو حاصل، ومهما طلبوا؛ حصل، مما لا عينٌ رأتْ، ولا أذنٌ سمعتْ، ولا خطرَ على قلبِ بشرٍ. ذلك {الفضلُ الكبيرُ}: وهل فوز أكبرُ من الفوز برضا الله تعالى والتنعُّم بقربِهِ في دار كرامته؟!