تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ:} مفسرین نے اس کی تفسیر کئی طرح سے کی ہے، زیادہ واضح دو تفسیریں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر تو نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہو، جیسا کہ یہ جاہل کہہ رہے ہیں تو اگر وہ چاہے تو {” يَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ “} وہ تیرے دل پر مہر لگا دے اور جتنا قرآن تجھے عطا کیا ہے وہ تجھ سے سلب کر لے، جیسا کہ اس کا ارشاد ہے: «وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْل (44) لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ (45) ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ (46) فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ» [الحاقۃ: ۴۴ تا ۴۷] ”اور اگر وہ ہم پر کوئی بات بنا کر لگا دیتا۔ تو یقینا ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ پھر یقینا ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔ پھر تم میں سے کوئی بھی(ہمیں) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔ “ یعنی ہم اس سے شدید ترین انتقام لیں اور کوئی شخص اسے بچا نہ سکے۔ (ابن کثیر) مزید تفصیل سورۂ حاقہ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ مفسر قاسمی نے فرمایا: ”یہ قرآنی آیات کی تفسیر قرآن کی آیات کے ساتھ ہے، جہاں ممکن ہو یہ تفسیر سب سے بہتر ہوتی ہے، کیونکہ قرآنی آیات ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں۔ اس مفہوم کے مطابق آیت کا مآل جیسا کہ ابو السعود نے وضاحت فرمائی کفار کی بات کی تردید ہے، یعنی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑ تے تو اللہ آپ کو ہر حال میں اس سے روک دیتا اور آپ کے دل پر ایسی مہر لگاتا کہ نہ آپ کی زبان پر وحی کا کوئی لفظ آتا اور نہ آپ کے دل میں اس کا کوئی مفہوم آتا، جب ایسا نہیں ہوا بلکہ وحی تواتر کے ساتھ جاری رہی تو ثابت ہو گیا کہ وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔“
دوسری تفسیر مفسر شہاب کے الفاظ میں یہ ہے: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو تیرے دل پر مہر لگا دے، جیسے اس نے ان (بہتان لگانے والے کافروں) کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دلائی ہے اور آپ پر اپنا احسان و اکرام یاد دلایا ہے (کہ اس نے آپ کے دل پر مہر نہیں لگائی) تاکہ آپ اس کی وجہ سے شکر ادا کریں اور ان لوگوں کے حال پر ترس کھائیں جن کے دل پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی اور وہ اپنے رب کے غضب کے حق دار بن گئے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کبھی یہ جرأت نہ کرتے کہ آپ پر یہ بہتان باندھیں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اگر ان پر گمراہی کی مہر نہ لگ گئی ہوتی تو وہ یہ محال بات کہنے کی جرأت نہ کرتے۔“ (منقول از قاسمی)
➌ {وَ يَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ …: ” يَمْحُ “} اصل میں {” يَمْحُوْ “} ہے۔ اس کا عطف {” يَخْتِمْ “} پر نہیں اور نہ ہی حالت جزم میں ہونے کی وجہ سے اس کی ”واؤ“ گری ہے، بلکہ یہ نیا جملہ ہے اور رفعی حالت میں ہونے کی وجہ سے ”واؤ“ اپنی جگہ قائم ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے رسم الخط میں یہاں ”واؤ“ نہیں لکھی گئی، کیونکہ بعض مقامات پر پڑھنے میں جو حروف نہیں آتے تھے انھوں نے وہ لکھنے میں بھی حذف کر دیے ہیں، جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۱۱): «وَ يَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَيْرِ» اور سورۂ علق کی آیت (۱۸): «سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ» میں ”واؤ“ نہیں لکھی گئی۔ مسلمانوں نے بعد میں قرآن مجید کے لیے اسی رسم الخط کو محفوظ رکھا۔ بعض اہلِ علم نے {” يَمْحُ “} کی واؤ حذف کرنے میں یہ نکتہ نکالا ہے کہ باطل کو مٹانے اور محو کرنے میں مبالغے کے اظہار کے لیے {” يَمْحُوْ “} کی ”واؤ“ کو بھی محو کر دیا ہے۔
➍ یعنی اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو اپنے کلمات کے ساتھ ثابت کر دیتا ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ اللہ پر جھوٹ گھڑیں اور اللہ تعالیٰ اسے نہ مٹائے، بلکہ آپ کو ہر قدم پر اپنی فتح و نصرت کے ساتھ نوازتا جائے۔ یہ دلیل ہے کہ آپ حق لے کر آئے ہیں اور وہ شخص بدترین بہتان باز ہے جو کہتا ہے کہ آپ نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے۔
➎ { اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ:} یعنی اسے سینوں میں چھپی ہوئی نیتوں اور ارادوں کا خوب علم ہے، وہ اپنی رسالت کے ساتھ کبھی بھی بدطینت و جھوٹ گھڑنے والوں کو نہیں نوازتا، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ» [الأنعام: ۱۲۴]”اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“ اس نے اپنے کامل علم ہی کی بنا پر آپ کو اس منصب کے لیے منتخب فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[37] یعنی اللہ تعالیٰ باطل کو کبھی پائیداری نصیب نہیں کرتا اور وہ سرنگوں ہوکے رہتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حق از خود ثابت اور برقرار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا آپ ان کے اس الزام کی مطلق پروا نہ کریں عنقریب ان کا یہ الزام اور جھوٹ واضح ہو جائے گا اور حق نتھر کر سامنے آجائے گا۔ اللہ کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے۔
[38] یعنی آپ کو جھٹلانے اور آپ پر اس طرح کے گھناؤنے الزام لگانے کی تہہ میں جو ان کے ذاتی مفادات مضمر ہیں اور جن کی وجہ سے یہ ایسے کام کرتے ہیں اللہ انہیں خوب جانتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس کے بعد کا جملہ «أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا ۖ فَإِن يَشَإِ اللَّـهُ يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ ۗ وَيَمْحُ اللَّـهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ» [سورةالشورى 42:24]، «یَخْتِمْ» پر معطوف نہیں بلکہ یہ مبتدا ہے اور مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ «یَخْتِمْ» پر عطف نہیں جو مجزوم ہو۔ واؤ کا کتابت میں نہ آنا یہ صرف امام کے رسم خط کی موافقت کی وجہ سے ہے جیسے آیت «سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ» [96- العلق: 18] میں واؤ لکھنے میں نہیں آئی۔ اور آیت «وَيَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا» [الإسراء 17: 11] میں واؤ نہیں لکھی گئی ہاں اس کے بعد کے جملے «اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ» [8- الانفال: 7] کا عطف «وَيَمْــحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ» [42- الشورى: 24]، پر ہے یعنی اللہ تعالیٰ حق کو واضح اور مبین کر دیتا ہے اپنے کلمات سے یعنی دلائل بیان فرما کر حجت پیش کر کے وہ خوب دانا بینا ہے دلوں کے راز سینوں کے بھید اس پر کھلے ہوئے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يعني: أم يقولُ المكذِّبون للرسول - صلى الله عليه وسلم - جرأة منهم وكذباً: {افْتَرى على اللهِ كَذِباً}: فَرَمَوْكَ بأشنع الأمور وأقبحها، وهو الافتراءُ على الله بادِّعاء النبوَّة والنسبة إلى الله ما هو بريءٌ منه، وهم يعلمونَ صِدْقَكَ وأمانَتَكَ؛ فكيف يتجرؤونَ على هذا الكذبِ الصُّراح؟! بل تجرؤوا بذلك على الله تعالى؛ فإنَّه قدحٌ في الله؛ حيث مكَّنك من هذه الدعوة العظيمة المتضمِّنة ـ على موجب زعمهم ـ أكبر الفسادِ في الأرض؛ حيث مكَّنه الله من التَّصريح بالدَّعوة، ثم بنسبتها إليه، ثم يؤيِّده بالمعجزات الظاهرات والأدلَّة القاهرات والنصر المبين والاستيلاء على مَنْ خالَفَهُ، وهو تعالى قادرٌ على حسم هذه الدَّعوة من أصلها ومادَّتها، وهو أن يختِم على قلب الرسول - صلى الله عليه وسلم -؛ فلا يعي شيئاً، ولا يدخل إليه خيرٌ، وإذا خُتِمَ على قلبه؛ انحَسَم الأمرُ كلُّه وانقطعَ؛ فهذا دليلٌ قاطعٌ على صحَّة ما جاء به الرسولُ، وأقوى شهادة من اللهِ له على ما قال، ولا يوجُد شهادةٌ أعظم منها ولا أكبر، ولهذا من حكمته ورحمته وسنَّته الجارية أنه يمحو الباطل ويزيلُه، وإن كان له صولةٌ في بعض الأوقات؛ فإنَّ عاقبته الاضمحلال، {ويُحِقُّ الحقَّ بكلماتِهِ}: الكونيَّة التي لا تبدَّل ولا تغيَّر ، ووعده الصادق، وكلماته الدينيَّة التي تحقِّق ما شرعه من الحقِّ وتثبِّته في القلوب وتبصِّر أولي الألباب، حتى إنَّ من جملة إحقاقِهِ تعالى الحقَّ أن يقيِّضَ له الباطلَ ليقاوِمَه؛ فإذا قاومه؛ صال عليه الحقُّ ببراهينِهِ وبيِّناتِهِ، فظهر من نوره وهداه ما به يضمحلُّ الباطل وينقمع ويتبيَّن بطلانُه لكلِّ أحدٍ، ويظهر الحقُّ كلَّ الظُّهور لكلِّ أحدٍ. {إنَّه عليمٌ بذات الصُّدور}؛ أي: بما فيها وما اتَّصفت به من خيرٍ وشرٍّ وما أكنَّته ولم تُبْدِهِ.