ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 23

ذٰلِکَ الَّذِیۡ یُبَشِّرُ اللّٰہُ عِبَادَہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّۃَ فِی الۡقُرۡبٰی ؕ وَ مَنۡ یَّقۡتَرِفۡ حَسَنَۃً نَّزِدۡ لَہٗ فِیۡہَا حُسۡنًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ شَکُوۡرٌ ﴿۲۳﴾
یہ ہے وہ چیز جس کی خوش خبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اورانھوں نے نیک اعمال کیے۔ کہہ دے میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیںمانگتا مگر رشتہ داری کی وجہ سے دوستی۔ اور جو کوئی نیکی کمائے گا ہم اس کے لیے اس میں خوبی کا اضافہ کریں گے۔ یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت قدردان ہے۔ En
یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے۔ کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیئے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے۔ بےشک خدا بخشنے والا قدردان ہے
En
یہی وه ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان ﻻئے اور (سنت کے مطابق) نیک عمل کیے تو کہہ دیجئے! کہ میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر محبت رشتہ داری کی، جو شخص کوئی نیکی کرے ہم اس کے لیے اس کی نیکی میں اور نیکی بڑھا دیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ (اور) بہت قدر دان ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 23) ➊ { ذٰلِكَ الَّذِيْ يُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ …:} یہ پانچویں وجہ ہے۔ { ذٰلِكَ } اسم اشارہ بعید اس ثواب کی عظمت کے بیان کے لیے ہے۔ جنتوں کے باغوں اور ان کی نعمتوں کی طرف اشارہ کرکے ان کی طرف دوبارہ توجہ دلانے سے مقصود ان کی عظمت کا اظہار ہے اور ساتھ ہی ایمان اور عملِ صالح کا ذکر اس لیے ہے کہ اتنی بڑی نعمتوں کے حصول کے لیے ایمان اور عمل صالح ضروری ہے۔
➋ { قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى: قَرِبَ يَقْرَبُ قُرْبًا وَ قُرْبَانًا وَ قِرْبَانًا} (س، ک) قریب ہونا۔ { قُرْبٰي} اور {قَرَابَةً } بھی مصدر ہیں، جیسے { بُشْرٰي} اور { رُجْعٰي} ہیں۔ ان کا معنی رشتہ داری اور قرابت ہے۔ رشتہ دار اور قرابت دار کے لیے ذوالقربیٰ (قرابت والا) کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ» ‏‏‏‏ [بنی إسرائیل: ۲۶] اور رشتہ دار کو اس کا حق دے۔ { فِي الْقُرْبٰى } میں { فِيْ} تعلیل کے لیے ہے: {أَيْ مِنْ أَجْلِ الْقُرْبٰي} یعنی رشتہ داری کی وجہ سے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِيْ هِرَّةٍ حَبَسَتْهَا، حَتّٰی مَاتَتْ جُوْعًا، فَدَخَلَتْ فِيْهَا النَّارَ] [بخاري، المساقاۃ، باب فضل سقي الماء: ۲۳۶۵] ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا۔ اس نے اسے باندھ کر رکھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی، تو اس کی وجہ سے وہ آگ میں داخل ہو گئی۔ یعنی آپ کہہ دیں کہ میں اس تبلیغِ دین پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا، سوائے رشتہ داری کی وجہ سے دوستی کے کہ کچھ نہ سہی، کم از کم میرے اور تمھارے درمیان جو قرابت اور رشتہ داری ہے اس کی وجہ سے میرا حق ہے کہ مجھ سے دوستی رکھو، اس حق کا مطالبہ میں تم سے ضرور کرتا ہوں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ تم میری بات مان لیتے، اگر نہیں مانتے تو سارے عرب میں سب سے بڑھ کر دشمنی تو نہ کرو۔ کم از کم اس قرابت کا تو خیال رکھو جو میرے اور تمھارے درمیان ہے۔ جیسا کہ ابوطالب اگرچہ ایمان نہیں لایا مگر وہ قرابت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتا رہا۔
آیت کا یہی مطلب ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما نے بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ طاؤس فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے { اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى } کے متعلق سوال کیا گیا تو سعید بن جبیر کہنے لگے کہ اس سے مراد { قُرْبٰي آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ} (آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت) ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [عَجِلْتَ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلاَّ كَانَ لَهُ فِيْهِمْ قَرَابَةٌ فَقَالَ إِلاَّ أَنْ تَصِلُوْا مَا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ مِنَ الْقَرَابَةِ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «إلا المودۃ فی القربٰی» : ۴۸۱۸] تم نے جلدی کی، قریش کا کوئی خاندان ایسا نہ تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت اور رشتہ داری نہ ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا) مگر یہ کہ تم اس رشتہ داری کو ملاؤ جو میرے اور تمھارے درمیان ہے۔
➌ بعض لوگ خصوصاً شیعہ اس آیت کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ آپ کہہ دیں کہ میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا مگر قرابت والوں سے دوستی کا، یعنی میں تم سے اس پر اس کے سوا کچھ نہیں مانگتا کہ تم میرے قرابت داروں سے دوستی رکھو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن قرابت داروں سے دوستی اپنی جگہ مسلمہ ہے، جو دوسرے دلائل سے ثابت ہے، مگر اس آیت کا وہ مطلب ہر گز نہیں جو ان لوگوں نے بیان کیا ہے، کیونکہ { الْقُرْبٰى } کا معنی رشتہ داری ہے، رشتہ دار نہیں۔ رشتہ داروں کے لیے {ذَوِي الْقُرْبٰي} کا لفظ آتا ہے۔ اگر { الْقُرْبٰى } کا معنی رشتہ دار ہو بھی تو آیت کے الفاظ یہ ہونے چاہییں: { إِلاَّ مَوَدَّةَ الْقُرْبٰي} مگر رشتہ داروں کی دوستی کا۔ جب کہ الفاظ ہیں: «‏‏‏‏اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى» ‏‏‏‏ ان الفاظ کا وہ معنی ہو ہی نہیں سکتا جو یہ حضرات بیان کرتے ہیں۔ پھر دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سوال کن لوگوں سے کر رہے ہیں، ظاہر ہے کفار سے کر رہے ہیں جو آپ کے شدید مخالف تھے، جو آپ سے بھی دوستی کے روا دار نہیں تھے، آیا ممکن بھی ہے کہ آپ ان سے کہیں کہ میرے رشتہ داروں سے دوستی کرو۔ اگر مان بھی لیں کہ آپ ان سے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ دوستی کا سوال کر رہے ہیں تو وہ رشتے دار کون سے ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پورے قبیلۂ قریش کے ساتھ دوستی کا سوال کر رہے ہیں یا اپنے قریب ترین خاندان بنو عبد المطلب کے ساتھ؟ دونوں میں مخلص مسلمانوں کے علاوہ ابوجہل اور ابو لہب جیسے آپ کے بدترین دشمن بھی موجود تھے، جن کے ساتھ دوستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور اگر اس سے مراد علی و فاطمہ اور حسن و حسین رضی اللہ عنھم ہیں، جیسا کہ شیعہ حضرات کہتے ہیں تو یہ سورت مکی ہے اور مکہ میں فاطمہ اور علی رضی اللہ عنھما کا نکاح تک نہیں ہوا تھا اور نہ ہی حسن و حسین رضی اللہ عنھما پیدا ہوئے تھے، لہٰذا اس سے یہ لوگ مراد ہو ہی نہیں سکتے۔
➍ بعض مفسرین نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا کہ میں تم سے صرف رشتہ داری کی وجہ سے دوستی کا سوال کرتا ہوں، یہ دین کی تبلیغ کی اجرت یا مزدوری نہیں جو آپ ان سے مانگ رہے ہیں، بلکہ آپ اپنے اس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں جو تمام دنیا کے ہاں مسلم ہے، خواہ آپ تبلیغ کریں یا نہ کریں۔ غرض اس آیت میں بھی وہی بات بیان ہوئی ہے جو تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوم سے کہی کہ میں تم سے اس تبلیغ دین پر کسی قسم کی مزدوری کا سوال نہیں کرتا، کیونکہ میری مزدوری صرف اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، جیسا کہ سورۂ شعراء میں ہے: «‏‏‏‏وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ‏‏‏‏ [الشعراء: ۱۰۹] اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔ قواعدِ نحو میں یہ بات ان الفاظ میں بیان کی جائے گی کہ یہاں استثنا متصل نہیں منقطع ہے، یعنی صلہ رحمی کے سوال کا تبلیغِ دین پر اجرت سے کوئی تعلق نہیں۔
➎ { وَ مَنْ يَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا: حَسَنَةً } میں تنوین تنکیر کے لیے ہے۔ جو شخص کوئی بھلائی کرے گا، خواہ کتنی معمولی ہو، ہم اس کے لیے اس کے حسن و خوبی میں اضافہ کر دیں گے۔ یہ اضافہ کئی طرح سے ہے، ایک تو وہ جتنی نیکی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس سے زیادہ نیکی کی توفیق دے گا۔ دوسرا جو لوگ اسے دیکھ کر وہ نیکی کریں گے ان سب کے اجر اسے بھی ملیں گے جس سے اس کی نیکی میں اضافہ ہو گا۔ تیسرا اللہ تعالیٰ ہر نیکی کو دس گنا سے سات سو گنا بلکہ شمار سے زیادہ تک بڑھا دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْهَا وَ يُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا» ‏‏‏‏ [النساء: ۴۰] اگر ایک نیکی ہوگی تو وہ اسے کئی گنا کر دے گا اور اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ چوتھا یہ کہ نیکیوں کے ساتھ گناہ معاف ہوتے ہیں، فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ» ‏‏‏‏ [ھود: ۱۱۴] بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔
➏ {اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ: اِنَّ } تعلیل کے لیے آتا ہے، یعنی نیکی کرنے والے کی نیکی میں ہم اضافہ اس لیے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ گناہوں پر بہت پردہ ڈالنے والا اور نیک عمل کی بے حد قدر کرنے والا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

23۔ 1 یعنی اجر وثواب میں اضافہ کریں گے یا نیکی کے بعد اس کا بدلہ مزید نیکی کی توفیق کی صورت میں دیں گے جس طرح بدی کا بدلہ مذید بدیوں کا ارتکاب ہے۔ 23۔ 2 اس لئے وہ پردہ پوشی فرماتا اور معاف کردیتا ہے اور زیادہ سے زیادہ اجر دیتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ یہی وہ فضل ہے جس کی اللہ اپنے ان بندوں کو بشارت دیتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ آپ ان سے کہئے کہ میں اس کام پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا البتہ قرابت کی محبت [34] ضرور چاہتا ہوں۔ اور جو کوئی نیکی کمائے گا ہم اس کے لئے اس میں خوبی [35] کا اضافہ کر دیں گے بلا شبہ اللہ معاف کرنے والا اور قدر دان ہے۔
[34] ﴿الا المودّة فى القربيٰ﴾ کے مختلف مفہوم :۔
اس جملہ کی کئی تفسیریں بیان کی گئی ہیں مگر بہترین تفسیر وہی ہے جو صحیحین میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور وہ یہ ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا کہ:﴿الَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰي کا کیا مطلب ہے؟ سعید بن جبیرؓ نے (جھٹ) کہہ دیا کہ اس سے آپ کی آل مراد ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے: تم جلد بازی کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ نہ کچھ قرابت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ انہیں کہیے کہ اگر تم اور کچھ نہیں کرتے (مسلمان نہیں ہوتے) تو کم از کم قرابت ہی کا لحاظ رکھو۔ (اور مجھے ایذائیں دینا چھوڑ دو) [بخاري۔ كتاب التفسير]
اس کی دوسری تفسیر یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہاں ﴿قُرْبٰي سے مراد قرب یا تقرب ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تم سے اس کام پر اس بات کے سوا کوئی اجر نہیں چاہتا کہ تمہارے اندر اللہ کے قرب کی محبت پیدا ہو جائے۔ یعنی تم ٹھیک ہو جاؤ اور اللہ سے محبت کرنے لگو۔ بس یہی میرا اجر ہے۔ تیسرا گروہ اس آیت میں ﴿قُرْبٰي سے مراد اقارب لیتا ہے۔ پھر ایک فریق تو اس محبت کو بنی عبد المطلب سے محبت مراد لیتا ہے۔ اور دوسرا سیدنا فاطمۃ الزھراؓ سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد سے۔ یہ تفسیر درج ذیل وجوہ کی بنا پر غلط ہے۔
﴿مودّة فى القربيٰ﴾ سے شیعہ حضرات کا استدلال اور اس کا جواب :۔
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری صرف بنو عبد المطلب سے ہی نہیں تھی۔ بلکہ تقریباً قریش کے سب قبیلوں سے تھی اور بنی عبد المطلب میں سے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تھے اور کچھ سخت دشمن بھی تھے۔ اور ابو لہب کی آپ سے دشمنی تو سب ہی جانتے ہیں۔ یہی حال قریش کے باقی قبیلوں کا تھا۔ لہٰذا اس تخصیص کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
﴿قُرْبٰي سے مراد سیدہ فاطمہ اور سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد لینا اس لحاظ سے غلط ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے۔ اور سیدہ فاطمہؓ کا نکاح ہی مدینہ جانے کے بعد ہوا تھا۔ 3۔ اور اس تفسیر کے غلط ہونے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا مطالبہ کرنا کہ میں تم سے اس تبلیغ کے کام کا اس کے سوا کوئی اجر نہیں مانگتا کہ تم میرے اقارب سے محبت کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رفیع کے مقابلہ میں یہ مطالبہ انتہائی گھٹیا اور فروتر ہے۔ بالخصوص اس صورت میں کہ وہ مطالبہ بھی کافروں سے ہو۔ کافروں سے بھلا اجرت کے مطالبہ کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔ اجرت تو اس سے طلب کی جا سکتی ہے جسے وہ کام پسند آئے اور کافر تو اس تبلیغ کے کام کی وجہ سے آپ کی جان کے لاگو بنے ہوئے تھے۔ ان سے بھلا کوئی ایسا مطالبہ کیا جا سکتا تھا؟ البتہ یہ واضح رہے کہ آپ کے اہل بیت ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن آپ کی بیٹیوں اور دوسرے تمام اقارب سے محبت رکھنا جن میں سیدہ فاطمہؓ، سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد بھی شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تعظیم اور حقوق شناسی کے لحاظ سے اہل ایمان کے لیے ضروری ہے اور ان سے درجہ بدرجہ محبت رکھنا حقیقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہی کا تقاضا ہے۔ اور ایسی محبت کا تقاضا مسلمانوں سے تو کیا جا سکتا ہے، کافروں سے نہیں جبکہ اس آیت میں روئے سخن کافروں سے ہے۔
[35] یعنی جو نیک بننا چاہتا ہے اللہ اسے اور زیادہ نیک بنا دیتا ہے۔ اس کے کام میں اگر کچھ کوتاہیاں رہ گئی ہوں تو انہیں معاف کر دیتا ہے اور جو کچھ بھی وہ نیک اعمال بجا لاتے ہیں ان کی قدر شناسی اور حوصلہ افزائی کرتا ہے اور انہیں زیادہ اجر فرماتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

رسول اللہ سے قرابت داری کی فضیلت ٭٭
اوپر کی آیتوں میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کر کے بیان فرما رہا ہے کہ ایماندار , نیک کار بندوں کو اس کی بشارت ہو پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ قریش کے مشرکین سے کہہ دو کہ اس تبلیغ پر اور اس تمہاری خیر خواہی پر میں تم سے کچھ طلب تو نہیں کر رہا۔ تمہاری بھلائی تو ایک طرف رہی تم اگر اپنی برائی سے ہی ٹل جاؤ اور مجھے رب کی رسالت پہنچانے دو اور قرابت داری کے رشتے کو سامنے رکھ کر میری ایذاء رسانی سے ہی رک جاؤ تو یہی بہت ہے صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا اس سے مراد قرابت آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے عجلت سے کام لیا سنو قریش کے جس قدر قبیلے تھے سب کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری تھی تو مطلب یہی کہ تم اس رشتے داری کا لحاظ رکھو جو مجھ میں اور تم میں ہے۔[صحیح بخاری:4818]‏‏‏‏
حضرت مجاہدرحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ، قتادہ رحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ، ابو مالک رحمہ اللہ، عبد الرحمن رحمہ اللہ وغیرہ بھی اس آیت کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش سے کہا میں تم سے اس کی کوئی اجرت طلب نہیں کرتا مگر یہ کہ تم اس قرابت داری کا خیال رکھو جو مجھ اور تم میں ہے۔ اس میری قرابت کا حق جو تم پر ہے وہ ادا کرو۔[طبرانی اوسط:3347:ضعیف]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جو دلیلیں دی ہیں جس ہدایت کا راستہ بتایا ہے اس پر کوئی اجر تم سے نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ تم اللہ کو چاہنے لگو اور اس کی اطاعت کی وجہ سے اس سے قرب اور نزدیکی حاصل کر لو۔[مسند احمد:268/1:ضعیف]‏‏‏‏
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے تو یہ دوسرا قول ہوا پہلا قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی رشتے داری کو یاد دلانا۔
دوسرا قول آپ کی یہ طلب کہ لوگ اللہ کی نزدیکی حاصل کر لیں۔
تیسرا قول جو حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی روایت سے گزرا کہ تم میری قرابت کے ساتھ احسان اور نیکی کرو۔ ابو الدیلم کا بیان ہے کہ جب حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ کو قید کر کے لایا گیا اور دمشق کے بالاخانے میں رکھا گیا تو ایک شامی نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہیں قتل کرایا اور تمہارا ناس کرا دیا اور فتنہ کی ترقی کو روک دیا یہ سن کر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کیا تو نے قرآن بھی پڑھا ہے اس نے کہا کیوں نہیں؟ فرمایا اس میں «حٰم» والی سورتیں بھی پڑھی ہیں؟ اس نے کہا واہ سارا قرآن پڑھ لیا اور «حٰم» والی سورتیں نہیں پڑھیں؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا پھر کیا ان میں اس آیت کی تلاوت تو نے نہیں کی؟ آیت «قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ» [42- الشورى: 23]‏‏‏‏ یعنی میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر محبت قرابت کی۔ اس نے کہا پھر کیا تم وہ ہو؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ہاں! حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا مراد قرابت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
ابن جریر میں ہے کہ انصار رضی اللہ عنہم نے اپنی خدمات اسلام گنوائیں گویا فخر کے طور پر۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم تم سے افضل ہیں جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مجلس میں آئے اور فرمایا انصاریو کیا تم ذلت کی حالت میں نہ تھے؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے عزت بخشی! انہوں نے کہا بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔ فرمایا: کیا تم گمراہ نہ تھے؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے ہدایت کی؟ انہوں نے کہا ہاں بیشک آپ نے سچ فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم مجھے کیوں نہیں کہتے؟ انہوں نے کہا کیا کہیں؟ فرمایا: کیوں نہیں کہتے؟ کہ کیا تیری قوم نے تجھے نکال نہیں دیا تھا؟ اس وقت ہم نے تجھے پناہ دی کیا انہوں نے تجھے جھٹلایا نہ تھا؟ اس وقت ہم نے تیری تصدیق کی؟ کیا انہوں نے تجھے پست کرنا نہیں چاہا تھا اس وقت ہم نے تیری مدد کی؟ اس طرح کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور بھی بہت سی باتیں کیں یہاں تک کہ انصار اپنے گھٹنوں پر جھک پڑے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہماری اولاد اور جو کچھ ہمارے پاس ہے سب اللہ کا اور سب اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30678:ضعیف]‏‏‏‏
پھر یہ آیت «قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ» [42- الشورى: 23]‏‏‏‏ نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں بھی اسی کے قریب ضعیف سند سے مروی ہے بخاری و مسلم میں یہ حدیث ہے .[صحیح بخاری:4330]‏‏‏‏
اس میں ہے کہ یہ واقعہ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت پیش آیا تھا اور اس میں آیت کے اترنے کا ذکر بھی نہیں اور اس آیت کو مدینے میں نازل شدہ ماننے میں بھی قدرے تامل ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے پھر جو واقعہ حدیث میں مذکور ہے اس واقعہ میں اور اس آیت میں کچھ ایسی زیادہ ظاہر مناسبت بھی نہیں ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں جن کی محبت رکھنے کا ہمیں حکم باری ہوا ہے آپ نے فرمایا فاطمہ اور ان کی اولاد رضی اللہ عنہم۔ [طبرانی کبیر:12384:ضعیف]‏‏‏‏
لیکن اس کی سند ضعیف ہے اور اس کا راوی مبہم ہے جو معروف نہیں پھر اس کا استاد ایک شیعہ ہے جو بالکل ثقاہت سے گرا ہوا ہے اس کا نام حسین اشغر ہے اس جیسی حدیث بھلا اس کی روایت سے کیسے مان لی جائے گی؟ پھر مدینے میں آیت نازل ہونا ہی مستعد ہے حق یہ ہے کہ آیت مکی ہے اور مکہ شریف میں فاطمہ کا عقد ہی نہ ہوا تھا اولاد کیسی؟ آپ رضی اللہ عنہا کا عقد تو صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ بدر کے بعد سنہ 2 ھ میں ہوا۔
پس صحیح تفسیر اس کی وہی ہے جو حبرالامة ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کی ہے جو بحوالہ بخاری پہلے گذر چکی ہم اہل بیت کے ساتھ خیر خواہی کرنے کے منکر نہیں ہے ہم مانتے ہیں کہ ان کے ساتھ احسان و سلوک اور ان کا اکرام و احترام ضروری چیز ہے روئے زمین پر ان سے زیادہ پاک اور صاف ستھرا گھرانا اور نہیں حسب و نسب میں اور فخر و مباہات میں بلا شک یہ سب سے اعلیٰ ہیں۔ بالخصوص ان میں سے وہ جو متبع سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں جیسے کہ اسلاف کی روش تھی یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور آل عباس رضی اللہ عنہ کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور آل علی رضی اللہ عنہ کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا ہے میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب اللہ اور میری عترت اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گے جب تک کہ حوض پر میرے پاس نہ آئیں۔[صحیح مسلم:2408]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ قریشی جب آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔ لیکن ہم سے اس ہنسی خوشی کے ساتھ نہیں ملتے۔ یہ سن کر آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور فرمانے لگے اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کسی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ کے لیے اور اس کے رسول کی وجہ سے تم سے محبت نہ رکھے۔[سنن ترمذي:3758،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا قریشی باتیں کرتے ہوتے ہیں ہمیں دیکھ کر چپ ہو جاتے ہیں اسے سن کر مارے غصے کے آپ کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور فرمایا واللہ! کسی مسلمان کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہو گا جب تک کہ وہ تم سے اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ رکھے۔[مسند احمد:207/1:ضعیف]‏‏‏‏
صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لحاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں رکھو۔[صحیح بخاری:3713]‏‏‏‏
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں سے سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے سلوک سے بھی پیارا ہے۔[صحیح بخاری:3712]‏‏‏‏
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا واللہ تمہارا اسلام لانا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے بھی زیادہ اچھا لگا اس لیے کہ تمہارا اسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا۔ پس اسلام کے ان دو چمکتے ستاروں کا مسلمانوں کے ان دونوں سیدوں کا جو معاملہ آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اقربا پیغمبر کے ساتھ تھا وہی عزت و محبت کا معاملہ مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور قرابت داروں سے رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ نبیوں اور رسولوں کے بعد تمام دنیا سے افضل یہی دونوں بزرگ خلیفہ رسول تھے رضی اللہ عنہما۔ پس مسلمانوں کو ان کی پیروی کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور کنبے قبیلے کے ساتھ جس عقیدت سے پیش آنا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں خلیفہ سے اہل بیت سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کل صحابہ رضی اللہ عنہم سے خوش ہو جائے اور سب کو اپنی رضا مندی میں لے لے۔ آمین۔
صحیح مسلم وغیرہ میں حدیث ہے کہ یزید بن حیان اور حصین بن میسرہ اور عمر بن مسلم رحمہ اللہ علیہم سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے حصین نے کہا: اے حضرت! آپ کو تو بڑی بڑی خیر و برکت مل گئی، آپ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا آپ نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں اپنے کانوں سے سنیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھیں، حق تو یہ ہے کہ بڑی بڑی فضیلتیں آپ نے سمیٹ لیں، اچھا اب کوئی حدیث ہمیں بھی بتائیے۔ اس پر سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے بھتیجے سنو، میری عمر اب بڑی ہو گئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کو عرصہ گزر چکا بعض چیزیں ذہن میں محفوظ نہیں رہیں اب تو یہی رکھو کہ جو از خود سنا دوں اسے مان لیا کرو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو کہ تکلف سے بیان کرنا پڑے، پھر آپ نے فرمایا کہ مکے اور مدینے کے درمیان پانی کی جگہ کے پاس جسے خم کہا جاتا تھا کھڑے ہو کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ سنایا اللہ کی حمد و ثنا کی وعظ و پند کیا پھر فرمایا: لوگو! میں ایک انسان ہوں کیا عجب کہ ابھی ابھی میرے پاس اللہ کا قاصد پہنچ جائے اور میں اس کی مان لوں سنو میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک تو کتاب اللہ جس میں نور و ہدایت ہے تم اللہ کی کتاب کو مضبوط تھام لو اور اس کو مضبوطی سے تھامے رہو پس اس کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تاکید کی پھر فرمایا اے میرے اہل بیت میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں یہ سن کر حصین رحمہ اللہ نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے زید! آپ کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی بیویاں اہل بیت میں داخل نہیں؟ فرمایا بیشک آپ کی بیویاں وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے پوچھا وہ کون ہیں؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس رضی اللہ عنہم پوچھا کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ فرمایا ہاں![صحیح مسلم:4208]‏‏‏‏
ترمذی شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط تھامے رہے تو بہکو گے نہیں ایک دوسرے سے زیادہ عظمت والی ہے کتاب اللہ جو اللہ کی طرف سے ایک لٹکائی ہوئی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک آئی ہے اور دوسری چیز میری عترت میرے اہل بیت ہے اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں۔ پس دیکھ لو کہ میرے بعد کس طرح ان میں میری جانشینی کرتے ہو؟ [سنن ترمذي:3788، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ امام صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور صرف ترمذی میں ہے
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ترمذی میں ہے کہ عرفے والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جسے قصواء کہا جاتا تھا خطبہ دیا جس میں فرمایا لوگو میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے کتاب اللہ اور میری عترت اہل بیت۔ [سنن ترمذي:3786، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مدنظر رکھ کر تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی وجہ سے میری اہل بیت سے محبت رکھو۔ [سنن ترمذي:3789، قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
یہ حدیث اور اوپر کی حدیث حسن غریب ہے اس مضمون کی اور احادیث ہم نے آیت: «اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا» [33- الأحزاب: 33]‏‏‏‏ کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں یہاں ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
ایک ضعیف حدیث مسند ابو یعلیٰ میں ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا تھامے ہوئے فرمایا لوگو جو مجھے جانتے ہیں وہ تو جانتے ہی ہیں جو نہیں پہچانتے وہ اب پہچان کر لیں کہ میرا نام ابوذر ہے سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال مثل نوح علیہ السلام کی کشتی کے ہے اس میں جو چلا گیا اس نے نجات پالی اور جو اس میں داخل نہ ہوا ہلاک ہوا۔[مسند ابویعلیٰ:ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے جو نیک عمل کرے ہم اس کا ثواب اور بڑھا دیتے ہیں جیسے ایک اور آیت میں فرمایا اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اگر نیکی ہو تو اور بڑھا دیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے بعض سلف کا قول ہے کہ نیکی کا ثواب اس کے بعد نیکی ہے اور برائی کا بدلہ اس کے بعد برائی ہے پھر فرمان ہوا کہ اللہ گناہوں کو بخشنے والا ہے اور نیکیوں کی قدر دانی کرنے والا ہے انہیں بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔