تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ:} یعنی یہ شرک اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی ایسی جسارت ہے کہ اگر لوگوں کو مہلت دینے کا فیصلہ نہ ہوتا اور یہ طے نہ کر دیا گیا ہوتا کہ فیصلے قیامت کے دن ہوں گے تو دنیا ہی میں ان لوگوں پر عذاب آ جاتا جو اللہ کے دین کے مقابلے میں اپنی شریعت اور قانون بناتے ہیں، یا ایسی شریعت کو قبول کرکے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔
➌ { وَ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ” الظّٰلِمِيْنَ “} میں الف لام عہد کا ہے، یعنی ان ظالموں کے لیے عذاب الیم ہے جو شرک کے ظلمِ عظیم کا ارتکاب کرتے ہیں اور وہ عذابِ الیم جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے اور جنت ان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ» [المائدۃ: ۷۲] ”بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔ “
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[33] یعنی اللہ ایسے باغیوں کے بارے میں عفو و درگزر سے کام لیے جاتا ہے اور انہیں فوراً تباہ نہیں کر دیتا۔ جس کی وجہ واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو دیئے ہوئے اختیار کو اضطرار میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔ وہ ہر انسان کو اختیار دے کر ہی اس دنیا میں آزمانا چاہتا ہے۔ البتہ جب یہ اختیار کا عرصہ ختم ہو جائے گا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو پھر ایسے ظالموں کو ان کی ساری کرتوتوں کی دردناک سزا دی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرماتا ہے کہ اگر میری یہ بات پہلے سے میرے ہاں طے شدہ نہ ہوتی کہ میں گنہگاروں کو قیامت کے آنے تک ڈھیل دوں گا تو میں آج ہی ان کفار کو اپنے عذاب میں جکڑ لیتا۔
حضرت ابوطیبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنتیوں کے سروں پر ابر آئے گا اور انہیں ندا ہو گی کہ بتاؤ کس چیز کی بارش چاہتے ہو؟ پس جو لوگ جس چیز کی بارش چاہیں گے وہی چیز ان پر اس بادل سے برسے گی یہاں تک کہ کہیں گے ہم پر ابھرے ہوئے سینے والی ہم عمر عورتیں برسائی جائیں چنانچہ وہی برسیں گی۔ اسی لیے فرمایا کہ فضل کبیر یعنی زبردست کامیابی کامل نعمت یہی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّ المشركين اتَّخذوا شركاء يوالونهم ويشتركون هم وإيَّاهم في الكفر وأعمالِهِ من شياطين الإنس الدُّعاة إلى الكفر، {شَرَعوا لهم من الدِّينِ ما لمْ يأذَنْ به اللهُ}: من الشِّرك والبدع وتحريم ما أحلَّ اللهُ وتحليل ما حرَّم اللهُ ونحو ذلك ممَّا اقتضته أهواؤُهم، مع أنَّ الدِّين لا يكون إلاَّ ما شَرَعَه الله تعالى لِيَدينَ به العبادُ ويتقرَّبوا به إليه؛ فالأصلُ الحَجْرُ على كلِّ أحدٍ أن يَشْرَعَ شيئاً ما جاء عن اللهِ وعن رسولِهِ؛ فكيف بهؤلاء الفَسَقَةِ المشتركين هم [وآباؤهم] وهم على الكفر. {ولولا كلمةُ الفصل لَقُضِيَ بينَهم}؛ أي: لولا الأجلُ المسمَّى الذي ضَرَبَه الله فاصلاً بين الطوائفِ المختلفة، وأنَّه سيؤخِّرهم إليه؛ لَقُضِي بينهم في الوقت الحاضر بسعادة المحقِّ وإهلاك المبطل؛ لأن المُقتضي للإهلاك موجود، ولكنْ أمامهم العذابُ الأليمُ في الآخرة؛ هؤلاء وكلُّ ظالم.