تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا …:} یعنی منکرین قیامت کے برعکس جو لوگ اس پر یقین و ایمان رکھتے ہیں وہ ہر وقت اس بات سے سخت ڈرتے رہتے ہیں کہ کب موت آ کر عمل کی مہلت ختم کر دے، پھر قیامت کبریٰ برپا ہونے پر حساب کے وقت ان کا کیا حال ہو۔ (دیکھیے انبیاء: ۴۹۔ نور: ۳۷۔ دہر: ۷) کیونکہ انھیں یقین ہے کہ وہ ہو کر رہنے والی ہے۔
➌ { اَلَاۤ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍۭ بَعِيْدٍ: ” يُمَارُوْنَ “} کا معنی ”شک کرتے ہیں“ بھی ہے اور ”جھگڑتے ہیں“ بھی۔ یعنی قیامت کا یقین ہو تو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور حق واضح ہونے پر اسے قبول بھی کر لیتا ہے، مگر جسے اس کے آنے ہی میں شک ہو اور وہ اس کے متعلق جھگڑا کرتا رہتا ہو وہ ایمان لانے اور نیک اعمال اختیار کرنے کو بے کار سمجھے گا اور محاسبے کا خوف نہ ہونے کی وجہ سے ہر گناہ پر دلیر ہو گا اور بڑے سے بڑے ظلم سے بھی گریز نہیں کرے گا، ایسے لوگ راہِ حق سے بہت دور جا چکے ہیں، جہاں سے ان کی واپسی ممکن نہیں۔ {” ضَلٰلٍۭ بَعِيْدٍ “} میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ سیدھے راستے سے اتنے دور جا چکے ہیں کہ ان کی آنکھیں قیامت کے دن ہی کھلیں گی، جب واپس پلٹنا ممکن نہیں ہو گا۔ دیکھیے سورۂ سبا (۵۱ تا ۵۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يستعجل بها الذين لا يؤمنون بها}: عناداً وتكذيباً وتعجيزاً لربِّهم، {والذين آمنوا مشفِقونَ منها}؛ أي: خائفون؛ لإيمانهم بها، وعلمهم بما تشتمل عليه من الجزاء بالأعمال، وخوفهم لمعرفتهم بربِّهم أنْ لا تكون أعمالُهم منجيةً [لهم] ولا مسعدةً، ولهذا قال: {ويعلمون أنَّها الحقُّ}: الذي لامِرْيَةَ فيه، ولا شكَّ يعتريه. {ألا إنَّ الذين يُمارونَ في الساعةِ}؛ أي: بعدما امتروا فيها، ماروا الرسل وأتباعهم بإثباتها؛ فهم في شقاق {بعيدٍ}؛ أي: معاندةٌ ومخاصمةٌ غير قريبة من الصواب، بل في غاية البعد عن الحق. وأيُّ بعد أبعد ممَّن كذَّب بالدار التي هي الدار على الحقيقة؟ وهي الدار التي خُلِقَتْ للبقاء الدائم والخلود السرمد، وهي دارُ الجزاء التي يُظْهِرُ الله فيها عدلَه وفضلَه، وإنَّما هذه الدار بالنسبة إليها كراكبٍ قال في ظلِّ شجرةٍ ثم رَحَلَ وتركَها، وهي دار عبورٍ وممرٍّ لا محلُّ استقرارٍ، فصدقوا في الدار المضمحلَّة الفانية حيث رأوها وشاهدوها، وكذَّبوا بالدار الآخرة التي تواترت بالأخبار عنها الكتب الإلهية والرسل الكرام وأتباعهم، الذين هم أكمل الخلقِ عقولاً وأغزرُهم علماً وأعظمُهم فطنةً وفهماً.