تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ آیت میں {” الْكِتٰبَ “} اور {” الْمِيْزَانَ “} کے درمیان واؤ عطف ہے جو مغایرت کے لیے ہوتی ہے، جس سے ظاہر ہے کہ کتاب اور میزان الگ الگ چیزیں ہیں، اب اگر میزان سے مراد کتاب ہی ہو تو مغایرت ختم ہو جاتی ہے، اسی طرح اگر میزان سے مراد عدل و انصاف لیں تب بھی کتاب اور میزان کے درمیان مغایرت نہیں رہتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں عین عدل و انصاف ہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ ایک ہی چیز کا ذکر جب اس کی مختلف صفات کے ساتھ کیا جائے تو اس کا عطف خود اس پر ہو سکتا ہے، کیونکہ صفات کے تغایر کو ذوات کے تغایر کی طرح قرار دے لیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثالوں میں سے ایک مثال یہ ہے: «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى (1) الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى (2) وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى (3) وَ الَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى» [الأعلٰی: ۱ تا ۴] ان آیات میں {” الَّذِيْ “} (وہ ذات) کو عطف کے ساتھ الگ الگ بیان کیا گیا ہے، حالانکہ وہ ایک ہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہر جملے میں وہ الگ الگ صفت کے ساتھ مذکور ہے۔ کلامِ عرب میں سے اس کی مثال یہ شعر ہے:
{إِلَي الْمَلِكِ الْقَرْمِ وَابْنِ الْهُمَامِ
وَ لَيْثِ الْكَتِيْبَةِ فِي الْمُزْدَحَمِ}
[أضواء البیان]
➌ {وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيْبٌ:} اور تجھے کیا چیز آگاہ کرتی ہے شاید کہ وہ قیامت بالکل نزدیک ہو اور جو سانس تم لے رہے ہو یہی آخری ہو، اس لیے اس فکر میں مت پڑو کہ وہ کب ہے، بلکہ یہ فکر کرو کہ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بادیہ والوںمیں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: [يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! مَتَی السَّاعَةُ قَائِمَةٌ؟ قَالَ وَيْلَكَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلاَّ أَنِّيْ أُحِبُّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ، قَالَ إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ فَقُلْنَا وَ نَحْنُ كَذٰلِكَ؟ قَالَ نَعَمْ، فَفَرِحْنَا يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيْدًا، فَمَرَّ غُلاَمٌ لِلْمُغِيْرَةِ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِيْ فَقَالَ إِنْ أُخِّرَ هٰذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَةُ] [بخاري، الأدب، باب ما جاء في قول الرجل ویلک: ۶۱۶۷] ”یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہونے والی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تم پر! تم نے اس کے لیے تیاری کیا کی ہے؟“ اس نے کہا: ”میں نے اس کے لیے اس کے سوا کوئی تیاری نہیں کی کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یقینا اس کے ساتھ ہوگے جس سے تمھیں محبت ہو گی۔“ تو ہم نے کہا: ”اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ تو ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے۔ مغیرہ کا ایک غلام وہاں سے گزرا، وہ میرا ہم عمر تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کی عمر دراز ہوئی تو اسے سخت بڑھاپا آنے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی۔“ مراد اس وقت موجود لوگوں کی قیامت ہے۔ حدیث میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر آدمی کی موت کو اس کے لیے قیامت قرار دیا، کیونکہ اس کے ساتھ اس کے لیے عمل کی مہلت ختم ہو جاتی ہے۔
➍ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ {” السَّاعَةَ “} مؤنث ہے، اس کی خبر {” قَرِيْبٌ “} مذکر ہے، حالانکہ دونوں میں مطابقت ہونی چاہیے؟ جواب کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف کی آیت (۵۶): «اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِيْنَ» کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[27] یعنی شریعت کے ترازو میں رکھ کر اپنے اعمال کا خود ہی محاسبہ کر لو۔ کیا معلوم کہ قیامت کی گھڑی قریب ہی آ لگی ہو۔ پھر کچھ نہ ہو سکے گا۔ لہٰذا اچھے اعمال بجا لانے میں جلدی کر لو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ہر شخص اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا تھا۔ [صحیح بخاری:6171]
یہ حدیث یقیناً متواتر ہے الغرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کے جواب میں قیامت کے وقت کا تعین نہیں کیا بلکہ سائل کو اس دن کے لیے تیاری کرنے کو فرمایا پس قیامت کے آنے کے وقت علم کا سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ قیامت کے آنے میں جو لوگ جھگڑ رہے ہیں اور اس کے منکر ہیں اسے محال جانتے ہیں وہ نرے جاہل ہیں سچی سمجھ صحیح عقل سے دور پڑے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ تعجب ہے کہ زمین و آسمان کا ابتدائی خالق اللہ کو مانیں اور انسان کو مار ڈالنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دینے پر اسے قادر نہ جانیں جس نے بغیر کسی نمونے کے اور بغیر کسی جز کے ابتداء ً اسے پیدا کر دیا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» [30-الروم: 27] تو دوبارہ جب کہ اس کے اجزاء بھی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ موجود ہیں اسے پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہے بلکہ عقل سلیم بھی اسے تسلیم کرتی ہے اور اب تو اور بھی آسان ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى أنَّ حججه واضحةٌ بينةٌ بحيث استجاب لها كلُّ مَن فيه خيرٌ؛ ذكر أصلَها وقاعدتَها، بل جميع الحجج التي أوصلها إلى العباد ترجِعُ إليه، فقال: {الله الذي أنزل الكتابَ بالحقِّ والميزانِ}: فالكتاب هو هذا القرآنُ العظيم الذي نزل بالحقِّ، واشتمل على الحقِّ والصدق واليقين، وكلُّه آياتٌ بيناتٌ وأدلَّة واضحاتٌ على جميع المطالب الإلهيَّة والعقائد الدينيَّة، فجاء بأحسن المسائل وأوضح الدَّلائل.
وأما الميزان؛ فهو العدل والاعتبار بالقياس الصحيح والعقل الرجيح؛ فكلُّ الدلائل العقليَّة من الآيات الأفقيَّة والنفسيَّة والاعتبارات الشرعيَّة والمناسبات والعلل والأحكام والحِكَم داخلةٌ في الميزان الذي أنزله الله تعالى ووضعه بين عبادِهِ لِيَزِنوا به ما أثبته وما نفاه من الأمور، ويعرفوا به صدقَ ما أخبر به وأخبرتْ به رسلُه. فما خرج عن هذين الأمرين ـ عن الكتاب والميزان ـ مما قيل: إنَّه حجةٌ أو برهانٌ أو دليلٌ أو نحو ذلك من العبارات؛ فإنَّه باطلٌ متناقضٌ قد فسدت أصولُه وانهدمت مبانيه وفروعه، يعرِفُ ذلك مَنْ خَبَرَ المسائل ومآخِذَها، وعرف التمييز بين راجح الأدلَّة من مرجوحِها، والفرق بين الحجج والشُّبه.
وأما من اغترَّ بالعبارات المزخرفة والألفاظ المموِّهة ولم تنفذْ بصيرتُه إلى المعنى المراد؛ فإنَّه ليس من أهل هذا الشأن، ولا من فرسانِ هذا الميدانِ؛ فوِفاقه وخلافُه سيان. ثم قال تعالى مخوِّفاً للمستعجلين لقيام الساعةِ المنكرينَ لها، فقال: {وما يدريكَ لعلَّ الساعةَ قريبٌ}؛ أي: ليس بمعلوم بُعدها ولا متى تقومُ؛ فهي في كلِّ وقتٍ متوقَّع وقوعُها مخوفٌ وجبتُها.