تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ:} اسی لیے ان میں سے بے شمار لوگوں کو جھٹلانے اور مذاق اڑانے کے باوجود بھوکا نہیں مارتا، بلکہ ان کی تمام ضرورتیں اپنے لطف و کرم سے پوری کرتا ہے۔ مگر جسے چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور جس کی روزی کا دفتر بند کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے۔ یہ بات یہاں ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ اکثر لوگ رزق کے پیچھے رزاق کو بھول جاتے ہیں۔
➌ { وَ هُوَ الْقَوِيُّ:} یعنی وہ جو کرنا چاہے، جسے جتنا رزق دینا چاہے اس کی پوری قوت رکھتا ہے، کسی کام میں کسی کا محتاج نہیں۔
➍ {الْعَزِيْزُ:} یعنی دوسرے تمام معاملات کی طرح رزق کے معاملے میں بھی کسی کا اس پر زور نہیں کہ وہ دینا چاہے تو کوئی اسے روک سکے، یا نہ دینا چاہے تو کوئی اس سے لے سکے۔ خبر {” الْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ “} پر الف لام سے قصر پیدا ہو گیا ہے، یعنی دونوں صفتیں صرف اس میں ہیں، کسی اور میں نہیں، جیساکہ فرمایا: [اَللّٰهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ] [بخاري، القدر، باب لا مانع لما أعطی اللّٰہ: ۶۶۱۵] ”اے اللہ! تو جو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک دے وہ کوئی دینے والا نہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[30] یعنی اللہ تعالیٰ کا لطف تو عام ہے جو بندوں کو یکساں پہنچ رہا ہے۔ لیکن رزق میں معاملہ اس سے الگ ہے۔ وہ ہر ایک کو یکساں نہیں ملتا۔ بلکہ اپنی حکمت کے پیش نظر کسی کو زیادہ دے دیتا ہے اور کسی کو کم یہ اس کی مشیئت پر منحصر ہے۔ البتہ ہر ایک کو دیتا ضرور ہے۔ جتنا رزق اس نے کسی کے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ کوئی طاقت یا کوئی ہستی اس کی مقدار کو نہ بڑھا سکتی ہے اور نہ اس کا رزق کم کر سکتی یا روک سکتی ہے۔ کیونکہ وہ خود سب سے بڑھ کر طاقتور اور زبردست ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دوسری آیت میں اس مضمون کو مقید بیان کیا گیا ہے۔ فرمان ہے «مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَـٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا كُلًّا نُّمِدُّ هَـٰؤُلَاءِ وَهَـٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا» [17- الإسراء: 21-18]، یعنی جو شخص دنیا کا ہو گا ایسے لوگوں میں سے ہم جسے چاہیں اور جتنا چاہیں دے دیں گے پھر اس کے لیے جہنم تجویز کریں گے جس میں وہ بدحال اور راندہ درگاہ ہو کر داخل ہو گا اور جو آخرت کی طلب کرے گا اور اس کے لیے جو کوشش کرنی چاہیئے کرے گا اور وہ با ایمان بھی ہو گا۔ تو ناممکن ہے کہ اس کی کوشش کی قدر دانی نہ کی جائے۔ دنیوی بخشش و عطا تو عام ہے۔ اس سے ہم ان سب کی امداد کیا کرتے ہیں اور تیرے رب کی یہ دنیوی عطا کسی پر بند نہیں، خود دیکھ لو کہ ہم نے ایک کو دوسرے پر کس طرح فوقیت دے رکھی ہے یقین مان لو کہ درجوں کے اعتبار سے بھی اور فضیلت کی حیثیت سے بھی آخرت بہت بڑی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس امت کو برتری اور بلندی کی نصرت اور سلطنت کی خوشخبری ہو ان میں سے جو شخص دینی عمل دنیا کے لیے کرے گا اسے آخرت میں کوئی حصہ نہ ملے گا۔[مسند احمد:134/5:اسناد قوی]۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى بلطفه بعبادِهِ: ليعرفوه ويحبُّوه ويتعرَّضوا للطفه وكرمه، واللُّطف من أوصافه تعالى معناه: الذي يدرِكُ الضمائر والسرائر، الذي يوصِلُ عباده ـ وخصوصاً المؤمنين ـ إلى ما فيه الخيرُ لهم من حيثُ لا يعلمون ولا يحتسبون. فمن لطفِهِ بعبدِهِ المؤمن أنْ هداه إلى الخير هدايةً لا تخطُرُ ببالِهِ بما يسَّر له من الأسباب الدَّاعية له إلى ذلك من فطرته على محبَّة الحقِّ والانقياد له وإيزاعه تعالى لملائكتِهِ الكرام أن يُثَبِّتوا عبادَهُ المؤمنين ويحثُّوهم على الخير ويُلْقوا في قلوبهم من تزيين الحقِّ ما يكون داعياً لاتِّباعه. ومن لطفِهِ أن أمر المؤمنين بالعباداتِ الاجتماعية التي بها تقوى عزائِمُهُم وتنبعثُ هِمَمُهم ويحصُلُ منهم التنافس على الخير والرغبة فيه واقتداء بعضهم ببعض. ومن لطفِهِ أن قَيَّضَ كلَّ سبب يعوقُه ويحولُ بينه وبين المعاصي، حتى إنَّه تعالى إذا علم أنَّ الدُّنيا والمال والرياسة ونحوها مما يتنافس فيه أهلُ الدُّنيا تقطعُ عبدَه عن طاعتِهِ أو تحمِلُه على الغفلة عنه أو على معصيتِهِ؛ صرفها عنه، وقَدَرَ عليه رِزْقَه، ولهذا قال هنا: {يرزُقُ مَن يشاءُ}: بحسب اقتضاء حكمته ولطفه، {وهو القويُّ العزيزُ}: الذي له القوَّة كلُّها؛ فلا حول ولا قوة لأحدٍ من المخلوقين إلاَّ به، الذي دانت له جميع الأشياء.