اسے وہ لوگ جلدی مانگتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ لوگ جو ایمان لائے، وہ اس سے ڈرنے والے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے۔ سنو! بے شک وہ لوگ جو قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں یقینا وہ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔
En
جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے۔ دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں
اس کی جلدی انہیں پڑی ہے جو اسے نہیں مانتے اور جو اس پر یقین رکھتے ہیں وه تو اس سے ڈر رہے ہیں انہیں اس کے حق ہونے کا پورا علم ہے۔ یاد رکھو جو لوگ قیامت کے معاملہ میں لڑ جھگڑ رہے ہیں، وه دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں
En
(آیت 18) ➊ { يَسْتَعْجِلُبِهَاالَّذِيْنَلَايُؤْمِنُوْنَبِهَا: ”اِسْتِعْجَالٌ“} کا معنی ہے کسی چیز کے وقت سے پہلے اس کےلانے کا مطالبہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت سے اور اس کے قریب ہونے سے ڈراتے تو کفار اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ کرتے۔ مقصد ان کا صرف قیامت کا انکار اور اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا کہ جب وہ ان کے مطالبے پر فوراً برپا نہیں ہو گی تو وہ اسے جھٹلائیں گے اور اس کا مذاق اڑائیں گے کہ اگر قیامت ہوتی تو ہمارے مطالبے پر آ جاتی، حالانکہ وہ ان کی فرمائش پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وقت پر آئے گی جس کا اس کے سوا کسی کو علم نہیں۔ اس آیت میں ان کی اس جرأت کی وجہ بیان فرمائی کہ ان کے اس مطالبے کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتے جس میں اعمال کی باز پرس ہو گی۔ اگر انھیں اس بات کا یقین ہوتا تو وہ کبھی اس کے لیے جلدی نہ مچاتے، بلکہ اس کی تیاری کی فکر کرتے۔ ➋ { وَالَّذِيْنَاٰمَنُوْامُشْفِقُوْنَمِنْهَا …:} یعنی منکرین قیامت کے برعکس جو لوگ اس پر یقین و ایمان رکھتے ہیں وہ ہر وقت اس بات سے سخت ڈرتے رہتے ہیں کہ کب موت آ کر عمل کی مہلت ختم کر دے، پھر قیامت کبریٰ برپا ہونے پر حساب کے وقت ان کا کیا حال ہو۔ (دیکھیے انبیاء: ۴۹۔ نور: ۳۷۔ دہر: ۷) کیونکہ انھیں یقین ہے کہ وہ ہو کر رہنے والی ہے۔ ➌ { اَلَاۤاِنَّالَّذِيْنَيُمَارُوْنَفِيالسَّاعَةِلَفِيْضَلٰلٍۭبَعِيْدٍ: ”يُمَارُوْنَ“} کا معنی ”شک کرتے ہیں“ بھی ہے اور ”جھگڑتے ہیں“ بھی۔ یعنی قیامت کا یقین ہو تو انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور حق واضح ہونے پر اسے قبول بھی کر لیتا ہے، مگر جسے اس کے آنے ہی میں شک ہو اور وہ اس کے متعلق جھگڑا کرتا رہتا ہو وہ ایمان لانے اور نیک اعمال اختیار کرنے کو بے کار سمجھے گا اور محاسبے کا خوف نہ ہونے کی وجہ سے ہر گناہ پر دلیر ہو گا اور بڑے سے بڑے ظلم سے بھی گریز نہیں کرے گا، ایسے لوگ راہِ حق سے بہت دور جا چکے ہیں، جہاں سے ان کی واپسی ممکن نہیں۔ {”ضَلٰلٍۭبَعِيْدٍ“} میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ سیدھے راستے سے اتنے دور جا چکے ہیں کہ ان کی آنکھیں قیامت کے دن ہی کھلیں گی، جب واپس پلٹنا ممکن نہیں ہو گا۔ دیکھیے سورۂ سبا (۵۱ تا ۵۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18۔ 1 یعنی استہزاد کے طور پر یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کو آنا ہی کہاں سے ہے؟ اس لئے کہتے ہیں کہ قیامت جلدی آئے۔ 18۔ 2 اس لئے کہ وہ ان دلائل پر غور و فکر ہی نہیں کرتے جو ایمان لانے کے موجب بن سکتے ہیں حالانکہ یہ دلائل روز و شب ان کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ ان کی نظروں سے گزرتے ہیں اور ان کی عقل و فہم میں آسکتے ہیں۔ اس لئے وہ حق سے بہت دور جا پڑے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ جو لوگ اس (قیامت) پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں اور جو ایمان لاتے ہیں وہ اس سے ڈرتے [28] ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ ایک حقیقت ہے یاد رکھو!! جو لوگ قیامت کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں وہ گمراہی میں دور تک چلے گئے ہیں
[28] یعنی جو لوگ عذاب آخرت اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور بار بار پوچھتے ہیں کہ وہ کب آئے گی اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ روز آخرت اور اعمال کی باز پرس پر یقین نہیں رکھتے۔ اگر انہیں اس بات کا یقین ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے۔ اور جو لوگ روز آخرت پر اور اعمال کی جواب دہی پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ تو اپنے محاسبہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور یقین نہ رکھنے والوں کو چونکہ اپنے اعمال کے محاسبہ کا کچھ خوف نہیں ہوتا اس لیے وہ گناہ کے کاموں پر دلیر ہوتے ہیں اور حق اور عدل و انصاف کی راہ سے ہٹ کر اپنی سرکشی اور گمراہی میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔