تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ:} یعنی الگ الگ گروہ اور فرقے بنانے کا باعث ان کا باہمی حسد، ضد اور عناد تھا، جس کی وجہ سے اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے انھوں نے اپنے اپنے قیاس و آراء کی بنیاد پر الگ الگ فرقے بنا ئے اور کتاب اللہ میں تحریف تک سے گریز نہ کیا، حتیٰ کہ نوبت باہمی اختلاف سے بڑھ کر ایک دوسرے کی مخالفت اور پھر جنگ و جدل تک پہنچ گئی۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۱۳) کی تفسیر۔
➌ { وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حم سجدہ (۴۵) کی تفسیر۔
➍ { وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ …:} یعنی شروع میں فرقے بنانے والوں نے علم ہونے کے باوجود حق سے انحراف کیا اور اللہ کی کتاب میں ایسی لفظی و معنوی تحریفیں کیں کہ بعد میں آنے والے لوگ، جو اس کتاب کے وارث بننے کے قابل تو نہ تھے مگر انھیں اس کا وارث بنا دیا گیا، وہ اس کتاب میں کی گئی لفظی اور معنوی تحریفات کی وجہ سے اس کی حقانیت کے متعلق ایسے شک میں مبتلا ہو گئے جو انھیں شدید مضطرب اور بے چین رکھتا تھا۔ انھیں اپنی کتابوں کے الہامی ہونے کا یقین باقی نہ رہا، بلکہ وہ کسی دلیل و برہان کے بغیر محض آنکھیں بند کرکے آبا و اکابر کی تقلید کرتے چلے گئے۔
➎ مفسر عبدالرحمن کیلانی لکھتے ہیں: ”ان وارثوں کے اپنی الہامی کتابوں کے بارے میں شک میں پڑنے کی کئی وجوہ تھیں، جن میں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کتابوں کی اصل زبان اور اصل عبارت کو محفوظ رکھ کر آنے والی نسلوں تک نہ پہنچایا گیا، صرف تراجم سے کام لیا جانے لگا اور ان تراجم کو ہی الہامی کتاب سمجھا جانے لگا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ بزرگوں کے اقوال اور الحاقی مضامین ان میں شامل کر دیے گئے، حتیٰ کہ ان دونوں قسم کی عبارتوں میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا اور تیسری وجہ یہ تھی کہ ان کی تاریخی سند بھی ضائع کر دی گئی (بلکہ سند رکھی ہی نہیں گئی)۔ ان سب باتوں کا اثر یہ ہوا کہ بعد میں آنے والے علماء خود اس کتاب سے شک میں پڑ گئے کہ کون سا حصہ درست اور الہامی ہے اور کون سی عبارت بزرگوں کے اقوال وغیرہ ہیں اور کسی بات کا صحیح فیصلہ کرنے میں یہی شک و شبہ انھیں اضطراب میں ڈالے رکھتا تھا۔“ (تیسیر القرآن)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[19] پہلے سے طے شدہ بات یہ ہے کہ انسان کو اختیار دے کر اس دنیا میں اس کا امتحان کیا جائے۔ اور اگر ایسی کرتوتوں کے بدلہ میں ان پر فوراً عذاب نازل کر دیا جائے تو امتحان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ لہٰذا انہیں مہلت دی جاتی ہے۔ اور اس امتحان کا آخری وقت ان کی موت ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرماتا ہے کہ یہ گزشتہ جو پہلوں سے کتابیں پائے ہوئے ہیں۔ یہ صرف تقلیدی طور پر مانتے ہیں اور ظاہر ہے کہ مقلد کا ایمان شک شبہ سے خالی نہیں ہوتا۔ انہیں خود یقین نہیں دلیل و حجت کی بناء پر ایمان نہیں، بلکہ یہ اپنے پیشروؤں کے جو حق کے جھٹلانے والے تھے مقلد ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما أمَرَ تعالى باجتماع المسلمين على دينِهِم، ونهاهم عن التفرُّق؛ أخبرهم أنَّهم لا يَغْتَرُّوا بما أنزل الله عليهم من الكتاب؛ فإنَّ أهل الكتاب لم يتفرَّقوا حتى أنزل الله عليهم الكتابَ الموجبَ للاجتماع، ففعلوا ضدَّ ما يأمر به كتابُهم، وذلك كلُّه بغياً وعدواناً منهم؛ فإنَّهم تباغضوا، وتحاسدوا، وحصلت بينهم المشاحنةُ والعداوةُ، فوقع الاختلافُ؛ فاحذَروا أيُّها المسلمون أن تكونوا مثلهم. {ولولا كلمةٌ سبقتْ من ربِّك}؛ أي: بتأخير العذاب القاضي إلى أجل مسمًّى، {لَقُضِيَ بينهم}: ولكنَّ حكمتَه وحلمه اقتضى تأخيرَ ذلك عنهم. {وإنَّ الذين أُورِثوا الكتابَ من بعدِهم}؛ أي: الذين ورثوهم، وصاروا خَلَفاً لهم ممَّن ينتسب إلى العلم منهم، {لَفي شكٍّ منهُ مريبٍ}؛ أي: لفي اشتباهٍ كثير يوقعُ في الاختلاف؛ حيث اختلف سَلَفُهم بغياً وعناداً؛ فإنَّ خلفهم اختلفوا شكًّا وارتياباً، والجميعُ مشتركون في الاختلاف المذموم.