تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ:} دوسروں کو دعوت کے لیے خود اس پر عمل اور استقامت ضروری ہے، اس لیے اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کا حکم دیا۔ {” وَ اسْتَقِمْ “} اور {” كَمَاۤ اُمِرْتَ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۱۱۲)۔
➌ { وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ:} یعنی آپ اس کی پیروی کریں جس کا اللہ کی طرف سے آپ کو حکم دیا گیا ہے، اس کے سوا جو کچھ ہے محض خواہشات ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کو خوش کرنے کے لیے یا ان سے صلح کی خاطر ان کی خواہشات کی پیروی مت کریں اور نہ دین میں کسی قسم کی مداہنت سے کام لیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۵) اور سورۂ مائدہ (۴۹)۔
➍ { وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ:} اہلِ کتاب چونکہ کسی آسمانی کتاب کو مانتے اور کسی کو نہیں مانتے تھے، اسی طرح اپنی کتاب کے بھی بعض حصوں کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے۔ (دیکھیے بقرہ: ۸۵) حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہر کتاب اور اس کی ہر بات پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس لیے فرمایا، ان سے کہہ دیں کہ میں فرقہ پرستوں کی طرح نہیں جو مرضی کی بات مانتے ہیں دوسری نہیں، بلکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہر کتاب پر ایمان رکھتا ہوں، وہ خواہ کوئی ہو۔ میں پہلے انبیاء کی تکذیب کے لیے نہیں بلکہ ان کی تصدیق کے لیے آیا ہوں۔ تم پر بھی لازم ہے کہ تمھاری کتابوں میں میری اور قرآن کی جو تصدیق موجود ہے اس پر بھی ایمان لاؤ، تاکہ تمھارا ایمان بھی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر کتاب پر ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۳۶): «لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ» کی تفسیر۔
➎ { وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ:} عدل کا معنی انصاف اور برابری ہے، اس کے مقابلے میں ظلم ہے۔ یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان عدل کروں، تمام لوگوں کو انصاف مہیا کروں، دنیا میں جو ظلم و زیادتی ہو رہی ہے اس کا خاتمہ کروں اور فیصلہ کرتے ہوئے اپنے پرائے میں فرق نہ کروں، بلکہ سب کو برابر رکھوں۔ اسی طرح چھوٹے و بڑے، کمزور و طاقتور اور امیر و غریب کے درمیان فرق نہ کروں۔ اس جملے میں اس غلبہ و اقتدار کی طرف بھی اشارہ ہے جو مدینہ جا کر حاصل ہونے والا تھا، کیونکہ بے اختیار شخص کیا عدل کرے گا اور اس کے پاس عدل طلب کرنے کے لیے کون جائے گا۔
➏ { اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ:} تمام بندوں میں عدل کا حکم اس لیے ہے کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور وہی تمھارا رب ہے، ہم تم سب اس کے بندے ہیں۔ سو عدل کا حکم بھی سب کے لیے ہے، خواہ اپنا ہو یا پرایا، ضعیف ہو یا شریف، حکمران ہو یا رعایا۔
➐ {لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ:} اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک اظہارِ براء ت، جیسے فرمایا: «لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ لِيَ دِيْنِ» [الکافرون: ۶] ”تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔“ اور جیسا کہ سورۂ انعام (۱۳۵)، ہود (۹۳، ۱۲۱) اور سورۂ زمر (۳۹)میں اظہارِ براء ت فرمایا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ ہمارے اچھے یا برے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے ہیں، نہ ہمارے اچھے اعمال تمھیں دیے جائیں گے اور نہ تمھارے اچھے اعمال ہمیں دیے جائیں گے۔ اسی طرح نہ تم ہمارے بد اعمال میں پکڑے جاؤ گے اور نہ ہم تمھارے بد اعمال میں پکڑے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا: «فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ» [النور: ۵۴] ” تو اس کے ذمے صرف وہ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور تمھارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا۔“ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۳۹)، یونس (۴۱)، ہود (۳۵) اور قصص (۵۵)۔
➑ {لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ:} یعنی جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں، جو بات حق تھی وہ ہم نے دلائل کے ساتھ واضح کر دی، ہمیں تمھارے باطل پر اور اپنے حق پر ہونے کا پورا یقین ہے۔ تم اپنی بات پر اڑے ہوئے ہو، اس لیے جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں، تم جھگڑو بھی تو ہم جھگڑنے کے لیے تیار نہیں، اب تلوار کے ساتھ فیصلہ باقی رہ جاتاہے، وہ اپنے وقت پر ہو جائے گا۔
➒ { اَللّٰهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا:} باطل پر جمے رہنے اور اس پر ناحق جھگڑا کرنے سے ڈراتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمھیں جمع کرے گا، کیا تمھیں اس بات سے خوف نہیں آتا کہ ناحق جھگڑے کا وہاں کیا جواب دو گے؟
➓ { وَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ:} اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے، وہاں پورا انصاف ہو جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[22] یعنی تمہارے فرقوں میں سے کسی کا جانبدار نہ بنو ں بلکہ انصاف پسندی سے کام لیتے ہوئے صرف حق بات کہوں اور حق کا ہی ساتھ دوں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ میں اس دنیا میں عدل قائم کرنے پر مامور ہوں اور اگر تمہارا کوئی جھگڑا میرے پاس آئے تو محھے یہی حکم ہے کہ میں انصاف کے ساتھ اس کا فیصلہ کروں۔
[23] یعنی تمہارے اعمال کے نہ ہم ذمہ دار ہیں اور نہ ہمیں ان کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اگر برے کام کرو گے تو اس کی سزا ہم نہیں بلکہ تم ہی بھگتو گے اور اگر اچھے کام کرو گے تو اس کا اجر بھی تمہیں ہی ملے گا۔ ہمیں نہیں مل جائے گا۔ یہی صورت حال ہمارے اعمال کی ہے۔ ہمارے برے اعمال کے جواب دہ تم نہیں ہو گے۔ نہ ہی ہمارے اچھے اعمال کے تم مستحق بن سکتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
1 - پہلا حکم تو یہ ہوتا ہے کہ جو وحی تجھ پر نازل کی گئی ہے اور وہی وحی تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء پر آتی رہی ہے اور جو شرع تیرے لیے مقرر کی گئی ہے اور وہی تجھ سے پہلے تمام انبیاء کرام کے لیے بھی مقرر کی گئی تھی تو تمام لوگوں کو اس کی دعوت دے ہر ایک کو اسی کی طرف بلا اور اسی کے منوانے اور پھیلانے کی کوشش میں لگا رہ۔
2 - اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و وحدانیت پر تو آپ استقامت کر اور اپنے ماننے والوں سے استقامت کروا۔
3 - مشرکین نے جو کچھ اختلاف کر رکھے ہیں جو تکذیب و افتراء ان کا شیوہ ہے جو عبادت غیر اللہ ان کی عادت ہے خبردار تو ہرگز ہرگز ان کی خواہش اور ان کی چاہتوں میں نہ آ جانا۔ ان کی ایک بھی نہ ماننا۔
4 - اور علی الاعلان اپنے اس عقیدے کی تبلیغ کر کہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر میرا ایمان ہے میرا یہ کام نہیں کہ ایک کو مانوں اور دوسری سے انکار کروں، ایک کو لے لوں اور دوسری کو چھوڑ دوں۔
5 - میں تم میں بھی وہی احکام جاری کرنا چاہتا ہوں جو اللہ کی طرف سے میرے پاس پہنچائے گئے ہیں اور جو سراسر عدل اور یکسر انصاف پر مبنی ہیں۔
6 - معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ہمارا تمہارا معبود برحق وہی ہے اور وہی سب کا پالنہار ہے گو کوئی اپنی خوشی سے اس کے سامنے نہ جھکے لیکن دراصل ہر شخص بلکہ ہر چیز اس کے آگے جھکی ہوئی ہے اور سجدے میں پڑی ہوئی ہے۔
7 - ہمارے عمل ہمارے ساتھ تمہاری کرنی تمہیں بھرنی۔ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں۔
8 - ہم؎ تم میں کوئی خصومت اور جھگڑا نہیں۔ کسی بحث مباحثے کی ضرورت نہیں۔ حضرت سدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حکم تو مکہ میں تھا لیکن مدینے میں جہاد کے احکام اترے۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جہاد کی آیتیں ہجرت کے بعد کی ہیں۔
9 - قیامت کے دن اللہ ہم سب کو جمع کرے گا جیسے اور آیت میں ہے «قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ» [34- سبأ: 26]، یعنی تو کہہ دے کہ ہمیں ہمارا رب جمع کرے گا پھر ہم میں حق کے ساتھ فیصلے کرے گا اور وہی فیصلے کرنے والا اور علم والا ہے۔
10 - پھر فرماتا ہے لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلذلك فادعُ}؛ أي: فللدين القويم والصراط المستقيم، الذي أنزل الله به كُتُبَه وأرسل رُسُله؛ فادعُ إليه أمَّتك، وحضَّهم عليه، وجاهد عليه مَنْ لم يقبَلْه. {واستَقِمْ}: بنفسك {كما أمرتَ}؛ أي: استقامةً موافقةً لأمر الله؛ لا تفريط ولا إفراط، بل امتثالاً لأوامر الله، واجتناباً لنواهيه، على وجه الاستمرار على ذلك؛ فأمَرَه بتكميل نفسه بلزوم الاستقامة، وبتكميل غيرِهِ بالدَّعوة إلى ذلك. ومن المعلوم أنَّ أمر الرسولِ - صلى الله عليه وسلم - أمرٌ لأمَّته إذا لم يَرِدْ تخصيصٌ له. {ولا تتَّبِعْ أهواءهم}؛ أي: أهواء المنحرفين عن الدِّين من الكفرة والمنافقين، إمَّا باتِّباعهم على بعض دينهم، أو بترك الدَّعوة إلى الله، أو بترك الاستقامة؛ فإنَّك إن اتَّبعت أهواءهم من بعد ما جاءك من العلم إنَّك إذاً لَمِنَ الظالمين، ولم يقل ولا تتَّبِع دينَهم؛ لأنَّ حقيقة دينهم الذي شَرَعَه الله لهم هو دينُ الرسل كلِّهم، ولكنَّهم لم يتَّبِعوه، بل اتَّبعوا أهواءهم واتَّخذوا دينهم لهواً ولعباً، {وقل}: لهم عند جدالهم ومناظرتهم: {آمنتُ بما أنزلَ اللهُ من كتابٍ}؛ أي: لتكنْ مناظرتُك لهم مبنيةً على هذا الأصل العظيم، الدالِّ على شرف الإسلام وجلالته وهيمنتِهِ على سائر الأديان، وأنَّ الدين الذي يزعُمُ أهل الكتاب أنَّهم عليه جزءٌ من الإسلام، وفي هذا إرشادٌ إلى أنَّ أهل الكتاب إن ناظروا مناظرة مبنيَّة على الإيمان ببعض الكتب أو ببعض الرسل دون غيرِهِ؛ فلا يسلمُ لهم ذلك؛ لأنَّ الكتابَ الذي يدعون إليه والرسولَ الذي ينتسبونَ إليه من شرطِهِ أن يكون مصدِّقاً بهذا القرآن وبمن جاء به؛ فكتابُنا ورسولُنا لم يأمرنا إلاَّ بالإيمان بموسى وعيسى والتوراة والإنجيل التي أخبر بها وصدَّق بها وأخبر أنَّها مصدقة له ومقرَّة بصحته، وأما مجرَّدُ التوراة والإنجيل وموسى وعيسى الذين لم يوصفوا لنا ولم يوافِقوا لكتابِنا؛ فلم يأمرْنا بالإيمان بهم.
وقوله: {وأمِرْتُ لأعدلَ بينكم}؛ أي: في الحكم فيما اختلفتُم فيه؛ فلا تَمْنَعُني عداوتُكم وبُغضكم يا أهل الكتاب من العدل بينكم، ومن العدل في الحكم بين أهل الأقوال المختلفة من أهل الكتاب وغيرهم أن يُقْبَلَ ما معهم من الحقِّ ويردَّ ما معهم من الباطل. {الله ربُّنا وربُّكم}؛ أي: هو ربُّ الجميع، لستم بأحقَّ به منا، {لنا أعمالُنا ولكُم أعمالُكم}: من خيرٍ وشرٍّ، {لا حجَّةَ بيننا وبينكم}؛ أي: بعدما تبيَّنت الحقائق واتَّضح الحقُّ من الباطل والهدى من الضلال؛ لم يبقَ للجدال والمنازعة محلٌّ؛ لأنَّ المقصود من الجدال إنَّما هو بيانُ الحقِّ من الباطل؛ ليهتدي الراشدُ، ولتقومَ الحجةُ على الغاوي. وليس المرادُ بهذا أنَّ أهلَ الكتاب لا يجادَلون، كيف والله يقولُ: {ولا تجادِلوا أهلَ الكتابِ إلاَّ بالتي هي أحسنُ}؟! وإنَّما المرادُ ما ذكرنا. {الله يجمعُ بينَنا وإليه المصير}: يوم القيامةِ، فيجزي كلاًّ بعملِهِ، ويتبيَّن حينئذٍ الصادق من الكاذب.