ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 15

فَلِذٰلِکَ فَادۡعُ ۚ وَ اسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ ۚ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ ۚ وَ قُلۡ اٰمَنۡتُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنۡ کِتٰبٍ ۚ وَ اُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اَللّٰہُ رَبُّنَا وَ رَبُّکُمۡ ؕ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَ لَکُمۡ اَعۡمَالُکُمۡ ؕ لَا حُجَّۃَ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اَللّٰہُ یَجۡمَعُ بَیۡنَنَا ۚ وَ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿ؕ۱۵﴾
سو تو اسی کی طرف پھر دعوت دے اور مضبوطی سے قائم رہ، جیسے تجھے حکم دیاگیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی مت کر اور کہہ دے کہ اللہ نے جو بھی کتاب نازل فرمائی میں اس پر ایمان لایا اور مجھے حکم دیاگیا ہے کہ میںتمھارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب اور تمھارا رب ہے، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں، اللہ ہمیں آپس میں جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ En
تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
En
پس آپ لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیں اور جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اس پر مضبوطی سے جم جائیں اور ان کی خواہشوں پر نہ چلیں اور کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میرا ان پر ایمان ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم میں انصاف کرتا رہوں۔ ہمارا اور تم سب کا پروردگار اللہ ہی ہے ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں، ہم تم میں کوئی کٹ حجتی نہیں اللہ تعالیٰ ہم (سب) کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15) ➊ { فَلِذٰلِكَ فَادْعُ:} مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ آیت کریمہ دس جملوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر جملہ اپنی جگہ مستقل مضمون ہے۔ آیت الکرسی کے سوا کوئی اور آیت ایسی نہیں۔ (ابن کثیر) { فَلِذٰلِكَ } جار مجرور { فَلِذٰلِكَ فَادْعُ } کے متعلق ہے، پہلے لانے سے اس میں اختصاص پیدا ہو گیا، یعنی لوگوں کو کسی اور نہیں بلکہ دین کے اسی طریقے کی دعوت دیں جو اس نے وحی کے ذریعے سے تمام انبیاء کے لیے مقرر فرمایا ہے اور وہ ہے ایک اللہ کی عبادت۔ اس کے دین کو قائم کرنا اور اس میں جدا جدا نہ ہو جانا، بلکہ اکٹھے ہو کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا۔
➋ { وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ:} دوسروں کو دعوت کے لیے خود اس پر عمل اور استقامت ضروری ہے، اس لیے اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کا حکم دیا۔ { وَ اسْتَقِمْ } اور { كَمَاۤ اُمِرْتَ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۱۱۲)۔
➌ { وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ:} یعنی آپ اس کی پیروی کریں جس کا اللہ کی طرف سے آپ کو حکم دیا گیا ہے، اس کے سوا جو کچھ ہے محض خواہشات ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کو خوش کرنے کے لیے یا ان سے صلح کی خاطر ان کی خواہشات کی پیروی مت کریں اور نہ دین میں کسی قسم کی مداہنت سے کام لیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۵) اور سورۂ مائدہ (۴۹)۔
➍ { وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ:} اہلِ کتاب چونکہ کسی آسمانی کتاب کو مانتے اور کسی کو نہیں مانتے تھے، اسی طرح اپنی کتاب کے بھی بعض حصوں کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے۔ (دیکھیے بقرہ: ۸۵) حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہر کتاب اور اس کی ہر بات پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس لیے فرمایا، ان سے کہہ دیں کہ میں فرقہ پرستوں کی طرح نہیں جو مرضی کی بات مانتے ہیں دوسری نہیں، بلکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہر کتاب پر ایمان رکھتا ہوں، وہ خواہ کوئی ہو۔ میں پہلے انبیاء کی تکذیب کے لیے نہیں بلکہ ان کی تصدیق کے لیے آیا ہوں۔ تم پر بھی لازم ہے کہ تمھاری کتابوں میں میری اور قرآن کی جو تصدیق موجود ہے اس پر بھی ایمان لاؤ، تاکہ تمھارا ایمان بھی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر کتاب پر ہو۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۱۳۶): «لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔
➎ { وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ:} عدل کا معنی انصاف اور برابری ہے، اس کے مقابلے میں ظلم ہے۔ یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمھارے درمیان عدل کروں، تمام لوگوں کو انصاف مہیا کروں، دنیا میں جو ظلم و زیادتی ہو رہی ہے اس کا خاتمہ کروں اور فیصلہ کرتے ہوئے اپنے پرائے میں فرق نہ کروں، بلکہ سب کو برابر رکھوں۔ اسی طرح چھوٹے و بڑے، کمزور و طاقتور اور امیر و غریب کے درمیان فرق نہ کروں۔ اس جملے میں اس غلبہ و اقتدار کی طرف بھی اشارہ ہے جو مدینہ جا کر حاصل ہونے والا تھا، کیونکہ بے اختیار شخص کیا عدل کرے گا اور اس کے پاس عدل طلب کرنے کے لیے کون جائے گا۔
➏ { اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ:} تمام بندوں میں عدل کا حکم اس لیے ہے کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور وہی تمھارا رب ہے، ہم تم سب اس کے بندے ہیں۔ سو عدل کا حکم بھی سب کے لیے ہے، خواہ اپنا ہو یا پرایا، ضعیف ہو یا شریف، حکمران ہو یا رعایا۔
➐ {لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ:} اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک اظہارِ براء ت، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ لِيَ دِيْنِ» ‏‏‏‏ [الکافرون: ۶] تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔ اور جیسا کہ سورۂ انعام (۱۳۵)، ہود (۹۳، ۱۲۱) اور سورۂ زمر (۳۹)میں اظہارِ براء ت فرمایا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ ہمارے اچھے یا برے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اعمال تمھارے لیے ہیں، نہ ہمارے اچھے اعمال تمھیں دیے جائیں گے اور نہ تمھارے اچھے اعمال ہمیں دیے جائیں گے۔ اسی طرح نہ تم ہمارے بد اعمال میں پکڑے جاؤ گے اور نہ ہم تمھارے بد اعمال میں پکڑے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ» ‏‏‏‏ [النور: ۵۴] تو اس کے ذمے صرف وہ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور تمھارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۳۹)، یونس (۴۱)، ہود (۳۵) اور قصص (۵۵)۔
➑ {لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ:} یعنی جھگڑا کرنے کی ضرورت نہیں، جو بات حق تھی وہ ہم نے دلائل کے ساتھ واضح کر دی، ہمیں تمھارے باطل پر اور اپنے حق پر ہونے کا پورا یقین ہے۔ تم اپنی بات پر اڑے ہوئے ہو، اس لیے جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں، تم جھگڑو بھی تو ہم جھگڑنے کے لیے تیار نہیں، اب تلوار کے ساتھ فیصلہ باقی رہ جاتاہے، وہ اپنے وقت پر ہو جائے گا۔
➒ { اَللّٰهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا:} باطل پر جمے رہنے اور اس پر ناحق جھگڑا کرنے سے ڈراتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمھیں جمع کرے گا، کیا تمھیں اس بات سے خوف نہیں آتا کہ ناحق جھگڑے کا وہاں کیا جواب دو گے؟
➓ { وَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ:} اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے، وہاں پورا انصاف ہو جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 یعنی اس تفرق اور شک کی وجہ سے، جس کا ذکر پہلے ہوا، آپ ان کو توحید کی دعوت دیں اور اس پر جمے رہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ لہٰذا آپ اسی دین کی دعوت دیجئے اور جو آپ کو حکم [21] دیا گیا ہے اس پر ڈٹ جائیے۔ اور ان کی خواہشات پر نہ چلیے اور کہہ دیجئے کہ:“ میں اس کتاب پر ایمان لایا جو اللہ نے نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں [22]۔ اللہ ہی ہمارا پروردگار ہے اور تمہارا بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے [23]۔ ہمارے اور تمہارے درمیان [24] کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ہم سب کو (روز قیامت) جمع کر دے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔
[21] یعنی آپ پر اب جو وحی کی جا رہی ہے یہ بالکل پاک صاف اور ستھرا دین ہے جو ہر قسم کی آمیزشوں اور آلائشوں سے مبرا ہے۔ لہٰذا آپ اہل کتاب کی سب باتوں سے بے نیاز ہو کر اسی دین پر ڈٹ جائیے اور اس میں کسی قسم کا رد و بدل اور کمی بیشی گوارا نہ کیجئے۔ نہ ان لوگوں سے کسی قسم کا کوئی مذاکرہ یا سمجھوتہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ان کے عزائم خطرناک ہیں۔ ایسے لوگوں کو دو ٹوک فیصلہ سنا دیجئے کہ میں تو صرف وہی بات تسلیم کروں گا جو اللہ نے مجھ پر نازل کی ہے۔
[22] یعنی تمہارے فرقوں میں سے کسی کا جانبدار نہ بنو ں بلکہ انصاف پسندی سے کام لیتے ہوئے صرف حق بات کہوں اور حق کا ہی ساتھ دوں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ میں اس دنیا میں عدل قائم کرنے پر مامور ہوں اور اگر تمہارا کوئی جھگڑا میرے پاس آئے تو محھے یہی حکم ہے کہ میں انصاف کے ساتھ اس کا فیصلہ کروں۔
[23] یعنی تمہارے اعمال کے نہ ہم ذمہ دار ہیں اور نہ ہمیں ان کا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اگر برے کام کرو گے تو اس کی سزا ہم نہیں بلکہ تم ہی بھگتو گے اور اگر اچھے کام کرو گے تو اس کا اجر بھی تمہیں ہی ملے گا۔ ہمیں نہیں مل جائے گا۔ یہی صورت حال ہمارے اعمال کی ہے۔ ہمارے برے اعمال کے جواب دہ تم نہیں ہو گے۔ نہ ہی ہمارے اچھے اعمال کے تم مستحق بن سکتے ہو۔
[24] کج بحثی سے اجتناب کا حکم :۔
یعنی جہاں تک معقول دلائل پیش کرنے کا تعلق تھا وہ ہم کر چکے۔ اور اگر تم کج بحثی کرنا چاہو تو اس کے لیے ہم تیار نہیں۔ ہمارا تمہارا اختلاف اور جھگڑا اللہ کے سپرد۔ قیامت کے دن وہ ہمیں اور تمہیں سب کو جمع کرے گا۔ وہاں اللہ تعالیٰ خود ہی انصاف کے ساتھ سب جھگڑوں کا فیصلہ کر دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تمام انبیاء کی شریعت یکساں ہے ٭٭
اس آیت میں ایک لطیفہ ہے جو قرآن کریم کی صرف ایک اور آیت میں پایا جاتا ہے باقی کسی اور آیت میں نہیں وہ یہ کہ اس میں دس کلمے ہیں جو سب مستقل ہیں الگ الگ ایک ایک کلمہ اپنی ذات میں ایک مستقل حکم ہے یہی بات دوسری آیت یعنی آیت الکرسی میں بھی ہے۔
1 - پہلا حکم تو یہ ہوتا ہے کہ جو وحی تجھ پر نازل کی گئی ہے اور وہی وحی تجھ سے پہلے کے تمام انبیاء پر آتی رہی ہے اور جو شرع تیرے لیے مقرر کی گئی ہے اور وہی تجھ سے پہلے تمام انبیاء کرام کے لیے بھی مقرر کی گئی تھی تو تمام لوگوں کو اس کی دعوت دے ہر ایک کو اسی کی طرف بلا اور اسی کے منوانے اور پھیلانے کی کوشش میں لگا رہ۔
2 - اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و وحدانیت پر تو آپ استقامت کر اور اپنے ماننے والوں سے استقامت کروا۔
3 - مشرکین نے جو کچھ اختلاف کر رکھے ہیں جو تکذیب و افتراء ان کا شیوہ ہے جو عبادت غیر اللہ ان کی عادت ہے خبردار تو ہرگز ہرگز ان کی خواہش اور ان کی چاہتوں میں نہ آ جانا۔ ان کی ایک بھی نہ ماننا۔
4 - اور علی الاعلان اپنے اس عقیدے کی تبلیغ کر کہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر میرا ایمان ہے میرا یہ کام نہیں کہ ایک کو مانوں اور دوسری سے انکار کروں، ایک کو لے لوں اور دوسری کو چھوڑ دوں۔
5 - میں تم میں بھی وہی احکام جاری کرنا چاہتا ہوں جو اللہ کی طرف سے میرے پاس پہنچائے گئے ہیں اور جو سراسر عدل اور یکسر انصاف پر مبنی ہیں۔
6 - معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ہمارا تمہارا معبود برحق وہی ہے اور وہی سب کا پالنہار ہے گو کوئی اپنی خوشی سے اس کے سامنے نہ جھکے لیکن دراصل ہر شخص بلکہ ہر چیز اس کے آگے جھکی ہوئی ہے اور سجدے میں پڑی ہوئی ہے۔
7 - ہمارے عمل ہمارے ساتھ تمہاری کرنی تمہیں بھرنی۔ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں۔
جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» [10-يونس: 41]‏‏‏‏ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں۔ تم میرے اعمال سے بری اور میں تمہارے اعمال سے بیزار۔
8 - ہم؎ تم میں کوئی خصومت اور جھگڑا نہیں۔ کسی بحث مباحثے کی ضرورت نہیں۔ حضرت سدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حکم تو مکہ میں تھا لیکن مدینے میں جہاد کے احکام اترے۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جہاد کی آیتیں ہجرت کے بعد کی ہیں۔
9 - قیامت کے دن اللہ ہم سب کو جمع کرے گا جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏قُلْ يَجْمَعُ بَيْـنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَـحُ بَيْـنَنَا بالْحَقِّ ۭ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِـيْمُ» ‏‏‏‏ [34- سبأ: 26]‏‏‏‏، یعنی تو کہہ دے کہ ہمیں ہمارا رب جمع کرے گا پھر ہم میں حق کے ساتھ فیصلے کرے گا اور وہی فیصلے کرنے والا اور علم والا ہے۔
10 - پھر فرماتا ہے لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَلِذٰلِكَ فَادْعُ یعنی اس دین قویم اور صراط مستقیم کی طرف اپنی امت کو دعوت دیجیے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرمائیں اور رسول مبعوث کیےاور انھیں اس کی ترغیب دیجیے اور اس کی خاطر ان لوگوں سے جہاد کیجیے جو اس کو قبول نہیں کرتے۔ ﴿وَاسْتَقِمْ اور خود بھی استقامت اختیار کیجیے ﴿كَمَاۤ اُمِرْتَ جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ استقامت سے مراد اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت ہے، جس میں کوئی افراط و تفریط نہ ہو بلکہ اس میں دائمی طور پر اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب ہو۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی تکمیل کے لیے استقامت کے التزام اور دوسروں کی تکمیل کے لیے اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا نیز ہمیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیے گئے حکم کا اطلاق امت پر بھی ہوتا ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ حکم صرف آپ کے ساتھ مخصوص نہ ہو۔
﴿وَلَا تَ٘تَّ٘بِـعْ اَهْوَآءَؔهُمْ یعنی دین سے منحرف لوگوں، یعنی کفارومنافقین کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔ یہ اتباع یا تو ان کے دین کے کسی حصے کی اتباع کے ذریعے سے یا اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کو ترک کرنے یا استقامت کو ترک کرنے سے واقع ہوتی ہے۔ اگر آپ نے علم کے آ جانے کے بعد بھی، ان کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ کا شمار ظالموں میں ہو گا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ارشاد میں)وَلَا تَتَّبِـعْ دِینَھُمْ(نہیں کہا کیونکہ حقیقت میں ان کا دین جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مشروع فرمایا ہے، وہی دین ہے جو تمام انبیاء و مرسلین کا دین ہے، مگر ان کے متبعین نے اس دین کی پیروی نہ کی بلکہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے اور اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا۔
﴿وَقُ٘لْ ان کے مناظرہ اور بحث کرنے پر کہہ دیجیے ﴿اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ جو کتاب اللہ نے نازل کی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ یعنی ان کے ساتھ آپ کا بحث و مناظرہ، اس عظیم اصول پر مبنی ہونا چاہیے جو اسلام کے شرف و جلال پر دلالت کرتا ہے اور تمام ادیان پر اس کے نگران ہونے کا اور یہ اہل کتاب جس دین پر چلنے کے دعویدار ہیں، وہ بھی اسلام کا ایک جزو ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف راہ نمائی کی گئی ہے کہ اگر اہل کتاب، بعض کتابوں اور بعض رسولوں پر ایمان لا کر اور دیگر کا انکار کر کے مناظرہ کریں تو یہ قابل قبول نہیں کیونکہ جس کتاب کی طرف یہ لوگ دعوت دیتے ہیں اور جس رسول کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، اس کی صداقت کی شرط یہ ہے کہ وہ اس قرآن کی اور اس کو لانے والے کی تصدیق کرتا ہو۔ پس ہماری کتاب اور ہمارا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہما السلام تورات اور انجیل پر ایمان لائیں جن کی قرآن مجید نے تصدیق کی ہے ان کے بارے یہ بھی خبر دی ہے کہ وہ قرآن کی تصدیق اور اس کی صحت کا اقرار کرتی ہیں۔ مجرد تورات و انجیل اور حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام، جو ہمارے اوصاف بیان کرتے ہیں نہ ہماری کتاب کی موافقت کرتے ہیں، تو ان پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم نہیں دیا۔
﴿وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان انصاف کروں۔ یعنی ان امور میں فیصلہ کرتے وقت جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو۔ اے اہل کتاب! تمھاری عداوت اور میرے خلاف تمھارا بغض مجھے تمھارے درمیان انصاف کرنے سے روک سکتا ہے نہ اہل کتاب وغیرہ میں مختلف اقوال کے قائلین کے درمیان فیصلے میں عدل سے باز رکھ سکتا ہے اور نہ ان کے ساتھ جو حق ہے اسے قبول کرنے اور ان کے باطل کو رد کرنے سے روک سکتاہے۔
﴿اَللّٰهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ اللہ ہی ہمارا اور تمھارا رب ہے۔ یعنی وہ سب کا رب ہے، تم ہم سے زیادہ اس کے مستحق نہیں ہو۔ ﴿لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ہمارے اچھے برے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اچھے برے اعمال تمھارے لیے ہیں۔ ﴿لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَبَیْنَكُمْ ہمارے اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ حقائق کے عیاں ہو جانے، باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد حجت بازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ کیونکہ بحث و مباحثہ کا مقصد محض حق اور باطل کو واضح کرنا ہوتا ہے تاکہ ہدایت یافتہ شخص اس سے راہ نمائی حاصل کرے اور گمراہ پر حجت قائم ہو جائے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اہل کتاب مباحثہ نہیں کرتے اور یہ مراد ہو بھی کیسے سکتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ (العنکبوت:29؍46) اہل کتاب کے ساتھ بحث مباحثہ نہ کرو، مگر احسن طریقے سے۔ اس سے مراد وہی ہے جو ہم نے ذکر کر دی ہے۔ ﴿اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَاِلَیْهِ الْمَصِیْرُ یعنی قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا، پھر وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس وقت واضح ہو جائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلذلك فادعُ}؛ أي: فللدين القويم والصراط المستقيم، الذي أنزل الله به كُتُبَه وأرسل رُسُله؛ فادعُ إليه أمَّتك، وحضَّهم عليه، وجاهد عليه مَنْ لم يقبَلْه. {واستَقِمْ}: بنفسك {كما أمرتَ}؛ أي: استقامةً موافقةً لأمر الله؛ لا تفريط ولا إفراط، بل امتثالاً لأوامر الله، واجتناباً لنواهيه، على وجه الاستمرار على ذلك؛ فأمَرَه بتكميل نفسه بلزوم الاستقامة، وبتكميل غيرِهِ بالدَّعوة إلى ذلك. ومن المعلوم أنَّ أمر الرسولِ - صلى الله عليه وسلم - أمرٌ لأمَّته إذا لم يَرِدْ تخصيصٌ له. {ولا تتَّبِعْ أهواءهم}؛ أي: أهواء المنحرفين عن الدِّين من الكفرة والمنافقين، إمَّا باتِّباعهم على بعض دينهم، أو بترك الدَّعوة إلى الله، أو بترك الاستقامة؛ فإنَّك إن اتَّبعت أهواءهم من بعد ما جاءك من العلم إنَّك إذاً لَمِنَ الظالمين، ولم يقل ولا تتَّبِع دينَهم؛ لأنَّ حقيقة دينهم الذي شَرَعَه الله لهم هو دينُ الرسل كلِّهم، ولكنَّهم لم يتَّبِعوه، بل اتَّبعوا أهواءهم واتَّخذوا دينهم لهواً ولعباً، {وقل}: لهم عند جدالهم ومناظرتهم: {آمنتُ بما أنزلَ اللهُ من كتابٍ}؛ أي: لتكنْ مناظرتُك لهم مبنيةً على هذا الأصل العظيم، الدالِّ على شرف الإسلام وجلالته وهيمنتِهِ على سائر الأديان، وأنَّ الدين الذي يزعُمُ أهل الكتاب أنَّهم عليه جزءٌ من الإسلام، وفي هذا إرشادٌ إلى أنَّ أهل الكتاب إن ناظروا مناظرة مبنيَّة على الإيمان ببعض الكتب أو ببعض الرسل دون غيرِهِ؛ فلا يسلمُ لهم ذلك؛ لأنَّ الكتابَ الذي يدعون إليه والرسولَ الذي ينتسبونَ إليه من شرطِهِ أن يكون مصدِّقاً بهذا القرآن وبمن جاء به؛ فكتابُنا ورسولُنا لم يأمرنا إلاَّ بالإيمان بموسى وعيسى والتوراة والإنجيل التي أخبر بها وصدَّق بها وأخبر أنَّها مصدقة له ومقرَّة بصحته، وأما مجرَّدُ التوراة والإنجيل وموسى وعيسى الذين لم يوصفوا لنا ولم يوافِقوا لكتابِنا؛ فلم يأمرْنا بالإيمان بهم.

وقوله: {وأمِرْتُ لأعدلَ بينكم}؛ أي: في الحكم فيما اختلفتُم فيه؛ فلا تَمْنَعُني عداوتُكم وبُغضكم يا أهل الكتاب من العدل بينكم، ومن العدل في الحكم بين أهل الأقوال المختلفة من أهل الكتاب وغيرهم أن يُقْبَلَ ما معهم من الحقِّ ويردَّ ما معهم من الباطل. {الله ربُّنا وربُّكم}؛ أي: هو ربُّ الجميع، لستم بأحقَّ به منا، {لنا أعمالُنا ولكُم أعمالُكم}: من خيرٍ وشرٍّ، {لا حجَّةَ بيننا وبينكم}؛ أي: بعدما تبيَّنت الحقائق واتَّضح الحقُّ من الباطل والهدى من الضلال؛ لم يبقَ للجدال والمنازعة محلٌّ؛ لأنَّ المقصود من الجدال إنَّما هو بيانُ الحقِّ من الباطل؛ ليهتدي الراشدُ، ولتقومَ الحجةُ على الغاوي. وليس المرادُ بهذا أنَّ أهلَ الكتاب لا يجادَلون، كيف والله يقولُ: {ولا تجادِلوا أهلَ الكتابِ إلاَّ بالتي هي أحسنُ}؟! وإنَّما المرادُ ما ذكرنا. {الله يجمعُ بينَنا وإليه المصير}: يوم القيامةِ، فيجزي كلاًّ بعملِهِ، ويتبيَّن حينئذٍ الصادق من الكاذب.