اور وہ جدا جدا نہیںہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا، آپس کی ضد کی وجہ سے اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے ایک مقر ر وقت تک پہلے طے ہو چکی تو ضرور ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اور بے شک وہ لوگ جو ان کے بعد اس کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کے متعلق یقینا ایسے شک میںمبتلا ہیںجو بے چین رکھنے والا ہے۔
En
اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) ۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں
ان لوگوں نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد ہی اختلاف کیا (اور وه بھی) باہمی ضد بحﺚ سے اور اگر آپ کے رب کی بات ایک وقت مقرر تک کے لیے پہلے ہی سے قرار پا گئی ہوئی نہ ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی ہے وه بھی اس کی طرف سے الجھن والے شک میں پڑے ہوئے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دین پر مجتمع رہنے کا حکم دیا اور تفرقہ سے منع کیا۔ اس کے بعد انھیں خبردار کیا کہ وہ اس بات پر غرور نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کتاب نازل فرمائی۔ کیونکہ اہل کتاب نے کتاب نازل ہونے کے بعد جو اجتماع و اتحاد کی موجب تھی، ایک دوسرے سے اختلاف کیا، لہٰذا ان کا عمل کتاب اللہ کے حکم کے خلاف تھا اور یہ سب کچھ ان کی طرف سے بغاوت اور عدوان کی وجہ سے صادر ہوا۔ کیونکہ انھوں نے آپس میں بغض، کینہ اور حسد کا رویہ رکھا جس سے ان کے درمیان عداوت پیدا ہوئی اور اس طرح اختلاف پیدا ہوا۔ اے مسلمانو! ان جیسا رویہ اختیار کرنے سے بچو۔
﴿وَلَوْلَاكَلِمَةٌسَبَقَتْمِنْرَّبِّكَ ﴾”اور اگر تمھارے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لیے فیصلہ نہ ٹھہر چکا ہوتا۔“ یعنی فیصلہ کن عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر کر دینے کا فیصلہ ﴿لَّ٘قُ٘ضِیَبَیْنَهُمْ ﴾”تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔“ مگر اللہ کی حکمت اور اس کا حکم اس تاخیر کے متقاضی تھے۔ ﴿وَاِنَّالَّذِیْنَاُوْرِثُ٘واالْكِتٰبَمِنْۢبَعْدِهِمْ ﴾”اور جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے۔“ یعنی علم سے انتساب رکھنے والے لوگ جو ان کے وارث ہوئے اور ان کے جانشین ٹھہرے۔ ﴿لَ٘فِیْشَكٍّمِّؔنْهُمُرِیْبٍ ﴾ بہت زیادہ شک و اشتباہ میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے ان میں اختلاف واقع ہو گیا۔ جہاں ان کے اسلاف نے بغاوت اور عناد کے سبب سے ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کیا وہاں اخلاف نے بھی شک و ریب کی بنا پر اختلاف کیا۔ اختلاف مذموم میں سب لوگ شریک تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما أمَرَ تعالى باجتماع المسلمين على دينِهِم، ونهاهم عن التفرُّق؛ أخبرهم أنَّهم لا يَغْتَرُّوا بما أنزل الله عليهم من الكتاب؛ فإنَّ أهل الكتاب لم يتفرَّقوا حتى أنزل الله عليهم الكتابَ الموجبَ للاجتماع، ففعلوا ضدَّ ما يأمر به كتابُهم، وذلك كلُّه بغياً وعدواناً منهم؛ فإنَّهم تباغضوا، وتحاسدوا، وحصلت بينهم المشاحنةُ والعداوةُ، فوقع الاختلافُ؛ فاحذَروا أيُّها المسلمون أن تكونوا مثلهم. {ولولا كلمةٌ سبقتْ من ربِّك}؛ أي: بتأخير العذاب القاضي إلى أجل مسمًّى، {لَقُضِيَ بينهم}: ولكنَّ حكمتَه وحلمه اقتضى تأخيرَ ذلك عنهم. {وإنَّ الذين أُورِثوا الكتابَ من بعدِهم}؛ أي: الذين ورثوهم، وصاروا خَلَفاً لهم ممَّن ينتسب إلى العلم منهم، {لَفي شكٍّ منهُ مريبٍ}؛ أي: لفي اشتباهٍ كثير يوقعُ في الاختلاف؛ حيث اختلف سَلَفُهم بغياً وعناداً؛ فإنَّ خلفهم اختلفوا شكًّا وارتياباً، والجميعُ مشتركون في الاختلاف المذموم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔