تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اپنے سامنے اللہ والوں کی بہتری اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدحالی دیکھتے تھے لیکن پھر بھی تکذیب سے باز نہ آئے۔ حجت بازی اور کج بحثی سے نہ ہٹے اور کہنے لگے اگر اللہ کو رسول بھیجنا ہوتا تو کسی اپنے فرشتے کو بھیجتا تم انسان ہو کر رسول اللہ بن بیٹھے؟ ہم تو اسے ہرگز باور نہ کریں گے؟ قوم عاد نے زمین میں فساد پھیلا دیا ان کی سرکشی ان کا غرور حد کو پہنچ گیا۔ ان کی لا ابالیاں اور بےپرواہیاں یہاں تک پہنچ گئیں کہ پکار اٹھے ہم سے زیادہ زور آور کوئی نہیں۔ ہم طاقتور مضبوط اور ٹھوس ہیں اللہ کے عذاب ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟ اس قدر پھولے کہ اللہ کو بھول گئے۔ یہ بھی خیال نہ رہا کہ ہمارا پیدا کرنے والا تو اتنا قوی ہے کہ اس کی زور آوری کا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔
«صَرْصَراً» کہتے ہیں وہ ہوا جس میں آواز پائی جائے۔ مشرق کی طرف ایک نہر ہے جو بہت زور سے آواز کے ساتھ بہتی رہتی ہے اس لیے اسے بھی عرب «صَرْصَراً» کہتے ہیں۔ «نَحِسَات» سے مراد پے در پے، ایک دم، مسلسل، سات راتیں اور آٹھ دن تک یہی ہوائیں رہیں۔ وہ مصیبت جو ان پر مصیبت والے دن آئی وہ پھر آٹھ دن تک نہ ہٹی نہ ٹلی۔ جب تک ان میں سے ایک ایک کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دیا اور ان کا بیج ختم نہ کر دیا۔ ساتھ ہی آخرت کے عذابوں کا لقمہ بنے جن سے زیادہ ذلت و توہین کی کوئی سزا نہیں۔ نہ دنیا میں کوئی ان کی امداد کو پہنچا نہ آخرت میں کوئی مدد کیلئے اٹھے گا۔ بےیارو مددگار رہ گئے۔
ثمودیوں کی بھی ہم نے رہنمائی کی۔ ہدایت کی ان پر وضاحت کر دی انہیں بھلائی کی دعوت دی۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام نے ان پر حق ظاہر کر دیا لیکن انہوں نے مخالفت اور تکذیب کی۔ اور نبی اللہ علیہ السلام کی سچائی پر جس اونٹنی کو اللہ نے علامت بنایا تھا اس کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان پر بھی عذاب اللہ برس پڑا۔ ایک زبردست کلیجے پھاڑ دینے والی چنگاڑ اور دل پاش پاش کر دینے والے زلزلے نے ذلت و توہین کے ساتھ ان کے کرتوتوں کا بدلہ لیا۔ ان میں جتنے وہ لوگ تھے جنہیں اللہ کی ذات پر ایمان تھا نبیوں کی تصدیق کرتے تھے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے انہیں ہم نے بچا لیا انہیں ذرا سا بھی ضرر نہ پہنچا اور اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ ذلت و توہین سے اور عذاب اللہ سے نجات پالی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: فإن أعرض هؤلاء المكذِّبون بعدما بُيِّنَ لهم من أوصافِ القرآن الحميدة ومن صفات الإله العظيم، {فقل أنذرتُكم صاعقةً}؛ أي: عذاباً يستأصِلكم ويجتاحُكم، {مثل صاعقة عادٍ وثمودَ}: القبيلتين المعروفتين؛ حيث اجتاحهم العذابُ، وحلَّ عليهم وَبيل العقاب، وذلك بظلمهم وكفرهم؛ حيث {جاءتهم الرسل من بين أيديهم ومن خلفهم}؛ أي: يَتْبَع بعضهم بعضاً متوالين، ودعوتُهم جميعاً واحدة: {أن لا تَعْبُدوا إلاَّ الله}؛ أي: يأمرون بالإخلاص لله، ويَنْهَوْنَهم عن الشرك به، فردُّوا رسالتهم وكذَّبوهم، و {قالوا لو شاء ربُّنا لأنزل ملائكةً}؛ أي: وأما أنتم؛ فبشرٌ مثلنا، {فإنَّا بما أرْسِلْتم به كافرون}: وهذه الشبهة لم تزل متوارثةً بين المكذِّبين بالأمم، وهي من أوهى الشُّبه؛ فإنَّه ليس من شرط الإرسال أن يكون المرسل ملكاً، وإنَّما شرط الرسالة أن يأتي الرسول بما يدلُّ على صدقه، فليقدحوا إن استطاعوا بصدقِهم بقادح عقليٍّ أو شرعيٍّ، ولن يستطيعوا إلى ذلك سبيلاً.