تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 13

فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَقُلۡ اَنۡذَرۡتُکُمۡ صٰعِقَۃً مِّثۡلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ ﴿ؕ۱۳﴾
پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دے میں نے تمھیں ایک ایسی کڑک سے خبردار کر دیا جو عاد اور ثمود کی کڑک جیسی ہو گی۔ En
پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسے چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)
En
اب بھی یہ روگرداں ہوں تو کہہ دیجئے! کہ میں تمہیں اس کڑک (عذاب آسمانی) سے ڈراتا ہوں جو مثل عادیوں اور ﺛمودیوں کی کڑک ہوگی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اگر یہ مکذبین اس کے باوجود بھی اعراض کریں، حالانکہ ان کے سامنے قرآن کے اوصاف حمیدہ اور رب عظیم کی صفات جلیلہ بیان کی جاچکی ہیں۔ ﴿فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً تو کہہ دیجیے: میں تمھیں ایسی کڑک سے ڈراتا ہوں یعنی کہ میں تمھیں ایسے عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ جیسی کڑک قوم عاد اور ثمود پر گری تھی۔ عاد اور ثمود یہ دو معروف قبیلے تھے، ان پر ٹوٹنے والے عذاب نے ان کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیا تھا اور انھیں سخت سزا دی گئی، یہ سب کچھ ان کے ظلم اور کفر کے باعث تھا۔
﴿اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ جب ان کے پاس رسول ان کے آگے سے اور پیچھے سے آئے۔ یعنی یکے بعد دیگرے لگاتار رسول آئے، ان تمام رسولوں کی دعوت ایک تھی۔ ﴿اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کا حکم دیتے تھے اور شرک سے روکتے تھے، مگر انھوں نے انبیائے کرام کی دعوت کو رد کرتے ہوئے ان کی تکذیب کی اور کہنے لگے: ﴿ لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَؔلٰٓىِٕكَةً اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتار دیتا۔ رہے تم، تو تم ہماری ہی طرح بشر ہو ﴿فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ پس تم جو دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔ اور یہ شبہ تمام کافر قوموں میں نسل در نسل متوارث چلا آرہا ہے اور یہ انتہائی کمزور شبہ ہے۔ کیونکہ رسالت کے لیے یہ شرط نہیں کہ جس کو رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہو، وہ فرشتہ ہو۔ رسالت کی شرط صرف یہ ہے کہ رسول ایسی دعوت پیش کرے جو اس کی صداقت کی دلیل ہو، لہٰذا اگر وہ کر سکتے ہوں تو ان کو چاہیے کہ وہ عقلی اور شرعی دلائل کی بنیاد پر جرح و قدح کریں، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: فإن أعرض هؤلاء المكذِّبون بعدما بُيِّنَ لهم من أوصافِ القرآن الحميدة ومن صفات الإله العظيم، {فقل أنذرتُكم صاعقةً}؛ أي: عذاباً يستأصِلكم ويجتاحُكم، {مثل صاعقة عادٍ وثمودَ}: القبيلتين المعروفتين؛ حيث اجتاحهم العذابُ، وحلَّ عليهم وَبيل العقاب، وذلك بظلمهم وكفرهم؛ حيث {جاءتهم الرسل من بين أيديهم ومن خلفهم}؛ أي: يَتْبَع بعضهم بعضاً متوالين، ودعوتُهم جميعاً واحدة: {أن لا تَعْبُدوا إلاَّ الله}؛ أي: يأمرون بالإخلاص لله، ويَنْهَوْنَهم عن الشرك به، فردُّوا رسالتهم وكذَّبوهم، و {قالوا لو شاء ربُّنا لأنزل ملائكةً}؛ أي: وأما أنتم؛ فبشرٌ مثلنا، {فإنَّا بما أرْسِلْتم به كافرون}: وهذه الشبهة لم تزل متوارثةً بين المكذِّبين بالأمم، وهي من أوهى الشُّبه؛ فإنَّه ليس من شرط الإرسال أن يكون المرسل ملكاً، وإنَّما شرط الرسالة أن يأتي الرسول بما يدلُّ على صدقه، فليقدحوا إن استطاعوا بصدقِهم بقادح عقليٍّ أو شرعيٍّ، ولن يستطيعوا إلى ذلك سبيلاً.