تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا:} یعنی کائنات کے اس نظام میں ہر آسمان کی اور اس میں رہنے والی ہر مخلوق کی جو ذمہ داری تھی وہ اس کی طرف وحی فرما دی کہ تمھیں یہ کام کرنا ہے اور اس طرح کرنا ہے۔
➌ {وَ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَ حِفْظًا: ” حِفْظًا “ ”حَفِظْنَاهَا“} کا مفعول مطلق ہے جو یہاں مقدر ہے اور اس کا عطف لفظ مقدر {” زِيْنَةٌ “} پر ہے جو {” زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا “} کا مفعول مطلق ہے۔ گویا اصل جملہ یہ تھا: {” وَ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ زِيْنَةً وَ حَفِظْنَاهَا بِهَا حِفْظًا۔“} لفظ {” زَيَّنَّا “} کی دلالت کی وجہ سے {” زِيْنَةً “} کو حذف کر دیا اور {” حِفْظًا “} کی دلالت کی وجہ سے {”حَفِظْنَاهَا“} کو حذف کر دیا۔ اس طرح نہایت خوب صورتی کے ساتھ ایک لمبی بات مختصر لفظوں میں سمیٹ دی۔ یہ قرآن کی بلاغت ہے اور اسے احتباک کہتے ہیں۔ (بقاعی) {” حِفْظًا “} کے مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے ترجمہ کیا گیا ہے ”خوب محفوظ کر دیا۔“ اس زینت و حفاظت کی تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورۂ حجر (۱۶ تا ۱۸)، صافات (۶ تا ۱۰) اور سورۂ ملک (۵)۔ یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ ان آیات میں اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر غائب کے صیغے {”بِالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ“} کے ساتھ کیا ہے،{ ” زَيَّنَّا السَّمَآءَ “ } میں متکلم کے صیغے کے ساتھ اور {” ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ “} میں پھر غائب کے ساتھ فرمایا ہے، اسے التفات کہتے ہیں، اس سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے اور کئی حکمتیں بھی ملحوظ ہوتی ہیں۔
➍ { ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ:} یہ سب اس ہستی کا اندازہ اور مقرر کردہ نظام ہے جو عزت و علم کے ساتھ پوری طرح موصوف ہے۔ وہ سب پر غالب ہے، کوئی اس پر غالب نہیں، وہ سب کچھ جاننے والا ہے۔ گزشتہ، موجودہ یا آئندہ کوئی بھی چیز اس سے مخفی نہیں، اس لیے اس کے اس نظام میں کوئی غلطی، کوئی حادثہ نہیں اور کسی اور کا اس نظام میں ذرہ برابر دخل نہیں۔ سلسلۂ کلام {” قُلْ اَىِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ “} سے شروع ہوا تھا اور {” ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ “} پر ختم ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پوری کائنات جس نے چھ دن میں پیدا فرمائی، اس میں موجود ہر چیز حتیٰ کہ تمھیں اور ان چیزوں کو بھی پیدا کیا جنھیں تم نے معبود بنا رکھا ہے، کیا تم اس عظیم ہستی کے ساتھ کفر کرتے ہو اور اس کے ساتھ شریک بناتے ہو جس نے یہ سب کچھ کیا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[11] آسمان زمین سے لاکھوں گنا زیادہ جسامت رکھتے ہیں۔ اور زمین میں جب ہزاروں قسم کی مخلوق آباد ہے اور لاکھوں قسم کے کارخانے ہیں تو آسمان کیسے خالی رہ سکتا ہیں۔ آسمانوں میں فرشتوں کی موجودگی کا ذکر تو قرآن میں صراحت سے موجود ہے اور واقعہ معراج سے پتہ چلتا ہے کہ ہر آسمان میں طرح طرح کی مخلوق آباد ہے۔ اگرچہ اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہمارے بس سے باہر ہے۔
[12] تشریح کے لیے دیکھئے سورۃ والصافات کا حاشیہ نمبر 4
[13] تشریح کے لیے دیکھئے سورۃ والصافات کا حاشیہ نمبر 5
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اپنے سامنے اللہ والوں کی بہتری اور دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدحالی دیکھتے تھے لیکن پھر بھی تکذیب سے باز نہ آئے۔ حجت بازی اور کج بحثی سے نہ ہٹے اور کہنے لگے اگر اللہ کو رسول بھیجنا ہوتا تو کسی اپنے فرشتے کو بھیجتا تم انسان ہو کر رسول اللہ بن بیٹھے؟ ہم تو اسے ہرگز باور نہ کریں گے؟ قوم عاد نے زمین میں فساد پھیلا دیا ان کی سرکشی ان کا غرور حد کو پہنچ گیا۔ ان کی لا ابالیاں اور بےپرواہیاں یہاں تک پہنچ گئیں کہ پکار اٹھے ہم سے زیادہ زور آور کوئی نہیں۔ ہم طاقتور مضبوط اور ٹھوس ہیں اللہ کے عذاب ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟ اس قدر پھولے کہ اللہ کو بھول گئے۔ یہ بھی خیال نہ رہا کہ ہمارا پیدا کرنے والا تو اتنا قوی ہے کہ اس کی زور آوری کا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔
«صَرْصَراً» کہتے ہیں وہ ہوا جس میں آواز پائی جائے۔ مشرق کی طرف ایک نہر ہے جو بہت زور سے آواز کے ساتھ بہتی رہتی ہے اس لیے اسے بھی عرب «صَرْصَراً» کہتے ہیں۔ «نَحِسَات» سے مراد پے در پے، ایک دم، مسلسل، سات راتیں اور آٹھ دن تک یہی ہوائیں رہیں۔ وہ مصیبت جو ان پر مصیبت والے دن آئی وہ پھر آٹھ دن تک نہ ہٹی نہ ٹلی۔ جب تک ان میں سے ایک ایک کو فنا کے گھاٹ نہ اتار دیا اور ان کا بیج ختم نہ کر دیا۔ ساتھ ہی آخرت کے عذابوں کا لقمہ بنے جن سے زیادہ ذلت و توہین کی کوئی سزا نہیں۔ نہ دنیا میں کوئی ان کی امداد کو پہنچا نہ آخرت میں کوئی مدد کیلئے اٹھے گا۔ بےیارو مددگار رہ گئے۔
ثمودیوں کی بھی ہم نے رہنمائی کی۔ ہدایت کی ان پر وضاحت کر دی انہیں بھلائی کی دعوت دی۔ اللہ کے نبی صالح علیہ السلام نے ان پر حق ظاہر کر دیا لیکن انہوں نے مخالفت اور تکذیب کی۔ اور نبی اللہ علیہ السلام کی سچائی پر جس اونٹنی کو اللہ نے علامت بنایا تھا اس کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان پر بھی عذاب اللہ برس پڑا۔ ایک زبردست کلیجے پھاڑ دینے والی چنگاڑ اور دل پاش پاش کر دینے والے زلزلے نے ذلت و توہین کے ساتھ ان کے کرتوتوں کا بدلہ لیا۔ ان میں جتنے وہ لوگ تھے جنہیں اللہ کی ذات پر ایمان تھا نبیوں کی تصدیق کرتے تھے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے تھے انہیں ہم نے بچا لیا انہیں ذرا سا بھی ضرر نہ پہنچا اور اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ ذلت و توہین سے اور عذاب اللہ سے نجات پالی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فقضاهنَّ سبعَ سمواتٍ في يومين}: فتمَّ خلقُ السماواتِ والأرض في ستة أيام؛ أولها يوم الأحد، وآخرها يوم الجمعة، مع أنَّ قدرةَ الله ومشيئتَه صالحةٌ لخلق الجميع في لحظة واحدة، ولكن مع أنَّه قدير؛ فهو حكيمٌ رفيقٌ؛ فمن حكمته ورفقه أن جعل خَلْقَها في هذه المدة المقدرة. واعلم أنَّ ظاهر هذه الآية مع قوله تعالى في النازعات لما ذَكَرَ خَلْقَ السماواتِ؛ قال: {والأرضَ بعد ذلك دحاها}: يَظْهَرُ منهما التعارضُ! مع أنَّ كتاب الله لا تعارض فيه ولا اختلاف! والجواب عن ذلك ما قاله كثير من السلف: أنَّ خلقَ الأرض وصورتَها متقدِّم على خلق السماواتِ كما هنا. ودَحْيُ الأرض بأن {أخرجَ منها ماءها ومَرْعاها. والجبالَ أرساها}: متأخِّرٌ على خلقِ السماوات؛ كما في سورة النازعات، ولهذا قال [فيها]: {والأرضَ بعد ذلك دَحاها. أخْرَجَ منها ... } إلى آخره، ولم يقلْ: والأرضَ بعد ذلك خَلَقها. وقوله: {وأوحى في كلِّ سماءٍ أمرَها}؛ أي: الأمر والتدبير اللائقَ بها، التي اقتضتْه حكمةُ أحكم الحاكمين، {وزيَّنَّا السماء الدُّنيا بمصابيحَ}: هي النجوم؛ يُستنار بها ويُهتدى، وتكون زينةً وجمالاً للسماء ظاهراً وجمالاً لها باطناً بجعلها رجوماً للشياطين؛ لئلاَّ يسترق السمعَ فيها. {ذلك}: المذكور من الأرض وما فيها والسماء وما فيها {تقديرُ العزيز العليم}: الذي عزَّتُه قَهَرَ بها الأشياء ودبَّرها وخَلَق بها المخلوقات. {العليم} الذي أحاط علمُهُ بالمخلوقات والغائب والشاهد.
فترك المشركين الإخلاصَ لهذا الربِّ العظيم الواحد القهَّار، الذي انقادتِ المخلوقاتُ لأمره، ونفذَ فيها قدرُه من أعجب الأشياء، واتِّخاذهم له أنداداً يسوُّونهم به وهم ناقصون في أوصافهم وأفعالهم أعجب وأعجب، ولا دواء لهؤلاء إن استمرَّ إعراضُهم إلاَّ العقوبات الدنيويَّة والأخرويَّة؛ فلهذا خوَّفهم بقوله: