تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
دوسرا مطلب {” مِنَ الْعِلْمِ “} کا دنیوی علم و فن ہے، جس میں وہ مہارت رکھتے تھے، جو درحقیقت علم کا ایک معمولی اور حقیر سا حصہ ہے، کیونکہ اس کا تعلق صرف اس ناپائیدار دنیا کے چند دنوں یا لمحوں کے ساتھ ہے۔ حقیقی اور ابدی علم، یعنی آخرت کے علم سے وہ بالکل بے بہرہ تھے۔ (دیکھیے روم: ۶، ۷) چنانچہ رسولوں کی تشریف آوری پر ایمان لانے اور اطاعت کے بجائے وہ دنیا کے اس حقیر علم پر پھولے اور اکڑے رہے جو انھیں حاصل تھا اور جسے وہ بہت بڑی بات سمجھتے تھے۔ یہ معنی الفاظ کے زیادہ قریب ہے۔
➋ { وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ:} یعنی انھیں اسی عذاب نے چاروں طرف سے گھیر لیا، جس سے رسول انھیں ڈراتے تھے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے اور اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ کرتے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرعون نے بھی غرق ہوتے ہوئے کہا تھا کہ «قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [10-یونس: 90] میرا اس اللہ جل شانہ پر ایمان ہے جس پر بنی اسرائیل کا ایمان ہے میں اس کے سوا کسی کو لائق عبادت نہیں مانتا میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ «آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» [10-یونس: 91] اب ایمان لانا بےسود ہے۔ بہت نافرمانیاں اور شرانگیزیاں کر چکے ہو۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی اس سرکش کیلئے یہی بد دعا کی تھی کہ «وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-یونس: 88] اے اللہ جل شانہ آل فرعون کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ عذاب الیم دیکھ لینے تک انہیں ایمان نصیب نہ ہو۔ پس یہاں بھی فرمان باری ہے کہ عذابوں کا معائنہ کرنے پر ایمان کی قبولیت نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ یہ اللہ کا حکم عام ہے۔ جو بھی عذابوں کو دیکھ کر توبہ کرے اس کی توبہ نامقبول ہے۔
حدیث شریف میں ہے غرغرے سے پہلے تک کی توبہ قبول ہے۔ [سنن ترمذي:3537،قال الشيخ الألباني:حسن]
جب دم سینے میں اٹکا روح حلقوم تک پہنچ گئی فرشتوں کو دیکھ لیا اب کوئی توبہ نہیں۔ اسی لیے آخر میں ارشاد فرمایا کہ کفار ٹوٹے اور گھاٹے میں ہی ہیں۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃغافر کی تفسیر ختم ہوئی، ولله الحمد والمنة۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ جرمَهم الكبير، فقال: {فلمَّا جاءتْهم رسلُهم بالبيناتِ}: من الكتب الإلهيَّة والخوارق العظيمة، والعلم النافع المبيِّن للهدى من الضلال والحق من الباطل، {فرحوا بما عندَهم من العلم}: المناقض لدين الرسل، ومن المعلوم أنَّ فرحهم به يدلُّ على شدَّة رضاهم به وتمسُّكهم ومعاداة الحقِّ الذي جاءت به الرسل وجعل باطلهم حقًّا، وهذا عامٌّ لجميع العلوم التي نوقِضَ بها ما جاءتْ به الرسل، ومن أحقِّها بالدُّخول في هذا، علوم الفلسفة والمنطق اليوناني الذي رُدَّت به كثيرٌ من آيات القرآن، ونَقَّصَتْ قدرَه في القلوب، وجَعَلَتْ أدلَّته اليقينيَّة القاطعة أدلَّة لفظيَّةً لا تفيدُ شيئاً من اليقين، ويقدَّم عليها عقولُ أهل السَّفه والباطل، وهذا من أعظم الإلحاد في آيات الله والمعارضة لها والمناقضة؛ فالله المستعانُ، {وحاق بهم}؛ أي: نزل ما كانوا يستهزئون به من العذاب.