تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
مفسر رازی نے اپنا تجربہ لکھا ہے کہ میں نے اپنی ذات پر گزرنے والے حالات میں تجربہ کیا ہے کہ جب بھی کسی شریر نے میرے متعلق شر کا ارادہ کیا اور میں نے اس سے تعرض نہیں کیا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے پر اکتفا کیا، تو اللہ سبحانہ نے ایسے لوگوں کو میرے دفاع کے لیے مقرر فرما دیا جنھیں میں بالکل نہیں جانتا تھا اور جنھوں نے حد سے بڑھ کر اس شر کو دور کرنے کی کوشش کی۔
➋ {يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗۤ:} اس جملے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرعون کی سختیوں کے باوجود موسیٰ علیہ السلام کی دعوت ہر جگہ پہنچ گئی تھی، حتیٰ کہ فرعون کے خاندان کے کچھ لوگ بھی اس سے متاثر ہو چکے تھے، اگرچہ اظہار نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ یہ مرد مومن بھی اس سے پہلے ایمان چھپاتا تھا، مگر جب بات موسیٰ علیہ السلام کے قتل تک پہنچ گئی تو اس کے ایمان نے اسے خاموش نہیں رہنے دیا۔ اس نے بات کا آغاز تو ایک غیر جانبدار آدمی کی طرح کیا، مگر آخر میں اس نے اپنے ایمان کا صاف اظہار کر دیا اور اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھا ہے۔ اب تک ایمان چھپائے رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اسے مومن فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ مجبوری میں ایمان چھپانے کے باوجود آدمی مومن رہتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۱۰۶)۔
➌ { اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ …:} اس جملے میں اس مرد مومن نے تین حقیقتیں بیان کر دیں، پہلی یہ کہ رب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ چنانچہ اس نے کہا کہ کیا تم ایک آدمی کو اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب (میرا پالنے والا مالک) صرف وہ پاک ذات ہے جس کا نام اللہ تعالیٰ ہے۔ یعنی وہ فرعون کو اپنا رب نہیں مانتا، بلکہ اس کو مانتا ہے جس نے فرعون اور اس کے باپ دادا کو اور زمین و آسمان سمیت ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے، تو اس پر اسے داد دینی اور اس کی تعظیم و تکریم کرنی چاہیے یا اسے قتل کر دینا چاہیے؟ دوسری حقیقت ({وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ}) یہ بیان فرمائی کہ وہ تمھارے پاس اپنے اللہ کی طرف سے بھیجے جانے کی واضح دلیلیں لے کر آیا ہے، جنھیں جھٹلانے کا تمھارے پاس کوئی جواز ہی نہیں، پورے ملک کے جادوگر اس کے مقابلے میں ناکام ہو کر اس کے حق پر ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں اور اس پر ایمان لا چکے ہیں۔ تیسری حقیقت ({مِنْ رَّبِّكُمْ}) یہ کہ اسے جس مالک کی طرف سے پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا گیا ہے وہ تمھارا بھی رب ہے، یہ تمھاری جہالت ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کو اپنا رب بنائے بیٹھے ہو۔
➍ موسیٰ علیہ السلام کو جس قسم کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا اور جو جو حالات پیش آئے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی قسم کے حالات پیش آئے۔ ان واقعات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کا سامان ہے کہ آپ ہی کو نہیں، پہلے پیغمبروں کو بھی ایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
➎ مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”فرعون کے سامنے یہ کہنا {” اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ “} (کیا تم ایک آدمی کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے، میرا رب اللہ ہے) بہت بڑی بات ہے (اس سے بڑی دلیری ہو نہیں سکتی)۔“ ہاں، بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کا جو واقعہ بیان کیا ہے وہ اس سے بھی بڑی بات ہے۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما سے کہا کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ جو ایذا پہنچائی وہ مجھے بتائیں، تو انھوں نے فرمایا: [بَيْنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يُصَلِّيْ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِيْ مُعَيْطٍ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَلَوٰی ثَوْبَهُ فِيْ عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ خَنْقًا شَدِيْدًا فَأَقْبَلَ أَبُوْ بَكْرٍ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ وَ دَفَعَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ قَالَ: «اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ» ] [بخاري، التفسیر، سورۃ المؤمن: ۴۸۱۵] ” ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کندھا پکڑ لیا اور اپنا کپڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں ڈال کر اسے بہت سختی کے ساتھ گھونٹ دیا، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور اسے کندھے سے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دھکا دے کر پیچھے ہٹایا اور کہا: «اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ» ”کیا تم ایک آدمی کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے، میرا رب اللہ ہے، حالانکہ یقینا وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے۔“
اہلِ علم فرماتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ اس مرد مومن سے بھی زیادہ شجاع تھے، کیونکہ وہ اپنا ایمان چھپاتا تھا، جبکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کھلم کھلا مومن تھے، جو سب سے پہلے ایمان لائے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت اور دفاع میں ان کے لیے اس مرد مومن سے زیادہ خطرہ تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے یہ بات صرف زبان سے نہیں کہی بلکہ عملاً عقبہ کو دھکا دے کر پیچھے بھی ہٹا دیا۔
➏ {وَ اِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ:} وہ مرد مومن موسیٰ علیہ السلام کو کاذب نہیں سمجھتا تھا، یہ بات اس نے ایک غیر جانبدار شخص کی حیثیت سے ایک مفروضہ کے طور پر کہی کہ اگر یہ جھوٹا ہے تب بھی اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر ہے، تمھارے لیے مناسب یہی ہے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھی ان سے کہا تھا: «وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِيْ فَاعْتَزِلُوْنِ» [الدخان: ۲۱] ”اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ سے الگ رہو۔“
➐ {وَ اِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ …:} ”اور اگر یہ سچا ہے تو تمھیں اُن میں سے کوئی نہ کوئی چیز پہنچ جائے گی جن کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔“ اس مرد مومن نے یہاں {” يَعِدُكُمْ “} کا لفظ استعمال کیا جو وعدے کے لیے استعمال ہوتا ہے، {” يُوْعِدُكُمْ“} استعمال نہیں کیا جو وعید کے لیے ہے۔ کیونکہ وعدے میں دونوں چیزیں آ جاتی ہیں، یعنی اگر وہ سچا ہوا اور تم نے اس کی اطاعت کی تو اس کا وعدہ ہے کہ تمھیں دنیا و آخرت دونوں کی بھلائیاں حاصل ہوں گی، اس کے مطابق تمھیں ان میں سے کچھ نہ کچھ ضرور حاصل ہو جائے گا، اگر وہ دنیا میں حاصل نہ ہوئیں تو آخرت میں یقینا حاصل ہو جائیں گی اور اگر تم سچا ہونے کے باوجود اس پر ایمان نہ لائے، یا تم نے اسے قتل کر دیا تو اس نے تمھارے کفر کی صورت میں دنیا کے اندر جن جن عذابوں کا وعدہ کیا ہے ان میں سے کوئی نہ کوئی ضرور تم پر آ جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی امتوں کے مختلف قسم کے عذابوں سے ڈرایا، فرمایا: «فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا» [العنکبوت: ۴۰] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کر دیا۔“ اور اگر دنیا میں کوئی عذاب نہ آیا تو آخرت کے عذاب سے بچنے کی تو کوئی صورت ہی نہیں۔
➑ {اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ:} اس جملے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے اس عظیم شخص نے دونوں مراد لیے ہوں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو راہِ راست کی ہدایت نہیں دیتا جو حد سے بڑھنے والا سخت جھوٹا ہو، جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں حد سے بڑھنے کی کوئی بات نہیں ہے، پھر کذاب تو بہت دور کی بات ہے اس پر جھوٹ کا الزام ایک بار بھی نہیں لگا۔ اس کی واضح دلیلوں اور معجزوں سے اس کا سچا ہونا ثابت ہو رہا ہے، کسی مسرف و کذاب پر اللہ تعالیٰ کا اتنا فضل و کرم کیسے ہو سکتا ہے اور ایسے شخص کو قتل کرنا کیسے روا ہو سکتا ہے۔ دوسرا مطلب یہ کہ یہ دونوں اوصاف بیان کرتے ہوئے درحقیقت وہ فرعون پر طعن کر رہا تھا، جو رب ہونے کا دعویٰ کر کے اپنی حد سے بے حساب تجاوز بھی کر رہا تھا اور زبردست جھوٹ بھی بول رہا تھا، اس کی طرف سے قتل کا ارادہ بھی اس کے مسرف و کذاب ہونے کا نتیجہ تھا کہ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ صحیح فیصلے کی توفیق نہیں دیتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[40] اس مرد مومن نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس کی دعوت کے متعلق دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے قول میں جھوٹا ہو۔ اس صورت میں تم اتنی فکر کیوں کرتے ہو؟ جھوٹ کے پاؤں کہاں ہوتے ہیں وہ جلد یا بدیر اپنی موت آپ ہی مر جائے گا۔ اور اگر وہ سچا ہوا اور تم نے اسے قتل کر دیا تو پھر سمجھ لو کہ تمہاری خیر نہیں۔ پھر تو جس عذاب کی وہ تمہیں دھمکی دیتا ہے وہ لازماً تم پر نازل ہو کے رہے گا۔ لہٰذا میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ تمہاری بھلائی اسی میں ہے۔
[41] یہ جملہ جو اس مرد مومن نے بولا یہ جیسے سیدنا موسیٰ پر فٹ آتا تھا ایسے ہی فرعون پر آتا تھا۔ یعنی اگر موسیٰؑ نعوذ باللہ جھوٹ سے کام لے رہے ہیں کہ اس کام میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ تم سیدنا موسیٰؑ کو قتل کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہو تو یاد رکھو اللہ ایسے شخص کو کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا اور وہ سچا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جھوٹے تم ہو اور جھوٹا ہونے کے باوجود اس حد تک آگے بڑھے جا رہے ہو کہ اسے قتل کرنا چاہتے ہو تو پھر تمہارا بیڑا غرق ہو کے رہے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
البتہ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ایک واقعہ کئی روایتوں سے مروی ہے جس کا ماحاصل یہ ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا سے ایک مرتبہ پوچھا کہ سب سے بڑی ایذاء مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پہنچائی ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا اور اپنی چادر میں بل دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن میں ڈال کر گھسیٹنے لگا جس سے آپصلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھٹنے لگا۔ اسی وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دوڑے دوڑے آئے اور اسے دھکا دے کر پرے پھینکا اور فرمانے لگے کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس دلیلیں لے کر آیا ہے۔[صحیح بخاری:3856]
موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون اور قوم فرعون سے یہی چاہا تھا۔ جیسے کہ آیت «وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّـهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ وَأَن لَّا تَعْلُوا عَلَى اللَّـهِ ۖ إِنِّي آتِيكُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ» [44- الدخان: 21-17] تک ہے یعنی ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول اللہ کو بھیجا۔ اس نے کہا کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سونپ دو۔ میں تمہاری طرف رب کا رسول امین ہوں۔ تم اللہ سے بغاوت نہ کرو۔ دیکھو میں تمہارے پاس کھلی دلیلیں اور زبردست معجزے لایا ہوں۔ تم مجھے سنگسار کر دو گے اس سے میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں، اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے چھوڑ دو،
یہی جناب رسول آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف مجھے پکارنے دو تم میری ایذاء رسانی سے باز رہو۔ اور میری قرابت داری کو خیال کرتے ہوئے مجھے دکھ نہ دو۔ صلح حدیبیہ بھی دراصل یہی چیز تھی جو کھلی فتح کہلائی۔ وہ مومن کہتا ہے کہ سنو! مسرف اور جھوٹے آدمی راہ یافتہ نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ اللہ کی نصرت نہیں ہوتی۔ ان کے اقوال و افعال بہت جلد ان کی خباثت کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ برخلاف اس کے یہ نبی اللہ علیہم السلام اختلاف و اضطراب سے پاک ہیں۔ صحیح سچی اور اچھی راہ پر ہیں۔ زبان کے سچے عمل کے پکے ہیں۔ اگر یہ حد سے گذر جانے والے اور جھوٹے ہوتے تو یہ راستی اور عمدگی ان میں ہرگز نہ ہوتی،
پھر قوم کو نصیحت کرتے ہیں اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں بھائیو! تمہیں اللہ نے اس ملک کی سلطنت عطا فرمائی ہے۔ بڑی عزت دی ہے۔ تمہارا حکم جاری کر رکھا ہے۔ اللہ کی اس نعمت پر تمہیں اس کا شکر کرنا چائے اور اس کے رسولوں کو سچا ماننا چاہیئے۔
اور آیت میں ہے «وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ» [27- النمل: 14]، یعنی انہوں نے باوجود دلی یقین کے از راہ ظلم و زیادتی انکار کر دیا۔ اسی طرح اس کا یہ کہنا بھی سراسر غلط تھا کہ میں تمہیں حق کی سچائی کی اور بھلائی کی راہ دکھاتا ہوں۔ اس میں وہ لوگوں کو دھوکا دے رہا تھا اور رعیت کی خیانت کر رہا تھا۔ لیکن اس کی قوم اس کے دھوکے میں آ گئی اور فرعون کی بات مان لی۔ «إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ ۖ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ» [11-هود: 97] فرعون نے انہیں کسی بھلائی کی راہ نہ ڈالا۔ اس کا عمل ہی ٹھیک نہیں تھا اور جگہ اللہ عزوجل فرماتا ہے «وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَىٰ» [20-طه: 79] فرعون نے اپنی قوم کو بہا دیا اور انہیں صحیح راہ تک نہ پہنچنے دیا نہ پہنچایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو امام اپنی رعایا سے خیانت کر رہا ہو وہ مر کر جنت کی خوشبو بھی نہیں پاتا۔ حالانکہ وہ خوشبو پانچ سو سال کی راہ پر آتی ہے۔[صحیح بخاری:1750] «واللہ سبحانہ و تعالیٰ الموفق للصواب»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن جملة الأسباب هذا الرجل المؤمن الذي من آل فرعون من بيت المملكةِ، لا بدَّ أن يكونَ له كلمةٌ مسموعةٌ، وخصوصاً إذا كان يظهِرُ موافقتَهم ويكتُمُ إيمانه؛ فإنهم يراعونَه في الغالب ما لا يراعونَه لو خالفهم في الظاهر؛ كما منع الله رسولَه محمداً - صلى الله عليه وسلم - بعمه أبي طالب من قريش؛ حيث كان أبو طالب كبيراً عندهم موافقاً لهم على دينهم، ولو كان مسلماً؛ لم يحصلْ منه ذلك المنع، فقال ذلك الرجل المؤمن الموفَّق العاقل الحازم مقبِّحاً فعل قومه وشناعة ما عزموا عليه: {أتَقْتُلونَ رجلاً أن يقولَ ربِّيَ اللهُ}؛ أي: كيف تستحلُّون قتلَه وهذا ذنبُه وجرمُه أَنَّه يقولَ ربِّيَ الله، ولم يكن أيضاً قولاً مجرَّداً عن البيناتِ، ولهذا قال: {وقد جاءكم بالبيِّناتِ من ربِّكم}: لأنَّ بيِّنته اشتهرت عندهم اشتهاراً علم به الصغيرُ والكبيرُ؛ أي: فهذا لا يوجب قتله؛ فهلاَّ أبطلتم قبل ذلك ما جاء به من الحقِّ، وقابلتم البرهان ببرهان يردُّه ثم بعد ذلك نظرتُم هل يحلُّ قتلُه إذا ظهرتم عليه بالحجة أم لا؟! فأما وقد ظهرت حجَّته واستعلى برهانه؛ فبينكم وبين حِلِّ قتله مفاوزُ تنقطع بها أعناق المطيِّ.
ثم قال لهم مقالةً عقليةً تقنِعُ كلَّ عاقل بأيِّ حالة قُدِّرت، فقال: {وإنْ يكُ كاذباً فعليه كذِبُه وإن يكُ صادقاً يصِبْكُم بعض الذي يعدكم}: أي: موسى بين أمرين إما كاذب في دعواه أو صادق فيها، فإن كان كاذباً فكذبه عليه وضرره مختصٌّ به، وليس عليكم في ذلك ضررٌ؛ حيث امتنعتُم من إجابته وتصديقه، وإن كان صادقاً، وقد جاءكم بالبينات وأخبركم أنَّكم إنْ لم تجيبوه عذَّبَكم الله عذاباً في الدُّنيا وعذاباً في الآخرة؛ فإنَّه لا بدَّ أن يصيبَكم بعضُ الذي يعِدُكم، وهو عذاب الدنيا. وهذا من حسن عقلِهِ ولطف دفعِهِ عن موسى؛ حيث أتى بهذا الجواب الذي لا تشويش فيه عليهم، وجعلَ الأمر دائراً بين تلك الحالتين، وعلى كلِّ تقدير؛ فقتله سفهٌ وجهلٌ منكم.
ثم انتقل ـ رضي الله عنه وأرضاه وغفر له ورحمه ـ إلى أمرٍ أعلى من ذلك وبيان قرب موسى من الحقِّ فقال: {إن الله لا يهدي من هو مسرف}؛ أي؛ متجاوز الحد بترك الحق والإقبال على الباطل، {كذابٌ}: بنسبته ما أسرف فيه إلى الله؛ فهذا لا يهديه الله إلى طريق الصواب؛ لا في مدلوله، ولا في دليله، ولا يوفَّق للصراط المستقيم؛ أي: وقد رأيتُم ما دعا موسى إليه من الحقِّ وما هداه الله إلى بيانِهِ من البراهين العقليَّة والخوارق السماويَّة؛ فالذي اهتدى هذا الهدى لا يمكنُ أن يكون مسرفاً ولا كاذباً. وهذا دليلٌ على كمال علمِهِ وعقلِهِ ومعرفتِهِ بربِّه.