تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ …:} یعنی فرشتے ڈانٹ ڈپٹ کے انداز میں ان سے پوچھتے ہیں کہ تم مسلمان تھے یا کافر؟ یا دارالکفر میں پڑے کیا کرتے رہے اور مدینہ کی طرف ہجرت کیوں نہیں کی؟ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے لوگ مسلمان ہونے کے باوجود بلا عذر ترک ہجرت کی بنا پر ظالم کی موت مرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِكَ وَ سَكَنَ مَعَهُ فَإِنَّهُ مِثْلُهُ] [أبو داوٗد، الجھاد، باب فی الإقامۃ بأرض الشرک: ۲۷۸۷، عن سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ] ”جو شخص مشرک کے ساتھ اکٹھا رہے اور اس کے ساتھ سکونت رکھے تو یقینا وہ اسی جیسا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور کہا سنو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا سے میں نے سنا ہے کہ بعض مسلمان لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مشرکوں کے ساتھ تھے اور ان کی تعداد بڑھاتے تھے بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ان میں سے کوئی تیر سے ہلاک کر دیا جاتا یا مسلمانوں کی تلواروں سے قتل کر دیا جاتا، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے یعنی موت کے وقت ان کا اپنی بےطاقتی کا حیلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4596]
پس باقی ماندہ مسلمانوں کی طرف یہ آیت لکھی کہ ان کا کوئی عذر نہ تھا کہا یہ نکلے اور ان سے مشرکین ملے اور انہوں نے تقیہ کیا پس یہ آیت اتری «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ» [2-البقرة:8] ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10265] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے اور تھے مکے میں ہی ان میں علی ابن امیہ بن خلف اور ابوقیس بن ولید بن مغیرہ اور ابو منصور بن حجاج اور حارث بن زمعہ تھے
ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مکے میں رہ گئے پھر بدر کی لڑائی میں مشرکوں کے ساتھ آئے ان میں سے بعض میدان جنگ میں کام بھی آ گئے۔ مقصد یہ ہے کہ آیت کا حکم عام ہے ہر اس شخص کا جو ہجرت پر قادر ہو پھر بھی مشرکوں میں پڑا رہے اور دین پر مضبوط نہ رہے۔
وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظالم ہے اور اس آیت کی رو سے اور مسلمانوں کے اجماع سے وہ حرام کام کا مرتکب ہے اس آیت میں ہجرت سے گریز کرنے کو ظلم کہا گیا ہے، ایسے لوگوں سے ان کے نزع کے عالم میں فرشتے کہتے ہیں کہ تم یہاں کیوں ٹھہرے رہے؟ کیوں ہجرت نہ کی؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنے شہر سے دوسرے شہر کہیں نہیں جا سکتے تھے، جس کے جواب میں فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی زمین میں کشادگی نہ تھی؟ ابوداؤد میں ہے جو شخص مشرکین میں ملا جلا رہے انہی کے ساتھ رہے سہے وہ بھی انہی جیسا ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2787،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر جن لوگوں کو ہجرت کے چھوڑ دینے پر ملامت نہ ہو گی ان کا ذکر فرماتا ہے کہ جو لوگ مشرکین کے ہاتھوں سے نہ چھوٹ سکیں اور اگر کبھی چھوٹ بھی جائیں تو راستے کا علم انہیں نہیں ان سے اللہ تعالیٰ درگذر فرمائے گا،“عسی“ کلمہ اللہ کے کلام میں وجوب اور یقین کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ درگذر کرنے والا اور بہت ہی معافی دینے والا ہے۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد قبلے کی طرف منہ کئے ہوئے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی اے اللہ ولید بن ولید کو ,عیاش بن ابو ربیعہ ,کو سلمہ بن ہشام (رضی اللہ عنہم) کو اور تمام ناتواں بےطاقت مسلمانوں کو اور جو بے حیلے کی طاقت رکھتے ہیں نہ راہ پانے کی کافروں کے ہاتھوں سے نجات دے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5872/3:ضعیف]
ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10280:ضعیف] اس حدیث کے شواہد صحیح میں بھی اس سند کے سوا اور سندوں میں بھی ہیں کہ جیسے کہ پہلے گذرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں اور میری والدہ ان ضعیف عورتوں اور بچوں میں تھے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ ہمیں اللہ نے معذور رکھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4597]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا الوعيد الشديد لمن ترك الهجرة مع قدرته عليها حتى مات؛ فإنَّ الملائكة الذين يقبضون روحه يوبِّخونه بهذا التوبيخ العظيم، ويقولون لهم: {فيم كنتُم}؛ أي: على أيِّ حال كنتم؟ وبأيِّ شيءٍ تميَّزْتم عن المشركين؟ بل كثَّرْتُم سوادَهم، وربَّما ظاهرتُموهم على المؤمنين، وفاتكم الخير الكثير والجهادُ مع رسولِهِ والكون مع المسلمين ومعاونتهم على أعدائهم. {قالوا كُنَّا مستضعفين في الأرض}؛ أي: ضعفاء مقهورين مظلومين ليس لنا قدرة على الهجرة، وهم غير صادقين في ذلك؛ لأنَّ الله وَبَّخَهم وتوعَّدَهم، ولا يكلِّف الله نفساً إلاَّ وسعها، واستثنى المستضعفين حقيقةً، ولهذا قالت لهم الملائكة: {ألم تَكُنْ أرضُ الله واسعةً فتهاجِروا فيها}؟ وهذا استفهام تقرير؛ أي: قد تقرَّر عند كلِّ أحدٍ أنَّ أرض الله واسعةٌ؛ فحيثما كان العبد في محلٍّ لا يتمكن فيه من إظهار دينه؛ فإنَّ له متَّسعاً وفسحةً من الأرض يتمكَّن فيها من عبادة الله؛ كما قال تعالى: {يا عبادي الذين آمنوا إنَّ أرضي واسعةٌ فإيَّايَ فاعبُدُونِ}. قال الله عن هؤلاء الذين لا عذر لهم: {فأولئك مأواهم جهنَّمُ وساءت مصيراً}. وهذا كما تقدَّم فيه ذِكْرُ بيان السبب الموجب؛ فقد يترتَّب عليه مقتضاهُ مع اجتماع شروطِهِ وانتفاءِ موانعِهِ، وقد يمنعُ من ذلك مانع.
وفي الآية دليل على أن الهجرة من أكبر الواجبات، وتركها من المحرمات، بل من أكبر الكبائر. وفي الآية دليلٌ على أنَّ كلَّ من تُوُفِّي فقد استكمل واستوفى ما قُدِّرَ له من الرِّزْق والأجل والعمل، وذلك مأخوذٌ من لفظ التوفِّي؛ فإنه يدلُّ على ذلك؛ لأنَّه لو بقي عليه شيءٌ من ذلك؛ لم يكن متوفياً. وفيه الإيمان بالملائكة ومدحهم؛ لأنَّ الله ساق ذلك الخطاب لهم على وجه التقرير والاستحسان منهم وموافقته لمحلِّه.