تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 97

اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا کُنَّا مُسۡتَضۡعَفِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَکُنۡ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ فَاُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿ۙ۹۷﴾
بے شک وہ لوگ جنھیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، کہتے ہیں تم کس کام میں تھے؟ وہ کہتے ہیں ہم اس سر زمین میں نہایت کمزور تھے۔ وہ کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟ تو یہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے۔ En
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
En
جو لوگ اپنی جانوں پر ﻇلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو پوچھتے ہیں، تم کس حال میں تھے؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی زمین کشاده نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وه پہنچنے کی بری جگہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت وعید آئی ہے جو ہجرت کی قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا اور دارالکفر ہی میں مر جاتا ہے۔ کیونکہ جب فرشتے اس کی روح قبض کریں گے تو اس کو سخت زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ فِیْمَ كُنْتُمْ تم کس حال میں تھے اور کیسے تم نے اپنے تشخص کو مشرکین کے درمیان ممیز رکھا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ان کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے اور بسا اوقات اہل ایمان کے خلاف تم نے کفار کی مدد کی، تم خیر کثیر، اللہ کے رسول کی معیت میں جہاد، مسلمانوں کی رفاقت اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی معاونت کی سعادت سے محروم رہے۔
﴿ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ۠ فِی الْاَرْضِ وہ کہیں گے کہ ہم کمزور مجبوراور مظلوم تھے اور ہجرت کی قدرت نہ رکھتے تھے۔ حالانکہ وہ اپنے اس قول میں سچے نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے اور ان کو وعید سنائی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ اس نے حقیقی مستضعفین کو مستثنی قرار دیا ہے اس لیے فرشتے ان سے کہیں گے ﴿ اَلَمْ تَكُ٘نْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا کیا اللہ کی زمین وسیع و فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر کے چلے جاتے یہ استفہام تقریری ہے یعنی ہر ایک کے ہاں یہ چیز متحقق ہے کہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ بندۂ مومن جہاں کہیں بھی ہو اگر وہاں اپنے دین کا اظہار نہیں کر سکتا تو زمین اس کے لیے بہت وسیع ہے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّ٘ایَ فَاعْبُدُوْنِ (العنکبوت: 29؍56) اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو بے شک میری زمین بہت وسیع ہے پس میری ہی عبادت کرو۔
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں جن کے پاس کوئی عذر نہیں، فرمایا: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَسَآءَتْ مَصِیْرًا یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہو گا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ اس میں سبب موجب کا بیان ہے جس پر، اس کی شرائط کے جمع ہونے اور موانع کے نہ ہونے کے ساتھ، مقتضا مرتب ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی مانع اس مقتضا کو روک دیتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ ہجرت سب سے بڑا فرض ہے اور اس کو ترک کرنا حرام بلکہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس شخص نے وفات پائی اس نے اپنا وہ رزق، عمر اور عمل پورا کر لیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا۔ یہ دلیل لفظ تَوَفّٰی سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ اگر اس نے وہ سب کچھ پورا نہیں کیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا تو لفظ تَوَفّٰی کا اطلاق صحیح نہیں۔ اس آیت میں فرشتوں پر ایمان لانے اور ان کی مدح کی دلیل بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اثبات، ان کی تحسین اور اپنی موافقت کے انداز میں فرشتوں سے خطاب کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا الوعيد الشديد لمن ترك الهجرة مع قدرته عليها حتى مات؛ فإنَّ الملائكة الذين يقبضون روحه يوبِّخونه بهذا التوبيخ العظيم، ويقولون لهم: {فيم كنتُم}؛ أي: على أيِّ حال كنتم؟ وبأيِّ شيءٍ تميَّزْتم عن المشركين؟ بل كثَّرْتُم سوادَهم، وربَّما ظاهرتُموهم على المؤمنين، وفاتكم الخير الكثير والجهادُ مع رسولِهِ والكون مع المسلمين ومعاونتهم على أعدائهم. {قالوا كُنَّا مستضعفين في الأرض}؛ أي: ضعفاء مقهورين مظلومين ليس لنا قدرة على الهجرة، وهم غير صادقين في ذلك؛ لأنَّ الله وَبَّخَهم وتوعَّدَهم، ولا يكلِّف الله نفساً إلاَّ وسعها، واستثنى المستضعفين حقيقةً، ولهذا قالت لهم الملائكة: {ألم تَكُنْ أرضُ الله واسعةً فتهاجِروا فيها}؟ وهذا استفهام تقرير؛ أي: قد تقرَّر عند كلِّ أحدٍ أنَّ أرض الله واسعةٌ؛ فحيثما كان العبد في محلٍّ لا يتمكن فيه من إظهار دينه؛ فإنَّ له متَّسعاً وفسحةً من الأرض يتمكَّن فيها من عبادة الله؛ كما قال تعالى: {يا عبادي الذين آمنوا إنَّ أرضي واسعةٌ فإيَّايَ فاعبُدُونِ}. قال الله عن هؤلاء الذين لا عذر لهم: {فأولئك مأواهم جهنَّمُ وساءت مصيراً}. وهذا كما تقدَّم فيه ذِكْرُ بيان السبب الموجب؛ فقد يترتَّب عليه مقتضاهُ مع اجتماع شروطِهِ وانتفاءِ موانعِهِ، وقد يمنعُ من ذلك مانع.

وفي الآية دليل على أن الهجرة من أكبر الواجبات، وتركها من المحرمات، بل من أكبر الكبائر. وفي الآية دليلٌ على أنَّ كلَّ من تُوُفِّي فقد استكمل واستوفى ما قُدِّرَ له من الرِّزْق والأجل والعمل، وذلك مأخوذٌ من لفظ التوفِّي؛ فإنه يدلُّ على ذلك؛ لأنَّه لو بقي عليه شيءٌ من ذلك؛ لم يكن متوفياً. وفيه الإيمان بالملائكة ومدحهم؛ لأنَّ الله ساق ذلك الخطاب لهم على وجه التقرير والاستحسان منهم وموافقته لمحلِّه.