تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی والدہ ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنھا ہیں اور ان کا نام لبابہ ہے، جو ام المومنین میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنھا کی بہن تھیں۔ ”بنات حارث “ نو بہنیں تھیں، ان میں سے ایک اسماء بنت عمیس خثعمیہ رضی اللہ عنھا تھیں جو ماں کی طرف سے میمونہ رضی اللہ عنھا کی بہن تھیں اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیوی۔ جعفر رضی اللہ عنہ کے بعد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آ گئیں۔ (قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری، کتاب الادب، باب تسمیۃ الولید]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور کہا سنو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا سے میں نے سنا ہے کہ بعض مسلمان لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مشرکوں کے ساتھ تھے اور ان کی تعداد بڑھاتے تھے بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ان میں سے کوئی تیر سے ہلاک کر دیا جاتا یا مسلمانوں کی تلواروں سے قتل کر دیا جاتا، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے یعنی موت کے وقت ان کا اپنی بےطاقتی کا حیلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4596]
پس باقی ماندہ مسلمانوں کی طرف یہ آیت لکھی کہ ان کا کوئی عذر نہ تھا کہا یہ نکلے اور ان سے مشرکین ملے اور انہوں نے تقیہ کیا پس یہ آیت اتری «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ» [2-البقرة:8] ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10265] عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے اور تھے مکے میں ہی ان میں علی ابن امیہ بن خلف اور ابوقیس بن ولید بن مغیرہ اور ابو منصور بن حجاج اور حارث بن زمعہ تھے
ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مکے میں رہ گئے پھر بدر کی لڑائی میں مشرکوں کے ساتھ آئے ان میں سے بعض میدان جنگ میں کام بھی آ گئے۔ مقصد یہ ہے کہ آیت کا حکم عام ہے ہر اس شخص کا جو ہجرت پر قادر ہو پھر بھی مشرکوں میں پڑا رہے اور دین پر مضبوط نہ رہے۔
وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظالم ہے اور اس آیت کی رو سے اور مسلمانوں کے اجماع سے وہ حرام کام کا مرتکب ہے اس آیت میں ہجرت سے گریز کرنے کو ظلم کہا گیا ہے، ایسے لوگوں سے ان کے نزع کے عالم میں فرشتے کہتے ہیں کہ تم یہاں کیوں ٹھہرے رہے؟ کیوں ہجرت نہ کی؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنے شہر سے دوسرے شہر کہیں نہیں جا سکتے تھے، جس کے جواب میں فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی زمین میں کشادگی نہ تھی؟ ابوداؤد میں ہے جو شخص مشرکین میں ملا جلا رہے انہی کے ساتھ رہے سہے وہ بھی انہی جیسا ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2787،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر جن لوگوں کو ہجرت کے چھوڑ دینے پر ملامت نہ ہو گی ان کا ذکر فرماتا ہے کہ جو لوگ مشرکین کے ہاتھوں سے نہ چھوٹ سکیں اور اگر کبھی چھوٹ بھی جائیں تو راستے کا علم انہیں نہیں ان سے اللہ تعالیٰ درگذر فرمائے گا،“عسی“ کلمہ اللہ کے کلام میں وجوب اور یقین کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ درگذر کرنے والا اور بہت ہی معافی دینے والا ہے۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد قبلے کی طرف منہ کئے ہوئے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی اے اللہ ولید بن ولید کو ,عیاش بن ابو ربیعہ ,کو سلمہ بن ہشام (رضی اللہ عنہم) کو اور تمام ناتواں بےطاقت مسلمانوں کو اور جو بے حیلے کی طاقت رکھتے ہیں نہ راہ پانے کی کافروں کے ہاتھوں سے نجات دے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5872/3:ضعیف]
ابن جریر میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10280:ضعیف] اس حدیث کے شواہد صحیح میں بھی اس سند کے سوا اور سندوں میں بھی ہیں کہ جیسے کہ پہلے گذرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں اور میری والدہ ان ضعیف عورتوں اور بچوں میں تھے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ ہمیں اللہ نے معذور رکھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4597]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم استثنى المستضعفين على الحقيقة الذين لا قدرة لهم على الهجرة بوجهٍ من الوجوه {ولا يَهْتَدونَ سبيلاً}؛ فهؤلاء قال الله فيهم: {فأولئك عسى اللهُ أن يعفُوَ عنهم وكان الله عفوًّا غفوراً}، و {عسى} ونحوها واجب وقوعها من الله تعالى بمقتضى كرمِهِ وإحسانه. وفي الترجية بالثواب لمن عمل بعض الأعمال فائدةٌ، وهو أنَّه قد لا يوفِّيه حقَّ توفيته، ولا يعمله على الوجه اللائق الذي ينبغي، بل يكون مقصِّراً، فلا يستحقُّ ذلك الثواب، والله أعلم.
وفي الآية الكريمة دليل على أن من عَجَزَ عن المأمور من واجب وغيره؛ فإنه معذور؛ كما قال تعالى في العاجزين عن الجهاد: {ليس على الأعمى حَرَجٌ ولا على الأعرج حَرَجٌ ولا على المريض حَرَجٌ}، وقال في عموم الأوامر: {فاتَّقوا الله ما استطعتُم}، وقال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «إذا أمرتُكم بأمرٍ؛ فأتوا منه ما استطعتم». ولكن لا يُعْذَرُ الإنسان إلاَّ إذا بَذَلَ جهدَه، وانسدَّت عليه أبوابُ الحيل؛ لقوله: {لا يستطيعونَ حيلةً}.
وفي الآية تنبيهٌ على أنَّ الدَّليل في الحج والعمرة - ونحوهما مما يحتاج إلى سفر - من شروط الاستطاعة.