تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَتَبَيَّنُوْا:} یہاں تبین یعنی تحقیق کر لینے کا حکم سفر کے ساتھ ذکر کیا ہے، مگر یہاں سفر کی قید بیان واقعہ کے لیے ہے، یعنی یہ حادثہ جس سے متعلق آیت نازل ہوئی ہے، سفر میں پیش آیا تھا، ورنہ تحقیق کا حکم جس طرح سفر میں ہے اسی طرح حضر میں بھی ہے۔ (قرطبی)
➌ { كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ:} یعنی یہی حالت پہلے تمھاری تھی، تم کافروں کے شہر میں رہتے تھے اور اپنے ایمان کو چھپاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے دین کو غالب کر کے تم پر احسان کیا۔ (قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص تھوڑی سی بکریاں لیے ہوئے مسلمانوں کو ملا اور السلام علیکم کہا۔ مسلمانوں نے اسے (بہانہ خور سمجھ کر) مار ڈالا۔ اور اس کی بکریاں لے لیں (اسامہ بن زیدؓ نے اسے قتل کیا) اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [بخاري، كتاب التفسير]
2۔
[بخاری، کتاب الدیات۔ باب قول اللہ ومن احیاھا]
3۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولیدؓ نے (بنی ہدبہ کی جنگ میں) کافروں کو مارنا شروع کیا (حالانکہ وہ کہتے جاتے تھے کہ ہم نے دین بدلا ہم نے دین بدلا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ حال سنا تو فرمایا ”یا اللہ! میں خالد کے کام سے بیزار ہوں۔“
[بخاری، کتاب الجہاد، باب اذا قالوا صبانا ولم یحسنوا اسلمنا]
اور بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں ایسے مقتولوں کی دیت بھی بیت المال سے ادا کر دی تھی۔ اور بعض دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہؓ سے پوچھا کہ ”کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ محض اپنی جان بچانے کی خاطر «لا اله الا الله» کہہ رہا ہے۔“
4۔ مقداد بن اسودؓ سے روایت ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بھلا دیکھیے اگر میں کسی کافر سے لڑائی کروں اور وہ مجھ سے لڑائی کرے اور اپنی تلوار سے میرا ایک ہاتھ کاٹ دے پھر مجھ سے بچ کر ایک درخت میں چلا جائے اور کہنے لگے میں اللہ کے لیے اسلام لایا تو اس کے یہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اسے مت قتل کر۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے میرا ہاتھ کاٹنے کے بعد ایسا کہا تھا۔ پھر بھی میں اسے قتل نہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مت قتل کر اگرچہ تجھے اس سے تکلیف پہنچی۔ ورنہ وہ اس مقام پر آجائے گا جو تیرے قتل کرنے سے پہلے تیرا مقام تھا (یعنی وہ ظالم تھا اور تم حق پر تھے) اور اگر تو نے کلمہ اسلام کہنے کے بعد اسے قتل کیا تو تم اس کے مقام پر آ جاؤ گے (یعنی تم ظالم اور وہ مظلوم ہو گا)
[مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب تحریم قتل الکافر بعد قول لا الہ الا اللہ]
اس حدیث سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کے احکام ظاہر کے مطابق جاری ہوتے ہیں اور باطن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ چونکہ ایسا گمان شرعی نقطہ نظر سے غلط ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے واقعہ کی پوری طرح چھان بین کا حکم دیا۔ تحقیق کے بغیر چھوڑ دینے میں اگر یہ امکان ہے کہ ایک کافر جھوٹ بول کر اپنی جان بچا لے تو قتل کرنے میں اس کا بھی امکان ہے کہ ایک بے گناہ مومن تمہارے ہاتھ سے مارا جائے اور تمہارا ایک کافر کو چھوڑ دینے میں غلطی کرنا اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ تم ایک مومن کو قتل کرنے میں غلطی کرو۔ واضح رہے کہ آیت نمبر 92 میں اللہ تعالیٰ نے کسی مومن کے قتل خطا کے احوال و ظروف کے لحاظ سے تین صورتیں اور ان کے کفارے کا یوں بیان فرمایا:
1۔ مسلمان مقتول مسلمانوں ہی میں موجود ہو۔ اس کا کفارہ مسلمان غلام آزاد کرنا ہے اور دیت بھی۔ غلام نہ ملنے کی صورت میں متواتر دو ماہ کے روزے۔
2۔ مسلمان مقتول جو غیر مسلموں میں رہتا ہو۔ اس کا کفارہ صرف مسلمان غلام آزاد کرنا یا متبادل صورت میں روزے رکھنا ہے اس کے وارثوں کو دیت نہیں دی جائے گی اس لیے کہ اس سے اسلام کے دشمنوں کو ہی فائدہ پہنچے گا۔
3۔ اور اگر مسلمان مقتول ایسے غیر مسلموں سے ہو جن کے درمیان معاہدہ امن ہو چکا ہو تو اس کا کفارہ وہی ہو گا جو نمبر (1) کی صورت میں ہے۔ اب دیکھئے ان تینوں صورتوں میں مسلمان غلام آزاد کرنا لازم قرار دیا گیا ہے وہ اس لیے کہ جس طرح اس نے بے احتیاطی سے ایک مسلمان کو مار ڈالا ہے تو اس کے کفارہ میں مسلمان غلام آزاد کرنے کا مطلب یہ ہوا، کہ مسلمان غلام کو آزاد کر دینا گویا ایک مسلمان کو زندہ کر دینے کے مترادف ہے کیونکہ غلامی انسان کی صفت ملکیت اور آزادی کو، جسے اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھا ہے اور یہی اس کی زندگی کا مقتضیٰ ہے، زائل کرتی ہے اور اس کفارہ میں نوع انسان پر احسان بھی ہے۔ دوسری قابل وضاحت بات یہ ہے کہ قتل کی کل پانچ قسمیں ہیں:
1۔
2۔ قتل خطا جبکہ خطا سمجھنے میں ہو جیسے کسی کو کافر سمجھ کر مار ڈالے جس کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔
3۔ قتل خطا جبکہ خطا فعل میں ہو جیسے گولی یا تیر مارا تو کسی شکار کو تھا اور وہ لگ جائے کسی مسلمان کو جس سے اس کی موت واقع ہو جائے۔
4۔ قتل خطا جبکہ خطا اتفاقاً واقع ہو جائے جیسے کوئی آدمی گاڑی کے نیچے آکر مر جائے۔
5۔ قتل شبہ عمد۔ یعنی کسی شخص کی ایسی چیز سے موت واقع ہو جائے جس سے عموماً موت واقع نہ ہوتی ہو جیسے کسی کو مکا یا چھڑی ماری جائے جس سے وہ مر جائے۔ ان پانچ صورتوں میں پہلی صورت کے سوا باقی سب قتل خطا کے ضمن میں آتی ہیں اور ان میں قصاص نہیں دیت ہوتی ہے جو قاتل کے ان رشتہ داروں پر پڑتی ہے جو اس کے نفع و نقصان میں شریک ہوتے اور جنہیں عاقلہ کہتے ہیں اور دیت کی ادائیگی کی زیادہ سے زیادہ مدت تین سال تک ہے۔
[131] ایک وقت وہ بھی تھا جب تم خود بھی کفار کے تشدد کی وجہ سے اپنے ایمان کو چھپایا کرتے تھے اور اپنا ایمان کسی دوسرے مسلمان پر صرف السلام علیکم کہہ کر ہی ظاہر کیا کرتے تھے اب اگر اللہ کی مہربانی سے تمہیں اسلامی ریاست میسر آگئی ہے اور تم اسلامی شعائر بجا لانے میں آزاد ہو تو کم از کم تمہیں ایسے لوگوں کا ضرور احساس کرنا چاہیے جو تمہارے والی ہی سابقہ منزل سے گزر رہے ہیں۔ لہٰذا ایسے موقع پر تحقیق انتہائی ضروری ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ حدیث تو صحیح ہے لیکن بعض نے اس میں علتیں نکالی ہیں کہ سماک راوی کے سوائے اس طریقے کا اور کوئی مخرج ہی اس کا نہیں، اور یہ کہ عکرمہ سے اس کے روایت کرنے کے بھی قائل ہے، اور یہ کہ اس آیت کے شان نزول میں اور واقعات بھی مروی ہیں، بعض کہتے ہیں محکم بن جثامہ کے بارے میں اتری ہے۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص کو اس کے والد اور اس کی قوم نے اپنے اسلام کی خبر پہنچانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، راستے میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ایک لشکر سے رات کے وقت ملاقات ہوئی اس نے ان سے کہا کہ میں مسلمان ہوں لیکن انہیں یقین نہ آیا اور اسے دشمن سمجھ کر قتل کر ڈالا۔
ان کے والد کو جب یہ علم ہوا تو یہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بیان کیا چنانچہ آپ نے انہیں ایک ہزار دینار دئیے اور دیت دی اور انہیں عزت کے ساتھ رخصت کیا، اس پر یہ آیت اتری۔
ایک اور روایت میں ہے کہ عامر نے اسلامی طریقہ کے مطابق سلام کیا تھا لیکن جاہلیت کی پہلی عداوت کے باعث محلم نے اسے تیر مار کر مار ڈالا یہ خبر پا کر عامر کے لوگوں سے محلم بن جثامہ نے مصالحانہ گفتگو کی لیکن عیینہ نے کہا نہیں نہیں اللہ کی قسم جب تک اس کی عورتوں پر بھی وہی مصیبت نہ آئے جو میری عورتوں پر آئی۔
چنانچہ محلم اپنی دونوں چادریں اوڑھے ہوئے آئے اور { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے اس اُمید پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے استغفار کریں لیکن آپ نے فرمایا اللہ تجھے معاف نہ کرے } یہ یہاں سے سخت نادم شرمسار روتے ہوئے اُٹھے اپنی چادروں سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے سات روز بھی نہ گذرنے پائے تھے انتقال کر گئے۔ لوگوں نے انہیں دفن کیا لیکن زمین نے ان کی نعش اگل دی،
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا تمہارے اس ساتھی سے نہایت بدتر لوگوں کو زمین سنبھال لیتی ہے لیکن اللہ کا ارادہ ہے کہ وہ تمہیں مسلمان کی حرمت دکھائے } چنانچہ ان کے لاشے کو پہاڑ پر ڈال دیا گیا اور اُوپر سے پتھر رکھ دئے گئے اور یہ آیت نازل ہوئی ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10216:ضعیف]
بزار میں یہ واقعہ پورا اس طرح مرودی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا جس میں سیدہ مقداد رضی اللہ عنہ بھی تھے جب دشمنوں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ سب تو اِدھر اُدھر ہو گئے ہیں ایک شخص مالدار وہاں رہ گیا ہے اس نے انہیں دیکھتے ہی «اشھد ان لا اللہ الا اللّٰہ» کہا۔ تاہم انہوں نے حملہ کر دیا اور اسے قتل کر ڈالا۔ ایک شخص جس نے یہ واقعہ دیکھا تھا وہ سخت برہم ہوا اور کہنے لگا سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر ڈالا جس نے کلمہ پڑھا تھا؟
میں اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کروں گا، جب یہ لشکر واپس پہنچا تو اس شخص نے یہ واقعہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آپ نے مقداد کو بلوایا اور فرمایا تم نے یہ کیا کیا؟ کل قیات کے دن تم «لا الٰہ الا اللّٰہ» کے سامنے کیا جواب دو گے؟ } پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور آپ نے فرمایا کہ { اے مقداد وہ شخص مسلمان تھا جس طرح تو مکہ میں اپنے ایمان کو مخفی رکھتا تھا پھر تو نے اس کے اسلام ظاہر کرنے کے باوجود اسے مارا؟ } ۱؎ [مسند بزار:2202،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
تم بھی اپنا وہ وقت یاد کرو کہ تم بھی ایسے ہی لاچار تھے اپنے ضعف اور اپنی کمزوری کی وجہ سے ایمان ظاہر کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے قوم میں چھپے لگے پھرتے تھے آج اللہ خالق کل نے تم پر احسان کیا تمہیں قوت دی اور تم کھلے بندوں اپنے اسلام کا اظہار کر رہے ہو، تو جو بے اسباب اب تک دشمنوں کے پنجے میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایمان کا اعلان کھلے طور پر نہیں کر سکے جب وہ اپنا ایمان ظاہر کریں تمہیں تسلیم کر لینا چاہیئے .
اور آیت میں ہے «وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» ۱؎ [8-الأنفال:26] ’ اس وقت کو یاد کرو جب تم مکّہ میں قلیل تعداد میں اور کمزور تھے -تم ہر آن ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک لے جائیں گے کہ خد انے تمہیں پناہ دی اور اپنی مدد سے تمہاری تائید کی -تمہیں پاکیزہ روزی عطا کی تاکہ تم اس کا شکریہ ادا کرو۔ ‘
الغرض ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح یہ بکری کا چرواہا اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا اسی طرح اس سے پہلے جبکہ بےسرو سامانی اور قلت کی حالت میں تم مشرکوں کے درمیان تھے ایمان چھپائے پھرتے تھے، یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم بھی پہلے اسلام والے نہ تھے اللہ نے تم پر احسان کیا اور تمہیں اسلام نصیب فرمایا .
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی تھی کہ اس کے بعد بھی کسی «لا الہ الا اللّٰہ» کہنے والے کو قتل نہ کروں گا کیونکہ انہیں بھی اس بارے میں پوری سرزنش ہوئی تھی۔ پھر تاکیداً دوبارہ فرمایا کہ بخوبی تحقیق کر لیا کرو، پھر دھمکی دی جاتی ہے کہ اللہ جل شانہ کو اپنے اعمال سے غافل نہ سمجھو، جو تم کر رہے، وہ سب کی پوری طرح خبر رکھتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى عباده المؤمنين إذا خرجوا جهاداً في سبيله وابتغاء مرضاتِهِ أن يتبيَّنوا ويتثبَّتوا في جميع أمورهم المشتبهة؛ فإنَّ الأمور قسمان: واضحةٌ وغير واضحةٍ؛ فالواضحة البيِّنة لا تحتاج إلى تثبُّت وتبيُّن؛ لأنَّ ذلك تحصيل حاصل. وأما الأمور المُشكلة غير الواضحة؛ فإنَّ الإنسان يحتاج إلى التثبُّت فيها والتبيُّن؛ لِيَعْرِفَ هل يُقْدِمُ عليها أم لا؛ فإنَّ التثبُّت في هذه الأمور يحصُل فيه من الفوائد الكثيرة والكفِّ لشرورٍ عظيمةٍ؛ ما به يُعْرَفُ دينُ العبد وعقلُه ورزانتُه؛ بخلاف المستعجِل للأمور في بداوتها قبل أن يتبيَّن له حكمها؛ فإنَّ ذلك يؤدِّي إلى ما لا ينبغي؛ كما جرى لهؤلاء الذين عاتبهم الله في الآية لمّا لم يتثبَّتوا وقتلوا مَن سَلَّم عليهم وكان معه غُنيمةٌ له أو مالُ غيره؛ ظنًّا أنه يستكفي بذلك قتلهم، وكان هذا خطأً في نفس الأمر؛ فلهذا عاتبهم بقوله: {ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمناً تبتغونَ عَرَض الحياة الدُّنيا فعندَ الله مغانم كثيرة}؛ أي: فلا يحملنَّكم العَرَض الفاني القليل على ارتكاب ما لا ينبغي، فيفوتكُم ما عند الله من الثواب الجزيل الباقي؛ فما عند الله خيرٌ وأبقى. وفي هذا إشارةٌ إلى أنَّ العبد ينبغي له إذا رأى دواعي نفسه مائلةً إلى حالةٍ له فيها هوى وهي مضرَّةٌ له؛ أن يذكِّرها ما أعدَّ الله لِمَن نهى نفسه عن هواها، وقدَّم مرضاة الله على رضا نفسِهِ؛ فإنَّ في ذلك ترغيباً للنفس في امتثال أمر الله، وإن شقَّ ذلك عليها.
ثم قال تعالى مذكِّراً لهم بحالهم الأولى قبل هدايتهم إلى الإسلام: {كذلك كنتُم من قبلُ فَمَنَّ اللهُ عليكم}؛ أي: فكما هداكم بعد ضلالِكم؛ فكذلك يهدي غيركم، وكما أنَّ الهداية حصلتْ لكم شيئاً فشيئاً؛ فكذلك غيركم؛ فنظرُ الكامل لحالِهِ الأولى الناقصة ومعاملته لمن كان على مثلها بمقتضى ما يعرف من حاله الأولى ودعائه له بالحكمة والموعظة الحسنة من أكبر الأسباب لنفعِهِ وانتفاعِهِ، ولهذا أعاد الأمر بالتبيين، فقال: {فتبيَّنوا}! فإذا كان من خرج للجهاد في سبيل الله ومجاهدة أعداء الله واستعدَّ بأنواع الاستعداد للإيقاع بهم مأموراً بالتبيين لمن ألقى إليه السلام، وكانتِ القرينةُ قويةً في أنه إنما سَلَّم تعوذاً من القتل وخوفاً على نفسه؛ فإن ذلك يدلُّ على الأمر بالتبيُّن والتثبُّت في كل الأحوال التي يقع فيها نوعُ اشتباه، فيتثبَّت فيها العبدُ، حتى يتَّضح له الأمرُ، ويبين الرشدُ والصوابُ.
{إنَّ الله كان بما تعملونَ خبيراً}: فيجازي كلاًّ ما عَمِلَهُ ونواه بحسب ما عَلِمهُ من أحوال عبادِهِ ونيَّاتِهِم.