ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 94

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوۡا وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ اَلۡقٰۤی اِلَیۡکُمُ السَّلٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنًا ۚ تَبۡتَغُوۡنَ عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫ فَعِنۡدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیۡرَۃٌ ؕ کَذٰلِکَ کُنۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ فَتَبَیَّنُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا ﴿۹۴﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم اللہ کے راستے میں سفر کرو تو خوب تحقیق کر لو اور جو تمھیں سلام پیش کرے اسے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں۔ تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں، اس سے پہلے تم بھی ایسے ہی تھے تو اللہ نے تم پر احسان فرمایا۔ پس خوب تحقیق کر لو ، بے شک اللہ ہمیشہ اس سے جو تم کرتے ہو، پورا با خبر ہے۔ En
مومنو! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلو کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے نزدیک بہت سے غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے
En
اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راه میں جا رہے ہو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تم سے سلام علیک کرے تو اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان واﻻ نہیں۔ تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو تو اللہ تعالیٰ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں۔ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا لہٰذا تم ضرور تحقیق وتفتیش کر لیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 94) ➊ {فَتَبَيَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا …:} ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی تھوڑی سی بکریوں کے پاس تھا، کچھ مسلمان وہاں سے گزرے، اس نے {اَلسَّلاَمُ عَلَيْكُمْ} کہا لیکن مسلمانوں نے اسے قتل کر ڈالا اور اس کی بکریاں لے لیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، جس میں ہے: «{ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا تم دنیا کا سامان چاہتے ہو؟ اس سے مراد وہ تھوڑی سی بکریاں ہیں۔ [بخاری، التفسیر، باب: { ولا تقولوا لمن ألقیٰ… }: ۴۵۹۱]
➋ {فَتَبَيَّنُوْا:} یہاں تبین یعنی تحقیق کر لینے کا حکم سفر کے ساتھ ذکر کیا ہے، مگر یہاں سفر کی قید بیان واقعہ کے لیے ہے، یعنی یہ حادثہ جس سے متعلق آیت نازل ہوئی ہے، سفر میں پیش آیا تھا، ورنہ تحقیق کا حکم جس طرح سفر میں ہے اسی طرح حضر میں بھی ہے۔ (قرطبی)
➌ { كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ:} یعنی یہی حالت پہلے تمھاری تھی، تم کافروں کے شہر میں رہتے تھے اور اپنے ایمان کو چھپاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے دین کو غالب کر کے تم پر احسان کیا۔ (قرطبی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

94۔ 1 احادیث میں آتا ہے کہ بعض صحابہ کسی علاقے سے گزر رہے تھے جہاں ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا، مسلمان کو دیکھ کر چروا ہے نے سلام کیا۔ بعض صحابہ نے سمجھا کہ شاید وہ جان بچانے کے لئے اپنے کو مسلمان ظاہر کر رہا ہے۔ چناچہ انہوں نے بغیر تحقیق کئے اسے قتل کر ڈالا اور بکریاں (بطور مال غنیمت) لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی، بعض روایات میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ مکہ میں پہلے تم بھی چرواہے کی طرح ایمان چھپانے پر مجبور تھے، مطلب یہ تھا کہ قتل کا کوئی جواز نہیں تھا۔ 94۔ 2 یعنی تمہیں چند بکریاں اس مقتول سے حاصل ہوگیئں، یہ کچھ بھی نہیں، اللہ کے پاس اس سے کہیں زیادہ بہتر نعمتیں ہیں جو اللہ رسول کی اطاعت کی وجہ سے تمہیں دنیا میں مل سکتی ہیں اور آخرت میں تو ان کا ملنا یقینی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

94۔ اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو (جہاد پر نکلو) تو اگر کوئی شخص تمہیں سلام کہے تو اسے یہ نہ کہا کرو کہ تم تو مومن نہیں بلکہ [129] اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ اگر تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو تو اللہ کے ہاں بہت سے اموال [130] غنیمت ہیں۔ اس سے پہلے تمہاری اپنی بھی یہی صورت حال تھی۔ پھر اللہ نے تم پر [131] احسان کیا، لہذا تحقیق ضرور کر لیا کرو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو یقیناً اللہ اس سے خبردار ہے
[129] جنگ کے دوران قتل خطا:
ابتدائے اسلام میں ’السلام علیکم‘ کا لفظ مسلمانوں کے لیے شعار اور فریقین کے مسلمان ہونے کی علامت سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس دور میں عرب کے نو مسلموں اور کافروں کے درمیان لباس، زبان یا کسی دوسری چیز میں نمایاں امتیاز نہ تھا جس کی بنا پر ایک مسلمان سرسری طور پر دوسرے مسلمان کو پہچان سکتا ہو لیکن کافروں سے لڑائی کے دوران یہ پیچیدگی پیش آجاتی کہ جس قوم پر مسلمان حملہ آور ہوتے ان میں سے کوئی شخص السلام علیکم یا لا الہ الا اللہ کہنے لگتا جس سے مسلمانوں کو یہ مغالطہ ہوتا کہ وہ حقیقتاً مسلمان نہیں بلکہ محض اپنی جان بچانے کے لیے یہ کلمہ زبان سے ادا کر رہا ہے تو وہ اپنے اسی گمان کی بنا پر اسے قتل کر دیتے اور اس کا مال لوٹ لیتے۔ چنانچہ درج ذیل احادیث میں اسی قسم کے دو واقعات کا ذکر ہے:
1۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص تھوڑی سی بکریاں لیے ہوئے مسلمانوں کو ملا اور السلام علیکم کہا۔ مسلمانوں نے اسے (بہانہ خور سمجھ کر) مار ڈالا۔ اور اس کی بکریاں لے لیں (اسامہ بن زیدؓ نے اسے قتل کیا) اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ [بخاري، كتاب التفسير]
جنگ کے دوران کلمہ اسلام کہنے والے کافر کا قتل جرم عظیم ہے:۔
سیدنا اسامہ بن زیدؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حرقات (قبیلہ جہینہ) کی طرف بھیجا۔ ہم نے علی الصبح ان پر حملہ کیا اور انہیں شکست دی۔ اور میں اور ایک انصاری ان کے ایک آدمی سے ملے اور جب ہم نے اس پر قابو پا لیا تو اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا۔ اب انصاری تو اس سے رک گیا مگر میں نے نیزہ چلا دیا حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ جب ہم واپس آئے تو یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا ”اسامہ! کیا تو نے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد اسے قتل کیا؟“ میں نے کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے پناہ چاہنے کے لیے یہ کہا تھا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”کیا تو نے اسے «لا اله الا الله» کہنے کے بعد قتل کیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ الفاظ کئی بار دہراتے رہے حتیٰ کہ میں نے خواہش کی کہ میں آج سے پہلے اسلام ہی نہ لایا ہوتا۔
[بخاری، کتاب الدیات۔ باب قول اللہ ومن احیاھا]
3۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولیدؓ نے (بنی ہدبہ کی جنگ میں) کافروں کو مارنا شروع کیا (حالانکہ وہ کہتے جاتے تھے کہ ہم نے دین بدلا ہم نے دین بدلا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ حال سنا تو فرمایا ”یا اللہ! میں خالد کے کام سے بیزار ہوں۔“
[بخاری، کتاب الجہاد، باب اذا قالوا صبانا ولم یحسنوا اسلمنا]
اور بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں ایسے مقتولوں کی دیت بھی بیت المال سے ادا کر دی تھی۔ اور بعض دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہؓ سے پوچھا کہ ”کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ محض اپنی جان بچانے کی خاطر «لا اله الا الله» کہہ رہا ہے۔“
4۔ مقداد بن اسودؓ سے روایت ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بھلا دیکھیے اگر میں کسی کافر سے لڑائی کروں اور وہ مجھ سے لڑائی کرے اور اپنی تلوار سے میرا ایک ہاتھ کاٹ دے پھر مجھ سے بچ کر ایک درخت میں چلا جائے اور کہنے لگے میں اللہ کے لیے اسلام لایا تو اس کے یہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اسے مت قتل کر۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے میرا ہاتھ کاٹنے کے بعد ایسا کہا تھا۔ پھر بھی میں اسے قتل نہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مت قتل کر اگرچہ تجھے اس سے تکلیف پہنچی۔ ورنہ وہ اس مقام پر آجائے گا جو تیرے قتل کرنے سے پہلے تیرا مقام تھا (یعنی وہ ظالم تھا اور تم حق پر تھے) اور اگر تو نے کلمہ اسلام کہنے کے بعد اسے قتل کیا تو تم اس کے مقام پر آ جاؤ گے (یعنی تم ظالم اور وہ مظلوم ہو گا)
[مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب تحریم قتل الکافر بعد قول لا الہ الا اللہ]
اس حدیث سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کے احکام ظاہر کے مطابق جاری ہوتے ہیں اور باطن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ چونکہ ایسا گمان شرعی نقطہ نظر سے غلط ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے واقعہ کی پوری طرح چھان بین کا حکم دیا۔ تحقیق کے بغیر چھوڑ دینے میں اگر یہ امکان ہے کہ ایک کافر جھوٹ بول کر اپنی جان بچا لے تو قتل کرنے میں اس کا بھی امکان ہے کہ ایک بے گناہ مومن تمہارے ہاتھ سے مارا جائے اور تمہارا ایک کافر کو چھوڑ دینے میں غلطی کرنا اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ تم ایک مومن کو قتل کرنے میں غلطی کرو۔ واضح رہے کہ آیت نمبر 92 میں اللہ تعالیٰ نے کسی مومن کے قتل خطا کے احوال و ظروف کے لحاظ سے تین صورتیں اور ان کے کفارے کا یوں بیان فرمایا:
1۔ مسلمان مقتول مسلمانوں ہی میں موجود ہو۔ اس کا کفارہ مسلمان غلام آزاد کرنا ہے اور دیت بھی۔ غلام نہ ملنے کی صورت میں متواتر دو ماہ کے روزے۔
2۔ مسلمان مقتول جو غیر مسلموں میں رہتا ہو۔ اس کا کفارہ صرف مسلمان غلام آزاد کرنا یا متبادل صورت میں روزے رکھنا ہے اس کے وارثوں کو دیت نہیں دی جائے گی اس لیے کہ اس سے اسلام کے دشمنوں کو ہی فائدہ پہنچے گا۔
3۔ اور اگر مسلمان مقتول ایسے غیر مسلموں سے ہو جن کے درمیان معاہدہ امن ہو چکا ہو تو اس کا کفارہ وہی ہو گا جو نمبر (1) کی صورت میں ہے۔ اب دیکھئے ان تینوں صورتوں میں مسلمان غلام آزاد کرنا لازم قرار دیا گیا ہے وہ اس لیے کہ جس طرح اس نے بے احتیاطی سے ایک مسلمان کو مار ڈالا ہے تو اس کے کفارہ میں مسلمان غلام آزاد کرنے کا مطلب یہ ہوا، کہ مسلمان غلام کو آزاد کر دینا گویا ایک مسلمان کو زندہ کر دینے کے مترادف ہے کیونکہ غلامی انسان کی صفت ملکیت اور آزادی کو، جسے اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھا ہے اور یہی اس کی زندگی کا مقتضیٰ ہے، زائل کرتی ہے اور اس کفارہ میں نوع انسان پر احسان بھی ہے۔ دوسری قابل وضاحت بات یہ ہے کہ قتل کی کل پانچ قسمیں ہیں:
قتل کی پانچ اقسام:۔
مسلمان کا قتل عمد۔ اس کی اخروی سزا یہاں مذکور ہوئی ہے اور دنیا میں اس کی سزا قصاص ہے یا اس کے متبادل دیت اور مقتول کے وارثوں کی طرف سے معافی وغیرہ جس کا ذکر سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 178، 179 کے حواشی نمبر 222 تا 225 میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
2۔ قتل خطا جبکہ خطا سمجھنے میں ہو جیسے کسی کو کافر سمجھ کر مار ڈالے جس کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔
3۔ قتل خطا جبکہ خطا فعل میں ہو جیسے گولی یا تیر مارا تو کسی شکار کو تھا اور وہ لگ جائے کسی مسلمان کو جس سے اس کی موت واقع ہو جائے۔
4۔ قتل خطا جبکہ خطا اتفاقاً واقع ہو جائے جیسے کوئی آدمی گاڑی کے نیچے آکر مر جائے۔
5۔ قتل شبہ عمد۔ یعنی کسی شخص کی ایسی چیز سے موت واقع ہو جائے جس سے عموماً موت واقع نہ ہوتی ہو جیسے کسی کو مکا یا چھڑی ماری جائے جس سے وہ مر جائے۔ ان پانچ صورتوں میں پہلی صورت کے سوا باقی سب قتل خطا کے ضمن میں آتی ہیں اور ان میں قصاص نہیں دیت ہوتی ہے جو قاتل کے ان رشتہ داروں پر پڑتی ہے جو اس کے نفع و نقصان میں شریک ہوتے اور جنہیں عاقلہ کہتے ہیں اور دیت کی ادائیگی کی زیادہ سے زیادہ مدت تین سال تک ہے۔
[130] قتل اور دوسرے جرائم کی تحقیق ضروری ہے خواہ سفر ہو یا حضر:۔
اس آیت میں تحقیق کا حکم سفر کے ساتھ اس لیے متعلق کیا گیا ہے کہ ایسا واقعہ سفر جہاد میں ہوا تھا ورنہ تحقیق کا حکم حضر میں بھی ایسے ہی ہے جیسے سفر میں۔ تحقیق کے بغیر کسی السلام علیکم کہنے والے کو جلدی سے قتل کر دینے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کچھ لوٹ کا مال بھی ہاتھ لگ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے لیے بہت سے ایسے مواقع پیش آنے والے ہیں جن سے اموال غنیمت تمہیں بکثرت حاصل ہوں گے لہٰذا لوٹ مار کی ہوس کی بنا پر ایسے کام ہرگز نہ کرو۔
[131] ایک وقت وہ بھی تھا جب تم خود بھی کفار کے تشدد کی وجہ سے اپنے ایمان کو چھپایا کرتے تھے اور اپنا ایمان کسی دوسرے مسلمان پر صرف السلام علیکم کہہ کر ہی ظاہر کیا کرتے تھے اب اگر اللہ کی مہربانی سے تمہیں اسلامی ریاست میسر آگئی ہے اور تم اسلامی شعائر بجا لانے میں آزاد ہو تو کم از کم تمہیں ایسے لوگوں کا ضرور احساس کرنا چاہیے جو تمہارے والی ہی سابقہ منزل سے گزر رہے ہیں۔ لہٰذا ایسے موقع پر تحقیق انتہائی ضروری ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا قتل ناقابل معافی جرم ہے ٭٭
ترمذوی وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ بنو سلیم کا ایک شخص بکریاں چراتا ہوا صحابہ کی ایک جمات کے پاس سے گذرا اور سلام کیا تو صحابہ آپس میں کہنے لگے یہ مسلمان تو ہے نہیں صرف اپنی جان بچانے کے لیے سلام کرتا ہے چنانچہ اسے قتل کر دیا اور بکریاں لے کر چلے آئے، اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [مسند احمد:229/1:قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏
یہ حدیث تو صحیح ہے لیکن بعض نے اس میں علتیں نکالی ہیں کہ سماک راوی کے سوائے اس طریقے کا اور کوئی مخرج ہی اس کا نہیں، اور یہ کہ عکرمہ سے اس کے روایت کرنے کے بھی قائل ہے، اور یہ کہ اس آیت کے شان نزول میں اور واقعات بھی مروی ہیں، بعض کہتے ہیں محکم بن جثامہ کے بارے میں اتری ہے۔
بعض کہتے ہیں اسامہ بن زید کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، لیکن میرے خیال میں یہ سب ناقابل تسلیم ہے سماک سے اسے بہت سے ائمہ کبار نے روایت کیا ہے، عکرمہ سے صحیح دلیل لی گئی ہے، یہی روایت دوسرے طریق سے ابن عباس سے صحیح بخاری میں مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4591]‏‏‏‏ سعید بن منصور میں یہی مروی ہے۔
ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص کو اس کے والد اور اس کی قوم نے اپنے اسلام کی خبر پہنچانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، راستے میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ایک لشکر سے رات کے وقت ملاقات ہوئی اس نے ان سے کہا کہ میں مسلمان ہوں لیکن انہیں یقین نہ آیا اور اسے دشمن سمجھ کر قتل کر ڈالا۔
ان کے والد کو جب یہ علم ہوا تو یہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بیان کیا چنانچہ آپ نے انہیں ایک ہزار دینار دئیے اور دیت دی اور انہیں عزت کے ساتھ رخصت کیا، اس پر یہ آیت اتری۔
محلم بن جثامہ کا واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک چھوٹا سا لشکر اخسم کی طرف بھیجا جب یہ لشکر بطل اخسم میں پہنچا تو عامر بن اضبط اشجعی اپنی سواری پر سوار مع اسباب کے آ رہے تھے پاس پہنچ کر سلام کیا سب تو رک گئے لیکن محکم بن جثامہ نے آپس کی پرانی عداوت کی بنا پر اس پر جھپٹ کر حملہ کر دیا، انہیں قتل کر ڈالا اور ان کا اسباب قبضہ میں کر لیا پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ یہ واقعہ بیان کیا اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [مسند احمد:11/6]‏‏‏‏
ایک اور روایت میں ہے کہ عامر نے اسلامی طریقہ کے مطابق سلام کیا تھا لیکن جاہلیت کی پہلی عداوت کے باعث محلم نے اسے تیر مار کر مار ڈالا یہ خبر پا کر عامر کے لوگوں سے محلم بن جثامہ نے مصالحانہ گفتگو کی لیکن عیینہ نے کہا نہیں نہیں اللہ کی قسم جب تک اس کی عورتوں پر بھی وہی مصیبت نہ آئے جو میری عورتوں پر آئی۔
چنانچہ محلم اپنی دونوں چادریں اوڑھے ہوئے آئے اور { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے اس اُمید پر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے استغفار کریں لیکن آپ نے فرمایا اللہ تجھے معاف نہ کرے } یہ یہاں سے سخت نادم شرمسار روتے ہوئے اُٹھے اپنی چادروں سے اپنے آنسو پونچھتے جاتے تھے سات روز بھی نہ گذرنے پائے تھے انتقال کر گئے۔ لوگوں نے انہیں دفن کیا لیکن زمین نے ان کی نعش اگل دی،
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا تمہارے اس ساتھی سے نہایت بدتر لوگوں کو زمین سنبھال لیتی ہے لیکن اللہ کا ارادہ ہے کہ وہ تمہیں مسلمان کی حرمت دکھائے } چنانچہ ان کے لاشے کو پہاڑ پر ڈال دیا گیا اور اُوپر سے پتھر رکھ دئے گئے اور یہ آیت نازل ہوئی ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10216:ضعیف]‏‏‏‏
صحیح بخاری شریف میں تعلیقاً مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد سے فرمایا جبکہ انہوں نے قوم کفار کے ساتھ جو مسلمان مخفی ایمان والا تھا اسے قتل کر دیا تھا باوجودیکہ اس نے اپنے سلام کا اظہار کر دیا تھا کہ تم بھی مکہ میں اسی طرح ایمان چھپائے ہوئے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6866]‏‏‏‏
بزار میں یہ واقعہ پورا اس طرح مرودی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا جس میں سیدہ مقداد رضی اللہ عنہ بھی تھے جب دشمنوں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ سب تو اِدھر اُدھر ہو گئے ہیں ایک شخص مالدار وہاں رہ گیا ہے اس نے انہیں دیکھتے ہی «اشھد ان لا اللہ الا اللّٰہ» کہا۔ تاہم انہوں نے حملہ کر دیا اور اسے قتل کر ڈالا۔ ایک شخص جس نے یہ واقعہ دیکھا تھا وہ سخت برہم ہوا اور کہنے لگا سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر ڈالا جس نے کلمہ پڑھا تھا؟
میں اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کروں گا، جب یہ لشکر واپس پہنچا تو اس شخص نے یہ واقعہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آپ نے مقداد کو بلوایا اور فرمایا تم نے یہ کیا کیا؟ کل قیات کے دن تم «لا الٰہ الا اللّٰہ» کے سامنے کیا جواب دو گے؟ } پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور آپ نے فرمایا کہ { اے مقداد وہ شخص مسلمان تھا جس طرح تو مکہ میں اپنے ایمان کو مخفی رکھتا تھا پھر تو نے اس کے اسلام ظاہر کرنے کے باوجود اسے مارا؟ } ۱؎ [مسند بزار:2202،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس غنیمت کے لالچ میں تم غفلت برتتے ہو اور سلام کرنے والوں کے ایمان میں شک و شبہ کر کے انہیں قتل کر ڈالتے ہو یاد رکھو وہ غنیمت اللہ کی طرف سے ہے اس کے پاس بہت سے غنیمتیں ہیں جو وہ تمہیں حلال ذرائع سے دے گا اور وہ تمہارے لیے اس مال سے بہت بہتر ہوں گے۔
تم بھی اپنا وہ وقت یاد کرو کہ تم بھی ایسے ہی لاچار تھے اپنے ضعف اور اپنی کمزوری کی وجہ سے ایمان ظاہر کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے قوم میں چھپے لگے پھرتے تھے آج اللہ خالق کل نے تم پر احسان کیا تمہیں قوت دی اور تم کھلے بندوں اپنے اسلام کا اظہار کر رہے ہو، تو جو بے اسباب اب تک دشمنوں کے پنجے میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایمان کا اعلان کھلے طور پر نہیں کر سکے جب وہ اپنا ایمان ظاہر کریں تمہیں تسلیم کر لینا چاہیئے .
اور آیت میں ہے «وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» ۱؎ [8-الأنفال:26]‏‏‏‏ ’ اس وقت کو یاد کرو جب تم مکّہ میں قلیل تعداد میں اور کمزور تھے -تم ہر آن ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک لے جائیں گے کہ خد انے تمہیں پناہ دی اور اپنی مدد سے تمہاری تائید کی -تمہیں پاکیزہ روزی عطا کی تاکہ تم اس کا شکریہ ادا کرو۔ ‘
الغرض ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح یہ بکری کا چرواہا اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا اسی طرح اس سے پہلے جبکہ بےسرو سامانی اور قلت کی حالت میں تم مشرکوں کے درمیان تھے ایمان چھپائے پھرتے تھے، یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ تم بھی پہلے اسلام والے نہ تھے اللہ نے تم پر احسان کیا اور تمہیں اسلام نصیب فرمایا .
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی تھی کہ اس کے بعد بھی کسی «‏‏‏‏لا الہ الا اللّٰہ» کہنے والے کو قتل نہ کروں گا کیونکہ انہیں بھی اس بارے میں پوری سرزنش ہوئی تھی۔ پھر تاکیداً دوبارہ فرمایا کہ بخوبی تحقیق کر لیا کرو، پھر دھمکی دی جاتی ہے کہ اللہ جل شانہ کو اپنے اعمال سے غافل نہ سمجھو، جو تم کر رہے، وہ سب کی پوری طرح خبر رکھتا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے جہاد پر نکلیں تو تمام مشتبہ امور میں اچھی طرح تحقیق کر لیا کریں اور جلدی نہ کیا کریں۔ کیونکہ تمام معاملات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ واضح اور غیر واضح۔ جو امور واضح ہوتے ہیں ان میں تحقیق اور جانچ پڑتال کی کچھ زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ چیز تحصیل حاصل کے زمرے میں آتی ہے۔ رہے مشکل اور غیر واضح امور تو انسان ان میں جانچ پڑتال اور تحقیق کا محتاج ہوتا ہے۔ کہ آیا وہ اس میں اقدام کرے یا نہ کرے؟ کیونکہ ان امور میں تحقیق اور جانچ پڑتال سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ بڑی بڑی برائیوں کا سدباب ہو جاتا ہے۔ اس کے ذریعے سے بندے کے دین، عقل اور وقار کے بارے میں معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص جو معاملات کی ابتدا ہی میں ان کی جانچ پڑتال سے پہلے فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام لیتا ہے۔ اسے اس عجلت سے ایسے نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے جو نہایت غیر مناسب ہوں۔ جیسا کہ ان مسلمانوں کے ساتھ ہوا جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ جنھوں نے بغیر کسی تحقیق اور جانچ پڑتال کے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا جس نے ان کو سلام کیا تھا۔ اس کے پاس کچھ بکریاں یا کوئی اور مال تھا اس کا خیال تھا کہ اس طرح (سلام کرنے سے) قتل ہونے سے بچ جائے گا اور ان کا یہ فعل (قتل) درحقیقت خطا تھا، بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا۔
﴿ وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْ٘قٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰ٘مَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ٞ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ جو تمھیں سلام کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو تو اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں یعنی فانی دنیا کا یہ قلیل اور فانی مال و متاع تمھیں کسی ایسے کام کے ارتکاب پر آمادہ نہ کرے جو مناسب نہ ہو اور اس کے نتیجے میں تم اس بے پایاں ثواب سے محروم ہو جاؤ جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ پس جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو چاہیے کہ جب وہ دیکھے کہ اس کے نفس کے داعیے کسی ایسے حال کی طرف مائل ہیں جس میں خواہشات نفس کا شائبہ ہے اور یہ اس کے لیے ضرر رساں ہے تو وہ اس ثواب اور نعمتوں کو یاد کرے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں جنھوں نے خواہشات نفس کو روکا ہوا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنے نفس کی خواہش پر مقدم رکھا کیونکہ اس میں نفس کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی ترغیب ہے خواہ اس میں اس کے لیے مشقت ہی کیوں نہ ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ ان کو اسلام سے قبل ان کی حالت یاد دلاتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَ٘مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھر اللہ نے تم پر احسان کیا یعنی اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمھیں تمھاری گمراہی کے بعد ہدایت سے نوازا ہے۔ اسی طرح وہ دوسروں کو بھی راہ ہدایت دکھاتا ہے اور جس طرح تمھیں بتدریج آہستہ آہستہ ہدایت حاصل ہوئی ہے اسی طرح تمھارے علاوہ بھی آہستہ آہستہ راہ ہدایت پر گامزن ہو جائیں گے۔ پس کامل شخص کا اپنے پہلے اور ناقص حال پر نظر رکھنا، اور اس ناقص شخص کے ساتھ، جس کی مانند کبھی وہ بھی ناقص تھا، اس کے مقتضائے حال کے مطابق معاملہ کرنا اور اس کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بھلائی کی طرف دعوت دینا اس کے لیے فائدہ پہنچانے اور فائدہ حاصل کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔
بنابریں اللہ تعالیٰ نے تحقیق حال کے حکم کا ان الفاظ میں اعادہ کیا ﴿ فَتَبَیَّنُوْا تحقیق کرلیا کرو۔ یعنی خوب تحقیق کر لیا کرو۔ جب کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتا ہے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف قسم کی تیاری کرتا ہے، تو وہ اس بات پر مامور ہے کہ جو کوئی اس کو سلام کرے، اس کی تحقیق کر لے حالانکہ بہت ہی قوی قرینہ موجود تھا کہ اس نے جان کے خوف سے اور جان بچانے کے لیے سلام کیا ہو۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان تمام احوال کے بارے میں، جن میں کسی قسم کا اشتباہ واقع ہو گیا ہو تحقیق اور جانچ پڑتال کی جائے پس بندہ حقیقت حال معلوم کرنے کی کوشش کرے حتیٰ کہ اس کے سامنے معاملہ واضح ہو جائے اور رشد و صواب متحقق ہو کر سامنے آجائے۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا اور جو عمل تم کرتے ہو، اللہ کو سب کی خبر ہے۔ اللہ اپنے بندوں کے احوال اور ان کی نیتوں کو جانتا ہے اس لیے وہ ہر ایک کو اس کے عمل اور نیت کے مطابق جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى عباده المؤمنين إذا خرجوا جهاداً في سبيله وابتغاء مرضاتِهِ أن يتبيَّنوا ويتثبَّتوا في جميع أمورهم المشتبهة؛ فإنَّ الأمور قسمان: واضحةٌ وغير واضحةٍ؛ فالواضحة البيِّنة لا تحتاج إلى تثبُّت وتبيُّن؛ لأنَّ ذلك تحصيل حاصل. وأما الأمور المُشكلة غير الواضحة؛ فإنَّ الإنسان يحتاج إلى التثبُّت فيها والتبيُّن؛ لِيَعْرِفَ هل يُقْدِمُ عليها أم لا؛ فإنَّ التثبُّت في هذه الأمور يحصُل فيه من الفوائد الكثيرة والكفِّ لشرورٍ عظيمةٍ؛ ما به يُعْرَفُ دينُ العبد وعقلُه ورزانتُه؛ بخلاف المستعجِل للأمور في بداوتها قبل أن يتبيَّن له حكمها؛ فإنَّ ذلك يؤدِّي إلى ما لا ينبغي؛ كما جرى لهؤلاء الذين عاتبهم الله في الآية لمّا لم يتثبَّتوا وقتلوا مَن سَلَّم عليهم وكان معه غُنيمةٌ له أو مالُ غيره؛ ظنًّا أنه يستكفي بذلك قتلهم، وكان هذا خطأً في نفس الأمر؛ فلهذا عاتبهم بقوله: {ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمناً تبتغونَ عَرَض الحياة الدُّنيا فعندَ الله مغانم كثيرة}؛ أي: فلا يحملنَّكم العَرَض الفاني القليل على ارتكاب ما لا ينبغي، فيفوتكُم ما عند الله من الثواب الجزيل الباقي؛ فما عند الله خيرٌ وأبقى. وفي هذا إشارةٌ إلى أنَّ العبد ينبغي له إذا رأى دواعي نفسه مائلةً إلى حالةٍ له فيها هوى وهي مضرَّةٌ له؛ أن يذكِّرها ما أعدَّ الله لِمَن نهى نفسه عن هواها، وقدَّم مرضاة الله على رضا نفسِهِ؛ فإنَّ في ذلك ترغيباً للنفس في امتثال أمر الله، وإن شقَّ ذلك عليها.

ثم قال تعالى مذكِّراً لهم بحالهم الأولى قبل هدايتهم إلى الإسلام: {كذلك كنتُم من قبلُ فَمَنَّ اللهُ عليكم}؛ أي: فكما هداكم بعد ضلالِكم؛ فكذلك يهدي غيركم، وكما أنَّ الهداية حصلتْ لكم شيئاً فشيئاً؛ فكذلك غيركم؛ فنظرُ الكامل لحالِهِ الأولى الناقصة ومعاملته لمن كان على مثلها بمقتضى ما يعرف من حاله الأولى ودعائه له بالحكمة والموعظة الحسنة من أكبر الأسباب لنفعِهِ وانتفاعِهِ، ولهذا أعاد الأمر بالتبيين، فقال: {فتبيَّنوا}! فإذا كان من خرج للجهاد في سبيل الله ومجاهدة أعداء الله واستعدَّ بأنواع الاستعداد للإيقاع بهم مأموراً بالتبيين لمن ألقى إليه السلام، وكانتِ القرينةُ قويةً في أنه إنما سَلَّم تعوذاً من القتل وخوفاً على نفسه؛ فإن ذلك يدلُّ على الأمر بالتبيُّن والتثبُّت في كل الأحوال التي يقع فيها نوعُ اشتباه، فيتثبَّت فيها العبدُ، حتى يتَّضح له الأمرُ، ويبين الرشدُ والصوابُ.

{إنَّ الله كان بما تعملونَ خبيراً}: فيجازي كلاًّ ما عَمِلَهُ ونواه بحسب ما عَلِمهُ من أحوال عبادِهِ ونيَّاتِهِم.