تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى:} یعنی جان و مال سے جہاد کرنے والوں کو جو فضیلت حاصل ہو گی، جہاد میں حصہ نہ لینے والے اگرچہ اس سے محروم رہیں گے، تاہم اللہ تعالیٰ نے دونوں کے ساتھ ہی بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔ اس سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ عام حالات میں جہاد کے لیے نکلنا فرض عین نہیں، فرض کفایہ ہے، یعنی اگر بقدر ضرورت آدمی جہاد میں حصہ لے لیں تو اس علاقے کے دوسرے لوگوں کی طرف سے بھی یہ فرض ادا شدہ سمجھا جائے گا، لیکن اگر بقدر ضرورت نہ نکلیں تو تمام لوگ گناہ گار ہوں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ﴾
اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن ثابتؓ کو بلایا انہوں نے یہ آیت لکھی۔ اتنے میں ابن ام مکتومؓ آئے اور شکوہ کیا کہ میں تو اندھا ہوں (میرا کیا قصور؟) اس وقت اللہ تعالیٰ نے غیر اولی الضرر کے الفاظ نازل فرمائے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير] گویا اللہ تعالیٰ نے سیدنا عبد اللہؓ بن ام مکتوم کے عذر کو قبول فرما لیا لیکن اس رخصت کے باوجود آپ کا جذبہ جہاد اتنا بلند تھا کہ نابینا ہونے کے باوجود آپ مشقت اٹھا کر بھی کئی غزوات میں شریک ہوئے۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان جنگ بدر میں شریک ہوئے اور جو نہیں ہوئے یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
[حواله ايضاً]
[بخاری، کتاب المغازی۔ باب غزوہ تبوک۔۔ مسلم۔ کتاب الامارۃ، باب ثواب من حبسہ عن الغزو مرض او عذر آخر]
اور جہاد کے فرض عین نہ ہونے پر یہ آیت بھی دلالت کرتی ہے ﴿وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَافَّةً﴾ [9: 122]
”مومنوں کے لیے ممکن ہی نہیں کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔“
اور آج کل تو حکومتوں نے محکمہ دفاع ہی الگ بنا رکھا ہے۔ البتہ اگر ایک اسلامی حکومت جہاد کا اعلان کر کے عام لوگوں کو جہاد کے لیے کہے تو اس صورت میں عام لوگوں پر بھی جہاد فرض ہو جائے گا لیکن پھر بھی یہ فرض کفایہ ہی ہو گا۔ فرض عین نہیں ہو گا۔ تاہم جہاد ایک اہم فرض کفایہ ہے جس سے غفلت کا نتیجہ قوم کی موت کی صورت میں نکلتا ہے اور یہ تا قیامت جاری رہے گا۔
[بخاری، کتاب الجہاد۔ باب افضل الناس مومن یجاہد بنفسہ ومالہ]
اور سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کیا ہے اور ہر درجہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان ہے۔“
[بخاری، کتاب الجہاد، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ]
صوفیہ کے اس نظریہ نے مسلمانوں کو جتنا نقصان پہنچایا شاید ہی کسی اور وجہ سے پہنچا ہو اس نظریہ نے مسلمانوں سے جہاد کی روح کو ختم کر کے دنیا میں ذلیل اور رسوا بنا دیا اور ایسے افعال سے مجاہدہ نفس شروع کیا جس سے انسانیت کو بھی شرم آنے لگے۔ دسویں صدی ہجری کے اواخر تک اس نظریہ نے مسلمانوں کو اس قدر مفلوج، کاہل اور بے فہم بنا دیا تھا کہ فرانسیسی فاتحین کے حملوں کا دفاع جامعہ ازہر میں بیٹھ کر اور اوراد و وظائف کے ذریعے کر رہے تھے۔ نابلیوں کا انتخاب کر کے انہیں صوفیاء کی گودڑی پہنائی گئی اور اس کی رہنمائی میں ذکر و فکر کی مجالس قائم کی گئیں۔ بخاری شریف کا ختم بھی کرایا گیا۔ لیکن ان سب باتوں کا کچھ بھی فائدہ نہ ہوا اور مسلمان مار ہی کھاتے رہے۔ بالآخر جب مسلمان مجاہدین نے یورپ کی سرزمین میں لوگوں سے جنگیں کیں تب جا کر حالات نے پلٹا کھایا۔ [مقدمه الفكرا لصوفي 6] اس گوشہ نشینی کا جو اثر ان صوفیاء کی ذات پر مترتب ہوتا ہے وہ ابو بکر شبلی کی زبانی ملاحظہ فرمائیے۔ روایت ہے کہ کچھ عرصہ شبلی اپنے مقام سے غائب رہے۔ ہرچند تلاش کیا پتہ نہ چلا۔ ایک روز محفلوں کے گروہوں میں دیکھے گئے۔ لوگوں نے پوچھا اے شیخ! یہ کیا بات ہے؟ فرمایا: یہ گروہ (صوفیہ) دنیا میں نہ مرد ہیں نہ عورت۔ میں بھی اسی حالت میں گرفتار ہوں نہ مرد ہوں نہ عورت پس ناچار میری جگہ انہی میں ہے۔ [خزينة الاصفياء ص 147]
1۔ اللہ تعالیٰ نے ابتداًء ایمان کا یہ معیار بتایا تھا کہ ایک مومن دس کافروں پر غالب ہونا چاہیے۔ بعد ازاں اس میں تخفیف کر کے یہ معیار مقرر ہوا کہ کم از کم ایک مومن کو دو کافروں پر ضرور بھاری ہونا چاہیے۔ مگر یہاں یہ صورت حال ہے کہ شیخ جنید کے آٹھ کامل و اکمل مرید ایک کافر کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں چاہیے تو یہ تھا کہ اگر انہیں شہادت کا اتنا ہی شوق تھا تو بیس پچیس کافروں کو مار کر خود شہید ہوتے۔ مگر یہ سب ایک کافر کے ہاتھوں یوں مارے جا رہے ہیں جیسے قصاب بکروں کو ذبح کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ معیار کے مطابق ان میں ایمان کا جتنا حصہ تھا وہ آپ خود ہی اندازہ فرما لیجئے۔ یہی وہ قباحت ہے جس کی بنا پر اسلام نے رہبانیت یا طریقت کو مذموم قرار دیا۔
2۔ شیخ جنید بغدادی کو خود اپنی شہادت کا بھی خطرہ لاحق ہو چلا تھا۔ وہ تو خیریت گزری کہ اس گبر کا نور فراست شیخ جنید کے نور فراست سے زیادہ تھا اور اس گبر کو شیخ جنید سے پہلے معلوم ہو گیا کہ نواں کجا وہ شیخ کے لیے نہیں بلکہ میرے لیے ہے۔
3۔ اسلام لانے کا یہ بھی کیسا انوکھا طریقہ ہے کہ کافر خود کسی مسلمان کو کہے کہ میرے سامنے اسلام پیش کر تاکہ میں اسلام لاؤں۔ بہرحال ولایت کی دنیا الگ ہے اور بمصداق ’رموز مملکت خویش خسرواں دانند‘ یہ بات بھی تسلیم کر ہی لینی چاہیے۔
4۔ البتہ اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ روم تو سارا عہد فاروقی اور عہد عثمانی میں فتح ہو چکا تھا اور شیخ جنید کے زمانہ میں بغداد سے لے کر روم تک سارا علاقہ اسلامی مملکت میں شامل تھا تو روم کے راستے میں ان کو کفار کا لشکر کہاں ملا تھا؟
5۔ اس قصہ سے بہرحال یہ ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ صوفیہ کے اس ’نظریہ جہاد اکبر‘ کے نظریہ نے مسلمانوں کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے۔
[133] اور تیسری بات اس آیت سے یہ معلوم ہوئی کہ جنت میں داخلہ کے لیے جہاد لازمی شرط نہیں ہے بلکہ توحید پر ثابت قدم رہنے والے اور دوسرے احکام الٰہی بجا لانے والے مسلمان بھی جنت میں ضرور جائیں گے اگرچہ ان کے درجات مجاہدین فی سبیل اللہ سے کم ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور روایت میں ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ قلم دوات اور شانہ لے کر آئے تھے ۱؎ [صحیح بخاری:4594] اور حدیث میں ہے کہ { سیدنا ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھ میں طاقت ہوتی تو میں ضرور جہاد میں شامل ہوتا اس پر وہ آیت اتری اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی ران پر تھی ان پر اس قدر بوجھ پڑا قریب تھا کہ ران ٹوٹ جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2832]
وہ حدیث میں ہے کہ جس وقت ان آیات کی وحی اتری اور اس کے بعد طمانیت آپ پر نازل ہوئی { میں آپ کے پہلو میں تھا اللہ کی قسم مجھ پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کا ایسا بوجھ پڑا کہ میں نے اس سے زیادہ بوجھل چیز زندگی بھر کوئی اٹھائی پھر وحی ہٹ جانے کے بعد آپ نے «عَظِيمًا» تک آیت لکھوائی اور میں نے اسے شانے کی ہڈی پر لکھ لیا }
اور حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ابھی تو سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے الفاظ ختم بھی نہ ہوئے تھے جو آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی، سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں { وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بعد میں اترے ہوئے الفاظ کو میں نے ان کی جگہ پر اپنی تحریر میں بعد میں بڑھایا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2507،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پس مجاہدین کو جس قسم کے بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دی گئی ہے وہ وہ ہیں جو صحت و تندرستی والے ہوں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3032:صحیح] پس پہلے تو مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر مطلقاً فضیلت تھی لیکن اسی وحی میں جو الفاظ اترے اس نے ان لوگوں کو جنہیں مباح عذر ہوں عام بیٹھ رہنے والوں سے مستثنیٰ کر دیا جیسے اندھے لنگڑے لولے اور بیمار، یہ مجاہدین کے درجے میں ہیں۔
اور روایت میں ہے کہ تم جو خرچ کرتے ہو اس کا ثواب بھی جو تمہیں ملتا ہے انہیں بھی ملتا ہے ۱؎ [سنن ابوداود:2508:صحیح] اسی مطلب کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں «یارا حلین الی البیت العتیق لقد» «سر تم جسو ماو سرنا نحن ارواحا» «انا اقمنا علی عذروعن قدر» «ومن اقام علی عذر فقدراحا» یعنی اے اللہ کے گھر کے حج کو جانے والو! اگر تم اپنے جسموں سمیت اس طرف چل رہے ہو لیکن ہم بھی اپنی روحانی روش سے اسی طرف لپکے جا رہے ہیں، سنو ہماری جسمانی کمزوری اور عذر نے ہمیں روک رکھا ہے اور ظاہر ہے کہ عذر سے رک جانے والا کچھ جانے والے سے کم نہیں۔
بخاری و مسلم میں ہے { جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے راہ کے مجاہدین کے لیے تیار کیا ہے ہر دو درجوں میں اس قدر فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں } ۱؎ [صحیح بخاری:2790]
اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے اسے جنت کا درجہ ملتا ہے ایک شخص نے پوچھا درجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا وہ تمہارے یہاں کے گھروں کے بالا خانوں جتنا نہیں بلکہ دو درجوں میں سو سال کا فاصلہ ہے۔ } ۱؎ [الدر المنثور:365/2:ضعیف و منقطع]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: لا يستوي مَن جاهد من المؤمنين بنفسِهِ ومالِهِ ومن لم يخرجْ للجهاد ولم يقاتِلْ أعداء الله؛ ففيه الحث على الخروج للجهاد والترغيب في ذلك والترهيب من التَّكاسل والقعود عنه من غير عذر، وأما أهل الضَّرر كالمريض والأعمى والأعرج والذي لا يجدُ ما يتجهَّزُ به؛ فإنهم ليسوا بمنزلة القاعدين من غير عذر؛ فمن كان من أولي الضرر راضياً بقعوده، لا ينوي الخروج في سبيل الله لولا وجود المانع ولا يحدِّث نفسه بذلك؛ فإنه بمنزلة القاعد لغير عذر، ومن كان عازماً على الخروج في سبيل الله لولا وجود المانع يتمنَّى ذلك ويحدِّث به نفسَه؛ فإنه بمنزلة من خرج للجهاد؛ لأنَّ النيَّة الجازمة إذا اقترن بها مقدورُها من القول أو الفعل، يُنَزَّلُ صاحبها منزلة الفاعل.
ثمَّ صرَّح تعالى بتفضيل المجاهدين على القاعدين بالدرجة؛ أي: الرفعة، وهذا تفضيل على وجه الإجمال، ثم صرَّح بذلك على وجه التفصيل، ووعدهم بالمغفرة الصادرة من ربِّهم والرحمة التي تشتَمِلُ على حصول كلِّ خير واندفاع كلِّ شرٍّ، والدرجات التي فصلها النبي - صلى الله عليه وسلم - بالحديث الثابت عنه في «الصحيحين»: «إن في الجنة مائة درجة، ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض، أعدها الله للمجاهدين في سبيله». وهذا الثواب الذي رتَّبه الله على الجهاد نظير الذي في سورة الصفِّ في قوله: {يا أيُّها الذين آمنوا هل أدلُّكم على تجارةٍ تُنجيكم من عذابٍ أليم. تؤمنون بالله ورسولِهِ وتجاهِدون في سبيل اللهِ بأموالِكم وأنفسِكم ذلكم خيرٌ لكم إن كنتُم تعلَمون. يَغْفِرْ لكُم ذُنوبَكُم ويُدْخِلْكم جناتٍ تجري من تحتِها الأنهارُ ومساكنَ طيبةً في جنَّاتِ عدنٍ ذلك الفوزُ العظيم ... } إلى آخر السورة.
وتأمَّل حُسْنَ هذا الانتقال من حالةٍ إلى أعلى منها؛ فإنه نفى التسوية أولاً بين المجاهد وغيره، ثم صرَّح بتفضيل المجاهدِ على القاعِد بدرجةٍ، ثمَّ انتقل إلى تفضيلِهِ بالمغفرةِ والرحمةِ والدَّرجات. وهذا الانتقال من حالة إلى أعلى منها عند التفضيل والمدح أو النزول من حالةٍ إلى ما دونَها عند القدح والذمِّ أحسنُ لفظاً وأوقع في النفس، وكذلك إذا فضَّل تعالى شيئاً على شيءٍ، وكلٌّ منهما له فضلٌ؛ احترز بذكر الفضل الجامع للأمرين؛ لئلا يتوهَّم أحد ذمَّ المفضَّل عليه؛ كما قال هنا: {وكلاًّ وَعَدَ الله الحسنى}، وكما قال تعالى في الآيات المذكورة في الصَّفِّ في قوله: {وبشِّرِ المؤمنين}، وكما في قوله تعالى: {لا يستوي منكُم مَن أنفق مِن قبل الفتح وقاتَلَ}؛ أي: ممَّن لم يكن كذلك، ثم قال: {وكلاًّ وَعَدَ الله الحسنى}، وكما قال تعالى: {ففهَّمْناها سليمانَ وكلاًّ آتَيْنا حُكماً وعلماً}. فينبغي لمن بَحَثَ في التفضيل بين الأشخاص والطوائف والأعمال أن يتفطن لهذه النكتة، وكذلك لو تكلَّم في ذمِّ الأشخاص والمقالات؛ ذكر ما تجتمع فيه عند تفضيل بعضِها على بعض؛ لئلاَّ يُتَوَهَّم أن المفضَّل قد حصل له الكمال؛ كما إذا قيل: النصارى خيرٌ من المجوس؛ فليقلْ مع ذلك: وكلٌّ منهما كافر. والقتلُ أشنع من الزِّنا، وكلٌّ منهما معصيةٌ كبيرةٌ، حرَّمها الله ورسولُهُ، وزَجَرَ عنها.
ولمَّا وَعَدَ المجاهدين بالمغفرة والرحمةِ الصادِرَيْن عن اسميهِ الكريمين الغفور الرحيم؛ خَتَمَ هذه الآية بهما، فقال: {وكان الله غفوراً رحيماً}.