تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَـًٔا فَتَحْرِيْرُ …:} یعنی جب کوئی مسلمان غلطی سے کسی مسلمان کو قتل کر دے تو اس کے دو حکم ہیں، ایک کفارہ دوسرا دیت یعنی خون بہا۔ کفارہ تو یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام (مرد یا عورت) کو آزاد کرے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے اوراس کے وارثوں کو دیت ادا کرے، کفارہ تو کسی حال میں ساقط نہیں ہوتا، ہاں، دیت اگر وارث معاف کر دیں تو ساقط ہو سکتی ہے، مگر یہ اس وقت ہے کہ جب مقتول کے وارث بھی مسلمان ہوں یا کافر ہوں لیکن ان سے معاہدہ ہو یا ذمی ہوں، جیسے آگے آ رہا ہے۔
➌ { فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ …:} لیکن اگر اس کے وارث حربی کافر ہوں تو پھر قاتل کے ذمے صرف کفارہ ہے، یعنی ایک مسلمان گردن آزاد کرنا، اگر نہ ہو سکے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا۔ مقتول کے وارثوں کو خون بہا ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ دشمن ہیں۔ (قرطبی)
➍ { وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ …:} اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ مقتول مسلمان ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہے جن سے تمھارا معاہدہ ہے، یا ذمی ہیں تو اس صورت میں بھی دو چیزیں واجب ہوں گی، دیت (خون بہا) اور کفارہ۔ یہاں دیت کو کفارہ سے پہلے ذکر فرمایا ہے کہ اسے غیر مسلم قوم کا فرد سمجھ کر دیت کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کی جائے۔ بعض نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ مقتول معاہد یا ذمی ہو (مسلمان نہ ہو) تو اس صورت میں بھی کفارہ اور وارثوں کو خون بہا ادا کرنا پڑے گا، مگر زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہاں بھی مسلمان مقتول ہی کی بات ہو رہی ہے۔ دیت ایک سو اونٹ یا اس کے اندازے کے ساتھ قیمت ہو گی، جو خطا کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہو گی۔
➎ { شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ:} اگر کوئی کسی شرعی عذر یعنی مرض، حیض، نفاس وغیرہ کے بغیر ایک روزہ بھی چھوڑے گا تو نئے سرے سے دوبارہ دو ماہ کے روزے رکھنے پڑیں گے۔ (قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ اگر مقتول کے وارث مسلمان ہیں تو ایک غلام مومن (خواہ مرد ہو یا عورت) آزاد کرنا ہو گا اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا بھی ادا کرنا ہو گا۔ خون بہا یا دیت سو اونٹ یا ان کی قیمت کے برابر رقم ہے۔ جو قاتل کے وارث مقتول کے وارثوں کو ادا کریں گے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ادائیگی دیت کی زیادہ سے زیادہ مدت تین سال تک ہے اور یہ دیت مقتول کے وارث چاہیں تو معاف بھی کر سکتے ہیں۔ اور اگر قاتل کو (آزاد کرنے کے لیے) غلام میسر نہ آئے تو وہ متواتر دو ماہ روزے بھی رکھے گا۔ واضح رہے کہ سیدنا حذیفہؓ کے والد جنگ احد میں اجتماعی صورت میں کئی مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوئے جنہیں سیدنا حذیفہؓ نے علی الاعلان معاف کر دیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل احد کی خطائیں معاف کر دی تھیں لہٰذا وہاں کفارے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔
2۔ اگر مقتول تو مومن ہو مگر دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہو تو اس کا کفارہ صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا ہے۔ اور اگر میسر نہ آئے تو دو ماہ کے متواتر روزے ہیں اور اس کی دیت نہ ہو گی۔
3۔ اور اگر مومن مقتول کا تعلق کسی معاہد قوم سے ہو تو اس کے وہی احکام ہیں جو پہلی صورت کے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر یہ بھی یاد رہے کہ جب ان تینوں کاموں میں سے کوئی کام کسی سے واقع ہو جائے تو رعایا میں سے کسی کو اس کے قتل کا اختیار نہیں البتہ امام یا نائب امام کو بہ عہدہ قضاء کا حق ہے، اس کے بعد استثناء منقطع ہے، عرب شاعروں کے کلام میں بھی اس قسم کے استثناء بہت سے ملتے ہیں۔
اس آیت کے شان نزول میں ایک قول تو یہ مروی ہے کہ عیاش بن ابی ربیعہ جو ابوجہل کا ماں کی طرف سے بھائی تھا جس ماں کا نام اسماء بنت مخرمہ تھا اس کے بارے میں اتری ہے اس نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا جسے وہ اسلام لانے کی وجہ سے سزائیں دے رہا تھا یہاں تک کہ اس کی جان لے لی، ان کا نام حارث بن زید عامری تھا۔
سیدنا عیاش رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ کانٹا رہ گیا اور انہوں نے ٹھان لی کہ موقعہ پا کر اسے قتل کر دوں گا اللہ تعالیٰ نے کچھ دنوں بعد قاتل کو بھی اسلام کی ہدایت دی وہ مسلمان ہو گئے اور ہجرت بھی کر لی لیکن سیدنا عیاش رضی اللہ عنہ کو یہ معلوم نہ تھا، فتح مکہ والے دن یہ ان کی نظر پڑے یہ جان کر کہ یہ اب تک کفر پر ہیں ان پر اچانک حملہ کر دیا اور قتل کر دیا اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32/9]
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ انہوں نے ایک شخص کافر پر حملہ کیا تلوار سونتی ہی تھی تو اس نے کلمہ پڑھ لیا لیکن ان کی تلوار چل گئی اور اسے قتل کر ڈالا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان ہوا تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اپنا یہ عذر بیان کیا کہ اس نے صرف جان بچانے کی غرض سے یہ کلمہ پڑھا تھا، آپ ناراض ہو کر فرمانے لگے کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10099:ضعیف] یہ واقعہ صحیح حدیث میں بھی ہے لیکن وہاں نام دوسرے صحابی کا ہے۔
ایک انصاری رضی اللہ عنہ سیاہ فام لونڈی کو لے کر حاضر حضور ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے ذمے ایک مسلمان گردن کا آزاد کرنا ہے اگر یہ مسلمان ہو تو میں اسے آزاد کر دوں، { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے پوچھا کیا تو گواہی دیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ اس نے کہا ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی بھی گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا مرنے کے بعد جی اٹھنے کی بھی تو قائل ہے؟ اس نے کہا ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کر دو } ۱؎ [مسند احمد:452/3:صحیح] اس کی اسناد صحیح ہے اور صحابی کون تھے؟ اس کا مخفی رہنا سند میں مضر نہیں۔
یہ روایت حدیث کی اور بہت سی کتابوں میں اس طرح ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا آسمانوں میں دریافت کیا میں کون ہوں؟ جواب دیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ نے فرمایا اسے آزاد کر دو۔ یہ ایماندار ہے } ۱؎ [صحیح مسلم:537]
پس ایک تو گردن آزاد کرنا واجب ہے دوسرے خوں بہا دینا جو مقتول کے گھر والوں کو سونپ دیا جائے گا یہ ان کے مقتول کا عوض ہے یہ دیت سو اونٹ ہے پانچ قسموں کے، بیس تو دوسری سال کی عمر کی اونٹنیاں اور بیس اسی عمر کے اونٹ اور بیس تیسرے سال میں لگی ہوئی اونٹنیاں اور بیس پانچویں سال میں لگی ہوئی اور بیس چوتھے سال میں لگی ہوئی یہی فیصلہ قتل خطا کے خون بہا کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ملاحظہ ہو سنن و مسند احمد۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4545،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
یہ حدیث بروایت عبداللہ رحمہ اللہ موقوف بھی مروی ہے۔ ۱؎ [بیہقی:47/8:موقوف] سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ایک جماعت سے بھی یہی منقول ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دیت چار چوتھائیوں میں بٹی ہوئی ہے یہ خون بہا قاتل کے عاقلہ اور اس کے عصبہ یعنی وارثوں کے بعد کے قریبی رشتہ داروں پر ہے اس کے اپنے مال پر نہیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو قتل عمد خطا سے ہو وہ بھی حکم میں خطاء محض کے ہے۔ یعنی دیت کے اعتبار سے ہاں اس میں تقسیم ثلث پر ہو گی تین حصے ہونگے کیونکہ اس میں شباہت عمد یعنی بالقصد بھی ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے بنو جذیمہ کی جنگ کے لیے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو حضور نے ایک لشکر پر سردار بنا کر بھیجا انہوں نے جا کر انہیں دعوت اسلام دی انہوں نے دعوت تو قبول کر لی لیکن بوجہ لاعلمی بجائے «اسلمنا» یعنی ہم مسلمان ہوئے کے «صبانا» کہا یعنی ہم بےدین ہوئے۔
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کرنا شروع کر دیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر جناب باری میں عرض کی یا اللہ خالد (رضی اللہ عنہ) کے اس فعل میں اپنی بیزاری اور برات تیرے سامنے ظاہر کرتا ہوں، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں بھیجا کہ جاؤ ان کے مقتولوں کی دیت چکاؤ اور جو ان کا مالی نقصان ہوا ہو اسے بھی کوڑی کوڑی چکاؤ۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:7189،4339]
اس سے ثابت ہوا کہ امام یا نائب امام کی خطا کا بوجھ بیت المال پر ہو گا۔ پھر فرمایا ہے کہ خوں بہا جو واجب ہے اگر اولیاء مقتول از خود اس سے دست بردار ہو جائیں تو انہیں اختیار ہے وہ بطور صدقہ کے اسے معاف کر سکتے ہیں۔
تفصیل کتب احکام میں ملاحظہ ہو اور قاتل پر مومن بردے کو آزاد کرنا بھی لازم ہے اگر کسی کو اس کی طاقت بوجہ مفلسی کے نہ ہو تو اس کے ذمے دو مہینے کے روزے ہیں جو لگاتار پے در پے رکھنے ہوں گے اگر کسی شرعی عذر مثلاً بیماری یا حیض یا نفاس کے بغیر کوئی روزہ بیچ میں سے چھوڑ دیا تو پھر نئے سرے سے روزے شروع کرنے پڑیں گے، سفر کے بارے میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ یہ بھی شرعی عذر ہے دوسرے یہ کہ یہ عذر نہیں۔
دوسرا قول یہ ہے کہ روزے کے نیچے کچھ نہیں اگر ہوتا تو بیان کے ساتھ ہی بیان کر دیا جاتا، حاجب کے وقت سے بیان کو مؤخر کرنا ٹھیک نہیں (یہ بظاہر قول ثانی ہی صحیح معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم۔ مترجم) اللہ علیم وحکیم ہے، اس کی تفسیر کئی مرتبہ گذر چکی ہے۔
دوسری جگہ فرمان ہے «قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۚوَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ» ۱؎ [6-الأنعام:151] یہاں بھی اللہ کے حرام کئے ہوئے کاموں کا ذکر کرتے ہیں شرک کا اور قتل کا ذکر فرمایا ہے اور بھی اس مضمون کی آیتیں بہت سی ہیں اور حدیث بھی اس باب میں بہت سی منقول ہوئی ہیں۔
بخاری مسلم میں ہے کہ ’ سب سے پہلے خون کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:6533] ابوداؤد میں ہے ’ ایماندار نیکیوں اور بھلائیوں میں بڑھتا رہتا ہے جب تک کہ خون ناحق نہ کرے اگر ایسا کر لیا تو تباہ ہو جاتا ہے۔ ‘ ۱؎ [سنن ابوداود:4270،قال الشيخ الألباني:صحیح]
دوسری حدیث میں ہے ’ ساری دنیا کا زوال اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے کم درجے کا ہے۔ ‘ ۱؎ [سنن ترمذي:1395،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے ’ اگر تمام روئے زمین کے اور آسمان کے لوگ کسی ایک مسلمان کے قتل میں شریک ہوں تو اللہ سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے۔ ‘ ۱؎ [سنن ترمذي:1398،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور حدیث میں ہے ’ جس شخص نے کسی مسلمان کے قتل میں آدھے کلمے سے بھی اعانت کی وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس حالت میں آئے گا اس کی پیشانی میں لکھاہا ہو گا کہ یہ شخص اللہ کی رحمت سے محروم ہے۔ ‘ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2620،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الصيغة من صيغ الامتناع، أي: يمتنع ويستحيل أن يصدر من مؤمن قتلُ مؤمنٍ؛ أي: متعمداً.
وفي هذا الإخبار بشدَّة تحريمه وأنه منافٍ للإيمان أشدَّ منافاة، وإنَّما يصْدر ذلك إمَّا من كافر أو من فاسق قد نَقَصَ إيمانه نقصاً عظيماً ويُخشَى عليه ما هو أكبر من ذلك؛ فإنَّ الإيمان الصحيح يمنعُ المؤمن من قتل أخيه الذي قد عَقَدَ الله بينَه وبينَه الأخوَّة الإيمانيَّة التي من مقتضاها محبَّته وموالاته وإزالة ما يعرض لأخيه من الأذى، وأيُّ أذىً أشد من القتل؟! وهذا يصدقه قوله - صلى الله عليه وسلم -: «لا ترجِعوا بعدي كفَّاراً يضرِبُ بعضُكم رقابَ بعض» ، فعُلِمَ أنَّ القتل من الكفر العمليِّ، وأكبر الكبائر بعد الشرك بالله.
ولما كان قوله: {وما كان لمؤمنٍ أن يقتُلَ مؤمناً}: لفظاً عامًّا لجميع الأحوال، وأنه لا يصدُرُ منه قتلُ أخيه بوجهٍ من الوجوه؛ استثنى تعالى قتلَ الخطأ، فقال: {إلَّا خطأً}؛ فإنَّ المخطئ الذي لا يقصد القتل غير آثم ولا متجرئ على محارم الله، ولكنه لما كان قد فعل فعلاً شنيعاً وصورتُهُ كافيةٌ في قبحه وإن لم يقصِدْه؛ أمر تعالى بالكفَّارة والدِّية، فقال: {ومَن قَتَلَ مؤمناً خطأً}: سواء كان القاتلُ ذكراً أو أنثى حُرًّا أو عبداً صغيراً أو كبيراً عاقلاً أو مجنوناً مسلماً أو كافراً؛ كما يفيده لفظ {مَنْ} الدالة على العموم، وهذا من أسرار الإتيان بـ «مَن» في هذا الموضع؛ فإنَّ سياق الكلام يقتضي أنه يقول: فإن قتله، ولكن هذا لفظٌ لا يشمل ما تشمله «مَنْ»، وسواء كان المقتول ذكراً أو أنثى صغيراً أو كبيراً؛ كما يفيده التنكير في سياق الشرط؛ فإنَّ على القاتل {تحريرُ رقبةٍ مؤمنةٍ}: كفارةً لذلك، تكون في مالِه، ويشمل ذلك الصغير والكبير والذكر والأنثى والصحيح والمعيب في قول بعض العلماء، ولكن الحكمة تقتضي أن لا يُجزئ عتق المعيب في الكفارة؛ لأن المقصود بالعتق نفعُ العتيق ومُلْكُه منافع نفسه؛ فإذا كان يضيع بعتقه، وبقاؤه في الرقِّ أنفع له؛ فإنه لا يجزئ عتقه، مع أن في قوله: {تحرير رقبة}؛ ما يدلُّ على ذلك؛ فإن التحرير تخليصُ مَنِ استحقت منافعُهُ لغيرِهِ أن تكون له؛ فإذا لم يكن فيه منافع؛ لم يُتَصَوَّر وجود التحرير، فتأمَّل ذلك؛ فإنه واضح.
وأما الدِّية؛ فإنها تجب على عاقلة القاتل في الخطأ وشبه العمد. {مسلَّمةٌ إلى أهله}: جبراً لقلوبهم. والمراد بـ {أهله} هنا هم ورثتُهُ؛ فإن الورثة يرثون ما ترك الميت، فالدِّية داخلةٌ فيما ترك، وللدِّيةِ تفاصيل كثيرة مذكورة في كتب الفقه. وقوله: {إلَّا أن يَصَّدَّقوا}؛ أي: يتصدَّق ورثة القتيل بالعفو عن الدِّية؛ فإنها تسقُط، وفي ذلك حثٌّ لهم على العفو؛ لأنَّ الله سمّاها صدقةً، والصدقة مطلوبة في كلِّ وقت. {فإن كان} المقتول {من قوم عدوٍّ لكم}؛ أي: من كفارٍ حَرْبيِّينَ، {وهو مؤمنٌ فتحريرُ رقبةٍ مؤمنةٍ}؛ أي: وليس عليكم لأهله دِيَةٌ؛ لعدم احترامهم في دمائهم وأموالهم. {وإن كان}: المقتول {من قوم بينكم وبينهم ميثاقٌ فَدِيَةٌ مسلَّمةٌ إلى أهله وتحريرُ رقبة مؤمنة}، وذلك لاحترام أهله بما لهم من العهد والميثاق. {فَمَن لم يجد}: الرقبةَ ولا ثمنها؛ بأن كان معسراً بذلك، ليس عنده ما يَفْضُلُ عن مؤنته وحوائجه الأصلية شيء يفي بالرَّقبة. {فصيام شهرين متتابعين}؛ أي: لا يفطر بينهما من غير عذرٍ؛ فإن أفطر لعذرٍ؛ فإن العذر لا يقطع التتابع؛ كالمرض والحيض ونحوهما، وإن كان لغير عذرٍ؛ انقطع التتابُع، ووجب عليه استئناف الصوم، {توبةً من الله}؛ أي: هذه الكفارات التي أوجبها الله على القاتل توبةً من الله على عباده ورحمةً بهم وتكفيراً لما عساه أن يحصُلَ منهم من تقصير وعدم احتراز كما هو الواقع كثيراً للقاتل خطأ.
{وكان الله عليماً حكيماً}؛ أي: كامل العلم كامل الحكمة، لا يخفى عليه مثقال ذرَّة في الأرض ولا في السماء، ولا أصغر من ذلك ولا أكبر، في أي وقت كان وأي محلٍّ كان، ولا يخرج عن حكمتِهِ من المخلوقات والشرائع شيءٌ، بل كل ما خلقه وشرعه فهو متضمِّن لغاية الحكمة.
ومن علمه وحكمته أن أوجب على القاتل كفارةً مناسبةً لما صدر منه؛ فإنَّه تسبَّب لإعدام نفس محترمة، وأخرجها من الوجود إلى العدم، فناسب أن يَعْتِقَ رقبةً ويخرِجَها من رِقِّ العبوديَّة للخلق إلى الحريَّة التامَّة؛ فإنْ لم يجد هذه الرقبة؛ صام شهرين متتابعين، فأخرج نفسه من رقِّ الشهوات واللَّذَّات الحسيَّة القاطعة للعبد عن سعادتِهِ الأبديَّة إلى التعبُّد لله تعالى بتركها تقرباً إلى الله، ومدَّها تعالى بهذه المدة الكثيرة الشاقَّة في عددها ووجوب التتابُع فيها، ولم يشرع الإطعام في هذه المواضع لعدم المناسبة؛ بخلاف الظِّهار؛ كما سيأتي إن شاء الله تعالى. ومن حكمته أن أوجب في القتل الدِّية، ولو كان خطأ؛ لتكون رادعةً وكافَّةً عن كثير من القتل باستعمال الأسباب العاصمة عن ذلك. ومن حكمته أن أُوجِبت على العاقلة في قتل الخطأ بإجماع العلماء؛ لكون القاتل لم يُذْنِبْ، فيشق عليه أن يحمل هذه الدية الباهظة، فناسب أن يقوم بذلك مَن بينه وبينهم المعاونةُ والمناصرةُ والمساعدةُ على تحصيل المصالح وكفِّ المفاسد، ولعلَّ ذلك من أسباب منعهم لمن يعقِلون عنه من القتل حذار تحميلهم، ويخف عليهم بسبب توزيعه عليهم بقدر أحوالهم وطاقتهم، وخُفِّفَت أيضاً بتأجيلها عليهم ثلاث سنين. ومن حكمته وعلمه أن جبر أهل القتيل عن مصيبتهم بالدِّية التي أوجبها على أولياء القاتل.