ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 92

وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ اَنۡ یَّقۡتُلَ مُؤۡمِنًا اِلَّا خَطَـًٔا ۚ وَ مَنۡ قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَـًٔا فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ وَّ دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّصَّدَّقُوۡا ؕ فَاِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍ عَدُوٍّ لَّکُمۡ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ وَ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ ۫ تَوۡبَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۹۲﴾
اور کسی مومن کا کبھی یہ کام نہیں کہ کسی مومن کو قتل کرے مگر غلطی سے اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو ایک مومن گردن آزاد کرنا اور دیت دینا ہے، جو اس کے گھر والوں کے حوالے کی گئی ہو، مگر یہ کہ وہ صدقہ (کرتے ہوئے معاف) کر دیں۔ پھر اگر وہ اس قوم میں سے ہو جو تمھاری دشمن ہے اور وہ مومن ہو تو ایک مومن گردن آزاد کرنا ہے، اور اگر اس قوم میں سے ہو کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان کوئی عہدو پیمان ہو تو اس کے گھر والوں کے حوالے کی گئی دیت ادا کرنا اور ایک مومن گردن آزاد کرنا ہے، پھر جو نہ پائے تو پے در پے دو ماہ کے روزے رکھنا ہے۔ یہ بطور توبہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ ہمیشہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کردے اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے ہاں اگر وہ معاف کردیں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لئے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا اور بڑی حکمت والا ہے
En
کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے (تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی ﻻزمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا ﻻزم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی (ضروری ہے)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئےاور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے واﻻ اور حکمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 92) ➊ { وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ يَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَـًٔا:} کفار کے ساتھ جنگ کی اجازت نازل ہوئی تو یہ عین ممکن تھا کہ کسی شخص کو کافر حربی (جس سے جنگ ہو) سمجھ کر مسلمان قتل کر دیں اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ مسلمان تھا، اس لیے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان کے قتل خطا کے احکام بیان فرما دیے۔ (رازی) آیت میں {اِلَّا} بمعنی { لٰكِنْ } ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے، یعنی کسی بھی حال میں مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگر غلطی سے مارا جائے تو اس پر کفارہ ہے، جس کا بعد میں ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کا خون، جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، تین صورتوں میں سے کسی ایک کے سوا حلال نہیں: (1) جان کے بدلے جان۔ (2) شادی شدہ بدکار۔ (3) اسلام کو چھوڑنے والا (مرتد) جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔ [بخاری، الدیات، باب قول اللہ تعالٰی: «أن النفس بالنفس والعین بالعین» : ۶۸۷۸، عن عبد اللہ رضی اللہ عنہ]
➋ { وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَـًٔا فَتَحْرِيْرُ …:} یعنی جب کوئی مسلمان غلطی سے کسی مسلمان کو قتل کر دے تو اس کے دو حکم ہیں، ایک کفارہ دوسرا دیت یعنی خون بہا۔ کفارہ تو یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام (مرد یا عورت) کو آزاد کرے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے اوراس کے وارثوں کو دیت ادا کرے، کفارہ تو کسی حال میں ساقط نہیں ہوتا، ہاں، دیت اگر وارث معاف کر دیں تو ساقط ہو سکتی ہے، مگر یہ اس وقت ہے کہ جب مقتول کے وارث بھی مسلمان ہوں یا کافر ہوں لیکن ان سے معاہدہ ہو یا ذمی ہوں، جیسے آگے آ رہا ہے۔
➌ { فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ …:} لیکن اگر اس کے وارث حربی کافر ہوں تو پھر قاتل کے ذمے صرف کفارہ ہے، یعنی ایک مسلمان گردن آزاد کرنا، اگر نہ ہو سکے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا۔ مقتول کے وارثوں کو خون بہا ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ دشمن ہیں۔ (قرطبی)
➍ { وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ …:} اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ مقتول مسلمان ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہے جن سے تمھارا معاہدہ ہے، یا ذمی ہیں تو اس صورت میں بھی دو چیزیں واجب ہوں گی، دیت (خون بہا) اور کفارہ۔ یہاں دیت کو کفارہ سے پہلے ذکر فرمایا ہے کہ اسے غیر مسلم قوم کا فرد سمجھ کر دیت کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کی جائے۔ بعض نے لکھا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ مقتول معاہد یا ذمی ہو (مسلمان نہ ہو) تو اس صورت میں بھی کفارہ اور وارثوں کو خون بہا ادا کرنا پڑے گا، مگر زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ یہاں بھی مسلمان مقتول ہی کی بات ہو رہی ہے۔ دیت ایک سو اونٹ یا اس کے اندازے کے ساتھ قیمت ہو گی، جو خطا کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہو گی۔
➎ { شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ:} اگر کوئی کسی شرعی عذر یعنی مرض، حیض، نفاس وغیرہ کے بغیر ایک روزہ بھی چھوڑے گا تو نئے سرے سے دوبارہ دو ماہ کے روزے رکھنے پڑیں گے۔ (قرطبی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

92۔ 1 یہ نفی۔ نہی کے معنی میں ہے جو حرمت کی متقاضی ہے یعنی ایک مومن کو قتل کرنا ممنوع اور حرام ہے تمہارے یہ لائق نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچاؤ ' یعنی حرام ہے۔ 92۔ 2 غلطی کے اسباب و وجوہ متعدد ہوسکتے ہیں مقصد ہے کہ نیت اور ارادہ قتل کا نہ ہو۔ مگر بوجوہ قتل ہوجائے۔ 92۔ 3 یہ قتل خطا کا جرمانہ بیان کیا جا رہا ہے جو دو چزیں ہیں۔ ایک بطور کفارہ و استغفار ہے یعنی مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور دوسری چیز بطور حق العباد کے ہے اور وہ ہے مقتول کے خون کے بدلے میں جو چیز مقتول کے وارثوں کو دی جائے، وہ دیت کی مقدار حدیث کی روح سے سو اونٹ یا اسکے مساوی قیمت سونے چاندی یا کرنسی کی شکل میں ہوگی۔ 92۔ 4 معاف کردینے کو صدقہ سے تعبیر کرنے سے مقصد معافی کی ترغیب دینا ہے۔ 92۔ 5 یعنی اس صورت میں دیت نہیں ہوگی۔ اس کی وجہ بعض نے یہ بیان کی ہے کہ کیونکہ اس کے وارث حربی کافر ہیں، اس لئے وہ مسلمان کی دیت لینے کے حقدار نہیں اس کی وجہ سے اس کے خون کی حرمت کم ہے (فتح القدیر) 92۔ 6 یہ ایک تیسری صورت ہے اس میں بھی وہی کفارہ اور دیت ہے جو پہلی صورت میں ہے بعض نے کہا ہے کہ اگر مقتول معاہد (ذمی) ہو تو اس کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہوگی، کیونکہ حدیث میں کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف بیان کی گئی ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس تیسری صورت میں بھی مقتول مسلمان ہی کا حکم بیان کیا جا رہا ہے۔ 92۔ 7 یعنی اگر گردن آزاد کرنے کی استطاعت نہ ہو تو پہلی صورت اور اس آخری صورت میں دیت کے ساتھ مسلسل لگاتار (بغیر ناغہ کے) دو مہینے کے روزے ہیں۔ اگر درمیان میں ناغہ ہوگیا تو نئے سرے سے روزے رکھنے ضروری ہونگے۔ جیسے حیض، نفاس یا شدید بیماری، جو روزہ رکھنے میں مانع ہو۔ سفر کے عذر شرعی ہونے میں اختلاف ہے۔ (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

92۔ کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے الا یہ کہ غلطی سے [127] ایسا ہو جائے۔ اور اگر کوئی غلطی سے کسی مومن کو قتل کر دے تو وہ ایک مومن غلام آزاد کرے اور اس کے وارثوں کو خون بہا بھی ادا کرے، الا یہ کہ وہ معاف کر دیں۔ اور اگر وہ مقتول مومن تو تھا مگر تمہاری دشمن قوم سے تھا تو (اس کا کفارہ) صرف ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہے۔ اور اگر ایسی قوم سے ہو جن سے تمہارا معاہدہ ہو چکا ہے تو پھر وارثوں کو خون بہا بھی دینا ہو گا اور مومن غلام بھی آزاد کرنا ہو گا، پھر اگر قاتل کو مومن غلام آزاد کرنے کا مقدور نہ ہو یا مل ہی نہ رہا ہو تو متواتر دو ماہ کے روزے رکھے۔ (اس گناہ پر) اللہ سے توبہ کرنے کا یہی طریقہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے
[127] قتل خطا کی صورتیں اور کفارہ:۔
اس آیت میں قتل خطا کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ قتل خطا کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں مثلاً تیر یا پتھر مارا تو شکار کو تھا لیکن وہ کسی مسلمان کو لگ گیا اور وہ مر گیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ماری تو کوئی چیز عمداً ہی تھی مگر مارنے والے کو ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ اس ہلکی سی ضرب سے مر ہی جائے گا۔ تیسری یہ کہ لڑائی وغیرہ کسی ہنگامے میں کسی مسلمان کو کافر سمجھ کر مار ڈالے۔ جیسا کہ جنگ احد میں شکست کے بعد مسلمانوں نے بدحواسی کے عالم میں سیدنا حذیفہ بن یمانؓ کے والد سیدنا یمانؓ کو کافر سمجھ کر مار ڈالا تھا۔ حالانکہ سیدنا حذیفہؓ یہ کہتے ہی رہے کہ یہ تو میرے والد ہیں مگر اس افراتفری کے عالم میں کسی نے سیدنا حذیفہؓ کی آواز کو سنا ہی نہ تھا۔ اور چوتھی صورت جو آج کل بہت عام ہے، یہ کہ ٹریفک کے حادثہ میں کسی گاڑی کے نیچے آکر، یا اس کی ضرب سے مارا جائے۔ قتل خطا کے احکام یا اس کے کفارہ کی صورتیں یہ ہیں:
1۔ اگر مقتول کے وارث مسلمان ہیں تو ایک غلام مومن (خواہ مرد ہو یا عورت) آزاد کرنا ہو گا اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا بھی ادا کرنا ہو گا۔ خون بہا یا دیت سو اونٹ یا ان کی قیمت کے برابر رقم ہے۔ جو قاتل کے وارث مقتول کے وارثوں کو ادا کریں گے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ادائیگی دیت کی زیادہ سے زیادہ مدت تین سال تک ہے اور یہ دیت مقتول کے وارث چاہیں تو معاف بھی کر سکتے ہیں۔ اور اگر قاتل کو (آزاد کرنے کے لیے) غلام میسر نہ آئے تو وہ متواتر دو ماہ روزے بھی رکھے گا۔ واضح رہے کہ سیدنا حذیفہؓ کے والد جنگ احد میں اجتماعی صورت میں کئی مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوئے جنہیں سیدنا حذیفہؓ نے علی الاعلان معاف کر دیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل احد کی خطائیں معاف کر دی تھیں لہٰذا وہاں کفارے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔
2۔ اگر مقتول تو مومن ہو مگر دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہو تو اس کا کفارہ صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا ہے۔ اور اگر میسر نہ آئے تو دو ماہ کے متواتر روزے ہیں اور اس کی دیت نہ ہو گی۔
3۔ اور اگر مومن مقتول کا تعلق کسی معاہد قوم سے ہو تو اس کے وہی احکام ہیں جو پہلی صورت کے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قتل مسلم ، قصاص و دیت کے مسائل اور قتل خطا ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو لائق نہیں کہ کسی حال میں اپنے مسلمان بھائی کا خون ناحق کرے صحیح بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی مسلمان کا جو اللہ کی ایک ہونے کی اور میرے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو خون بہانا حلال نہیں مگر تین حالتوں میں ایک تو یہ کہ اس نے کسی کو قتل کر دیا ہو، دوسرے شادی شدہ ہو کر زنا کیا ہو، تیسرے دین اسلام کو چھوڑ دینے والا جماعت سے علیحدہ ہونے والا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6878]‏‏‏‏
پھر یہ بھی یاد رہے کہ جب ان تینوں کاموں میں سے کوئی کام کسی سے واقع ہو جائے تو رعایا میں سے کسی کو اس کے قتل کا اختیار نہیں البتہ امام یا نائب امام کو بہ عہدہ قضاء کا حق ہے، اس کے بعد استثناء منقطع ہے، عرب شاعروں کے کلام میں بھی اس قسم کے استثناء بہت سے ملتے ہیں۔
اس آیت کے شان نزول میں ایک قول تو یہ مروی ہے کہ عیاش بن ابی ربیعہ جو ابوجہل کا ماں کی طرف سے بھائی تھا جس ماں کا نام اسماء بنت مخرمہ تھا اس کے بارے میں اتری ہے اس نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا جسے وہ اسلام لانے کی وجہ سے سزائیں دے رہا تھا یہاں تک کہ اس کی جان لے لی، ان کا نام حارث بن زید عامری تھا۔
سیدنا عیاش رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ کانٹا رہ گیا اور انہوں نے ٹھان لی کہ موقعہ پا کر اسے قتل کر دوں گا اللہ تعالیٰ نے کچھ دنوں بعد قاتل کو بھی اسلام کی ہدایت دی وہ مسلمان ہو گئے اور ہجرت بھی کر لی لیکن سیدنا عیاش رضی اللہ عنہ کو یہ معلوم نہ تھا، فتح مکہ والے دن یہ ان کی نظر پڑے یہ جان کر کہ یہ اب تک کفر پر ہیں ان پر اچانک حملہ کر دیا اور قتل کر دیا اس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32/9]‏‏‏‏
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جبکہ انہوں نے ایک شخص کافر پر حملہ کیا تلوار سونتی ہی تھی تو اس نے کلمہ پڑھ لیا لیکن ان کی تلوار چل گئی اور اسے قتل کر ڈالا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان ہوا تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اپنا یہ عذر بیان کیا کہ اس نے صرف جان بچانے کی غرض سے یہ کلمہ پڑھا تھا، آپ ناراض ہو کر فرمانے لگے کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10099:ضعیف]‏‏‏‏ یہ واقعہ صحیح حدیث میں بھی ہے لیکن وہاں نام دوسرے صحابی کا ہے۔
پھر قتل خطا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس میں دو چیزیں واجب ہیں ایک تو غلام آزاد کرنا دوسرے دیت دینا، اس غلام کے لیے بھی شرط ہے کہ وہ ایماندار ہو، کافر کو آزاد کرنا کافی نہ ہو گا چھوٹا نابالغ بچہ بھی کافی نہ ہو گا جب تک کہ وہ اپنے ارادے سے ایمان کا قصد کرنے والا اور اتنی عمر کا نہ ہو، امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول یہ ہے کہ اگر اس کے ماں باپ دونوں مسلمان ہوں تو جائز ہے ورنہ نہیں، جمہور کا مذہب یہ ہے کہ مسلمان ہونا شرط ہے چھوٹے بڑے کی کوئی قید نہیں۔
ایک انصاری رضی اللہ عنہ سیاہ فام لونڈی کو لے کر حاضر حضور ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے ذمے ایک مسلمان گردن کا آزاد کرنا ہے اگر یہ مسلمان ہو تو میں اسے آزاد کر دوں، { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے پوچھا کیا تو گواہی دیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟ اس نے کہا ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی بھی گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا مرنے کے بعد جی اٹھنے کی بھی تو قائل ہے؟ اس نے کہا ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کر دو } ۱؎ [مسند احمد:452/3:صحیح]‏‏‏‏ اس کی اسناد صحیح ہے اور صحابی کون تھے؟ اس کا مخفی رہنا سند میں مضر نہیں۔
یہ روایت حدیث کی اور بہت سی کتابوں میں اس طرح ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا آسمانوں میں دریافت کیا میں کون ہوں؟ جواب دیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ نے فرمایا اسے آزاد کر دو۔ یہ ایماندار ہے } ۱؎ [صحیح مسلم:537]‏‏‏‏
پس ایک تو گردن آزاد کرنا واجب ہے دوسرے خوں بہا دینا جو مقتول کے گھر والوں کو سونپ دیا جائے گا یہ ان کے مقتول کا عوض ہے یہ دیت سو اونٹ ہے پانچ قسموں کے، بیس تو دوسری سال کی عمر کی اونٹنیاں اور بیس اسی عمر کے اونٹ اور بیس تیسرے سال میں لگی ہوئی اونٹنیاں اور بیس پانچویں سال میں لگی ہوئی اور بیس چوتھے سال میں لگی ہوئی یہی فیصلہ قتل خطا کے خون بہا کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ملاحظہ ہو سنن و مسند احمد۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4545،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
یہ حدیث بروایت عبداللہ رحمہ اللہ موقوف بھی مروی ہے۔ ۱؎ [بیہقی:47/8:موقوف]‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ایک جماعت سے بھی یہی منقول ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دیت چار چوتھائیوں میں بٹی ہوئی ہے یہ خون بہا قاتل کے عاقلہ اور اس کے عصبہ یعنی وارثوں کے بعد کے قریبی رشتہ داروں پر ہے اس کے اپنے مال پر نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے خیال میں اس امر میں کوئی بھی مخالف نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کا فیصلہ انہی لوگوں پر کیا ہے اور یہ حدیث خاصہ میں کثرت سے مذکور ہے امام صاحب جن احادیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں وہ بہت سی ہیں۔
بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑیں ایک نے دوسرے کو پتھر مارا وہ حاملہ تھی بچہ بھی ضائع ہو گیا اور وہ بھی مر گئی قصہ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس بچہ کے عوض تو ایک لونڈی یا غلام دے اور عورت مقتولہ کے بدلے دیت قاتلہ عورت کے حقیقی وارثوں کے بعد کے رشتے داروں کے ذمے ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6910]‏‏‏‏
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو قتل عمد خطا سے ہو وہ بھی حکم میں خطاء محض کے ہے۔ یعنی دیت کے اعتبار سے ہاں اس میں تقسیم ثلث پر ہو گی تین حصے ہونگے کیونکہ اس میں شباہت عمد یعنی بالقصد بھی ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے بنو جذیمہ کی جنگ کے لیے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو حضور نے ایک لشکر پر سردار بنا کر بھیجا انہوں نے جا کر انہیں دعوت اسلام دی انہوں نے دعوت تو قبول کر لی لیکن بوجہ لاعلمی بجائے «اسلمنا» یعنی ہم مسلمان ہوئے کے «صبانا» کہا یعنی ہم بےدین ہوئے۔
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کرنا شروع کر دیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر جناب باری میں عرض کی یا اللہ خالد (‏‏‏‏رضی اللہ عنہ) کے اس فعل میں اپنی بیزاری اور برات تیرے سامنے ظاہر کرتا ہوں، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں بھیجا کہ جاؤ ان کے مقتولوں کی دیت چکاؤ اور جو ان کا مالی نقصان ہوا ہو اسے بھی کوڑی کوڑی چکاؤ۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:7189،4339]‏‏‏‏
اس سے ثابت ہوا کہ امام یا نائب امام کی خطا کا بوجھ بیت المال پر ہو گا۔ پھر فرمایا ہے کہ خوں بہا جو واجب ہے اگر اولیاء مقتول از خود اس سے دست بردار ہو جائیں تو انہیں اختیار ہے وہ بطور صدقہ کے اسے معاف کر سکتے ہیں۔
پھر فرمان ہے کہ اگر مقتول مسلمان ہو لیکن اس کے اولیاء حربی کافر ہوں تو قاتل پر دیت نہیں، قاتل پر اس صورت میں صرف آزادگی گردن ہے اور اگر اس کے ولی وارث اس قوم میں سے ہوں جن سے تمہاری صلح اور عہد و پیمان ہے تو دیت دینی پڑے گی اگر مقتول مومن تھا تو کامل خون بہا اور اگر مقتول کافر تھا تو بعض کے نزدیک تو پوری دیت ہے بعض کے نزدیک آدھی بعض کے نزدیک تہائی۔
تفصیل کتب احکام میں ملاحظہ ہو اور قاتل پر مومن بردے کو آزاد کرنا بھی لازم ہے اگر کسی کو اس کی طاقت بوجہ مفلسی کے نہ ہو تو اس کے ذمے دو مہینے کے روزے ہیں جو لگاتار پے در پے رکھنے ہوں گے اگر کسی شرعی عذر مثلاً بیماری یا حیض یا نفاس کے بغیر کوئی روزہ بیچ میں سے چھوڑ دیا تو پھر نئے سرے سے روزے شروع کرنے پڑیں گے، سفر کے بارے میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ یہ بھی شرعی عذر ہے دوسرے یہ کہ یہ عذر نہیں۔
پھر فرماتا ہے قتل خطا کی توبہ کی یہ صورت ہے کہ غلام آزاد نہیں کر سکتا تو روزے رکھ لے اور جسے روزوں کی بھی طاقت نہ ہو وہ مسکینوں کو کھلا سکتا ہے یا نہیں؟ تو ایک قول تو یہ ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے جیسے کہ ظہار کے کفارے میں ہے، وہاں صاف بیان فرما دیا یہاں اس لیے بیان نہیں کیا گیا کہ یہ ڈرانے اور خوف دلانے کا مقام ہے آسانی کی صورت اگر بیان کر دی جاتی تو ہیبت و عظمت اتنی باقی نہ رہتی۔
دوسرا قول یہ ہے کہ روزے کے نیچے کچھ نہیں اگر ہوتا تو بیان کے ساتھ ہی بیان کر دیا جاتا، حاجب کے وقت سے بیان کو مؤخر کرنا ٹھیک نہیں (‏‏‏‏یہ بظاہر قول ثانی ہی صحیح معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم۔ مترجم) اللہ علیم وحکیم ہے، اس کی تفسیر کئی مرتبہ گذر چکی ہے۔
قتل عمداً اور قتل مسلم ٭٭
قتل خطا کے بعد اب قتل عمداً کا بیان ہو رہا ہے، اس کی سختی برائی اور انتہائی تاکید والی ڈراؤنی وعید فرمائی جا رہی ہے یہ وہ گناہ جسے اللہ تعالیٰ نے شرک کے ساتھ ملا دیا ہے فرماتا ہے «وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ» ‏‏‏‏ ۱؎ [25-الفرقان:68]‏‏‏‏ یعنی ’ مسلمان بندے وہ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود ٹھہرا کر نہیں پکارتے اور نہ وہ کسی شخص کو ناحق قتل کرتے ہیں۔ ‘
دوسری جگہ فرمان ہے «‏‏‏‏قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْــــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۚوَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ» ۱؎ [6-الأنعام:151]‏‏‏‏ یہاں بھی اللہ کے حرام کئے ہوئے کاموں کا ذکر کرتے ہیں شرک کا اور قتل کا ذکر فرمایا ہے اور بھی اس مضمون کی آیتیں بہت سی ہیں اور حدیث بھی اس باب میں بہت سی منقول ہوئی ہیں۔
بخاری مسلم میں ہے کہ ’ سب سے پہلے خون کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:6533]‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے ’ ایماندار نیکیوں اور بھلائیوں میں بڑھتا رہتا ہے جب تک کہ خون ناحق نہ کرے اگر ایسا کر لیا تو تباہ ہو جاتا ہے۔ ‘ ۱؎ [سنن ابوداود:4270،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
دوسری حدیث میں ہے ’ ساری دنیا کا زوال اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے کم درجے کا ہے۔ ‘ ۱؎ [سنن ترمذي:1395،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے ’ اگر تمام روئے زمین کے اور آسمان کے لوگ کسی ایک مسلمان کے قتل میں شریک ہوں تو اللہ سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے۔ ‘ ۱؎ [سنن ترمذي:1398،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے ’ جس شخص نے کسی مسلمان کے قتل میں آدھے کلمے سے بھی اعانت کی وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس حالت میں آئے گا اس کی پیشانی میں لکھاہا ہو گا کہ یہ شخص اللہ کی رحمت سے محروم ہے۔ ‘ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2620،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

آیت کریمہ کا یہ اسلوب، امتناع یعنی ناممکن ہونے کے اظہار کے اسالیب میں سے ہے یعنی یہ ممتنع اور محال ہے کہ ایک مومن سے دوسرے مومن کا جان بوجھ کر قتل صادر ہو۔ اس آیت کریمہ میں قتل مومن کی تحریم کو نہایت شدت سے بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مومن کا قتل ایمان کے سخت منافی ہے۔ مومن کا قتل یا تو کافر سے صادر ہوتا ہے یا ایسے فاسق و فاجر سے صادر ہوتا ہے جس کے ایمان میں بہت زیادہ کمی ہو۔ ایسے فاسق و فاجر سے اس سے بھی بڑے اقدام کا ڈر ہے۔ اس لیے کہ ایمان صحیح مومن کو اپنے مومن بھائی کے قتل سے باز رکھتا ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اخوت ایمانی کا رشتہ جوڑا ہے جس کا تقاضا محبت و موالات اور اپنے بھائی سے اذیتوں کو دور کرنا ہے اور قتل سے بڑھ کر کون سی اذیت ہے؟ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی مصداق ہے:’لَا تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَّضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍمیرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو(صحیح البخاری، الدیات، باب ﴿ومن أحیا ……﴾، حديث:6868) پس معلوم ہوا کہ قتل مومن عملی کفر ہے اور شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اور کسی مومن کو شایاں نہیں کے مومن کو مار ڈالے۔ تمام احوال کے لیے عام ہے اور مومن کسی بھی اعتبار سے اپنے مومن بھائی کے قتل کا ارتکاب نہیں کر سکتا، اس لیے اللہ تعالیٰ قتل خطا کو مستثنی کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اِلَّا خَطَــًٔؔا مگر غلطی سے اس لیے کہ قتل خطا کا مرتکب شخص قتل اور گناہ کا قصد نہیں رکھتا، نہ وہ اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتا ہے۔ مگر چونکہ اس نے ایک بہت ہی قبیح فعل کا ارتکاب کیا ہے اور اس کی ظاہری شکل اس کی قباحت کے لیے کافی ہے، اگرچہ اس کا مقصد اس کو قتل کرنا ہرگز نہیں تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے کفارہ اور دیت ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا ﴿ وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَــًٔؔا جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے قاتل خواہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، عاقل ہو یا پاگل اور مسلمان ہو یا کافر جیسا کہ لفظ (مَنْ) عموم کا فائدہ دے رہا ہے۔ یہاں لفظ (مَنْ) کو لانے کا یہی سرنہاں ہے کیونکہ سیاق کلام تو تقاضا کرتا ہے کہ یہاں لفظ (فَاِنْ قَتَلَہٗ) استعمال ہوتا مگر یہ لفظ وہ معنی ادا نہیں کرتا جو (مَنْ) ادا کرتا ہے۔ اسی طرح مقتول خواہ مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا (آیت کریمہ تمام صورتوں کو شامل ہے) جیسا کہ سیاق شرط میں نکرہ عموم کا فائدہ دے رہا ہے۔
﴿ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ قاتل پر کفارہ کے طور پر مومن غلام کا آزاد کرنا واجب ہے۔ یہ غلام قاتل کے مال سے آزاد کیا جائے گا۔ بعض علماء کے نزدیک یہ آیت کریمہ چھوٹے بڑے، مرد عورت، بے عیب اور عیب دار، ہر قسم کے غلام کو شامل ہے۔ مگر حکمت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ عیب زدہ غلام کو کفارہ میں آزاد نہ کیا جائے، اس لیے کہ آزادی عطا کرنے کا مقصد آزاد کیے جانے والے کو نفع پہنچانا ہے اور اس کو ملکیت میں رکھنا خود اپنے آپ کو نفع پہنچانا ہے۔ پس جب آزادی عطا کرنے سے یہ نفع ضائع ہو جاتا ہے اور غلامی میں اسے باقی رکھنا اس کے لیے زیادہ نفع مند ہے تو اس کو آزاد کرنا کافی نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے ارشاد (تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ) کا معنی اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ یہاں آزادی عطا کرنے سے مراد کسی ایسے شخص کے منافع کا استحقاق خود اس کے لیے خالص کرنا ہے جس کے منافع کا استحقاق کسی دوسرے کے پاس ہو۔ پس اگر اس میں (عیب زدہ ہونے کی وجہ سے) کوئی منفعت نہیں تو آزادی کے وجود کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں غور کیجیے یہ بالکل واضح ہے۔
رہی دیت، تو یہ قاتل کی برادری اور اس کے رشتہ داروں پر واجب ہے۔ دیت قتل خطا اور قتل شبہ عمد میں واجب ہوتی ہے ﴿ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ مقتول کے وارثوں کو ادا کرے۔ یعنی مقتول کے وارثوں کی دل جوئی کی خاطر ان کے حوالے کرے۔ یہاں (اَھْلِہٖ) سے مراد مقتول کے ورثاء ہیں کیونکہ یہی لوگ میت کے ترکہ کے وارث ہوتے ہیں۔ نیز دیت بھی ترکہ میں داخل ہے۔ اور دیت بہت سی تفاصیل ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُ٘وْا ہاں اگر وہ معاف کردیں۔ یعنی مقتول کے ورثاء قاتل کو معاف کر کے دیت اس کو بخش دیں۔ تب یہ دیت بھی ساقط ہو جائے گی۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے معاف کر دینے کی ترغیب دی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس معافی کو صدقہ کے نام سے موسوم کیا ہے اور صدقہ ہر وقت مطلوب ہے۔ ﴿فَاِنْ كَانَ پس اگر وہ ہو یعنی مقتول ﴿ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّـكُمْ ایسی قوم سے جو تمھاری دشمن ہے یعنی اگر مقتول حربی کفار میں سے ہو ﴿ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ اور وہ مومن ہو تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے یعنی تب اس صورت میں تم پر مقتول کے (کافر) ورثاء کو دیت ادا کرنا واجب نہیں۔ کیونکہ ان کی جان اور مال کا احترام واجب نہیں۔
﴿ وَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَبَیْنَهُمْ مِّؔیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ اور اگر وہ (مقتول) اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہدوپیمان ہو تو خون بہا لازمی ہے جو اس کے کنبے والے کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی ضروری ہے یہ ان کے ساتھ عہد و میثاق کی بنا پر مقتول کے ورثاء کے احترام کی وجہ سے ہے۔ ﴿ فَ٘مَنْ لَّمْ یَجِدْ اور جس کو یہ میسر نہ ہو۔ یعنی جس کے پاس تنگ دستی کی وجہ سے آزاد کرنے کے لیے غلام یا اس کی قیمت نہیں ہے اور بنیادی ضروریات و حوائج کے اخراجات کے بعد اتنی رقم نہیں بچتی جس سے غلام کو آزاد کیا جا سکے ﴿ فَصِیَامُ شَ٘هْرَیْنِ مُتَـتَابِعَیْنِ تب دو مہینے مسلسل روزے رکھے اور ان کے دوران بغیر کسی عذر کے روزہ نہ چھوڑے۔ اگر کسی عذر کی بنا پر روزہ چھوٹ جائے مثلاًمرض اور حیض وغیرہ تو اس سے تسلسل نہیں ٹوٹتا اگر اس نے بغیر کسی عذر کے روزہ چھوڑ دیا ہے تو اس سے تسلسل منقطع ہو جائے گا اور اسے نئے سرے سے روزے شروع کرنے پڑیں گے۔ ﴿ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ یہ (کفارہ) اللہ کی طرف سے (قبول) توبہ کے ليے ہے۔ یعنی یہ کفارات جو اللہ تعالیٰ نے قاتل پر واجب کیے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت توبہ، ان پر رحمت اور ان کے گناہوں کی تکفیر ہے جو ممکن ہے کسی کوتاہی اور عدم احتیاط کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئے ہوں جیسا کہ قتل خطا کے مرتکب سے اکثر واقع ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا اور اللہ سب کچھ جانتا اور بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم اور کامل حکمت والا ہے۔ زمین و آسمان میں، کسی جگہ اور کسی وقت چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔
تمام مخلوقات اور تمام شرائع اس کی حکمت سے خالی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تخلیق، اور جو کچھ مشروع کیا ہے وہ حکمت پر مبنی ہے۔ یہ اس کا علم و حکمت ہے کہ اس نے قاتل پر کفارہ واجب کیا جو اس سے صادر ہونے والے گناہ سے مناسبت رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک قابل احترام جان کو معدوم کرنے کا سبب بنا اور اسے وجود سے نکال کر عدم میں لے گیا۔ اس جرم سے یہ چیز مناسبت رکھتی ہے کہ وہ غلام آزاد کرے، اس کو مخلوق کی غلامی سے نکال کر مکمل آزادی عطا کرے۔ اگر وہ غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھے۔ یوں وہ اپنے آپ کو شہوات، اور ان لذات حسیہ کی غلامی سے آزاد کر کے جو بندے کو ابدی سعادت سے محروم کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف لائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے روزے رکھنے کے لیے شاق گزرنے والی طویل مدت مقرر کی ہے اور اس میں روزوں کے تسلسل کو واجب قرار دیا ہے اور ان تمام مقامات پر عدم مناسبت کی بنا پر، روزے رکھنے کی بجائے مسکینوں کو کھانا کھلانا مشروع قرار نہیں دیا۔ اس کے برعکس ظہار میں روزوں کی بجائے مسکینوں کو کھانا کھلانا مشروع ہے۔ اس کا ذکر ان شاء اللہ آئے گا۔
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت ہے کہ قتل خواہ خطا ہی سے کیوں نہ ہو، اس نے اس میں دیت واجب ٹھہرائی ہے تاکہ دیت اور دیگر اسباب کے ذریعے سے قتل کے جرائم کا سدباب ہو سکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے قتل خطا میں دیت قاتل کے پدری (باپ کی طرف سے) رشتہ داروں (یعنی عاقلہ) پر فرض کی ہے۔ اس پر فقہاء کا اجماع ہے۔ کیونکہ گناہ کی نیت سے قاتل نے قتل کا ارتکاب نہیں کیا تھا کہ اس دیت کا سارا بوجھ اس پر ڈال دیا جائے جو اس کے لیے سخت مشقت کا باعث ہو۔ اس لیے یہ امر مناسبت رکھتا ہے کہ حصول مصالح اور سدمفاسد کی خاطر اس کے اور اس کے رشتہ داروں کے درمیان تعاون، اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ ہو۔ شاید یہ چیز اس شخص کو قتل سے روکنے کا سبب بن جائے جس کی طرف سے وہ دیت ادا کرتے ہیں تاکہ انھیں دیت کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔ نیز ان کی طاقت اور ان کے احوال کے مطابق ان پر دیت کو تقسیم کرنے سے دیت کے بوجھ میں تخفیف ہو جائے گی۔ نیز دیت کی ادائیگی کی مدت تین سال مقرر کر کے اس میں مزید تخفیف پیدا کر دی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کا علم ہے کہ اس نے اس دیت کے ذریعے سے جو اس نے قاتل کے اولیاء پر واجب کی ہے، مقتول کے ورثاء کی مصیبت میں ان کے نقصان کی تلافی کی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه الصيغة من صيغ الامتناع، أي: يمتنع ويستحيل أن يصدر من مؤمن قتلُ مؤمنٍ؛ أي: متعمداً.

وفي هذا الإخبار بشدَّة تحريمه وأنه منافٍ للإيمان أشدَّ منافاة، وإنَّما يصْدر ذلك إمَّا من كافر أو من فاسق قد نَقَصَ إيمانه نقصاً عظيماً ويُخشَى عليه ما هو أكبر من ذلك؛ فإنَّ الإيمان الصحيح يمنعُ المؤمن من قتل أخيه الذي قد عَقَدَ الله بينَه وبينَه الأخوَّة الإيمانيَّة التي من مقتضاها محبَّته وموالاته وإزالة ما يعرض لأخيه من الأذى، وأيُّ أذىً أشد من القتل؟! وهذا يصدقه قوله - صلى الله عليه وسلم -: «لا ترجِعوا بعدي كفَّاراً يضرِبُ بعضُكم رقابَ بعض» ، فعُلِمَ أنَّ القتل من الكفر العمليِّ، وأكبر الكبائر بعد الشرك بالله.

ولما كان قوله: {وما كان لمؤمنٍ أن يقتُلَ مؤمناً}: لفظاً عامًّا لجميع الأحوال، وأنه لا يصدُرُ منه قتلُ أخيه بوجهٍ من الوجوه؛ استثنى تعالى قتلَ الخطأ، فقال: {إلَّا خطأً}؛ فإنَّ المخطئ الذي لا يقصد القتل غير آثم ولا متجرئ على محارم الله، ولكنه لما كان قد فعل فعلاً شنيعاً وصورتُهُ كافيةٌ في قبحه وإن لم يقصِدْه؛ أمر تعالى بالكفَّارة والدِّية، فقال: {ومَن قَتَلَ مؤمناً خطأً}: سواء كان القاتلُ ذكراً أو أنثى حُرًّا أو عبداً صغيراً أو كبيراً عاقلاً أو مجنوناً مسلماً أو كافراً؛ كما يفيده لفظ {مَنْ} الدالة على العموم، وهذا من أسرار الإتيان بـ «مَن» في هذا الموضع؛ فإنَّ سياق الكلام يقتضي أنه يقول: فإن قتله، ولكن هذا لفظٌ لا يشمل ما تشمله «مَنْ»، وسواء كان المقتول ذكراً أو أنثى صغيراً أو كبيراً؛ كما يفيده التنكير في سياق الشرط؛ فإنَّ على القاتل {تحريرُ رقبةٍ مؤمنةٍ}: كفارةً لذلك، تكون في مالِه، ويشمل ذلك الصغير والكبير والذكر والأنثى والصحيح والمعيب في قول بعض العلماء، ولكن الحكمة تقتضي أن لا يُجزئ عتق المعيب في الكفارة؛ لأن المقصود بالعتق نفعُ العتيق ومُلْكُه منافع نفسه؛ فإذا كان يضيع بعتقه، وبقاؤه في الرقِّ أنفع له؛ فإنه لا يجزئ عتقه، مع أن في قوله: {تحرير رقبة}؛ ما يدلُّ على ذلك؛ فإن التحرير تخليصُ مَنِ استحقت منافعُهُ لغيرِهِ أن تكون له؛ فإذا لم يكن فيه منافع؛ لم يُتَصَوَّر وجود التحرير، فتأمَّل ذلك؛ فإنه واضح.

وأما الدِّية؛ فإنها تجب على عاقلة القاتل في الخطأ وشبه العمد. {مسلَّمةٌ إلى أهله}: جبراً لقلوبهم. والمراد بـ {أهله} هنا هم ورثتُهُ؛ فإن الورثة يرثون ما ترك الميت، فالدِّية داخلةٌ فيما ترك، وللدِّيةِ تفاصيل كثيرة مذكورة في كتب الفقه. وقوله: {إلَّا أن يَصَّدَّقوا}؛ أي: يتصدَّق ورثة القتيل بالعفو عن الدِّية؛ فإنها تسقُط، وفي ذلك حثٌّ لهم على العفو؛ لأنَّ الله سمّاها صدقةً، والصدقة مطلوبة في كلِّ وقت. {فإن كان} المقتول {من قوم عدوٍّ لكم}؛ أي: من كفارٍ حَرْبيِّينَ، {وهو مؤمنٌ فتحريرُ رقبةٍ مؤمنةٍ}؛ أي: وليس عليكم لأهله دِيَةٌ؛ لعدم احترامهم في دمائهم وأموالهم. {وإن كان}: المقتول {من قوم بينكم وبينهم ميثاقٌ فَدِيَةٌ مسلَّمةٌ إلى أهله وتحريرُ رقبة مؤمنة}، وذلك لاحترام أهله بما لهم من العهد والميثاق. {فَمَن لم يجد}: الرقبةَ ولا ثمنها؛ بأن كان معسراً بذلك، ليس عنده ما يَفْضُلُ عن مؤنته وحوائجه الأصلية شيء يفي بالرَّقبة. {فصيام شهرين متتابعين}؛ أي: لا يفطر بينهما من غير عذرٍ؛ فإن أفطر لعذرٍ؛ فإن العذر لا يقطع التتابع؛ كالمرض والحيض ونحوهما، وإن كان لغير عذرٍ؛ انقطع التتابُع، ووجب عليه استئناف الصوم، {توبةً من الله}؛ أي: هذه الكفارات التي أوجبها الله على القاتل توبةً من الله على عباده ورحمةً بهم وتكفيراً لما عساه أن يحصُلَ منهم من تقصير وعدم احتراز كما هو الواقع كثيراً للقاتل خطأ.

{وكان الله عليماً حكيماً}؛ أي: كامل العلم كامل الحكمة، لا يخفى عليه مثقال ذرَّة في الأرض ولا في السماء، ولا أصغر من ذلك ولا أكبر، في أي وقت كان وأي محلٍّ كان، ولا يخرج عن حكمتِهِ من المخلوقات والشرائع شيءٌ، بل كل ما خلقه وشرعه فهو متضمِّن لغاية الحكمة.

ومن علمه وحكمته أن أوجب على القاتل كفارةً مناسبةً لما صدر منه؛ فإنَّه تسبَّب لإعدام نفس محترمة، وأخرجها من الوجود إلى العدم، فناسب أن يَعْتِقَ رقبةً ويخرِجَها من رِقِّ العبوديَّة للخلق إلى الحريَّة التامَّة؛ فإنْ لم يجد هذه الرقبة؛ صام شهرين متتابعين، فأخرج نفسه من رقِّ الشهوات واللَّذَّات الحسيَّة القاطعة للعبد عن سعادتِهِ الأبديَّة إلى التعبُّد لله تعالى بتركها تقرباً إلى الله، ومدَّها تعالى بهذه المدة الكثيرة الشاقَّة في عددها ووجوب التتابُع فيها، ولم يشرع الإطعام في هذه المواضع لعدم المناسبة؛ بخلاف الظِّهار؛ كما سيأتي إن شاء الله تعالى. ومن حكمته أن أوجب في القتل الدِّية، ولو كان خطأ؛ لتكون رادعةً وكافَّةً عن كثير من القتل باستعمال الأسباب العاصمة عن ذلك. ومن حكمته أن أُوجِبت على العاقلة في قتل الخطأ بإجماع العلماء؛ لكون القاتل لم يُذْنِبْ، فيشق عليه أن يحمل هذه الدية الباهظة، فناسب أن يقوم بذلك مَن بينه وبينهم المعاونةُ والمناصرةُ والمساعدةُ على تحصيل المصالح وكفِّ المفاسد، ولعلَّ ذلك من أسباب منعهم لمن يعقِلون عنه من القتل حذار تحميلهم، ويخف عليهم بسبب توزيعه عليهم بقدر أحوالهم وطاقتهم، وخُفِّفَت أيضاً بتأجيلها عليهم ثلاث سنين. ومن حكمته وعلمه أن جبر أهل القتيل عن مصيبتهم بالدِّية التي أوجبها على أولياء القاتل.