تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس اگر یہ تمہاری لڑائی سے باز رہیں اور صلح و صفائی سے یکسو ہو جائیں تو تمہیں بھی ان سے لڑنے کی اجازت نہیں، اسی قسم کے لوگ تھے جو بدر والے دن بنو ہاشم کے قبیلے میں سے مشرکین کے ساتھ آئے تھے جو دل سے اسے ناپسند رکھتے تھے۔ جیسے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے قتل کو منع فرما دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ انہیں زندہ گرفتار کر لیا جائے۔
دراصل یہ لوگ کافر ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:14] ’ اپنے شیاطین کے پاس تنہائی میں جا کر کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو جی کھول کر پوری سرگرمی سے اس میں حصہ لیتے ہیں جیسے کوئی اوندھے منہ گرا ہوا ہو۔ «فِتْنَةِ» سے مراد یہاں شرک ہے
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بھی مکہ والے تھے یہاں آ کر بطور ریا کاری کے اسلام قبول کرتے تھے وہاں جا کر ان کے بت پوجتے تھے تو مسلمانوں کو فرمایا جاتا ہے کہ اگر یہ اپنی دوغلی روش سے باز نہ آئیں ایذاء رسانی سے ہاتھ نہ روکیں صلح نہ کریں تو انہیں امن امان نہ دو ان سے بھی جہاد کرو، انہیں بھی قیدی بناؤ اور جہاں پاؤ قتل کر دو، بیشک ان پر ہم نے تمہیں ظاہر غلبہ اور کھلی حجت عطا فرمائی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
الفرقة الثالثة: قومٌ يريدون مصلحة أنفسهم، بقطع النظر عن احترامكم، وهم الذين قال الله فيهم: {ستجِدون آخرينَ}؛ أي: من هؤلاء المنافقين.
{يريدونَ أن يأمَنوكم}؛ أي: خوفاً منكم، {ويأمنوا قومَهم كلَّما رُدُّوا إلى الفتنةِ أُرْكِسوا فيها}؛ أي: لا يزالون مقيمين على كفرِهم ونفاقِهم، وكلَّما عَرَضَ لهم عارضٌ من عوارض الفتنِ؛ أعماهم ونَكَّسَهُم على رؤوسهم وازداد كفرُهم ونفاقُهم، وهؤلاء في الصورة كالفرقة الثانية، وفي الحقيقة مخالفة لها؛ فإنَّ الفرقة الثانية تركوا قتال المؤمنين احتراماً لهم لا خوفاً على أنفسهم، وأما هذه الفرقة؛ فتركوه خوفاً لا احتراماً، بل لو وجدوا فرصةً في قتال المؤمنين؛ فإنَّهم سيُقِدمون لانتهازها؛ فهؤلاء إن لم يتبيَّن منهم، ويتَّضح اتِّضاحاً عظيماً اعتزال المؤمنين وترك قتالهم؛ فإنَّهم يقاتَلون، ولهذا قال: {فإن لم يعتزِلوكم ويُلْقوا إليكُمُ السَّلمَ}؛ أي: المسالمة والموادعة، {ويَكُفُّوا أيديَهم فخذوهم واقتلوهم حيث ثَقِفْتُموهم وأولئكم جعلنا لكم عليهم سلطاناً مُبيناً}؛ أي: حجةً بيِّنةً واضحةً؛ لكونهم معتدين ظالمين لكم تاركين للمسالمة؛ فلا يلوموا إلا أنفسهم.