تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[125] یعنی اگر ایسے لوگ مسلمانوں کے ساتھ لڑنے سے دل برداشتہ نہ ہوتے اور کفار کا ساتھ دے کر ان کی قوت بڑھاتے تو ممکن ہے یہی لوگ تم پر غالب آ جاتے۔ لہٰذا جو منافقین یا دوسرے لوگ امن پسند ہیں لڑائی سے گریز کرتے ہیں۔ تمہاری راہ میں حائل بھی نہیں ہوتے یا صلح کرنے پر آمادہ ہیں تو ایسے لوگوں سے تمہیں تعرض نہ کرنا چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لیکن { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کہنے دو، کہو کیا کہنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ میری قوم کی طرف لشکر بھیجنے والے ہیں میں چاہتا ہوں کہ آپ ان سے صلح کر لیں اس بات پر کہ اگر قریش اسلام لائیں تو یہ بھی مسلمان ہو جائیں گے اور اگر وہ اسلام نہ لائیں تو ان پر بھی آپ چڑھائی نہ کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے کہنے کے مطابق ان کی قوم سے صلح کر آؤ پس اس بات پر صلح ہو گئی کہ وہ دشمنان دین کی کسی قسم کی مدد نہ کریں اور اگر قریش اسلام لائیں تو یہ بھی مسلمان ہو جائیں }
پس اللہ نے یہ آیت اتاری کہ ’ یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جیسے وہ کفر کرتے ہیں پھر تم اور وہ برابر ہو جائیں پس ان میں سے کسی کو دوست نہ جانو۔ ‘ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5750/3:ضعیف] یہی روایت ابن مردویہ میں ہے اور ان میں ہی آیت «إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ» ۱؎ [4-النساء:90] نازل ہوئی پس جو بھی ان سے مل جاتا وہ انہی کی طرح پر امن رہتا کلام کے الفاظ سے زیادہ مناسبت اسی کو ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم إن الله استثنى من قتال هؤلاء المنافقين ثلاث فرق:
فرقتين أمر بتركهم وَحتَّم على ذلك:
إحداهما: من يصل إلى قوم بينهم وبين المسلمين عهدٌ وميثاقٌ بترك القتال، فينضمُّ إليهم، فيكون له حكمُهم في حقن الدم والمال.
والفرقة الثانية: قومٌ {حَصِرَتْ صدورُهم أن يُقاتِلوكم أو يُقاتِلوا قومَهم}؛ أي: بقوا لا تسمحُ أنفسُهم بقتالِكم ولا بقتال قومِهم، وأحبُّوا ترك قتال الفريقين؛ فهؤلاء أيضاً أمَرَ بتركهم، وذَكَرَ الحكمةَ في ذلك بقوله: {ولو شاء الله لسلَّطَهم عليكم فَلَقاتَلوكم}؛ فإنَّ الأمورَ الممكنة ثلاثةُ أقسام: إما أن يكونوا معكم ويقاتِلوا أعداءَكم، وهذا متعذِّر من هؤلاء، فدار الأمرُ بين قتالِكم مع قومهم، وبين ترك قتال الفريقين، وهو أهون الأمرين عليكم، والله قادرٌ على تسليطِهم عليكم؛ فاقْبَلوا العافية واحْمَدوا ربَّكم الذي كفَّ أيدِيَهم عنكم مع التمكُّن من ذلك؛ فهؤلاء إن اعتزلوكم {فلم يقاتلوكم وألقوا إليكُمُ السَّلمَ فما جَعَلَ الله لكم عليهم سبيلاً}.