سَتَجِدُوۡنَ اٰخَرِیۡنَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّاۡمَنُوۡکُمۡ وَ یَاۡمَنُوۡا قَوۡمَہُمۡ ؕ کُلَّمَا رُدُّوۡۤا اِلَی الۡفِتۡنَۃِ اُرۡکِسُوۡا فِیۡہَا ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَعۡتَزِلُوۡکُمۡ وَ یُلۡقُوۡۤا اِلَیۡکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوۡۤا اَیۡدِیَہُمۡ فَخُذُوۡہُمۡ وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ ؕ وَ اُولٰٓئِکُمۡ جَعَلۡنَا لَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا ﴿٪۹۱﴾
عنقریب تم کچھ اور لوگ پائو گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں، وہ جب بھی فتنے کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اس میں الٹا دیے جاتے ہیں، تو اگر وہ نہ تم سے الگ رہیں اور نہ صلح کا پیغام بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھ روکیں تو انھیں پکڑو اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پائو اور یہی لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تمھارے لیے واضح دلیل بنا دی ہے۔
En
تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گر پڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے
En
تم کچھ اور لوگوں کو ایسا بھی پاؤ گے جن کی (بظاہر) چاہت ہے کہ تم سے بھی امن میں رہیں۔ اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں (لیکن) جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اوندھے منھ اس میں ڈال دیئے جاتے ہیں، پس اگر یہ لوگ تم سے کناره کشی نہ کریں اور تم سے صلح کا سلسلہ جنبانی نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روک لیں، تو انہیں پکڑو اور مار ڈالو جہاں کہیں بھی پالو! یہی وه ہیں جن پر ہم نے تمہیں ﻇاہر حجت عنایت فرمائی ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 91) {سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِيْنَ …:} اس آیت کریمہ میں ایک تیسری قسم کے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے جو بہت ہی بد ترین قسم کے منافق ہیں، جو ڈھنڈورا تو اپنی امن پسندی کا پیٹتے ہیں مگر جب داؤ لگ جائے تو اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کا امن پسندی کا دعویٰ سچا ہونے کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں، ایک یہ کہ مسلمانوں سے صلح کر لیں، دوسرے یہ کہ لشکر کفار میں شامل نہ ہوں اور تیسرے یہ کہ اگر انھیں مجبوراً شامل ہونا ہی پڑے تو پھر اپنے ہاتھ روکے رکھیں، یعنی عملاً لڑائی میں شامل نہ ہوں، جیسا کہ جنگ بدر میں عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انھیں قتل نہ کیا جائے، کیونکہ وہ مجبور کر کے لائے گئے ہیں۔ اگر یہ تینوں باتیں نہ پائی جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی نیتوں میں فتور ہے اور وہ امن پسندی کی آڑ میں دھوکا دے کر مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں، لہٰذا ایسے منافقوں کا علاج یہ ہے کہ انھیں پکڑو اور جہاں ملیں قتل کر دو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
91۔ 1 یہ ایک تیسرے گروہ کا ذکر ہے جو منافقین کا تھا یہ مسلمانوں کے پاس آتے تو اسلام کا اظہار کرتے تاکہ مسلمانوں سے محفوظ رہیں، اپنی قوم میں جاتے شرک بت پرستی کرتے تاکہ وہ انہیں اپنا ہی مذہب سمجھیں اور یوں دونوں سے مفادات حاصل کرتے۔ 91۔ 2 الفِتْنۃ سے مراد شرک بھی ہوسکتا ہے اسی شرک میں لوٹا دیئے جاتے۔ یا الفتنۃُ سے مراد قتال ہے کہ جب انہیں مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کی طرف بلایا یعنی لوٹایا جاتا ہے تو وہ اس پر آمادہ ہوجاتے ہیں، 91۔ 3 اس بات پر کہ واقعی ان کے دلوں میں نفاق اور ان کے سینوں میں تمہارے خلاف بغض وعناد ہے، تب ہی وہ یہ ادنیٰ کوشش دوبارہ فتنے (شرک) یا تمہارے خلاف آمادہ قتال ہونے میں مبتلا ہوگئے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
91۔ پھر آپ کو ایک اور قسم کے منافق بھی ملیں گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی۔ مگر جب بھی انہیں فتنہ کا موقع ملتا ہے تو اس میں کود پڑتے ہیں۔ ایسے منافق اگر تم سے کنارہ کش نہ رہیں نہ ہی صلح کی پیش کش کریں اور نہ آپ نے ہاتھ روکیں تو ایسے لوگوں کو جہاں بھی پاؤ [126] انہیں گرفتار کرو اور قتل کرو۔ ایسے لوگوں کے لیے ہم نے تمہیں کھلی چھٹی دے رکھی ہے
[126] بد ترین منافق:۔
ایسے منافق بد ترین قسم کے منافق ہیں جو ڈھنڈورا تو اپنی امن پسندی کا پیٹیں اور جب داؤ لگ جائے تو اسلام دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ ان کی امن پسندی کی تین ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمانوں سے صلح کر لیں۔ دوسرے یہ کہ لشکر کفار میں شامل نہ ہوں۔ اور تیسرے یہ کہ اگر انہیں مجبوراً شامل ہونا ہی پڑے تو پھر اپنے ہاتھ روکے رکھیں یعنی عملاً لڑائی میں شامل نہ ہوں۔ اور اگر یہ تینوں باتیں نہ پائی جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی نیت میں فتور ہے اور وہ امن پسندی کی آڑ میں دھوکہ دے کر مسلمانوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں لہٰذا ایسے منافقوں کا علاج یہ ہے کہ جب بھی موقع ملے سب سے پہلے انہیں قتل کر کے ختم کرو۔ دوسرے کافروں سے جنگ بعد میں کرو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر ایک دوسری جماعت کا ذکر ہو رہا ہے جسے مستثنیٰ کیا ہے جو میدان میں لائے جاتے ہیں لیکن یہ بیچارے بے بس ہوتے ہیں وہ نہ تو تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ تمہارے ساتھ مل کر اپنی قوم سے لڑنا پسند کرتے ہیں بلکہ وہ ایسے بیچ کے لوگ ہیں جو نہ تمہارے دشمن کہے جا سکتے ہیں نہ دوست۔ یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ان لوگوں کو تم پر مسلط نہیں کیا اگر وہ چاہتا تو انہیں زور و طاقت دیتا اور ان کے دل میں ڈال دیتا کہ وہ تم سے لڑیں۔
پس اگر یہ تمہاری لڑائی سے باز رہیں اور صلح و صفائی سے یکسو ہو جائیں تو تمہیں بھی ان سے لڑنے کی اجازت نہیں، اسی قسم کے لوگ تھے جو بدر والے دن بنو ہاشم کے قبیلے میں سے مشرکین کے ساتھ آئے تھے جو دل سے اسے ناپسند رکھتے تھے۔ جیسے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے قتل کو منع فرما دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ انہیں زندہ گرفتار کر لیا جائے۔
پس اگر یہ تمہاری لڑائی سے باز رہیں اور صلح و صفائی سے یکسو ہو جائیں تو تمہیں بھی ان سے لڑنے کی اجازت نہیں، اسی قسم کے لوگ تھے جو بدر والے دن بنو ہاشم کے قبیلے میں سے مشرکین کے ساتھ آئے تھے جو دل سے اسے ناپسند رکھتے تھے۔ جیسے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے قتل کو منع فرما دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ انہیں زندہ گرفتار کر لیا جائے۔
پھر ایک اور گروہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو بظاہر تو اوپر والوں جیسا ہے لیکن دراصل نیت میں بہت کھوٹ ہے یہ لوگ منافق ہیں حضور کے پاس آ کر اسلام ظاہر کر کے اپنے جان و مال مسلمانوں سے محفوظ کرا لیتے ہیں ادھر کفار میں مل کر ان کے معبودان باطل کی پرستش کر کے ان میں سے ہونا ظاہر کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں تاکہ ان کے ہاتھوں سے بھی امن میں رہیں۔
دراصل یہ لوگ کافر ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:14] ’ اپنے شیاطین کے پاس تنہائی میں جا کر کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو جی کھول کر پوری سرگرمی سے اس میں حصہ لیتے ہیں جیسے کوئی اوندھے منہ گرا ہوا ہو۔ «فِتْنَةِ» سے مراد یہاں شرک ہے
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بھی مکہ والے تھے یہاں آ کر بطور ریا کاری کے اسلام قبول کرتے تھے وہاں جا کر ان کے بت پوجتے تھے تو مسلمانوں کو فرمایا جاتا ہے کہ اگر یہ اپنی دوغلی روش سے باز نہ آئیں ایذاء رسانی سے ہاتھ نہ روکیں صلح نہ کریں تو انہیں امن امان نہ دو ان سے بھی جہاد کرو، انہیں بھی قیدی بناؤ اور جہاں پاؤ قتل کر دو، بیشک ان پر ہم نے تمہیں ظاہر غلبہ اور کھلی حجت عطا فرمائی ہے۔
دراصل یہ لوگ کافر ہیں، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:14] ’ اپنے شیاطین کے پاس تنہائی میں جا کر کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو جی کھول کر پوری سرگرمی سے اس میں حصہ لیتے ہیں جیسے کوئی اوندھے منہ گرا ہوا ہو۔ «فِتْنَةِ» سے مراد یہاں شرک ہے
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بھی مکہ والے تھے یہاں آ کر بطور ریا کاری کے اسلام قبول کرتے تھے وہاں جا کر ان کے بت پوجتے تھے تو مسلمانوں کو فرمایا جاتا ہے کہ اگر یہ اپنی دوغلی روش سے باز نہ آئیں ایذاء رسانی سے ہاتھ نہ روکیں صلح نہ کریں تو انہیں امن امان نہ دو ان سے بھی جہاد کرو، انہیں بھی قیدی بناؤ اور جہاں پاؤ قتل کر دو، بیشک ان پر ہم نے تمہیں ظاہر غلبہ اور کھلی حجت عطا فرمائی ہے۔