مگر وہ لوگ جو ان لوگوں سے جا ملتے ہیں کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان عہد و پیمان ہے، یا وہ تمھارے پاس اس حال میں آئیں کہ ان کے دل اس سے تنگ ہوں کہ وہ تم سے لڑیں، یا اپنی قوم سے لڑیں اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور انھیں تم پر مسلط کر دیتا، پھر یقینا وہ تم سے لڑتے۔ تو اگر وہ تم سے الگ رہیں اور تم سے نہ لڑیں اور تمھاری طرف صلح کا پیغام بھیجیں تو اللہ نے تمھارے لیے ان پر زیادتی کا کوئی راستہ نہیں رکھا۔
En
مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی
سوائے ان کے جو اس قوم سے تعلق رکھتے ہوں جن سے تمہارا معاہده ہو چکا ہے یا جو تمہارے پاس اس حالت میں آئیں کہ تم سے جنگ کرنے سے بھی تنگ دل ہیں اور اپنی قوم سے بھی جنگ کرنے سے تنگ دل ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا اور وه تم سے یقیناً جنگ کرتے، پس اگر یہ لوگ تم سے کناره کشی اختیار کر لیں اور تم سے لڑائی نہ کریں اور تمہاری جانب صلح کا پیغام ڈالیں، تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان پر کوئی راه لڑائی کی نہیں کی
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے ان منافقین میں سے تین گروہوں کو قتال سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ ان میں سے دو گروہوں کو ترک کرنے کا حتمی حکم دیا ہے۔ ان میں پہلا گروہ وہ ہے جو کسی ایسی قوم کے ساتھ مل جاتا ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ پس ان منافقین کو اس قوم میں شامل قرار دیا جائے گا اور جان و مال کے بارے میں ان کا بھی وہی حکم ہو گا جو اس قوم کا ہو گا۔ دوسرے گروہ میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ حَصِرَتْصُدُوْرُهُمْاَنْیُّقَاتِلُوْؔكُمْ۠اَوْیُقَاتِلُوْاقَوْمَهُمْ ﴾”ان کے دل تمھارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے۔“ یعنی وہ تمھارے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم کے ساتھ۔ وہ دونوں فریقوں کے ساتھ قتال ترک کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کے ساتھ قتال نہ کیا جائے اور اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَلَوْشَآءَاللّٰهُلَسَلَّطَ٘هُمْعَلَیْكُمْفَلَقٰتَلُوْؔكُمْ۠ ﴾”اگر اللہ چاہتا تو وہ ان کو تم پر مسلط کر دیتا، پس وہ تم سے لڑتے“ اس معاملے میں تین صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں:
وہ یا تو تمھارے ساتھ ہوتے اور تمھارے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرتے، ان سے ایسا ہونا مشکل ہے۔
اب معاملہ صرف اس بات پر مبنی ہے کہ جنگ تمھارے اور ان کی قوم کے درمیان ہو یا دونوں فریقوں کے درمیان جنگ نہ ہو اور یہ صورت تمھارے لیے زیادہ آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تم پر مسلط کرنے پر قادر ہے۔
پس تم عافیت کو قبول کرو اور اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو جس نے ان کو تمھارے خلاف لڑنے سے روکا حالانکہ وہ تمھارے خلاف لڑنے کی طاقت رکھتے تھے ﴿ فَاِنِاعْتَزَلُوْؔكُمْفَلَمْیُقَاتِلُوْؔكُمْوَاَلْقَوْااِلَیْكُمُالسَّلَمَ١ۙفَمَاجَعَلَاللّٰهُلَكُمْعَلَیْهِمْسَبِیْلًا ﴾”اگر وہ تمھارے ساتھ جنگ کرنے سے کنارہ کشی کر لیں اور تمھاری طرف صلح اور سلامتی کا پیغام بھیجیں تو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے ان پر زیادتی کرنے کی کوئی راہ نہیں رکھی۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم إن الله استثنى من قتال هؤلاء المنافقين ثلاث فرق:
فرقتين أمر بتركهم وَحتَّم على ذلك:
إحداهما: من يصل إلى قوم بينهم وبين المسلمين عهدٌ وميثاقٌ بترك القتال، فينضمُّ إليهم، فيكون له حكمُهم في حقن الدم والمال.
والفرقة الثانية: قومٌ {حَصِرَتْ صدورُهم أن يُقاتِلوكم أو يُقاتِلوا قومَهم}؛ أي: بقوا لا تسمحُ أنفسُهم بقتالِكم ولا بقتال قومِهم، وأحبُّوا ترك قتال الفريقين؛ فهؤلاء أيضاً أمَرَ بتركهم، وذَكَرَ الحكمةَ في ذلك بقوله: {ولو شاء الله لسلَّطَهم عليكم فَلَقاتَلوكم}؛ فإنَّ الأمورَ الممكنة ثلاثةُ أقسام: إما أن يكونوا معكم ويقاتِلوا أعداءَكم، وهذا متعذِّر من هؤلاء، فدار الأمرُ بين قتالِكم مع قومهم، وبين ترك قتال الفريقين، وهو أهون الأمرين عليكم، والله قادرٌ على تسليطِهم عليكم؛ فاقْبَلوا العافية واحْمَدوا ربَّكم الذي كفَّ أيدِيَهم عنكم مع التمكُّن من ذلك؛ فهؤلاء إن اعتزلوكم {فلم يقاتلوكم وألقوا إليكُمُ السَّلمَ فما جَعَلَ الله لكم عليهم سبيلاً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔