تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[بخاری، کتاب التفسیر، نیز کتاب المغازی، باب غزوہ احد۔۔ مسلم، کتاب صفۃ المنافقین]
[122] یعنی ان منافقوں نے واپس جا کر اپنی منافقت کا ثبوت مہیا کر دیا ہے۔ اب اگر تم یہ چاہو کہ ہمیں ان سے لڑائی نہ کرنی چاہیے شاید کہ وہ راہ راست پر آجائیں تو یہ بات تمہارے بس میں نہیں۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ ایسے منافقین واجب القتل ہیں کیونکہ حقیقتاً ان کے ارادے یہ ہیں کہ تمہیں بھی اپنے جیسا بنا کے چھوڑیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس پر یہ آیت اتری تو { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ شہر طیبہ ہے جو خودبخود میل کچیل کو اس طرح دور کر دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو چھانٹ دیتی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1884] ابن اسحاق میں ہے کہ کل لشکر جنگ احد میں ایک ہزار کا تھا، عبداللہ بن ابی سلول تین سو آدمیوں کو اپنے ہمراہ لے کر واپس لوٹ آیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پھر سات سو ہی رہ گئے تھے۔
صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے گھر نہیں چھوڑے، ہم کسطرح ان کے خون اور ان کے مال اپنے اوپر حلال کرسکتے ہیں؟ ان کا یہ اختلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا آپ خاموش تھے جو یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن ابی حاتم) ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10/9:]
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما کے لڑکے فرماتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر جب تہمت لگائی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کوئی ہے جو مجھے عبداللہ بن ابی کی ایذاء سے بچائے اس پر اوس و خزرج کے درمیان جو اختلاف ہوا اس کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن یہ قول غریب ہے، ان کے سوا اور اقوال بھی ہیں۔
اللہ نے انہیں ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ ان کی ہدایت کی کوئی راہ نہیں۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ سچے مسلمان بھی ان جیسے گمراہ ہو جائیں ان کے دلوں میں اس قدر عداوت ہے، تو تمہیں ممانعت کی جاتی ہے کہ جب تک یہ ہجرت نہ کریں انہیں اپنا نہ سمجھو، یہ خیال نہ کرو کہ یہ تمہارے دوست اور مددگار ہیں، بلکہ یہ خود اس لائق ہیں کہ ان سے باقاعدہ جہاد کیا جائے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
المراد بالمنافقين المذكورين في هذه الآيات، المنافقون المظهِرون إسلامَهم ولم يهاجِروا مع كفرِهم، وكان قد وقع بين الصحابة رضوانُ الله عليهم فيهم اشتباهٌ ؛ فبعضُهم تحرَّج عن قتالهم وقطْع موالاتهم بسبب ما أظهروه من الإيمان، وبعضُهم عَلِمَ أحوالهم بقرائن أفعالهم فحَكَمَ بكفرِهم، فأخبرهم الله تعالى أنه لا ينبغي لكم أن تشتبهوا فيهم ولا تشكُّوا، بل أمرُهم واضحٌ غيرُ مُشْكِل، إنهم منافقون، قد تكرَّر كفرُهم وودُّوا مع ذلك كفركم وأن تكونوا مثلهم؛ فإذا تحقَّقتم ذلك منهم؛ {فلا تتَّخِذوا منهم أولياء}: وهذا يستلزم عدم محبَّتِهم؛ لأنَّ الولاية فرع المحبَّة، ويستلزم أيضاً بُغْضَهم وعداوتهم؛ لأن النهي عن الشيء أمر بضده، وهذا الأمر موقَّت بهجرتهم؛ فإذا هاجروا؛ جرى عليهم ما جرى على المسلمين؛ كما كان النبي - صلى الله عليه وسلم - يُجْري أحكام الإسلام؛ لكلِّ مَن كان معه وهاجر إليه، وسواء كان مؤمناً حقيقةً أو ظاهر الإيمان، وإنهم إن لم يهاجروا وتولَّوا عنها؛ {فخُذوهم واقتُلوهم حيث وجدتُموهم}؛ أي: في أيِّ وقت وأيِّ محلٍّ كان، وهذا من جملة الأدلة الدَّالة على نسخ القتال في الأشهر الحرم؛ كما هو قول جمهور العلماء، والمنازعون يقولون: هذه نصوص مطلقة محمولةٌ على تقييد التحريم في الأشهر الحرم.