تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 88

فَمَا لَکُمۡ فِی الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِئَتَیۡنِ وَ اللّٰہُ اَرۡکَسَہُمۡ بِمَا کَسَبُوۡا ؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَہۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰہُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ سَبِیۡلًا ﴿۸۸﴾
پھر تمھیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے، حالانکہ اللہ نے انھیں اس کی وجہ سے الٹا کر دیا جو انھوں نے کمایا، کیا تم چاہتے ہو کہ اس شخص کو راستے پر لے آئو جسے اللہ نے گمراہ کر دیا اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر تو اس کے لیے کبھی کوئی راستہ نہ پائے گا۔ En
تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو رستے پر لے آؤ اور جس شخص کو خدا گمراہ کردے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہیں پاؤ گے
En
تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ کہ منافقوں کے بارے میں دو گروه ہو رہے ہو؟ انہیں تو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اوندھا کر دیا ہے۔ اب کیا تم یہ منصوبے باندھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے گمراه کئے ہوؤں کو تم راه راست پر ﻻکھڑا کرو، جسے اللہ تعالیٰ راه بھلا دے تو ہرگز اس کے لئے کوئی راه نہ پائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان آیات کریمہ(یعنی ایک دوسرے نسخے کے حاشیے میں) میں یہ عبارت مذکور ہے کہ: صحیحین میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد کے لیے نکلے تو آپ کے ساتھ جانے والوں میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ ان کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان کو قتل کریں گے جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿ فَمَا لَكُمْ فِى الْمُنٰفِقِيْنَ فِئَتَيْنِ پس تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہورہے ہو؟ (اس موقع پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مدینہ پاک ہے اور بلاشبہ مدینہ بدطینت افراد کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جس طرح آگ لوہے کی میل کو دور کردیتی ہے۔اس اضافے کی جگہ پر دلالت کرنے والی کوئی علامت یہاں موجود نہیں۔ (محقق) پتہ نہیں اس سے فاضل محقق کا مطلب کیا ہے؟ ورنہ اس حدیث کی مناسبت تو آیت:﴿ فَمَا لَكُمْ فِى الْمُنٰفِقِيْنَ …﴾ کے ساتھ بالکل واضح ہے کیونکہ اس سے شان نزول کی وضاحت ہورہی ہے) (ص۔ي) میں مذکور منافقین سے مراد وہ منافقین ہیں جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اپنے کفر کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہجرت بھی نہیں کی۔ ان کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اشتباہ واقع ہو گیا۔ چنانچہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم ان منافقین کے اظہار اسلام کے باعث ان کے ساتھ قتال اور قطع موالات میں حرج سمجھتے تھے۔ اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو چونکہ ان کے افعال کے قرینے سے ان کے احوال کا علم تھا اس لیے انھوں نے ان پر کفر کا حکم لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو۔ بلکہ ان کا معاملہ بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں کہ وہ منافق ہیں۔ وہ اپنے کفر کا بار بار اظہار کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر بن کر انھی کی مانند ہو جاؤ۔ پس جب تمھارے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی ﴿ فَلَا تَتَّؔخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَؔ تو تم ان کو دوست نہ بناؤ۔ یہ ممانعت ان کے ساتھ عدم محبت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ موالات اور دوستی محبت ہی کی ایک شاخ ہے۔ نیز یہ ممانعت ان کے ساتھ بغض اور عداوت کو لازم ٹھہراتی ہے کیونکہ کسی چیز سے ممانعت درحقیقت اس کی ضد کا حکم ہے اور اس حکم کی مدت ان کی ہجرت تک ہے۔ اگر وہ ہجرت کر کے آجاتے ہیں تو ان پر وہی احکام جاری ہوں گے جو دیگر مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس شخص پر اسلام کے احکام جاری فرماتے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور ہجرت کر کے آپ کی خدمت میں پہنچ گیا تھا۔ خواہ وہ حقیقی مومن تھا یا محض ایمان کا اظہار کرتا تھا۔
اگر وہ ہجرت نہیں کرتے اور اس سے روگردانی کرتے ہیں ﴿ فَخُذُوْهُمْ وَاقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ ان کو قتل کردو۔ یعنی جب بھی اور جس جگہ تم ان کو پاؤ ان کو قتل کر دو۔ یہ آیت کریمہ ان جملہ دلائل میں شامل ہے جو حرام مہینوں میں قتال کی حرمت کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ جمہور اہل علم کا قول ہے۔ دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ یہ تمام نصوص مطلق ہیں، حرام مہینوں میں قتال کی تحریم کی تخصیص پر محمول ہوں گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

المراد بالمنافقين المذكورين في هذه الآيات، المنافقون المظهِرون إسلامَهم ولم يهاجِروا مع كفرِهم، وكان قد وقع بين الصحابة رضوانُ الله عليهم فيهم اشتباهٌ ؛ فبعضُهم تحرَّج عن قتالهم وقطْع موالاتهم بسبب ما أظهروه من الإيمان، وبعضُهم عَلِمَ أحوالهم بقرائن أفعالهم فحَكَمَ بكفرِهم، فأخبرهم الله تعالى أنه لا ينبغي لكم أن تشتبهوا فيهم ولا تشكُّوا، بل أمرُهم واضحٌ غيرُ مُشْكِل، إنهم منافقون، قد تكرَّر كفرُهم وودُّوا مع ذلك كفركم وأن تكونوا مثلهم؛ فإذا تحقَّقتم ذلك منهم؛ {فلا تتَّخِذوا منهم أولياء}: وهذا يستلزم عدم محبَّتِهم؛ لأنَّ الولاية فرع المحبَّة، ويستلزم أيضاً بُغْضَهم وعداوتهم؛ لأن النهي عن الشيء أمر بضده، وهذا الأمر موقَّت بهجرتهم؛ فإذا هاجروا؛ جرى عليهم ما جرى على المسلمين؛ كما كان النبي - صلى الله عليه وسلم - يُجْري أحكام الإسلام؛ لكلِّ مَن كان معه وهاجر إليه، وسواء كان مؤمناً حقيقةً أو ظاهر الإيمان، وإنهم إن لم يهاجروا وتولَّوا عنها؛ {فخُذوهم واقتُلوهم حيث وجدتُموهم}؛ أي: في أيِّ وقت وأيِّ محلٍّ كان، وهذا من جملة الأدلة الدَّالة على نسخ القتال في الأشهر الحرم؛ كما هو قول جمهور العلماء، والمنازعون يقولون: هذه نصوص مطلقة محمولةٌ على تقييد التحريم في الأشهر الحرم.