تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی اسی طرح مروی ہے، اسے ابوبکر مردویہ نے بھی روایت کیا مگر میں نے اسے مسند میں نہیں دیکھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام کے کلمات میں اس سے زیادتی نہیں، اگر ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری صحابی کے جواب میں وہ لفظ کہہ دیتے۔ مسند احمد میں ہے کہ ’ ایک شخص حضور کے پاس آئے اور «السلام علیکم یا رسول اللہ» کہہ کر بیٹھ گئے آپ نے جواب دیا اور فرمایا دس نیکیاں ملیں، دوسرے آئے اور «السلام علیکم ورحمتہ اللہ یا رسول اللہ» کہہ کر بیٹھ گئے آپ نے فرمایا بیس نیکیاں ملیں، پھر تیسرے صاحب آئے انہوں نے کہا «السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ» آپ نے فرمایا تیس نیکیاں ملیں۔ ‘ ۱؎ [سنن ترمذي:2689،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
ذمی لوگوں کو خود سلام کی ابتداء کرنا تو ٹھیک نہیں اور وہ خود کریں تو جواب میں اتنے ہی الفاظ کہدے، بخاری و مسلم میں ہے ’ جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے تو خیال رکھو یہ کہہ دیتے ہیں «السام علیک» تو تم کہہ دو و «علیک» ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:6257]
صحیح مسلم میں ہے ’ یہود و نصاری کو تم پہلے سلام نہ کرو اور جب راستے میں مڈبھیڑ ہو جائے تو انہیں تنگی کی طرف مضطر کر ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2167] امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سلام نفل ہے اور جواب سلام فرض ہے اور علماء کرام کا فرمان بھی یہی ہے، پس اگر جواب نہ دے گا تو گنہگار ہو گا اس لیے کہ جواب سلام کا اللہ کا حکم ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن انفرادِهِ بالوحدانيَّة، وأنَّه لا معبود ولا مألوه إلاَّ هو لكمالِهِ في ذاته وأوصافه، ولكونِهِ المنفردَ بالخلق والتدبير والنِّعم الظاهرة والباطنة، وذلك يستلزم الأمر بعبادتِهِ والتقرُّب إليه بجميع أنواع العبوديَّة؛ لكونِهِ المستحقَّ لذلك وحده، والمجازي للعباد بما قاموا به من عبوديَّته أو تركوه منها، ولذلك أقسم على وقوع محلِّ الجزاء، وهو يوم القيامة، فقال: {لَيَجْمَعَنَّكم}؛ أي: أولكم وآخركم، في مقام واحد، في {يوم القيامة لا ريبَ فيه}؛ أي: لا شكَّ ولا شبهة بوجهٍ من الوجوه بالدليل العقلي والدليل السمعي.
فالدليل العقليُّ ما نشاهدُهُ من إحياء الأرض بعد موتها، ومن وجود النَّشأة الأولى التي وقوع الثانية أولى منها بالإمكان، ومن الحكمة التي يجزمُ بأنَّ الله لم يخلق خلقه عبثاً يَحْيَوْنَ ثم يموتون.
وأما الدليل السمعيُّ؛ فهو إخبار أصدق الصادقين بذلك، بل إقسامه عليه، ولهذا قال: {ومَن أصدقُ من الله حديثاً}، كذلك أمر رسولَه - صلى الله عليه وسلم - أن يُقْسِمَ عليه في غير موضع من القرآن؛ كقوله تعالى: {زَعَمَ الذين كفروا أن لن يُبْعَثوا، قل بلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثم لَتُنَبَّؤنَّ بما عمِلْتُم وذلك على الله يسيرٌ}.
وفي قوله: {ومن أصدقُ من الله حديثاً}، {ومن أصدق من الله قِيلاً}: إخبارٌ بأنَّ حديثه وأخباره وأقواله في أعلى مراتب الصدق، بل أعلاها، فكلُّ ما قيل في العقائد والعلوم والأعمال مما يناقِضُ ما أخبر الله به؛ فهو باطلٌ لمناقضته للخبر الصادق اليقين؛ فلا يمكِنُ أن يكون حقًّا.