ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 87

اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ لَیَجۡمَعَنَّکُمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ وَ مَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیۡثًا ﴿٪۸۷﴾
اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سواکوئی معبود نہیں، وہ ہر صورت تمھیں قیامت کے دن کی طرف (لے جاکر) جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں اور اللہ سے زیادہ بات میں کون سچا ہے۔ En
خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے؟
En
اللہ وه ہے جس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں وه تم سب کو یقیناً قیامت کے دن جمع کرے گا، جس کے (آنے) میں کوئی شک نہیں، اللہ تعالیٰ سے زیاده سچی بات واﻻ اور کون ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 86 میں تا آیت 88 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

87۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ یقیناً تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں اور اللہ سے زیادہ سچی [120] بات اور کس کی ہو سکتی ہے؟
[120] وہ سچی بات یہ ہے کہ قیامت یقیناً آکے رہے گی۔ اس دن تمام قسم کے لوگ منافقین بھی، مشرکین بھی اور مسلمان بھی سب اللہ کے حضور اکٹھے کر کے لائے جائیں گے اور ان سب کا پورا پورا محاسبہ کیا جائے گا۔ نیز سچی بات یہ ہے کہ اسلام دشمن عناصر جتنی بھی کوششیں کر سکتے ہیں کر دیکھیں نہ وہ اسلام کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں نہ اللہ کے قانون کو بدل سکتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سلام کہنے والے کو اس سے بہتر جواب دو ٭٭
مسلمانو! جب تمہیں کوئی مسلمان سلام کرے تو اس کے سلام کے الفاظ سے بہتر الفاظ سے اس کا جواب دو، یا کم سے کم انہی الفاظ کو دوہرا دو پس زیادتی مستحب ہے اور برابری فرض ہے، ابن جریر میں ہے ’ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا «السلام علیکم یا رسول اللہ» آپ نے فرمایا «وعلیک السلام ورحمتہ اللہ» پھر دوسرا آیا اس نے کہا «السلام علیک یا رسول اللہ و رحمتہ اللہ» آپ نے جواب دیا «وعلیک السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ» پھر ایک صاھب آئے انہوں نے کہا «السلام علیک و رحمتہ اللہ وبرکاتہ» آپ نے جواب میں فرمایا «وعلیک» تو اس نے کہا اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فلاں اور فلاں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا اور کچھ زیادہ دعائیہ الفاظ کے ساتھ دیا۔ جو مجھے نہیں دیا آپ نے فرمایا تم نے ہمارے لیے کچھ باقی ہی نہ چھوڑا اللہ کا فرمان ہے جب تم پر سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا اسی کو لوٹا دو اس لیے ہم نے وہی الفاظ لوٹا دئیے۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:10050:ضعیف]‏‏‏‏
یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی اسی طرح مروی ہے، اسے ابوبکر مردویہ نے بھی روایت کیا مگر میں نے اسے مسند میں نہیں دیکھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام کے کلمات میں اس سے زیادتی نہیں، اگر ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری صحابی کے جواب میں وہ لفظ کہہ دیتے۔ مسند احمد میں ہے کہ ’ ایک شخص حضور کے پاس آئے اور «السلام علیکم یا رسول اللہ» کہہ کر بیٹھ گئے آپ نے جواب دیا اور فرمایا دس نیکیاں ملیں، دوسرے آئے اور «السلام علیکم ورحمتہ اللہ یا رسول اللہ» کہہ کر بیٹھ گئے آپ نے فرمایا بیس نیکیاں ملیں، پھر تیسرے صاحب آئے انہوں نے کہا «السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ» آپ نے فرمایا تیس نیکیاں ملیں۔ ‘ ۱؎ [سنن ترمذي:2689،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتاتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو عام لیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ خلق اللہ میں سے جو کوئی سلام کرے گا اسے جواب دو گو وہ مجوسی ہو، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سلام کا اس سے بہتر جواب دینا تو مسمانوں کے لیے ہے اور اسی کو لوٹا دینا اہل ذمہ کے لیے ہے، لیکن اس تفسیر میں ذرا اختلاف ہے جیسے کہ اوپر کی حدیث میں گزر چکا ہے مراد یہ ہے کہ اس کے سلام سے اچھا جواب دیں اور اگر مسلمان سلام کے سبھی الفاظ کہہ دے تو پھر جواب دینے والا انہی کو لوٹادے۔
ذمی لوگوں کو خود سلام کی ابتداء کرنا تو ٹھیک نہیں اور وہ خود کریں تو جواب میں اتنے ہی الفاظ کہدے، بخاری و مسلم میں ہے ’ جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے تو خیال رکھو یہ کہہ دیتے ہیں «السام علیک» تو تم کہہ دو و «علیک»۱؎ [صحیح بخاری:6257]‏‏‏‏
صحیح مسلم میں ہے ’ یہود و نصاری کو تم پہلے سلام نہ کرو اور جب راستے میں مڈبھیڑ ہو جائے تو انہیں تنگی کی طرف مضطر کر ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2167]‏‏‏‏ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سلام نفل ہے اور جواب سلام فرض ہے اور علماء کرام کا فرمان بھی یہی ہے، پس اگر جواب نہ دے گا تو گنہگار ہو گا اس لیے کہ جواب سلام کا اللہ کا حکم ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی توحید بیان فرماتا ہے اور الوہیت اور اپنا یکتا ہونا ظاہر کرتا ہے اور اس میں ضمنی مضامین بھی ہیں، اسی لیے دوسرے جملے کو لام سے شروع کیا جو قسم کے جواب میں آتا ہے، تو اگلا جملہ خبر ہے اور قسم بھی ہے کہ وہ عنقریب تمام مقدم و مؤخر کو میدان محشر میں جمع کرے گا اور وہاں ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا، اس اللہ السمیع البصیر سے زیادہ سچی بات والا اور کوئی نہیں، اس کی خبر اس کا وعدہ اس کی وعید سب سچ ہے، وہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی مربی نہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ وحدانیت میں اپنی انفرادیت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود اور الٰہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات اور اوصاف میں کامل ہے نیز اس لیے کہ وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں اور ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے میں متفرد ہے اور یہ امر اس کی عبادت اور عبودیت کی تمام انواع کے ذریعے سے اس کے تقرب کو مستلزم ہے۔ اس لیے اس نے محل جزا کے وقوع یعنی روز قیامت پر قسم کھائی ہے فرمایا: ﴿ لَیَجْمَعَنَّـكُمْ وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے اولین و آخرین کو ایک ہی جگہ پر جمع کرے گا ﴿ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ قیامت کے دن یعنی عقلی اور سمعی دلیل کے اعتبار سے کسی بھی پہلو سے قیامت میں کوئی شک نہیں۔ رہی عقلی دلیل تو ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ زمین کے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اسے زندگی عطا کرتا ہے۔ امکان کے اعتبار سے پہلی دفعہ پیدا کرنے سے دوسری دفعہ پیدا کرنا زیادہ آسان ہے۔
حکمت الٰہی انسان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ قطعی طور پر جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو عبث پیدا نہیں کیا۔ کہ وہ زندگی حاصل کریں گے اور بس مر جائیں گے۔ (اور اس کے بعد کچھ نہیں ہو گا، ایسا نہیں ہو گا، بلکہ روز قیامت حساب ہو گا) رہی سمعی اور نقلی دلیل تو سب سے زیادہ سچی ہستی نے اس کے وقوع کے بارے میں خبر دی ہے بلکہ اس پر قسم کھائی ہے۔ ﴿ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا اللہ سے زیادہ سچی بات والا اور کون ہوگا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حقیقت پر قسم کھانے کا حکم دیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ زَعَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّ٘نْ یُّبْعَثُوْا١ؕ قُ٘لْ بَلٰى وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُ٘نَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ (التغابن: 64؍7) وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، سمجھتے ہیں کہ انھیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا نہیں جائے گا کہہ دو ہاں میرے رب کی قسم! تمھیں ضرور اٹھایا جائے گا اور جو اعمال تم نے کیے ہیں ان کے بارے میں تمھیں ضرور بتایا جائے گا اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا اور ﴿وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیْلًا میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات اس کی خبریں اور اس کے اقوال صداقت کے اعلیٰ مراتب بلکہ اعلیٰ ترین مراتب پر ہیں۔لہٰذا ہر وہ بات جو عقائد، علوم اور اعمال کے بارے میں کہی گئی ہو اگر وہ اللہ تعالیٰ کی خبر کے خلاف ہے تو وہ باطل ہے کیونکہ یہ امور یقینی طور پر سچی خبر کے متناقض ہیں ان کا حق ہونا ممکن ہی نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن انفرادِهِ بالوحدانيَّة، وأنَّه لا معبود ولا مألوه إلاَّ هو لكمالِهِ في ذاته وأوصافه، ولكونِهِ المنفردَ بالخلق والتدبير والنِّعم الظاهرة والباطنة، وذلك يستلزم الأمر بعبادتِهِ والتقرُّب إليه بجميع أنواع العبوديَّة؛ لكونِهِ المستحقَّ لذلك وحده، والمجازي للعباد بما قاموا به من عبوديَّته أو تركوه منها، ولذلك أقسم على وقوع محلِّ الجزاء، وهو يوم القيامة، فقال: {لَيَجْمَعَنَّكم}؛ أي: أولكم وآخركم، في مقام واحد، في {يوم القيامة لا ريبَ فيه}؛ أي: لا شكَّ ولا شبهة بوجهٍ من الوجوه بالدليل العقلي والدليل السمعي.

فالدليل العقليُّ ما نشاهدُهُ من إحياء الأرض بعد موتها، ومن وجود النَّشأة الأولى التي وقوع الثانية أولى منها بالإمكان، ومن الحكمة التي يجزمُ بأنَّ الله لم يخلق خلقه عبثاً يَحْيَوْنَ ثم يموتون.

وأما الدليل السمعيُّ؛ فهو إخبار أصدق الصادقين بذلك، بل إقسامه عليه، ولهذا قال: {ومَن أصدقُ من الله حديثاً}، كذلك أمر رسولَه - صلى الله عليه وسلم - أن يُقْسِمَ عليه في غير موضع من القرآن؛ كقوله تعالى: {زَعَمَ الذين كفروا أن لن يُبْعَثوا، قل بلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثم لَتُنَبَّؤنَّ بما عمِلْتُم وذلك على الله يسيرٌ}.

وفي قوله: {ومن أصدقُ من الله حديثاً}، {ومن أصدق من الله قِيلاً}: إخبارٌ بأنَّ حديثه وأخباره وأقواله في أعلى مراتب الصدق، بل أعلاها، فكلُّ ما قيل في العقائد والعلوم والأعمال مما يناقِضُ ما أخبر الله به؛ فهو باطلٌ لمناقضته للخبر الصادق اليقين؛ فلا يمكِنُ أن يكون حقًّا.