اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ وَ لَوۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَیۡرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوۡا فِیۡہِ اخۡتِلَافًا کَثِیۡرًا ﴿۸۲﴾
تو کیا وہ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے، اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔
En
بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے
En
کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 82) {اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ …: } منافقین کے مکر و فریب اور مذموم خصائل کے ضمن میں قرآن کی حقانیت کے اثبات کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ منافقین یہ سب مکر و فریب اور سازشیں اس بنا پر کر رہے تھے کہ وہ آپ کو سچا نبی نہیں سمجھتے تھے، لہٰذا یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقِ نبوت پر بطور دلیل کے قرآن کو پیش کیا اور قرآن حکیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق نبوت کی تین وجہوں سے دلیل بنتا ہے، اول اپنی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے۔ (دیکھیے بقرہ: ۲۳) دوم امور غیب کی خبروں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اور سوم اختلاف و تناقض سے پاک اور مبرا ہونے کی بنا پر۔ یہاں اسی تیسری چیز کو بیان فرمایا ہے۔ (رازی) مطلب یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں کہ ایک انسان برس ہا برس تک مختلف حالتوں میں مختلف موضوعات پر، خصوصاً امورِ غیب سے متعلق اس قدر تفصیل سے گفتگو کرتا رہے اور اس کی ایک بات بھی دوسری سے متصادم نہ ہو۔ یہ خصوصیت صرف قرآن میں پائی جاتی ہے، جو غور و فکر کرنے والے کے لیے اس کے کلام الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔ (شوکانی) اختلاف سے پاک ہونا درجۂ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ کوئی انسان خواہ کتنا ہی فصیح و بلیغ کیوں نہ ہو، جب اتنی بڑی کتاب لکھے گا تو اس کے کلام میں قدرے تفاوت ضرور ہو گا اور ساری کتاب بلاغت میں یکساں مرتبہ کی نہیں ہو گی۔ پھر یہ منافقین خفیہ طور پر سازشیں کرتے رہتے ہیں اور وحی کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بھید من و عن بتا دیے جاتے ہیں اور کبھی یہ نہیں ہوا کہ کسی راز کے افشا کرنے میں قرآن نے تھوڑی بہت بھی غلطی کی ہو اور یہی اس کے کلام الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔ (رازی)
معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں تدبر کے بغیر انسان کے شکوک و شبہات دور نہیں ہو سکتے اور نہ قرآن صحیح طور پر سمجھ میں آ سکتا ہے۔ قرآنِ کریم اگر غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں اختلافِ کثیر ہوتا، اب یہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لیے اختلافِ کثیر کجا، سرے سے اس میں اختلاف ہے ہی نہیں۔
معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں تدبر کے بغیر انسان کے شکوک و شبہات دور نہیں ہو سکتے اور نہ قرآن صحیح طور پر سمجھ میں آ سکتا ہے۔ قرآنِ کریم اگر غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں اختلافِ کثیر ہوتا، اب یہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لیے اختلافِ کثیر کجا، سرے سے اس میں اختلاف ہے ہی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
82۔ 1 قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کرنے کے لئے اس میں غور و تدبر کی تاکید کی جا رہی ہے اور اس کی صداقت جانچنے کے لئے ایک معیار بھی بتلایا گیا کہ اگر یہ کسی انسان کا بنایا ہوا کلام ہوتا (جیسا کہ کفار کا خیال ہے) اس کے مضامین اور بیان کردہ واقعات میں تعارض و تناقص ہوتا۔ کیونکہ ایک تو یہ کوئی چھوٹی سی کتاب نہیں ہے۔ ایک ضخیم اور مفصل کتاب ہے، جس کا ہر حصہ اعجاز و بلاغت میں ممتاز ہے۔ حالانکہ انسان کی بنائی ہوئی بڑی تصنیف میں زبان کا معیار اور اس کی فصاحت و بلاغت قائم ہی نہیں رہتی، دوسرے، اس میں پچھلی قوموں کے واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں۔ جنہیں اللہ علام الغیوب کے سواء کوئی اور بیان نہیں کرسکتا۔ تیسرے ان حکایات و قصص میں نہ باہمی تعارض و تضاد ہے اور نہ ان کا چھوٹے سے چھوٹا کوئی جزئیہ قرآن کی کسی اصل سے ٹکراتا ہے۔ حالانکہ ایک انسان گزشتہ واقعات بیان کرے تو تسلسل کی کڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور ان کی تفصیلات میں تعارض و تضاد واقع ہوتا ہے۔ قرآن کریم کے ان تمام انسانی کوتاہیوں سے مبراء ہونے کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ یقینا کلام الٰہی ہے اس نے فرشتے کے ذریعے سے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
82۔ کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے۔ اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سے اختلاف [114] پاتے
[114] قرآن میں اختلاف نہ ہونا ہی منزل من اللہ ہونے کی دلیل ہے:۔
منافقوں کی جن باتوں پر انہیں تنبیہ کی گئی ہے ان کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں بھی شک تھا۔ اس آیت میں اس شک کو دور کرنے کی عقلی دلیل پیش کی گئی ہے جو یہ ہے، کہ انسان کی حالت یہ ہے کہ بچپن میں اس کی عقل نا پختہ ہوتی ہے۔ جوانی میں قدرے ترقی کر جاتی ہے اور پختہ عمر میں عقل بھی پختہ ہو جاتی ہے اور اس کے ان تینوں ادوار کے کلام میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ پھر زندگی بھر اس کے نظریات بدلتے رہتے ہیں۔ بچپن میں خیالات و نظریات اور طرح کے ہوتے ہیں، جوانی میں اور طرح کے اور بڑھاپے میں اور طرح کے۔ پھر انسان جس شہر یا ملک میں جاتا ہے تو وہاں کے معاشرتی ماحول کا اثر قبول کر لیتا ہے۔ پھر کبھی انسان غصہ کی حالت میں ہوتا ہے تو سب مخاطبوں کو دہشت زدہ بنا دیتا ہے۔ یہی افراط و تفریط کی کیفیت اس کے ہر قسم کے جذبات میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔ گویا اگر کسی بھی ایک انسان کے زندگی بھر کے کلام کا مجموعہ تیار کیا جائے تو اس میں سینکڑوں اختلافات اور تضادات آپ کو مل جائیں گے اس کے برعکس اب اللہ کے کلام پر نظر ڈالیے جو 23 سال تک مختلف اوقات اور مختلف پس مناظر اور مختلف مواقع پر نازل ہوتا رہا۔ جو آخر میں ترتیب پا کر ایک مجموعہ بن گیا۔ اب دیکھیے ادبی لحاظ سے اس کی فصاحت و بلاغت میں کہیں کوئی فرق ہے؟ یا اس کے نظریات میں، اس کی اخلاقی اقدار کی تعیین میں کوئی اختلاف آپ دیکھتے ہیں؟ یا ایسی صورت ہے کہ مثلاً اگر یہود پر عتاب نازل ہوا ہو تو سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا گیا ہو۔ اور اس میں سے ان کے اچھے لوگوں کو مستثنیٰ نہ کیا گیا ہو۔ اور ان کی خوبیاں الگ بیان نہ کر دی گئی ہوں؟ غرض جتنے بھی پہلو آپ سامنے لائیں گے آپ اسی نتیجہ پر پہنچیں گے کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہو سکتا اور اس کو نازل کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہو سکتا ہے۔ سرسری نظر دیکھنے سے اگرچہ قرآن میں کچھ اختلافات نظر آتے ہیں لیکن اس کی وجہ عدم رسوخ یا قرآن کے جملہ مضامین پر پوری طرح مطلع نہ ہونا ہوتا ہے اور اس قسم کے اختلافات کا جواب بھی قرآن ہی سے مل جاتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے: قرآن میں اختلاف معلوم ہو تو اس کی وجہ نا فہمی ہے۔ سعید بن جبیرؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا ابن عباسؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں تو قرآن میں کئی اختلافات کی باتیں پاتا ہوں۔ مثلاً:
1۔ ایک آیت میں ہے
﴿فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَيِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ﴾
(قیامت کے دن ان میں کوئی رشتہ حائل نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے) اور دوسرے مقام پر ہے
﴿وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَليٰ بَعْضٍ يَّتَسَاءَلُوْنَ﴾
(ان میں سے کچھ ان کے سامنے آکر ایک دوسرے سے سوال کریں گے)
2۔ ایک آیت میں ہے
﴿وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا﴾
(وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے) اور دوسری آیت میں ہے کہ قیامت کے دن مشرکین کہیں گے
﴿وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ﴾
(اللہ کی قسم! ہم شرک نہیں کیا کرتے تھے) گویا وہ اصل بات چھپائیں گے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا
﴿ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ ۭ بَنيٰهَا .... دحٰها﴾
تک۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی پیدائش زمین سے پہلے ہوئی اور سورۃ حٰم السجدہ میں فرمایا
﴿قُلْ اَيِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَهٗٓ اَنْدَادًا ۭذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ﴾
اس سے یہ معلوم ہوا کہ زمین آسمان سے پہلے پیدا ہوئی۔
4۔ نیز فرمایا
﴿ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْراً رَّحِيْماً.. عَزِيْزاً حَكِيْماً.. سَمِيْعاً بَصِيْراً﴾
ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان صفات سے زمانہ ماضی میں موصوف تھا مگر اب نہیں۔ سیدنا ابن عباسؓ نے ان سوالوں کے جواب میں فرمایا:
1۔ ﴿فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ﴾ میں اس وقت کا ذکر ہے جب پہلی دفعہ صور پھونکا جائے گا اور آسمان و زمین والے سب بے ہوش ہو جائیں گے اس وقت نہ کوئی رشتہ ناطہ رہے گا اور نہ ایک دوسرے سے کچھ بھی پوچھنے کا ہوش ہو گا۔ اور دوسری آیت میں جو ایک دوسرے سے سوال کرنے کا ذکر ہے یہ دوسرے نفخۂ صور کے بعد ہو گا۔
2۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اخلاص والوں (موحدین) کے گناہ بخش دے گا تو مشرک آپس میں صلاح کریں گے کہ چلو ہم بھی جا کر کہہ دیتے ہیں کہ ”ہم مشرک نہیں تھے“ تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں بولنا شروع کر دیں گے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائی نہیں جا سکتی۔ یہی وہ وقت ہو گا کہ جب کافر یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ (دنیا میں) مسلمان ہوتے۔
3۔
1۔ ایک آیت میں ہے
﴿فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَيِٕذٍ وَّلَا يَتَسَاءَلُوْنَ﴾
(قیامت کے دن ان میں کوئی رشتہ حائل نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے) اور دوسرے مقام پر ہے
﴿وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَليٰ بَعْضٍ يَّتَسَاءَلُوْنَ﴾
(ان میں سے کچھ ان کے سامنے آکر ایک دوسرے سے سوال کریں گے)
2۔ ایک آیت میں ہے
﴿وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا﴾
(وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے) اور دوسری آیت میں ہے کہ قیامت کے دن مشرکین کہیں گے
﴿وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ﴾
(اللہ کی قسم! ہم شرک نہیں کیا کرتے تھے) گویا وہ اصل بات چھپائیں گے۔
3۔ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ فرمایا
﴿ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ ۭ بَنيٰهَا .... دحٰها﴾
تک۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی پیدائش زمین سے پہلے ہوئی اور سورۃ حٰم السجدہ میں فرمایا
﴿قُلْ اَيِٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بالَّذِيْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِيْ يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَهٗٓ اَنْدَادًا ۭذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ﴾
اس سے یہ معلوم ہوا کہ زمین آسمان سے پہلے پیدا ہوئی۔
4۔ نیز فرمایا
﴿ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْراً رَّحِيْماً.. عَزِيْزاً حَكِيْماً.. سَمِيْعاً بَصِيْراً﴾
ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان صفات سے زمانہ ماضی میں موصوف تھا مگر اب نہیں۔ سیدنا ابن عباسؓ نے ان سوالوں کے جواب میں فرمایا:
1۔ ﴿فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ﴾ میں اس وقت کا ذکر ہے جب پہلی دفعہ صور پھونکا جائے گا اور آسمان و زمین والے سب بے ہوش ہو جائیں گے اس وقت نہ کوئی رشتہ ناطہ رہے گا اور نہ ایک دوسرے سے کچھ بھی پوچھنے کا ہوش ہو گا۔ اور دوسری آیت میں جو ایک دوسرے سے سوال کرنے کا ذکر ہے یہ دوسرے نفخۂ صور کے بعد ہو گا۔
2۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ اخلاص والوں (موحدین) کے گناہ بخش دے گا تو مشرک آپس میں صلاح کریں گے کہ چلو ہم بھی جا کر کہہ دیتے ہیں کہ ”ہم مشرک نہیں تھے“ تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں بولنا شروع کر دیں گے اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کوئی بات چھپائی نہیں جا سکتی۔ یہی وہ وقت ہو گا کہ جب کافر یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ (دنیا میں) مسلمان ہوتے۔
3۔
آسمان اور زمین کی تخلیق میں ترتیب:۔
اللہ تعالیٰ نے (پہلے) زمین کو دو دن میں پیدا کیا۔ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو اگلے دو دنوں میں ان کو (سات آسمان) بنایا۔ اس کے بعد زمین کو پھیلایا اور زمین کا پھیلانا یہ ہے کہ اس سے پانی نکالا، گھاس، چارہ پیدا کیا۔ پہاڑ، جانور اور ٹیلے وغیرہ اگلے دو دنوں میں بنائے۔ اس طرح زمین و آسمان کی پیدائش چھ دنوں میں مکمل ہوئی اور چار دن (دو ابتدائی، دو آخری) زمین کی پیدائش اور اسے سنوارنے میں لگے۔
4۔ «كَانَ» کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفات ازلی ہیں اور یہ سب اس کے نام ہیں یعنی وہ ہمیشہ سے ان صفات کا ملک ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔۔ گویا اب کوئی اختلاف نہ رہا۔ اور ہو بھی کیسے سکتا ہے جبکہ یہ سارا قرآن اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے
[بخاری، کتاب التفسیر سورۃ حٰم السجدہ]
4۔ «كَانَ» کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفات ازلی ہیں اور یہ سب اس کے نام ہیں یعنی وہ ہمیشہ سے ان صفات کا ملک ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔۔ گویا اب کوئی اختلاف نہ رہا۔ اور ہو بھی کیسے سکتا ہے جبکہ یہ سارا قرآن اسی کی طرف سے نازل ہوا ہے
[بخاری، کتاب التفسیر سورۃ حٰم السجدہ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کتاب اللہ میں اختلاف نہیں ہمارے دماغ میں فتور ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ قرآن کو غور و فکر تامل و تدبر سے پڑھیں، اس سے اعراض نہ کریں، اس سے تغافل نہ برتیں، بےپرواہی نہ کریں اس کے مستحکم مضامین اس کے حکمت بھرے احکام اس کے فصیح و بلیغ الفاظ پر غور کریں، ساتھ یہ خبر دیتا ہے کہ یہ پاک کتاب اختلاف، اضطراب، تعارض اور تضاد سے پاک ہے اس لیے کہ حکیم و حمید اللہ کا کلام ہے وہ خود حق ہے اور اسی طرح اس کا کلام بھی سراسر حق ہے، چنانچہ اور جگہ فرمایا «اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا» ۱؎ [47-محمد:24] ’ یہ لوگ کیوں قرآن میں غور و خوض نہیں کرتے؟ کیا ان کے دلوں پر سنگین قفل لگ گئے ہیں۔ ‘
پھر فرماتا ہے اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہ ہوتا جیسے کہ مشرکین اور منافقین کا زعم ہے یہ اگر یہ فی الحقیقت کسی کا اپنی طرف سے وضع کیا ہوا ہوتا یا کوئی اور اس کا کہنے والا ہوتا تو ضروری بات تھی کہ اس میں انسانی طبائع کے مطابق اختلاف ملتا، یعنی ناممکن ہے کہ انسانی کلام اضطراب و تضاد سے مبرا ہو لازماً یہ ہوتا کہ کہیں کچھ کہا جاتا اور کہیں کچھ اور یہاں ایک بات کہی تو آگے جا کر اس کے خلاف بھی کہہ گئے۔
چنانچہ اس پاک کتاب کا ایسی متضاد باتوں سے بچا ہونا اس سچائی کی صاف دلیل ہے کہ یہ اللہ قادر و مطلق کا کلام ہے۔ اور جگہ ہے پختہ عالموں کا قول بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، «آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا» ۱؎ [3-آل عمران:7] یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے یعنی محکم اور متشابہ کو محکم کی طرف لوٹا دیتے ہیں اور ہدایت پالیتے ہیں اور جن کے دلوں میں کجی ہے بد نیتی ہے وہ محکم متشابہ کی طرف موڑ توڑ کرکے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے صحیح مزاج والوں کی تعریف کی اور دوسری قسم کے لوگوں کی برائی بیان فرمائی۔
عمرو بن شعیب سے مروی ہے «عَـنْ اَبِـیْـہِ عَـنْ جَـدِّہِ» والی حدیث میں ہے کہ میں ہے کہ میں اور میرے بھائی ایک ایسی مجلس میں شامل ہوئے کہ اس کے مقابلہ میں سرخ اونٹوں کا مل جانا بھی اس کے پاسنگ برابر بھی قیمت نہیں رکھتا ہم دونوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر چند بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہوئے ہیں ہم ادب کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گئے ان میں قرآن کریم کی کسی آیت کی بابت مذاکرہ ہو رہا تھا جس میں اختلافی مسائل بھی تھے آخر بات بڑھ گئی اور زور زور سے آپس میں بات چیت ہونے لگی۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سن کر سخت غضبناک ہو کرباہر تشریف لائے چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ان پر مٹی ڈالتے ہوئے فرمانے لگے خاموش رہو تم سے اگلی امتیں اسی باعث تباہ و برباد ہو گئیں، کہ انہوں نے اپنے انبیاء سے اختلاف کیا اور کتاب اللہ کی ایک آیت کو دوسری آیت کے خلاف سمجھایاد رکھو قرآن کی کوئی آیت دوسری آیت کے خلاف اسے جھٹلانے والی نہیں بلکہ قرآن کی ایک ایک آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے تم جسے جان لو عمل کرو جسے نہ معلوم کر سکو اس کے جاننے والے کے لیے چھوڑ دو۔ } ۱؎ [مسند احمد:181/2،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
چنانچہ اس پاک کتاب کا ایسی متضاد باتوں سے بچا ہونا اس سچائی کی صاف دلیل ہے کہ یہ اللہ قادر و مطلق کا کلام ہے۔ اور جگہ ہے پختہ عالموں کا قول بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، «آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا» ۱؎ [3-آل عمران:7] یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے یعنی محکم اور متشابہ کو محکم کی طرف لوٹا دیتے ہیں اور ہدایت پالیتے ہیں اور جن کے دلوں میں کجی ہے بد نیتی ہے وہ محکم متشابہ کی طرف موڑ توڑ کرکے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے صحیح مزاج والوں کی تعریف کی اور دوسری قسم کے لوگوں کی برائی بیان فرمائی۔
عمرو بن شعیب سے مروی ہے «عَـنْ اَبِـیْـہِ عَـنْ جَـدِّہِ» والی حدیث میں ہے کہ میں ہے کہ میں اور میرے بھائی ایک ایسی مجلس میں شامل ہوئے کہ اس کے مقابلہ میں سرخ اونٹوں کا مل جانا بھی اس کے پاسنگ برابر بھی قیمت نہیں رکھتا ہم دونوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر چند بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم کھڑے ہوئے ہیں ہم ادب کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گئے ان میں قرآن کریم کی کسی آیت کی بابت مذاکرہ ہو رہا تھا جس میں اختلافی مسائل بھی تھے آخر بات بڑھ گئی اور زور زور سے آپس میں بات چیت ہونے لگی۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سن کر سخت غضبناک ہو کرباہر تشریف لائے چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ان پر مٹی ڈالتے ہوئے فرمانے لگے خاموش رہو تم سے اگلی امتیں اسی باعث تباہ و برباد ہو گئیں، کہ انہوں نے اپنے انبیاء سے اختلاف کیا اور کتاب اللہ کی ایک آیت کو دوسری آیت کے خلاف سمجھایاد رکھو قرآن کی کوئی آیت دوسری آیت کے خلاف اسے جھٹلانے والی نہیں بلکہ قرآن کی ایک ایک آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے تم جسے جان لو عمل کرو جسے نہ معلوم کر سکو اس کے جاننے والے کے لیے چھوڑ دو۔ } ۱؎ [مسند احمد:181/2،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
دوسری آیت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم تقدیر کے بارے میں مباحثہ کر رہے تھے، راہی کہتے ہیں کہ کاش کہ میں اس مجلس میں نہ بیٹھتا۔ ۱؎ [مسند احمد:178/2،قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دوپہر کے وقت حاضر حضور ہوا تو بیٹھا ہی تھا کہ ایک آیت کے بارے میں دو شخصوں کے درمیان اختلاف ہوا ان کی آوازیں اونچی ہوئیں تو { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا باعث صرف ان کا کتاب اللہ کا اختلاف کرنا ہی تھا } ۱؎ [صحیح مسلم:2666] (مسند احمد)۔
پھر ان جلد باز لوگوں کو روکا جا رہا ہے جو کسی امن یا خوف کی خبر پاتے ہی بے تحقیق بات ادھر سے ادھر تک پہنچا دیتے ہیں حالانکہ ممکن ہے وہ بالکل ہی غلط ہو۔
پھر ان جلد باز لوگوں کو روکا جا رہا ہے جو کسی امن یا خوف کی خبر پاتے ہی بے تحقیق بات ادھر سے ادھر تک پہنچا دیتے ہیں حالانکہ ممکن ہے وہ بالکل ہی غلط ہو۔
صحیح مسلم شریف کے مقدمے میں حدیث ہے کہ ’ انسان کو یہی جھوٹ کافی ہے کہ جو سنے اس کو بیان کرنے لگ جائے ‘ ابو داذد میں بھی روایت ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:5] بخاری و مسلم میں ہے کہ ’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گپ بازی سے منع فرمایا۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:6473] یعنی سنی سنائی باتیں بیان کرنے سے جن کی تحقیق اچھی طرح سے نہ کی ہو، ابو داذد میں ہے انسان کا یہ کہنا کہ ’ فلاں نے یہ کہا اور فلاں نے یہ کہا، برا فعل ہے۔ ‘ ۱؎ [سنن ابوداود:4972،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اور صحیح حدیث میں ہے ’ جو شخص کوئی بات بیان کرے اور وہ گمان کرتا ہو کہ یہ غلط ہے وہ بھی جھوٹوں میں کا ایک جھوٹا ہے۔ ‘ ۱؎ [صحیح مسلم:1] یہاں پر ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی روایت کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ جب انہیں یہ خبری پہنچی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو آپ اپنے گھر سے چلے مسجد میں آئے یہاں بھی لوگوں کو یہی کہتے سنا تو بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور خود آپ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے؟ کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی؟ آپ نے فرمایا غلط ہے چنانچہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اللہ کی بڑائی بیان کی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:89]
صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ نے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر بہ آواز بلند فرمایا لوگو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1479] پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہوں نے اس معاملہ کی تحقیق کی۔
علمی اصطلاح میں «استنباط» کہتے ہیں کسی چیز کو اس کے منبع اور مخزن سے نکالنا مثلاً جب کوئی شخص کسی کان کو کھود کر اس کے نیجے سے کوئی چیز نکالے تو عرب کہتے ہیں «اِستَـْنـَبطَ الرَّجُـلُ» ۔ پھر فرماتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو تم سب کے سب سوائے چند کامل ایمان والوں کے شیطان کے تابعدار بن جاتے۔ ایسے موقعوں پر محاورۃً معنی ہوتے ہیں کہ تم کل کے کل شامل ہو چنانچہ عرب کے ایسے شعر بھی ہیں۔
اور صحیح حدیث میں ہے ’ جو شخص کوئی بات بیان کرے اور وہ گمان کرتا ہو کہ یہ غلط ہے وہ بھی جھوٹوں میں کا ایک جھوٹا ہے۔ ‘ ۱؎ [صحیح مسلم:1] یہاں پر ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی روایت کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ جب انہیں یہ خبری پہنچی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو آپ اپنے گھر سے چلے مسجد میں آئے یہاں بھی لوگوں کو یہی کہتے سنا تو بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور خود آپ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے؟ کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی؟ آپ نے فرمایا غلط ہے چنانچہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اللہ کی بڑائی بیان کی۔ ۱؎ [صحیح بخاری:89]
صحیح مسلم میں ہے کہ پھر آپ نے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر بہ آواز بلند فرمایا لوگو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1479] پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہوں نے اس معاملہ کی تحقیق کی۔
علمی اصطلاح میں «استنباط» کہتے ہیں کسی چیز کو اس کے منبع اور مخزن سے نکالنا مثلاً جب کوئی شخص کسی کان کو کھود کر اس کے نیجے سے کوئی چیز نکالے تو عرب کہتے ہیں «اِستَـْنـَبطَ الرَّجُـلُ» ۔ پھر فرماتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو تم سب کے سب سوائے چند کامل ایمان والوں کے شیطان کے تابعدار بن جاتے۔ ایسے موقعوں پر محاورۃً معنی ہوتے ہیں کہ تم کل کے کل شامل ہو چنانچہ عرب کے ایسے شعر بھی ہیں۔