اس آیت کی تفسیر آیت 51 میں تا آیت 53 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
52۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس [83۔ 1] پر اللہ لعنت کر دے آپ اس کا کوئی مددگار نہ پائیں گے
[83۔ 1] یعنی جب کوئی قوم علمی خیانت اور بد دیانتی میں اس قدر نچلی سطح پر اتر آئے تو اس وقت ان پر اللہ کی لعنت برسنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف اور حیی بن اخطب قریش مکہ کے ہاں گئے تو اس لیے تھے کہ آؤ مل کر مسلمانوں کا کچومر نکالیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قریش مکہ تو ایک طرف، اگر سارا جہاں بھی یہ لوگ اپنے ساتھ ملا لیں تو جو لعنت اللہ کی طرف سے ان کے مقدر ہو چکی ہے اس سے وہ بچ نہیں سکتے نہ ہی انہیں کوئی ان پر مسلط ہونے والی ذلت سے بچا سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَالَّذِیْنَلَعَنَهُمُاللّٰهُ ﴾”یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔“ یعنی اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور انھیں اپنی سزا کا مستحق ٹھہرایا ﴿ وَمَنْیَّلْ٘عَنِاللّٰهُفَلَ٘نْتَجِدَلَهٗنَصِیْرًا﴾”اور جس پر اللہ لعنت کردے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہیں پاؤگے۔“ جسے اللہ تعالی دھتکار دے تو اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا جو اس کی سرپرستی کرے، اس کے مصالح کی نگرانی کرے اور ناپسندیدہ امور میں اس کی حفاظت کرے۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے کسی کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی انتہا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال تعالى عنهم: {أولئك الذين لَعَنَهم الله}؛ أي: طَرَدَهُم عن رحمته وأحلَّ عليهم نقمته. {ومَن يلعنِ الله فلن تجدَ له نَصيراً}؛ أي: يتولاَّه ويقوم بمصالحه ويحفظُه عن المكارِهِ، وهذا غايةُ الخِذلان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔