تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النساء (4) — آیت 52

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ ؕ وَ مَنۡ یَّلۡعَنِ اللّٰہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ نَصِیۡرًا ﴿ؕ۵۲﴾
یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جس پر اللہ لعنت کرے پھر تو کوئی اس کی مدد کرنے والا ہرگز نہ پائے گا۔ En
یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے
En
یہی وه لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور جسے اللہ تعالیٰ لعنت کر دے، تو اس کا کوئی مددگار نہ پائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور انھیں اپنی سزا کا مستحق ٹھہرایا ﴿ وَمَنْ یَّلْ٘عَنِ اللّٰهُ فَلَ٘نْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًا اور جس پر اللہ لعنت کردے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہیں پاؤگے۔ جسے اللہ تعالی دھتکار دے تو اس کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا جو اس کی سرپرستی کرے، اس کے مصالح کی نگرانی کرے اور ناپسندیدہ امور میں اس کی حفاظت کرے۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے کسی کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کی انتہا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال تعالى عنهم: {أولئك الذين لَعَنَهم الله}؛ أي: طَرَدَهُم عن رحمته وأحلَّ عليهم نقمته. {ومَن يلعنِ الله فلن تجدَ له نَصيراً}؛ أي: يتولاَّه ويقوم بمصالحه ويحفظُه عن المكارِهِ، وهذا غايةُ الخِذلان.