ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 51

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَ الطَّاغُوۡتِ وَ یَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہٰۤؤُلَآءِ اَہۡدٰی مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِیۡلًا ﴿۵۱﴾
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا، وہ بتوں اور باطل معبود پر ایمان لاتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ان سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں جو ایمان لائے ہیں۔ En
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے رستے پر ہیں
En
کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ ملا؟ جو بت کا اور باطل معبود کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیاده راه راست پر ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 52،51) ➊ { اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ …:} عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب قولہ: «و إن کنتم مرضی أو علی سفر» قبل ح: ۴۵۸۳، معلقًا] جوہری نے الصحاح میں فرمایا: جبت کا لفظ بت، کاہن، جادوگر اور اس قسم کی دوسری چیزوں پر استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ پرندوں کو اڑا کر شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کرفال گیری کرنا جبت میں شامل ہے۔ [أبو داوٗد، الطب، باب فی الخط وزجر الطیر: ۳۹۰۷] اور طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ شخص جو گناہ کی دعوت دے اس پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ عرب میں بتوں کے ترجمان ہوتے تھے، جو ان کی زبان سے جھوٹ نقل کرتے اور لوگوں کو گمراہ کرتے، ان کو طاغوت کہا جاتا تھا۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۲)۔
➋ یہودیوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالفت ہوئی تو انھوں نے مشرکین مکہ سے رابطہ قائم کر لیا اور ان سے کہنے لگے کہ تمھارا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے۔ یہ سب کچھ اس حسد کی وجہ سے تھا کہ نبوت اور ریاستِ دینی ہمارے سوا دوسروں کو کیوں مل گئی، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کو الزام دیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51۔ 1 اس آیت میں یہودیوں کے ایک اور فعل پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اہل کتاب ہونے کے باوجود یہ (جبت) بت، کاہن یا ساحر (جھوٹے معبودوں) پر ایمان رکھتے اور کفار مکہ کو مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں جبت کے یہ سارے مزکورہ معنی کیے گئے ہیں ایک حدیث میں آتا ہے " ان العیافۃ والطرق والطیرۃ من الجبت "' پرندے اڑا کر، خط کھینچ کر، بدفالی اور بد شگونی لینا ' یعنی یہ سب شیطانی کام ہیں اور یہود میں یہ چیزیں عام تھیں طاغوت کے ایک معنی شیطان بھی کئے گئے ہیں '، دراصل معبودان باطل کی پرستش، شیطان ہی کی پیروی ہے۔ اس لئے شیطان بھی یقینا طاغوت میں شامل ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت پر بھی غور کیا جنہیں کتاب کا کچھ علم دیا گیا ہے۔ وہ جبت [83] اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان ایمان والوں سے تو یہی لوگ زیادہ ہدایت یافتہ ہیں
[83] جبت اور طاغوت جبت در اصل اوہام و خرافات کے لیے ایک جامع لفظ ہے جس میں جادو، ٹونے، ٹوٹکے، جنتر منتر سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات، فال گیری، گنڈے، نقش اور تعویذ وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔ اور طاغوت ہر وہ باطل قوت اور نظام ہے جس کی اطاعت کرنے پر لوگ مجبور ہوں اور اللہ کی اطاعت کے مقابلہ میں انہیں اس فرد، ادارہ یا حکومت کی اطاعت کرنے پر مجبور کیا جائے یا مجبور بنا دیا جائے اور لوگ انہیں احکام الٰہیہ کے علی الرغم تسلیم کر لیں۔ یہ گاؤں کے چودھری بھی ہو سکتے ہیں، پیر و مشائخ بھی، سوشلزم یا جمہوریت کی طرح باطل نظام بھی۔ اور فرعون و نمرود کی طرح سرکش بادشاہ بھی۔
یہود کا مشرکوں کو مسلمانوں سے بہتر قرار دیا:۔
یعنی ان یہود و نصاریٰ کی اکثریت ایسی ہے جو اوہام و خرافات اور ٹونے ٹوٹکے کے پیچھے پڑی ہوئی ہے اور اللہ پر ایمان لانے کی بجائے طاغوت کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ اپنی ایسی گمراہ حالت کے باوجود دوسرے کافروں (مشرکین وغیرہ) سے یہ کہتے ہیں کہ ان ایمان لانے والوں (مسلمانوں) سے تو تم ہی اچھے ہو اور ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔ یعنی خود تو سراسر ضلالت میں ڈوبے ہیں اور مشرکوں کو مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہونے کے سرٹیفکیٹ بھی دے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ مشرکین مکہ نے جب بھی مدینہ پر چڑھائی کی تو یہود ہمیشہ قولاً اور عملاً ان کا ساتھ دیتے رہے۔ ایسے ہی کسی موقع پر مشرکوں نے یہودیوں سے پوچھا کہ سچ بتانا کہ یہ مسلمان بہتر ہیں یا ہم؟ اور ان سے پوچھا اس لیے گیا کہ عرب بھر میں یہود کی علمی ساکھ تھی۔ لیکن یہ بے ایمان محض مشرکوں کو خوش کرنے کی خاطر ایسا جواب دے دیتے۔ حالانکہ حقیقت انہیں پوری طرح معلوم تھی کہ شرک اللہ کے ہاں ناقابل معافی جرم ہے اور مسلمان موحد ہونے کی بنا پر مشرکوں سے ہزار درجہ بہتر ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ یہودیوں کی برائیوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے ساتھ ان کے حسد کا ذکر ہے۔ ان کے رذیل اخلاق اور خبیث طبیعتوں نے انھیں اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان ترک کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے عوض ان کو بتوں اور طاغوت پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ طاغوت پر ایمان لانے سے مراد ہر غیر اللہ کی عبادت یا شریعت کے بغیر کسی اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں جادو، ٹونہ، کہانت، غیر اللہ کی عبادت اور شیطان کی اطاعت وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ سب بت اور طاغوت ہیں۔ اسی طرح ان کے کفر اور حسد نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ کفار اور بت پرستوں کے طریقہ کو اہل ایمان کے طریقہ پر ترجیح دیں ﴿ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں۔ یعنی کفار کی خوشامد اور مداہنت کی خاطر اور ایمان سے بغض کی وجہ سے کہتے تھے ﴿ هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰؔى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا طریقے کے اعتبار سے یہ کفار اہل ایمان سے زیادہ راہ ہدایت پر ہیں۔ وہ کتنے قبیح ہیں، ان کا عناد کتنا شدید، اور ان کی عقل کتنی کم ہے؟ وہ مذمت کی وادی میں، ہلاکت کے راستے پر کیسے گامزن ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسی عقلمند کو قائل کر لے گی یا کسی جاہل کی عقل میں آجائے گی؟
کیا اس دین کو جو بتوں اور پتھروں کی عبادت کی بنیاد پر قائم ہے، جو طیبات کو حرام ٹھہرانے، خبائث کو حلال ٹھہرانے، بہت سی محرمات کو جائز قرار دینے، اللہ تعالی کی مخلوق پر ظلم کے ضابطوں کو قائم کرنے، خالق کو مخلوق کے برابر قرار دینے، اللہ، اس کے رسول اور اس کی کتابوں کے ساتھ کفر کرنے کو درست گردانتا ہے۔۔۔ اس دین پر فضیلت دی جا سکتی ہے جو اللہ رحمن کی عبادت، کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، بتوں اور جھوٹے خداؤں کے انکار، صلہ رحمی، تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ حسن سلوک، لوگوں کے درمیان عدل کا قیام، ہر خبیث چیز اور ظلم کی تحریم اور تمام اقوال و اعمال میں صدق پر مبنی ہے؟.... کیا یہ تفضیل محض ہذیان نہیں؟
ایسا کہنے والا شخص یا تو سب سے زیادہ جاہل یا سب سے کم عقل یا حق کے ساتھ سب سے زیادہ عناد رکھنے والا اور تکبر کا اظہار کرنے والا ہے۔ یہ فی الواقع ایسے ہی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا من قبائح اليهود وحسدِهم للنبيِّ - صلى الله عليه وسلم - والمؤمنين؛ أنَّ أخلاقَهم الرذيلة وطبعَهم الخبيث حَمَلَهم على ترك الإيمان باللهِ ورسوله والتعوُّض عنه بالإيمان بالجبت والطاغوت، وهو الإيمان بكلِّ عبادةٍ لغير الله أو حكم بغير شرع الله، فدخل في ذلك السِّحر والكهانة وعبادة غير الله وطاعة الشيطان، كلُّ هذا من الجبت والطاغوت، وكذلك حَمَلَهُمُ الكفر والحسد على أن فضَّلوا طريقة الكافرين بالله عبدةِ الأصنام على طريق المؤمنين، فقال: {ويقولون للذين كفروا}؛ أي: لأجلهم تملُّقاً لهم ومداهنةً وبغضاً للإيمان: {هؤلاء أهدى من الذين آمنوا سبيلاً}؛ أي: طريقاً؛ فما أسْمَجَهم وأشدَّ عنادهم وأقلَّ عقولهم! كيف سلكوا هذا المسلك الوخيم والواديَ الذَّميم؟! هل ظنُّوا أنَّ هذا يروج على أحدٍ من العقلاء أو يدخل عقلَ أحدٍ من الجهلاء؟! فهل يَفْضُلُ دينٌ قام على عبادة الأصنام والأوثان، واستقام على تحريم الطيِّبات وإباحة الخبائث وإحلال كثيرٍ من المحرَّمات، وإقامة الظلم بين الخَلْق وتسوية الخالق بالمخلوقين، والكفر بالله ورسله وكتبه على دينٍ قام على عبادة الرحمن، والإخلاص لله في السرِّ والإعلان والكفر بما يُعْبَدُ من دونه من الأوثان والأنداد والكاذبين، وعلى صلة الأرحام والإحسان إلى جميع الخَلْق حتى البهائم، وإقامة العدل والقسط بين الناس وتحريم كلِّ خبيث وظلم ومصدق في جميع الأقوال والأعمال؟! فهل هذا إلاَّ من الهذيان؟! وصاحب هذا القول إما من أجهل الناس وأضعفهم عقلاً، وإما من أعظمهم عناداً وتمرداً ومراغمة للحق، وهذا هو الواقع.