تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِيْمًا:} اس سے بڑا جھوٹ کیا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کا بھی کوئی شریک ہے، فرمایا: «{ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ }» [لقمان: ۱۳] ”بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ کہ تم اللہ کا شریک بناؤ۔ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔“
[بخاری، کتاب المحاربین۔ باب اثم الزناۃ، مسلم کتاب الایمان باب بیان کون الشرک اقبح الذنوب]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں اپنے حصہ داروں کی نسبت اپنا حصہ لینے سے بے نیاز ہوں۔ جس شخص نے ایسا عمل کیا جس میں میرے ساتھ غیر کو شریک بنایا تو میں اس صاحب عمل اور اس عمل دونوں کو چھوڑ دیتا ہوں (فرمان خداوندی)“
[بخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب قول اللہ تعالیٰ: ﴿لَا يَسَْٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا.....﴾ مسلم، کتاب الزہد۔ باب تحریم الربٰو]
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”جو شخص مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملے جبکہ اس نے میرے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ بنایا ہو تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ اسے ملوں گا۔“ [مسلم، كتاب الذكر، باب فضل الذ كر والدعاء]
4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سب سے کم عذاب والے دوزخی سے فرمائے گا۔ ”اگر زمین بھر کی کل اشیاء تیری ملک ہوں تو کیا تو اس عذاب سے نجات کے بدلے میں دے دے گا؟“ وہ کہے گا 'ہاں '! اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”میں نے تو تجھ سے اس سے بہت آسان بات کا سوال کیا تھا اور تو اس وقت صلب آدم میں تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا مگر تو شرک کیے بغیر نہ رہا۔“
[بخاری، کتاب بدء الخلق۔ باب ﴿وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰيِٕكَةِ...﴾ صفۃ القیامۃ، باب طلب الکافر الفداء]
اس آیت میں دراصل دو اعلان ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث سے بھی واضح ہے۔ اور دوسرا اعلان یہ ہے کہ شرک کے علاوہ باقی جتنے بھی گناہ ہیں وہ سب قابل معافی ہیں لہٰذا اے اہل کتاب! اگر اب بھی تم شرک سے باز آجاؤ اور ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر اسلام قبول کر لو تو اللہ تمہارے سب گناہ معاف فرما دے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ عزوجل خود فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو معاف نہیں فرماتا اور جگہ ارشاد ہے «إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» ۱؎ [5-المائدة:72] ’ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کر لے، اللہ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے۔ ‘ اور جس دیوان میں اللہ کے ہاں کوئی وقعت نہیں وہ بندے کا اپنی جان پر ظلم کرنا ہے اور جس کا تعلق اس سے اور اللہ کی ذات سے ہے مثلاً کسی دن کا روزہ جسے اس نے چھوڑ دیا یا نماز چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے اور جس دیوان (اعمالنامہ) کی اللہ تعالیٰ کوئی چیز ترک نہیں کرتا وہ بندوں کے آپس میں مظالم ہیں جن کا بدلہ اور قصاص ضروری ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:240/6،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
چوتھی حدیث بحوالہ مسند احمد۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے میرے بندے تو جب تک میری عبادت کرتا رہے گا اور مجھ سے نیک امید رکھے گا میں بھی تیری جتنی خطائیں ہیں انہیں معاف فرماتا رہوں گا میرے بندے اگر تو ساری زمین بھر کی خطائیں بھی لے کر میرے پاس آئے گا تو میں بھی زمین کی وسعتوں جتنی مغفرت کے ساتھ تجھ سے ملوں گا بشرطیکہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو۔ ‘ ۱؎ [مسند احمد:154/5،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہی حدیث اور طریق سے مروی ہے جس میں ہے کہ { جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہوا مرا اس کے لیے بخشش حلال ہے اگر اللہ چاہے اسے عذاب کرے اگر چاہے بخش دے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے کو نہیں بخشتا اس کے سوا جسے چاہے بخش دے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:5425/3]
اور سند سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندے پر مغفرت ہمیشہ رہتی ہے جب تک کہ پردے نہ پڑ جائیں“ دریافت کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! پردے پڑ جانا کیا ہے؟ فرمایا: ”شرک، جو شخص شرک نہ کرتا ہو اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے اس کے لیے بخشش الٰہی حلال ہو گئی اگر چاہیئے عذاب کرے اگر چاہے بخش دے۔“ پھر آپ نے «إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» ۱؎ [4-النساء:48] تلاوت فرمائی } ۱؎ [مسند ابو یعلیٰ:303/2]
ساتویں حدیث بحوالہ مسند احمد، { جو شخص مرے اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:79/3]
گیارہویں حدیث بحوالہ مسند احمد { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ضمضم بن جوش یمامی رحمہ اللہ سے کہا کہ اے یمامی! کسی شخص سے ہرگز یہ نہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ تجھے نہیں بخشے گا یا تجھے جنت میں داخل نہ کرے گا، یمامی رحمہ اللہ نے کہا یہ بات تو ہم لوگ اپنے بھائیوں اور دوستوں سے بھی غصے غصے میں کہہ جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: خبردار، ہرگز نہ کہنا سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں دو شخص تھے ایک تو عبادت میں بہت چست چالاک اور دوسرا اپنی جان پر زیادتی کرنے والا اور دونوں میں دوستانہ اور بھائی چارہ تھا عابد بسا اوقات اس دوسرے کو کسی نہ کسی گناہ میں دیکھتا رہتا تھا اور کہتا رہتا تھا اے شخص باز رہ وہ جواب دیتا تو مجھے میرے رب پر چھوڑ دے کیا تو مجھ پر نگہبان بنا کر بھیجا گیا ہے؟ ایک مرتبہ عابد نے دیکھا کہ وہ پھر کسی گناہ کے کام کو کر رہا ہے جو گناہ اسے بہت بڑا معلوم ہوا تو کہا افسوس تجھ پر باز آ اس نے وہی جواب دیا تو عابد نے کہا اللہ کی قسم اللہ تجھے ہرگز نہ بخشے گا یا جنت نے دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس فرشتہ بھیجا جس نے ان کی روحیں قبض کر لیں جب دونوں اللہ تعالیٰ کے ہاں جمع ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس گنہگار سے فرمایا جا اور میری رحمت کی بنا پر جنت میں داخل ہو جا اور اس عابد سے فرمایا کیا تجھے حقیقی علم تھا؟ کیا تو میری چیز پر قادر تھا؟ اسے جہنم کی طرف لے جاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے اس نے ایک کلمہ زبان سے ایسا نکال دیا جس نے اس کی دنیا اور آخرت برباد کر دی“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4901،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم صحابہ رضی اللہ عنہم قاتل کے بارے میں اور یتیم کا مال کھا جانے والے کے بارے میں اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے والے کے بارے میں اور جھوٹی گواہی دینے والے کے بارے میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ «إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ» ۱؎ [4-النساء:48] اتری اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہی سے رک گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9737:ضعیف]
بزار میں آپ ہی کی ایک روایت ہے کہ کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے استغفار کرنے سے ہم رکے ہوئے تھے یہاں تک کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سنی اور { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے اپنی شفاعت کو اپنی امت میں سے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے مؤخر کر رکھا ہے۔ } ۱؎ [مسند بزار:3254،قال الشيخ الألباني:حسن]
ابو جعفر رازی کی روایت میں آپ کا یہ فرمان ہے کہ جب «يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ» ۱؎ [39-الزمر:53] نازل ہوئی یعنی ’ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے تم میری رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ ‘ تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا حضور شرک کرنے والا بھی؟ آپ کو اس کا یہ سوال ناپسند آیا پھر آپ نے «إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:48] پڑھ کر سنائی۔
سورۃ تنزیل کی یہ آیت مشروط ہے توبہ کے ساتھ پس جو شخص جس گناہ سے توبہ کرے اللہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے گو باربار کرے پس مایوس نہ ہونے کی آیت میں توبہ کی شرط ضرور ہے۔ ورنہ اس میں مشرک بھی آ جائے گا اور پھر مطلب صحیح نہ ہو گا کیونکہ اس آیت میں وضاحت کے ساتھ یہاں موجود ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کی بخشش نہیں ہے۔
ہاں اس کے سوا جسے چاہے یعنی اگر اس نے توبہ بھی نہ کی ہو اس مطلب کے ساتھ اس آیت میں جو امید دلانے والی ہے اور زیادہ امید کی آس پیدا ہو جاتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ابن مردویہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ بتاتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا ہے پھر آپ نے اسی آیت کا یہ آخری حصہ تلاوت فرمایا پھر ماں باپ کی نافرمانی کرنا } پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ «اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] ’ میرا شکر کر اور اپنے ماں باپ کا شکریہ کر میری طرف لوٹنا ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنه لا يَغْفِرُ لمن أشرك به أحداً من المخلوقين ويغفر ما دون ذلك من الذُّنوب صغائرها وكبائرها، وذلك عند مشيئته مغفرةَ ذلك إذا اقتضتْ حكمتُهُ مغفرتَه؛ فالذُّنوب التي دون الشرك قد جعل الله لمغفرتِها أسباباً كثيرةً؛ كالحسنات الماحية والمصائب المكفِّرة في الدُّنيا والبرزخ ويوم القيامة، وكدعاء المؤمنين بعضهم لبعض، وبشفاعة الشافعين، ومن [فوق] ذلك كلِّه رحمته التي أحق بها أهل الإيمان والتوحيد، وهذا بخلاف الشرك؛ فإنَّ المشرك قد سدَّ على نفسه أبواب المغفرة، وأغلق دونه أبواب الرحمة؛ فلا تنفعه الطاعاتُ من دون التوحيد، ولا تفيده المصائب شيئاً، {وما لهم يوم القيامةِ من شافعينَ ولا صديقٍ حميم}، ولهذا قال تعالى: {ومَن يُشْرِكْ بالله فقد افترى إثماً عظيماً}؛ أي: افترى جرماً كبيراً، وأيُّ ظلم أعظم ممَّن سوَّى المخلوقَ من ترابٍ، الناقصَ من جميع الوجوه، الفقيرَ بذاته من كلِّ وجه، الذي لا يملِكُ لنفسه فضلاً عمَّن عَبَدَهُ نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياة ولا نشوراً؛ بالخالق لكل شيء، الكامل من جميع الوجوه، الغني بذاتِهِ عن جميع مخلوقاتِهِ، الذي بيدِهِ النفع والضُّرُّ والعطاء والمنع، الذي ما من نعمةٍ بالمخلوقين إلا فمنه تعالى؛ فهل أعظمُ من هذا الظلم شيء؟! ولهذا حتَّم على صاحبه بالخلود بالعذاب وحرمان الثواب: {إنَّه مَن يُشْرِكْ بالله فقد حرَّم اللهُ عليه الجنةَ ومأواه النار}.
وهذه الآية الكريمة في حقِّ غير التائب، وأما التائب؛ فإنه يُغْفَرُ له الشرك فما دونه؛ كما قال تعالى: {قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تَقْنَطوا من رحمة الله إنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذنوبَ جميعاً}؛ أي: لمن تاب إليه وأناب.