تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿فَنَرُدَّهَا عَلٰٓي اَدْبَارِهَآ﴾
کا ظاہری مفہوم وہی ہے جو مذکور ہوا۔ تاہم یہ الفاظ محاورتاً بھی استعمال ہوتے ہیں اس صورت میں اس کا معنی یہ ہو گا کہ جو اقبال اور ترقی ہم نے تمہیں دے رکھی تھی اسے الٹ کر تمہیں قعر مذلت میں دھکیل دیں گے اور جس غلامی اور اسیری کے ایام تم پہلے دیکھ چکے ہو اسی کی طرف لوٹا دیں گے اور عرب سے نکال کر پھر سے تمہیں بے سرو سامانی اور ذلت کی حالت میں ملک شام کی طرف لوٹا دیں گے گویا یہ ایک پیشین گوئی تھی جو دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر عہد فاروقی میں حرف بحرف پوری ہو گئی۔ جب یہ لوگ مدینہ سے جلا وطن کیے گئے تھے تو اپنے چولہے چکی تک اپنے سروں پر اٹھائے انہیں وہاں سے نکلنا پڑا۔ اس آیت میں دو طرح کے متبادل عذابوں کا ذکر ہے یعنی یا تو ہم تمہیں پہلی سی خستہ حالی اور غلامی و رسوائی کی حالت میں لوٹا دیں گے یا پھر ایسا عذاب بھیج دیں گے جیسا کہ داؤدؑ کے زمانہ میں اصحاب سبت پر آیا تھا اور انہیں بندر بنا دیا گیا تھا۔ چنانچہ ان دونوں میں سے پہلی صورت کا عذاب ہی ان سرکش یہود مدینہ کے مقدر ہوا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ عذاب ان کے کرتوت کا پورا بدلہ ہے یہ بھی حق سے ہٹ کر باطل کی طرف ہدایت سے پھر کر ضلالت کی جانب بڑھے جا رہے ہیں تو اللہ بھی انہیں دھمکاتا ہے کہ میں بھی اسی طرح تمہارا منہ الٹ دوں گا تاکہ تمہیں پچھلے پیروں چلنا پڑے تمہاری آنکھیں گدی کی طرف کر دوں اور اسی جیسی تفسیر بعض نے «إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ أَغْلَالًا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُم مُّقْمَحُونَ وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا» ۱؎ [36-يس:8-9] کی آیت میں بھی کی ہے غرض یہ ان کی گمراہی اور ہدایت سے دور پڑ جانے کی بری مثال بیان ہوئی ہے،
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہیں سچ مچ حق کے راستے سے ہٹا دیں اور گمراہی کی طرف متوجہ کر دیں، ہم تمہیں کافر بنا دیں اور تمہارے چہرے بندروں جیسے کر دیں، ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوٹا دینا یہ تھا کہ ارض حجاز سے بلاد شام میں پہنچا دیا۔ یہ بھی مذکور ہے کہ اسی آیت کو سن کر سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ مشرف بااسلام ہوئے تھے۔
یہ یہاں سے چل کر حمص پہنچے وہاں سنا کہ ایک شخص جو ان کے گھرانے میں سے تھا اس آیت کی تلاوت کر رہا ہے جب اس نے آیت ختم کی انہیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں سچ مچ اس آیت کی وعید مجھ پر صادق نہ آ جائے اور میرا منہ مسخ کر پلٹ نہ جائے یہ جھٹ سے کہنے لگے «یَارَبِّ اَسْلَمْتُ» میرے اللہ میں ایمان لایا۔ پھر حمص سے ہی واپس اپنے وطن یمن میں آئے اور یہاں سے اپنے تمام گھر والوں کو لے کر سارے کنبے سمیت مسلمان ہو گئے۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:446/8:ضعیف]
یہ آئے تو فرماتے ہیں جب میں مدینہ شریف پہنچا تو نا گہاں میں سنا کہ ایک شخص قرآن کریم کی اس آیت کی تلاوت کر رہا تھا کہ اے اہل کتاب ہماری نازل کردہ کتاب تمہارے پاس موجود کتاب کی تصدیق کرتی ہے بہتر ہے کہ اس پر اس سے پہلے ایمان لاؤ کہ ہم تمہارے منہ بگاڑ دیں اور انہیں الٹا کر دیں۔ میں چونک اٹھا اور جلدی جلدی غسل کرنے بیٹھ گیا اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا جاتا تھا کہ کہیں مجھے ایمان لانے میں دیر نہ لگ جائے اور میرا چہرہ الٹا نہ ہو جائے۔ پھر میں بہت جلد آ کر مسلمان ہو گیا، ۱؎ [میزان الاعتدال:6465:ضعیف]
اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یا ہم ان پر لعنت کریں جیسے کہ ہفتہ والوں پر ہم نے لعنت نازل کی یعنی جن لوگوں نے ہفتہ والے دن حیلے کرکے لیے شکار کھیلا حالانکہ انہیں اس کام سے منع کیا گیا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بندر اور سور بنا دئیے گئے ان کا مفصل واقعہ سورۃ الاعراف میں آئے گا انشا اللہ تعالیٰ ارشاد ہوتا ہے اللہ کے کام پورے ہو کر ہی رہتے ہیں وہ جب کوئی حکم کر دے تو کوئی نہیں جو اس کی مخالفت یا ممانعت کر سکے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمُرُ تعالى أهل الكتاب من اليهود والنصارى أن يؤمنوا بالرسول محمد - صلى الله عليه وسلم - وما أنزل الله عليه من القرآن العظيم المهيمن على غيره من الكتب السابقة الذي صدقها؛ فإنها أخبرت به، فلما وقع المُخْبَرُ به؛ كان تصديقاً لذلك الخبر. وأيضاً؛ فإنهم إن لم يؤمنوا بهذا القرآن؛ فإنهم لم يؤمنوا بما في أيديهم من الكتب؛ لأنَّ كتب الله يصدِّق بعضها بعضاً، ويوافق بعضها بعضاً؛ فدعوى الإيمان ببعضها دون بعضٍ دعوى باطلة، لا يمكن صدقها.
وفي قوله: {آمنوا بما نزَّلنا مصدقاً لما معكم}: حثٌّ لهم، وأنهم ينبغي أن يكونوا قبل غيرهم مبادِرين إليه بسبب ما أنعم الله عليهم به من العلم والكتاب الذي يوجِبُ أن يكون ما عليهم أعظم من غيرهم، ولهذا توعَّدهم على عدم الإيمان، فقال: {من قبل أن نطمِسَ وجوهاً فنردَّها على أدبارِها}: وهذا جزاءٌ من جنس ما عملوا؛ كما تركوا الحقَّ وآثروا الباطل وقلبوا الحقائق فجعلوا الباطل حقًّا والحقَّ باطلاً، جُوزوا من جنس ذلك بطَمْس وجوههم كما طَمَسوا الحقَّ، وردِّها على أدبارها بأن تُجْعَلَ في أقفائهم، وهذا أشنع ما يكون. {أو نَلْعَنَهم كما لَعَنَّا أصحاب السبت}: بأن يَطْرُدَهم من رحمته ويعاقِبَهم بجعلهم قردةً؛ كما فعل بإخوانهم الذين اعتدَوا في السبت فقلنا لهم كونوا قردة خاسئين. {وكان أمر الله مفعولاً}. كقوله: {إنما أمره إذا أراد شيئاً أن يقول له كن فيكون}.