تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿نَحْنُ اَبْنٰؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاؤُهٗ﴾ [5: 18]
یعنی ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ نیز چونکہ پیغمبروں کی اولاد ہیں لہٰذا پاکیزہ نفوس کے مالک ہیں۔ اور نصاریٰ نے کفارہ مسیح کا عقیدہ گھڑ لیا تھا جس کی رو سے سب عیسائیوں کے گناہ تو سیدنا عیسیٰؑ نے اپنی گردن پر اٹھائے اور سولی چڑھ گئے اور اس طرح ان کی سب امت پاک ہو گئی۔ اور جنت کی مستحق ٹھہری۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے کچھ نہیں بنتا۔ پاکیزہ تو صرف وہ ہے جو اپنے آپ کو گناہوں سے پاک صاف رکھے اور اللہ اسے پاکیزہ قرار دے۔ یہود و نصاریٰ کی طرح مسلمانوں میں بھی یہ عقیدہ کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے آپ کو سید اور آل رسول کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری پشت ہی پاک ہے یعنی ہم پشت در پشت پاک لوگ ہیں اور یہی عقیدہ یہود کا تھا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں۔ پھر کچھ لوگوں نے اس دنیا میں بہشتی دروازے بنا رکھے ہیں کہ جو شخص عرس کے دن اس دروازہ کے نیچے سے گزر جائے گا وہ مرنے کے بعد سیدھا بہشت میں چلا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہودیوں کا اپنے بچوں کا آگے کرنے کا واقعہ بیان کر کے فرماتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ کسی گنہگار کو بےگناہ کی وجہ سے چھوڑ نہیں دیتا، یہ کہتے تھے کہ جیسے ہمارے بچے بے خطا ہیں ایسے ہیں ہم بھی بےگناہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت دوسروں کو بڑھی چڑھی مدح و ثنا بیان کرنے کے رد میں اتری ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم مدح کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:3002]
مسند احمد میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت ہی کم حدیث بیان فرماتے اور بہت کم جمعے ایسے ہوں گے جن میں آپ نے یہ چند حدیثیں نہ سنائی ہوں کہ { جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہوتا ہے اسے اپنے دین کی سمجھ عطافرماتا ہے } اور { یہ مال میٹھا اور سبز رنگ ہے جو اسے اس کے حق کے ساتھ لے گا اسے اس میں برکت دی جائے گی، تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کی مدح و ستائش سے پرہیز کرو اس لیے کہ یہ دوسرے پر چھری پھیرنا ہے } ۱؎ [مسند احمد:93/4،قال الشيخ الألباني:حسن] یہ پچھلا جملہ ان سے ابن ماجہ میں بھی مروی ہے ۱؎ [سنن ابن ماجہ:3743،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انسان صبح کو دین لےکر نکلتا ہے پھر جب کہ وہ لوٹتا ہے تو اس کے دین میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا (اس کی وجہ یہ ہوتی ہے) کہ وہ صبح کسی سے اپنا کام نکالنے کے لیے ملا، اس کی تعریف شروع کر دی اور اس کی مدح سرائی شروع کی اور قسمیں کھا کر کہنے لگا آپ ایسے ہیں اور ایسے ہیں حلانکہ نہ وہ اس کے نقصان کا مالک ہے نہ نفع اور بسا اوقات ممکن ہے ان کی تعریفی کلمات کے بعد بھی اس سے اس کا کام نہ نکلے لیکن اس نے تو اللہ کو ناخوش کردیا۔ پھر آپ نے آیت تزکیہ کی تلاوت فرمائی(ابن جریر)
اور اس کا تفصیلی بیان «فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ» ۱؎ [53-النجم:32] کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جسے چاہے پاک کر دے کیونکہ تمام چیزوں کی حقیقت اور اصلیت کا عالم وہی ہے، پھر فرمایا کہ اللہ ایک دھاگے کے وزن کے برابر بھی کسی کی نیکی نہ چھوڑے گا، فتیل کے معنی ہیں کھجور کی گٹھلی کے درمیان کا دھاگہ اور مروی ہے کہ وہ دھاگہ جسے کوئی اپنی انگلیوں سے بٹ لے۔
پھر فرماتا ہے ان کا یہ کھلا کذب و افترا ہی ان کے لیے کافی ہے «جِبْتِ» کے معنی سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ وغیرہ سے جادو اور طاغوت کے معنی شیطان کے مروی ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:462/8] یہ بھی کہا جاتا ہے کہ «جبت» حبش کا لفظ ہے اس کے معنی شیطان کے ہیں، شرک بت اور کاہن کے معنی بھی بتائے گئے ہیں۔
بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد حی بن اخطب ہے، بعض کہتے ہیں کعب بن اشرف ہے، ایک حدیث میں ہے فال اور پرندوں سے یعنی ان کے نام یا ان کے اڑنے یا بولنے یا ان کے نام سے شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کر معاملہ طے کرنا یہ جبت ہے، ۱؎ [سنن ابوداود:3907،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
حسن کہتے ہیں «جبت» شیطان کی گنگناہٹ ہے، طاغوت کی نسبت پہلے سورہ بقرہ میں تفصیلی ذکر گزر چکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں، جابر رحمہ اللہ سے جب طاغوت کی نسبت سوال کیا گیا تو فرمایا کہ یہ کاہن لوگ ہیں جن کے پاس شیطان آتے تھے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں انسانی صورت کے یہ شیاطین ہیں جن کے پاس لوگ اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں اور انہیں حاکم مانتے ہیں۔
تو اہل مکہ نے کہا ہم صلہ رحمی کرتے ہیں تیار اونٹنیاں ذبح کرکے دوسروں کو کھلاتے ہیں، لسی پلاتے ہیں غلاموں کو آزاد کرتے ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صنبور ہیں ہمارے رشتہ ناتے تڑوادیے۔ ان کا ساتھ حاجیوں کے چوروں نے دیا ہے جو قبیلہ غفار میں سے ہیں اب بتا ؤ ہم اچھے یا وہ؟ تو ان دونوں نے کہا تم بہتر ہو اور تم زیادہ سیدھے راستے پرہو اس پر یہ آیت اتری دوسری روایت میں ہے انہی کے بارے میں «إِنَّ شانِئَكَ هُوَ الأَبتَرُ» ۱؎ [108-الکوثر:3] اتری ہے۔
بنو وائیل اور بنو نضیر کے چند سردار جب عرب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آگ لگا رہے تھے اور جنگ عظیم کی تیاری میں تھے اس قوت جب یہ قریش کے پاس آئے تو قریشیوں نے انہیں عالم و درویش جان کر ان سے پوچھا کہ بتاؤ ہمارا دین اچھا ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا؟ تو ان لوگوں نے کہا تم اچھے دین والے اور ان سے زیادہ صحیح راستے پر ہو اس پر ہی آیت اتری اور خبر دی گئی کہ یہ لعنتی گروہ ہے اور ان کا ممد و معاون دنیا اور آخرت میں کوئی نہیں اس لیے کہ صرف کفار کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے بطور چاپلوسی اور خوشامد کے یہ کلمات اپنی معلومات کے خلاف کہہ رہے ہیں لیکن یاد رکھ لیں کہ یہ کامیاب نہیں ہو سکتے
چنانچہ یہی ہوا زبردست لشکر لے کر سارے عرب کو اپنے ساتھ ملا کر تمام تر قوت و طاقت اکٹھی کر کے ان لوگوں کو مدینہ شریف پر چڑھائی کی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے اردگرد خندق کھودنی پڑی لیکن بالآخر دنیا نے دیکھ لیا ان کی ساری سازشیں ناکام ہوئیں یہ خائب و خاسر رہے، نامراد و ناکام پلٹے، دامن مراد خالی رہا بلکہ نامرادی مایوسی اور نقصان عظیم کے ساتھ لوٹنا پڑا۔ «وَرَدَّ اللَّـهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا ۚ وَكَفَى اللَّـهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ قَوِيًّا عَزِيزًا» [33-الأحزاب: 25] اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد آپ کی اور اپنی قوت و عزت سے (کافروں کو) اوندھے منہ گرا دیا، «فالحمداللہ الکبیر المتعال» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا تعجُّب من الله لعباده وتوبيخٌ للذين يُزكُّون أنفسهم من اليهود والنصارى ومَن نحا نحوَهم من كلِّ من زَكَّى نفسَه بأمر ليس فيه، وذلك أن اليهود والنصارى يقولون: {نحنُ أبناءُ الله وأحبَّاؤُهُ}، ويقولون: {لن يدخُلَ الجنَّة إلاَّ مَن كانَ هُوداً أو نصارى}: وهذا مجردُ دعوى لا برهانَ عليها، وإنَّما البرهانُ ما أخبر به في القرآن في قوله: {بلى مَن أسلمَ وجهَهُ للهِ وهو محسنٌ فلهُ أجرُهُ عندَ ربِّه ولا خوفٌ عليهم ولا هُم يحزنون}، فهؤلاء هم الذين زكَّاهم الله، ولهذا قال هنا: {بلِ اللهُ يُزكِّي مَن يشاء}؛ أي: بالإيمان والعمل الصالح، بالتخلِّي عن الأخلاق الرَّذيلة والتحلِّي بالصفات الجميلة، وأما هؤلاء؛ فهم وإن زَكَّوا أنفسهم بزعمهم أنهم على شيء وأنَّ الثواب لهم وحدهم؛ فإنهم كذبة في ذلك، ليس لهم من خصال الزاكين نصيبٌ بسبب ظلمهم وكفرهم لا بظُلم من الله لهم، ولهذا قال: {ولا يُظْلَمونَ فَتيلاً}، وهذا لتحقيق العموم؛ أي: لا يظلمون شيئاً، ولا مقدار الفتيل الذي في شِقِّ النَّواة أو الذي يُفْتَلُ من وسخ اليدِ وغيرها.