تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لَيًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ: ”لَيًّۢا“ } یہ {” لَوَي يَلْوِيْ لَيًّا “} سے ہے، بمعنی توڑنا مروڑنا، یعنی زبان کو توڑ مروڑ کر { ”رَاعِيْنَا“ } کہتے، جو توہین کا کلمہ ہے۔ دیکھیے بقرہ (۱۰۴) ان کی ایک گمراہی یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حکم سنتے ہیں تو ظاہر میں {” سَمِعْنَا “} کہتے ہیں (یعنی ہم نے سنا) مگر ساتھ ہی بے حد عداوت کی وجہ سے {”عَصَيْنَا“ } (نہیں مانا) بھی کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرتے تو کہتے {” اسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ “} (سنو، تمھیں کوئی نہ سنائے) ظاہر میں یہ نیک دعا ہے کہ تم ہمیشہ غالب رہو، کوئی تمھیں بری بات نہ سنا سکے اور دل میں نیت رکھتے کہ تو بہرا ہو جائے، سن نہ سکے، ایسی شرارت کرتے۔ (رازی، ابن کثیر)
➌ { وَ طَعْنًا فِي الدِّيْنِ:} یعنی یہ سب حرکتیں کر رہے ہیں اور پھر دین میں طعن کی غرض سے کہتے ہیں کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو ہمارا فریب معلوم کر لیتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے خبث باطن کو ظاہر فرما دیا اور وہی طعن الٹا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے سچا ہونے کی پختہ دلیل بن گیا۔ (رازی)
➍ { وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا …:} یعنی یہ اگر اس قسم کی حرکات اور طعن کے بجائے ایسے کلمات استعمال کرتے جن میں شرارت کی آمیزش نہیں ہو سکتی اور اخلاص سے پیش آتے، مثلاً { ”عَصَيْنَا“ } کے بجائے { ”اَطَعْنَا“ } اور { ”غَيْرَ مُسْمَعٍ“ } کے بجائے صرف { ”اسْمَعْ“ } اور { ”رَاعِنَا“ } کے بجائے { ”انْظُرْنَا“ } تو ان کے حق میں بہتر ہوتا، مگر افسوس کہ یہ بہت ہی تھوڑے احکام پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس {”قَلِيْلًا“} یہاں مصدر محذوف { ”إِيْمَانًا“ } کی صفت ہے اور یہ معنی بھی ہے کہ ان میں سے بہت ہی کم لوگ ایمان لاتے ہیں، حتیٰ کہ یہودیوں میں سے دس بھی بمشکل ایمان لائے ہوں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ ”سو موسیٰ خداوند کا بندہ خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مر گیا۔ اسے اس نے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا۔ پر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا“ [كتاب استثناء باب 34] اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب الٰہی کا حصہ نہیں بلکہ الحاقی مضمون ہے جو سیدنا موسیٰ کی وفات سے مدتوں بعد بائیبل میں شامل کر دیا گیا۔
2۔ ”پھر بنی اسرائیل نے کوچ کیا اور اپنا خیمہ عیدر کے ٹیلے کے اس پار ایستادہ کیا۔“ [كتاب پيدائش باب 35، آيت 21] یہ عبارت اس لیے الحاقی ہے کہ عیدر اس منارہ کا نام ہے جو شہر یروشلم کے دروازہ پر تھا اور یہ سیدنا موسیٰؑ کی وفات کے کئی سو سال بعد بنایا گیا تھا۔
3۔ ”خداوند نے بنی اسرائیل کی آواز سنی اور کنعانیوں کو گرفتار کروا دیا اور انہوں نے انہیں اور ان کی بستیوں کو حرام کر دیا اور اس نے اس مکان کا نام حرمہ رکھا۔“ [كتاب گنتي باب 21، آيت 3] یہ عبارت بھی الہامی نہیں کیونکہ یہ واقعہ تو سیدنا موسیٰؑ تو درکنار سیدنا یوشعؑ کے بھی بعد پیش آیا۔ کیونکہ موسیٰؑ تو اپنی زندگی میں کنعان تک پہنچے بھی نہیں تھے۔ بستیوں کو حرام کیسے قرار دے دیا؟ اس کے جواب میں اکثر اہل کتاب کے علماء یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ جملے الحاقی ہیں اور ان کو سیدنا عزیرؑ نے ملا دیا ہے لیکن اس کی سیدنا عزیرؑ نے کوئی تصریح نہیں کی کہ یہ میرا کلام ہے۔ علاوہ ازیں کلام کے تسلسل سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام متصل ہے۔ یہ مقامات تو ایسے ہیں جو تاریخی لحاظ سے بھی غلط ثابت ہوتے ہیں لیکن بائیبل کی اکثر عبارتیں ایسی ہیں جو اللہ کا کلام نہیں بلکہ کسی دوسرے کا کلام معلوم ہوتی ہیں۔ مثلاً:
4۔ کتاب خروج باب 2 کی آیت نمبر 11 یوں ہے۔ ”ان روزوں میں یوں ہوا کہ جب موسیٰ بڑا ہوا“ غور فرمائیے یہ اللہ کا کلام معلوم ہوتا ہے یا کسی سوانح نگار کا؟ اسی طرح اسی کتاب اور اسی باب کی آیت نمبر 15 یوں ہے۔ ”جب فرعون نے یہ سنا تو چاہا کہ موسیٰ کو قتل کر دے پر موسیٰ فرعون کے حضور سے بھاگا۔“ غرضیکہ ان کتابوں کی بے شمار آیات ایسی ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کا کلام نہیں ہو سکتیں، اور نہ وہ انبیاء کا کلام ہیں بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ بہت مدت بعد کسی سوانح نگار نے یہ حالات قلمبند کیے۔ پھر انہیں بھی کتاب مقدس میں شامل کر دیا گیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم بيَّن كيفية ضلالهم وعنادهم وإيثارهم الباطل على الحق، فقال: {من الذين هادوا}؛ أي: اليهود، وهم علماء الضلال منهم، {يُحرِّفون الكلمَ عن مواضعه}: إما بتغيير اللفظ أو المعنى أو هما جميعاً؛ فمن تحريفهم تنزيل الصفات التي ذُكِرَت في كتبهم التي لا تنطبق ولا تصدُقُ إلاَّ على محمد - صلى الله عليه وسلم - على أنه غيرُ مراد بها ولا مقصودٍ بها، بل أُريد بها غيره، وكتمانهم ذلك؛ فهذا حالهم في العلم شر حال، قلبوا فيه الحقائق، ونزَّلوا الحقَّ على الباطل، وجحدوا لذلك الحق. وأما حالهم في العمل والانقياد؛ فإنَّهم {يقولون سمعنا وعصينا}؛ أي: سمعنا قولك وعصينا أمرك، وهذا غاية الكفر والعناد والشرود عن الانقياد، وكذلك يخاطبون الرسول - صلى الله عليه وسلم - بأقبح خطاب وأبعده عن الأدب، فيقولون: {اسمع غير مُسْمَع}؛ قصدُهم: اسمع منا غير مُسْمَع ما تحبُّ بل مُسْمَع ما تكره.
{وراعنا}: [و] قصدهم بذلك الرعونةَ بالعيب القبيح، ويظنُّون أن اللفظ لما كان محتملاً لغير ما أرادوا من الأمور؛ أنه يَروج على الله وعلى رسوله، فتوصَّلوا بذلك اللفظ الذي يلوون به ألسنتهم إلى الطعن في الدين والعيب للرسول، ويصرِّحون بذلك فيما بينهم؛ فلهذا قال: {ليًّا بألسنتهم وطعناً في الدين}. ثم أرشدهم إلى ما هو خيرٌ لهم من ذلك، فقال: {ولو أنهم قالوا سمعنا وأطعنا واسمع وانظُرْنا لكان خيراً لهم وأقوم}: وذلك لما تضمَّنه هذا الكلام من حسن الخطاب والأدب اللائق في مخاطبة الرسول والدُّخول تحت طاعة الله والانقياد لأمره وحُسن التلطُّف في طلبهم العلم بسماع سؤالهم والاعتناء بأمرهم؛ فهذا هو الذي ينبغي لهم سلوكه، ولكن لما كانت طبائِعُهم غير زكيَّةٍ؛ أعرضوا عن ذلك وطردهم الله بكفرِهم وعنادِهم، ولهذا قال: {ولكن لعنهم الله بكفرهم فلا يؤمنون إلا قليلاً}.