تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[62] یہاں دونوں سے مراد میاں بیوی بھی ہو سکتے ہیں اور طرفین کے ثالث حضرات بھی۔ یعنی اگر ان کی نیت بخیر ہو گی تو اللہ تعالیٰ زوجین میں ضرور موافقت کی راہ نکال دے گا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ثالث سمجھوتہ کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو فہو المراد۔ اور اگر وہ اس نتیجہ پر پہنچیں کہ تفریق کے بغیر اب کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ تو کیا وہ یہ اختیار بھی رکھتے ہیں (یعنی مرد سے طلاق دلوانے کا یا خلع کا) یا نہیں۔ اکثر علماء کے نزدیک یہ ثالثی بنچ یہ اختیار بھی رکھتا ہے کیونکہ یہ بھی ایک طرح کی عدالت ہی ہوتی ہے۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ ایسے اختیارات صرف عدالت کو ہیں اور یہ بنچ عدالت کے سامنے اپنی سفارشات پیش کر سکتا ہے۔ عدالت یہ اختیار خود بھی استعمال کر سکتی ہے اور وہ یہ اختیار اس ثالثی بنچ کو بھی تفویض کر سکتی ہے اور چاہے تو اپنی طرف سے علیحدہ بنچ مقرر کر کے اسے یہ اختیار دے سکتی ہے۔ جیسا کہ آج کل ہمارے ہاں یونین کونسلوں کو ایسے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور واقعہ بیان کیا خلیفۃ المسلمین اس پر ہنسے اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کا پنچ مقرر کیا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو فرماتے تھے ان دونوں میں علیحدگی کرا دی جائے لیکن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے بنو عبد مناف میں یہ علیحدگی میں ناپسند کرتا ہوں، اب یہ دونوں حضرات سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کے گھر آئے دیکھا تو دروازہ بند ہے اور دونوں میاں بیوی اندر ہیں یہ دونوں لوٹ گئے۔
مسند عبدالرزاق میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ایک میاں بیوی اپنی ناچاقی کا جھگڑا لے کر آئے اس کے ساتھ اس کی برادری کے لوگ تھے اور اس کے ہمراہ اس کے گھرانے کے لوگ بھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دونوں جماعتوں میں سے ایک ایک کو چنا اور انہیں منصف مقرر کر دیا پھر دونوں پنچوں سے کہا جانتے بھی ہو تمہارا کام کیا ہے؟ تمہارا منصب یہ ہے کہ اگر چاہو تو دونوں میں اتفاق کرا دو اور اگر چاہو تو الگ الگ کرا دو یہ سن کرعورت نے تو کہا میں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر راضی ہوں خواہ ملاپ کی صورت میں ہو خواہ جدائی کی صورت میں مرد کہنے لگا مجھے جدائی نامنظور ہے اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تجھے دونوں صورتیں منظور کرنی پڑیں گی۔
چاہے ان سے فریقین ناراض ہوں یا یہ دونوں میاں بیوی کی طرف سے ان کے بنائے ہوئے وکیل ہوں گے، جمہور کا مذہب تو پہلا ہے اور دلیل یہ ہے کہ ان کا نام قرآن حکیم نے حکم رکھا ہے اور حکم کے فیصلے سے کوئی خوش یا ناخوش بہر صورت اس کا فیصلہ قطعی ہو گا آیت کے ظاہری الفاظ بھی جمہور کے ساتھ ہی ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا نیا قول بھی یہی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا بھی یہی قول ہے، لیکن مخالف گروہ کہتا ہے کہ اگر یہ حکم کی صورت میں ہوتے تو پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس خاوند کو کیوں فرماتے؟ کہ جس طرح عورت نے دونوں صورتوں کو ماننے کا اقرار کیا ہے اور اسی طرح تو بھی نہ مانے تو تو جھوٹا ہے۔ «واللہ اعلم»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وإن خفتم الشقاق بين الزوجين والمباعدة والمجانبة حتى يكون كل منهما في شقٍّ؛ {فابعثوا حكماً من أهله وحكماً من أهلها}؛ أي: رجلينِ مكلَّفينِ مسلمينِ عدلينِ عاقلينِ، يعرفان ما بين الزوجين، ويعرفان الجمع والتفريق، وهذا مستفادٌ من لفظ الحكم؛ لأنه لا يصلح حَكماً إلاَّ من اتَّصف بتلك الصفات، فينظران ما يَنْقُمُ كلٌّ منهما على صاحبه، ثم يُلْزِمان كلاًّ منهما ما يجب؛ فإن لم يستطع أحدهما ذلك؛ قنَّعا الزوج الآخر بالرِّضا بما تيسَّر من الرزق والخلق، ومهما أمكنهما الجمع والإصلاح؛ فلا يعدِلا عنه؛ فإن وصلت الحال إلى أنه لا يمكنُ اجتماعهما وإصلاحهما إلا على وجه المعاداة والمقاطعة ومعصية الله، ورأيا أنَّ التفريق بينهما أصلح؛ فرَّقا بينهما، ولا يُشْتَرَطُ رضا الزوج كما يدلُّ عليه أن الله سماهما الحكمين، والحكمُ يَحْكُمُ، وإن لم يرضَ المحكوم عليه، ولهذا قال: {إن يُريدا إصلاحاً يُوفِّقِ اللهُ بينَهما}؛ أي: بسبب الرأي الميمون والكلام الذي يجذِبُ القلوبَ ويؤلِّف بين القرينين. {إنَّ الله كان عليماً خبيراً}؛ أي: عالماً بجميع الظواهر والبواطن، مطلعاً على خفايا الأمور وأسرارها؛ فمن علمِهِ وخبرِهِ أن شرع لكم هذه الأحكام الجليلة والشرائع الجميلة.